اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بے نام اداسی کے دن
ادبیات

بے نام اداسی کے دن

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

بے نام اداسی کے دن
زندگی میں کچھ ایسے دن بھی آتے ہیں جب بظاہر سب معمول کے مطابق ہو، پھر بھی دل کسی انجانی کیفیت میں گھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ نہ کسی ایک بات کا غم، نہ کسی خاص حادثے کا صدمہ، بس عجیب سی بے سکونی، جو مجھے اپنے آپ سے اجنبی کر دیتی ہے۔ کسی کام میں دل نہیں لگتا، کسی بات سے خوشی نہیں ملتی اور مستقبل کے بارے میں سوچتے ہوئے ذہن کئی الجھنوں میں گھر جاتا ہے۔
یہ کیفیت بے سبب نہیں؛ اس کے پیچھے کئی اسباب چھپے ہیں۔ میں نے دوسروں کو بھی ان حالات سے الجھتے دیکھا ہے، ان سے بات کرنے کی کوشش کی ہے، ان کی فکر سے تجربہ حاصل کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے انسان دوسروں سے بہت کچھ نہیں چاہتا، کبھی صرف اتنا چاہتا ہے کہ کوئی اس کی خاموشی کو سمجھے، اس کی پریشانی کو محسوس کرے اور مشکل وقت میں اسے تنہا نہ چھوڑے۔ لیکن جب امید کے سہارے کمزور پڑ جاتے ہیں تو دل کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔
کئی ایسے لوگوں سے ملا، جنھوں نے ان محاذوں پر فتح حاصل کی اور رجوع الی اللہ کو اپنا شیوہ بنا لیا، اپنی زندگی کے خلا کو اعمال صالحہ سے پر کیا، یہ اوقات ان کے لیے رحمت ثابت ہوئے، جبکہ دوسری طرف بعض ایسے لوگ بھی ظاہر ہوئے جن کی کشتی حیات بحر مذلت میں ڈوب گئی، فسق و فجور ان کے کردار کا استعارہ ہو گیا اور مختلف قسم کے نشے کی لت نے ان کی دنیا تباہ کر دی۔
ذاتی تجربہ ہے کہ ایسے دنوں میں انسان خود سے بھی کئی سوال کرتا ہے: آخر میں کہاں کھڑا ہوں؟ میری منزل کیا ہے؟ اور جن راستوں پر چلنے کا ارادہ تھا، وہ اتنے دھندلے کیوں ہو گئے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب فوراً نہیں ملتے، اور زندگی کا ہر سوال اسی وقت حل بھی نہیں ہو جاتا جب وہ ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بہرحال، اداسی کے ان دنوں کو زندگی کا آخری فیصلہ سمجھ لینا درست نہیں ہے۔ جنھوں نے سمجھا، ان کا ذکر گزر گیا۔ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، وقت کے ساتھ سوچ بدلتی ہے اور بعض بند راستے بھی کسی نئے امکان کی طرف متوجہ کر دیتے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ ہم مشکل وقت میں خود سے اپنا تعلق نہ توڑیں، اپنی کمزوریوں کو اپنی پہچان نہ بنائیں اور وقتی بے سکونی کو اپنے پورے مستقبل پر حاوی نہ ہونے دیں۔
میں خود کو سمجھاتا ہوں کہ کچھ دن زندگی میں صرف گزارنے کے لیے ہیں، سمجھنے کے لیے نہیں؛ اور کچھ کیفیتیں ایسی ہیں جن کا علاج جواب تلاش کرنے سے زیادہ، خود کو وقت دینے میں پوشیدہ ہے۔ شاید بے نام اداسی کے دن بھی گزر جائیں، اور انسان ایک روز پھر اپنے اندر زندگی کی کوئی روشن کرن محسوس کرنے لگے۔
(نجمیؔ کی ڈائری، ۱۷ اکتوبر ۲۰۲۶ء)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
18
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 119
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

فتحِ مکّہ: رحم، عدل اور معافی کی اعلیٰ مثال

حصولِ علمِ دین کی اہمیت اور ہمارا معاشرہ

بے نام اداسی کے دن - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

بے نام اداسی کے دن

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

بے نام اداسی کے دن

زندگی میں کچھ ایسے دن بھی آتے ہیں جب بظاہر سب معمول کے مطابق ہو، پھر بھی دل کسی انجانی کیفیت میں گھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ نہ کسی ایک بات کا غم، نہ کسی خاص حادثے کا صدمہ، بس عجیب سی بے سکونی، جو مجھے اپنے آپ سے اجنبی کر دیتی ہے۔ کسی کام میں دل نہیں لگتا، کسی بات سے خوشی نہیں ملتی اور مستقبل کے بارے میں سوچتے ہوئے ذہن کئی الجھنوں میں گھر جاتا ہے۔

یہ کیفیت بے سبب نہیں؛ اس کے پیچھے کئی اسباب چھپے ہیں۔ میں نے دوسروں کو بھی ان حالات سے الجھتے دیکھا ہے، ان سے بات کرنے کی کوشش کی ہے، ان کی فکر سے تجربہ حاصل کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے انسان دوسروں سے بہت کچھ نہیں چاہتا، کبھی صرف اتنا چاہتا ہے کہ کوئی اس کی خاموشی کو سمجھے، اس کی پریشانی کو محسوس کرے اور مشکل وقت میں اسے تنہا نہ چھوڑے۔ لیکن جب امید کے سہارے کمزور پڑ جاتے ہیں تو دل کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔

کئی ایسے لوگوں سے ملا، جنھوں نے ان محاذوں پر فتح حاصل کی اور رجوع الی اللہ کو اپنا شیوہ بنا لیا، اپنی زندگی کے خلا کو اعمال صالحہ سے پر کیا، یہ اوقات ان کے لیے رحمت ثابت ہوئے، جبکہ دوسری طرف بعض ایسے لوگ بھی ظاہر ہوئے جن کی کشتی حیات بحر مذلت میں ڈوب گئی، فسق و فجور ان کے کردار کا استعارہ ہو گیا اور مختلف قسم کے نشے کی لت نے ان کی دنیا تباہ کر دی۔

ذاتی تجربہ ہے کہ ایسے دنوں میں انسان خود سے بھی کئی سوال کرتا ہے: آخر میں کہاں کھڑا ہوں؟ میری منزل کیا ہے؟ اور جن راستوں پر چلنے کا ارادہ تھا، وہ اتنے دھندلے کیوں ہو گئے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب فوراً نہیں ملتے، اور زندگی کا ہر سوال اسی وقت حل بھی نہیں ہو جاتا جب وہ ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔

بہرحال، اداسی کے ان دنوں کو زندگی کا آخری فیصلہ سمجھ لینا درست نہیں ہے۔ جنھوں نے سمجھا، ان کا ذکر گزر گیا۔ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، وقت کے ساتھ سوچ بدلتی ہے اور بعض بند راستے بھی کسی نئے امکان کی طرف متوجہ کر دیتے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ ہم مشکل وقت میں خود سے اپنا تعلق نہ توڑیں، اپنی کمزوریوں کو اپنی پہچان نہ بنائیں اور وقتی بے سکونی کو اپنے پورے مستقبل پر حاوی نہ ہونے دیں۔

میں خود کو سمجھاتا ہوں کہ کچھ دن زندگی میں صرف گزارنے کے لیے ہیں، سمجھنے کے لیے نہیں؛ اور کچھ کیفیتیں ایسی ہیں جن کا علاج جواب تلاش کرنے سے زیادہ، خود کو وقت دینے میں پوشیدہ ہے۔ شاید بے نام اداسی کے دن بھی گزر جائیں، اور انسان ایک روز پھر اپنے اندر زندگی کی کوئی روشن کرن محسوس کرنے لگے۔
(نجمیؔ کی ڈائری، ۱۷ اکتوبر ۲۰۲۶ء)

Scan this QR code to read online:

QR Code