اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
اپنی ذات کی تلاش میں ۔۔۔۔۔۔۔!
ادبیات

اپنی ذات کی تلاش میں ۔۔۔۔۔۔۔!

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

اپنی ذات کی تلاش میں۔۔۔۔۔۔۔۔!
کبھی کبھی ہم دوسروں کو سمجھتے، ان کی توقعات پر پورا اترتے اور حالات سے سمجھوتا کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں ہمیں خود اپنی خبر نہیں رہتی۔ ہم لوگوں کے درمیان موجود ہوتے ہیں، مگر اپنے اندر کہیں گم ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ ہماری اپنی خواہشیں کیا تھیں، ہمارے خوابوں کا رنگ کیسا تھا اور ہم زندگی سے آخر چاہتے کیا تھے۔
خود سے دوری کا آغاز اسی وقت ہوتا ہے جب ہم دوسروں کی خوشی کے لیے اپنی خوشیوں کو نظر انداز کرنے لگتے ہیں، ان کی ناراضی سے بچنے کے لیے اپنے احساسات دبا دیتے ہیں اور ان کی بے اعتنائی کے باوجود ان سے امیدیں وابستہ رکھتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ہم دوسروں کی نگاہوں میں اپنی قدر تلاش کرنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ اپنی نظر میں اپنی اہمیت بھی بھول جاتے ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
مگر زندگی کا ایک مرحلہ ایسا بھی آنا چاہیے جب ہم ٹھہر کر خود سے پوچھیں: ہم کون ہیں؟ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ اور کیا ہم واقعی وہی زندگی گزار رہے ہیں جس کا کبھی خواب دیکھا تھا؟ یہ سوال خود غرضی نہیں، خود شناسی کی ابتدا ہیں۔ کیونکہ جو شخص اپنی ذات ہی سے ناواقف ہو، وہ دوسروں کو کیا سمجھے گا اور اپنی منزل کا تعین کیسے کرے گا؟
سو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دنیا کی بھیڑ میں اپنی آواز پہچانیں، دوسروں کی توقعات کے شور میں اپنے دل کی بات سنیں اور ماضی کی محرومیوں کو مستقبل کی راہ میں دیوار نہ بننے دیں۔ ہر گزرا ہوا لمحہ واپس نہیں آتا، ہر شخص ہماری توقعات پر پورا نہیں اترتا اور ہر خواہش پوری نہیں ہوتی۔ لیکن ان سب کے باوجود اپنے آپ کو دوبارہ دریافت کرنا ممکن ہے۔
آخر اپنی ذات کی تلاش کسی نئی شخصیت کو جنم دینے کا نام نہیں، بلکہ اس انسان تک واپس پہنچنے کا سفر ہے جسے ہم نے حالات، تعلقات اور دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش میں کہیں پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری ۲۶ مئی ۲۰۲۴ء)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
7
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 119
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

خود سے ملاقات کب ہوگی۔۔۔۔۔۔!

میں ہوں بھی اور نہیں بھی۔۔۔۔۔!

اپنی ذات کی تلاش میں ۔۔۔۔۔۔۔! - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

اپنی ذات کی تلاش میں ۔۔۔۔۔۔۔!

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

اپنی ذات کی تلاش میں۔۔۔۔۔۔۔۔!

کبھی کبھی ہم دوسروں کو سمجھتے، ان کی توقعات پر پورا اترتے اور حالات سے سمجھوتا کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں ہمیں خود اپنی خبر نہیں رہتی۔ ہم لوگوں کے درمیان موجود ہوتے ہیں، مگر اپنے اندر کہیں گم ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ ہماری اپنی خواہشیں کیا تھیں، ہمارے خوابوں کا رنگ کیسا تھا اور ہم زندگی سے آخر چاہتے کیا تھے۔

خود سے دوری کا آغاز اسی وقت ہوتا ہے جب ہم دوسروں کی خوشی کے لیے اپنی خوشیوں کو نظر انداز کرنے لگتے ہیں، ان کی ناراضی سے بچنے کے لیے اپنے احساسات دبا دیتے ہیں اور ان کی بے اعتنائی کے باوجود ان سے امیدیں وابستہ رکھتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ہم دوسروں کی نگاہوں میں اپنی قدر تلاش کرنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ اپنی نظر میں اپنی اہمیت بھی بھول جاتے ہیں۔

مگر زندگی کا ایک مرحلہ ایسا بھی آنا چاہیے جب ہم ٹھہر کر خود سے پوچھیں: ہم کون ہیں؟ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ اور کیا ہم واقعی وہی زندگی گزار رہے ہیں جس کا کبھی خواب دیکھا تھا؟ یہ سوال خود غرضی نہیں، خود شناسی کی ابتدا ہیں۔ کیونکہ جو شخص اپنی ذات ہی سے ناواقف ہو، وہ دوسروں کو کیا سمجھے گا اور اپنی منزل کا تعین کیسے کرے گا؟

سو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دنیا کی بھیڑ میں اپنی آواز پہچانیں، دوسروں کی توقعات کے شور میں اپنے دل کی بات سنیں اور ماضی کی محرومیوں کو مستقبل کی راہ میں دیوار نہ بننے دیں۔ ہر گزرا ہوا لمحہ واپس نہیں آتا، ہر شخص ہماری توقعات پر پورا نہیں اترتا اور ہر خواہش پوری نہیں ہوتی۔ لیکن ان سب کے باوجود اپنے آپ کو دوبارہ دریافت کرنا ممکن ہے۔
*آخر اپنی ذات کی تلاش کسی نئی شخصیت کو جنم دینے کا نام نہیں، بلکہ اس انسان تک واپس پہنچنے کا سفر ہے جسے ہم نے حالات، تعلقات اور دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش میں کہیں پیچھے چھوڑ دیا تھا۔*
(ماخوذ از نجمیؔ کی ڈائری ۲۶ مئی ۲۰۲۴ء)

Scan this QR code to read online:

QR Code