اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
القول الاحسن فی کشف زور الگھمن: حق کا چراغ، باطل کی نقاب کشائی
تاثرات

القول الاحسن فی کشف زور الگھمن: حق کا چراغ، باطل کی نقاب کشائی

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

القول الاحسن فی کشف زور الگھمن: حق کا چراغ، باطل کی نقاب کشائی

اعلی حضرت رضی اللہ عنہ: مجدد دین و ملت

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں بعض ایسے جلیل القدر ائمہ و مجددین پیدا ہوئے جن کی ذاتِ اقدس دینِ متین کے لیے ایک مضبوط قلعہ اور فتنہ و باطل کے لیے شمشیرِ برّاں ثابت ہوئی۔ برصغیر ہند و پاک میں یہ عظیم منصب بلاشبہ امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آیا۔ آپ کی شخصیت علم و عمل، زہد و تقویٰ، فقاہت و اجتہاد، عشقِ رسول ﷺ اور غیرتِ ایمانی کا وہ حسین مرقع تھی جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی تحریری و تصنیفی میراث ایک ہزار سے زائد کتابوں پر مشتمل ہے جو عقائد و فقہ، حدیث و تفسیر، منطق و فلسفہ، ریاضیات و فلکیات، اور جدید و قدیم فتنوں کے ردّ پر محیط ہے۔ آپ نے اپنی قلمی و علمی کاوشوں کے ذریعے نہ صرف اہلِ سنت و جماعت کے عقائد کی حفاظت فرمائی بلکہ ایسے فتنوں کا ردّ کیا جو اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ آپ کے علمی فیصلے، فتاویٰ اور تحریری دلائل آج بھی دین کی حفاظت کے ضامن اور علما و محققین کے لیے مینارۂ نور ہیں۔

کذاب کون؟ : حق کی صدا

دینِ اسلام میں حق کے دفاع اور باطل کے تعاقب کی روایت ہمیشہ زندہ رہی ہے، اور ہر دور میں اللہ تعالیٰ ایسے مردانِ حق کو پیدا فرماتا ہے جو دین کے قلعے کی نگہبانی کرتے ہیں اور اسلاف کی روایتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک تابندہ کڑی حضرت مولانا عامر فضیل مرکزی حفظہ اللہ کی تصنیف القول الأحسن فی کشف زور الگھمن المعروف بہ کذّاب کون؟ ہے۔
اس کتاب میں مولانا موصوف نے ایک نہایت اہم علمی خدمت انجام دی ہے۔ بعض مخالفین نے امامِ اہلِ سنت رضی اللہ عنہ کی تحریروں سے دانستہ کاٹ چھانٹ کر، سیاق و سباق کو بگاڑ کر اور تحریف کے ذریعے گمراہ کن اعتراضات پیش کیے تھے۔ خصوصاً مولوی الیاس گھمن نے اپنی عداوت و تعصب میں اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ پر ایسے الزامات عائد کیے جو نہ صرف علمی بددیانتی بلکہ امانتِ علمیہ کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
مولانا عامر فضیل مرکزی صاحب نے اپنے مضبوط دلائل، ناقابلِ تردید حوالہ جات اور نہایت شستہ و مدلل اسلوب کے ساتھ ان تمام اعتراضات کا بھرپور جواب دیا ہے۔ ہر مقام پر اصل عبارت پیش کر کے تحریف کا پردہ چاک کیا گیا، اور مخالفین کے فریبِ نظر کو عیاں کر کے واضح کر دیا کہ اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ پروپیگنڈا سراسر باطل، جھوٹ اور علمی خیانت پر مبنی ہے۔
یہ کتاب نہ صرف ایک علمی منہج کی مثال ہے بلکہ یہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ آج بھی امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ کی علمی و دینی میراث کے وارث موجود ہیں جو ہر محاذ پر حق کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔
کتاب مذکور کذاب کون؟ اپنی تحقیق، استدلال اور حسنِ بیان کے اعتبار سے ایک ایسی گراں قدر تصنیف ہے جو ہم تمام طلبائے جامعہ کے لیے رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ مولانا عامر فضیل مرکزی نے اس کتاب کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ اعلیٰ حضرت کا دفاع محض عقیدت کا تقاضا نہیں بلکہ یہ علمی امانت اور دینی ذمہ داری ہے۔
یہ کتاب ایک طرف اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی علمی عظمت کو اجاگر کرتی ہے تو دوسری طرف مخالفین کی علمی کج فہمی اور بددیانتی کو بے نقاب کرتی ہے۔ ہر وہ شخص جو حق و باطل کے فرق کو سمجھنا چاہتا ہے، اسے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آخر میں فقیر نجمی غفر لہ القوی مولانا موصوف کو ان کی دستار فضیلت اور اس حسین موقع پر یہ عظیم الشان تصنیف شائع کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہے اور پروردگار عالم کی بارگاہ میں دعا گو ہے کہ مولی تعالیٰ مولانا عامر فضیل مرکزی صاحب کی اس محنت کو شرفِ قبولیت سے ہمکنار فرمائے، تا دم حیات مسلک اہل سنت مسلک اعلی حضرت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، دستار علم و فضل کو ان کے لیے مبارک بنائے اور ہم سب کو اپنے اسلاف کے علوم و خدمات کی حفاظت کرنے والا بنائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم الامین صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ اجمعین
راقم السطور
فقیر محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
۱۴ صفر المظفر ۱۴۴۷ھ بمطابق 09 اگست 2025ء بروز ہفتہ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
63
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 120
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن

حدائقِ بخشش کا گلِ رعنا : مہرِ بخشش

القول الاحسن فی کشف زور الگھمن: حق کا چراغ، باطل کی نقاب کشائی - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

القول الاحسن فی کشف زور الگھمن: حق کا چراغ، باطل کی نقاب کشائی

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

القول الاحسن فی کشف زور الگھمن: حق کا چراغ، باطل کی نقاب کشائی

#اعلی حضرت رضی اللہ عنہ: مجدد دین و ملت

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں بعض ایسے جلیل القدر ائمہ و مجددین پیدا ہوئے جن کی ذاتِ اقدس دینِ متین کے لیے ایک مضبوط قلعہ اور فتنہ و باطل کے لیے شمشیرِ برّاں ثابت ہوئی۔ برصغیر ہند و پاک میں یہ عظیم منصب بلاشبہ امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آیا۔ آپ کی شخصیت علم و عمل، زہد و تقویٰ، فقاہت و اجتہاد، عشقِ رسول ﷺ اور غیرتِ ایمانی کا وہ حسین مرقع تھی جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی تحریری و تصنیفی میراث ایک ہزار سے زائد کتابوں پر مشتمل ہے جو عقائد و فقہ، حدیث و تفسیر، منطق و فلسفہ، ریاضیات و فلکیات، اور جدید و قدیم فتنوں کے ردّ پر محیط ہے۔ آپ نے اپنی قلمی و علمی کاوشوں کے ذریعے نہ صرف اہلِ سنت و جماعت کے عقائد کی حفاظت فرمائی بلکہ ایسے فتنوں کا ردّ کیا جو اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ آپ کے علمی فیصلے، فتاویٰ اور تحریری دلائل آج بھی دین کی حفاظت کے ضامن اور علما و محققین کے لیے مینارۂ نور ہیں۔

#کذاب کون؟ : حق کی صدا

دینِ اسلام میں حق کے دفاع اور باطل کے تعاقب کی روایت ہمیشہ زندہ رہی ہے، اور ہر دور میں اللہ تعالیٰ ایسے مردانِ حق کو پیدا فرماتا ہے جو دین کے قلعے کی نگہبانی کرتے ہیں اور اسلاف کی روایتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک تابندہ کڑی حضرت مولانا عامر فضیل مرکزی حفظہ اللہ کی تصنیف “القول الأحسن فی کشف زور الگھمن المعروف بہ کذّاب کون؟” ہے۔
اس کتاب میں مولانا موصوف نے ایک نہایت اہم علمی خدمت انجام دی ہے۔ بعض مخالفین نے امامِ اہلِ سنت رضی اللہ عنہ کی تحریروں سے دانستہ کاٹ چھانٹ کر، سیاق و سباق کو بگاڑ کر اور تحریف کے ذریعے گمراہ کن اعتراضات پیش کیے تھے۔ خصوصاً مولوی الیاس گھمن نے اپنی عداوت و تعصب میں اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ پر ایسے الزامات عائد کیے جو نہ صرف علمی بددیانتی بلکہ امانتِ علمیہ کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
مولانا عامر فضیل مرکزی صاحب نے اپنے مضبوط دلائل، ناقابلِ تردید حوالہ جات اور نہایت شستہ و مدلل اسلوب کے ساتھ ان تمام اعتراضات کا بھرپور جواب دیا ہے۔ ہر مقام پر اصل عبارت پیش کر کے تحریف کا پردہ چاک کیا گیا، اور مخالفین کے فریبِ نظر کو عیاں کر کے واضح کر دیا کہ اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ پروپیگنڈا سراسر باطل، جھوٹ اور علمی خیانت پر مبنی ہے۔
یہ کتاب نہ صرف ایک علمی منہج کی مثال ہے بلکہ یہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ آج بھی امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ کی علمی و دینی میراث کے وارث موجود ہیں جو ہر محاذ پر حق کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔

کتاب مذکور *کذاب کون؟* اپنی تحقیق، استدلال اور حسنِ بیان کے اعتبار سے ایک ایسی گراں قدر تصنیف ہے جو ہم تمام طلبائے جامعہ کے لیے رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ مولانا عامر فضیل مرکزی نے اس کتاب کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ اعلیٰ حضرت کا دفاع محض عقیدت کا تقاضا نہیں بلکہ یہ علمی امانت اور دینی ذمہ داری ہے۔
یہ کتاب ایک طرف اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی علمی عظمت کو اجاگر کرتی ہے تو دوسری طرف مخالفین کی علمی کج فہمی اور بددیانتی کو بے نقاب کرتی ہے۔ ہر وہ شخص جو حق و باطل کے فرق کو سمجھنا چاہتا ہے، اسے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

آخر میں فقیر نجمی غفر لہ القوی مولانا موصوف کو ان کی دستار فضیلت اور اس حسین موقع پر یہ عظیم الشان تصنیف شائع کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہے اور پروردگار عالم کی بارگاہ میں دعا گو ہے کہ مولی تعالیٰ مولانا عامر فضیل مرکزی صاحب کی اس محنت کو شرفِ قبولیت سے ہمکنار فرمائے، تا دم حیات مسلک اہل سنت مسلک اعلی حضرت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، دستار علم و فضل کو ان کے لیے مبارک بنائے اور ہم سب کو اپنے اسلاف کے علوم و خدمات کی حفاظت کرنے والا بنائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم الامین صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ اجمعین

راقم السطور
فقیر محمد شعیب خان نجمیؔ رضوی لکھیم پوری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
06307364323
۱۴ صفر المظفر ۱۴۴۷ھ بمطابق 09 اگست 2025ء بروز ہفتہ

Scan this QR code to read online:

QR Code