اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
آج کی رات
ادبیات

آج کی رات

✍️ محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

آج کی رات

آج کی رات، جیسے کائنات نے خواب کی چادر اوڑھ لی ہو۔ میں اپنے گھر کی چھت پر خامشی کے گہوارے میں لیٹا ہوں، اور آسمان کی نیلگوں وسعتیں میری آنکھوں میں اتر رہی ہیں۔ فلک کی پیشانی پر جگمگاتے ہوئے تارے یوں محسوس ہوتے ہیں گویا قدرت نے آسمان پر ہیرے چمکا دیے ہوں۔ ہر ایک تارا، ایک اسرار ہے، ہر ایک جھلک، ایک پیام۔
چاند، شب کا تاجدار، اپنی تابانی کے جادو سے فضا کو رنگین کر رہا ہے۔ اس کی چاندنی، شب کی روح پر نقرئی روشنی کا مرہم رکھ رہی ہے۔ وہ روشنی، جو نہ خیرہ کرتی ہے، نہ ماند پڑتی ہے؛ بس دل کی گہرائیوں میں اُتر جاتی ہے اور وہاں خامشی سے ایک گیت چھیڑ دیتی ہے۔
ہوا چل رہی ہے، نرم اور سبک۔ اس کے لمس میں ایسی لطافت ہے جیسے محبوب کا بے ساختہ پیار بھرا ہاتھ۔ وہ کبھی میرے بالوں کو چُھو کر گزر جاتی ہے، کبھی در و دیوار سے ٹکرا کر سرگوشیاں کرتی ہے، کبھی درختوں کے پَتوں کو چھیڑ کر قدرت کا نغمہ بکھیرتی ہے۔
موسم نے نہ حدت کی شدت سے آزمایا، نہ سردی کی چُبھن سے ڈرایا۔ ایک ایسا دلکش اعتدال ہے کہ جس میں روح کو راحت بھی ہے اور دل کو سکون بھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وقت نے اپنا سفر روک لیا ہے، لمحے نے لمحے کو گلے لگا لیا ہے، اور سکوت نے کلام کر لیا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ایسی راتیں، دنوں کی دھول کو دھو دیتی ہیں۔ یہ راتیں نہ صرف آنکھوں کو حسن دکھاتی ہیں، بلکہ دل کو معرفت کی خوشبو سونگھاتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ فلک، یہ چاند، یہ ہوا، سب مل کر کوئی آسمانی ترانہ چھیڑ رہے ہوں، جس کا ایک ایک لفظ انسان کو اس کے خالق کی طرف بلاتا ہے۔
آج کی رات فقط ایک رات نہیں، یہ ایک لمحۂ تجلّی ہے، ایک ساعتِ وصال ہے، جس میں فطرت بھی مخلوق کو گلے لگا لیتی ہے، اور مخلوق اپنے خالق کے قریب تر ہو جاتی ہے۔
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
58
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 119
محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی
زمرہ جات

بیر برابر اولے

کیا اللہ کے ولی مردہ کو زندہ نہیں کر سکتے؟دیوبندیوں کو ان کے گھر کا آئینہ

آج کی رات - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

آج کی رات

مضمون نگار: محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

#آج کی رات

آج کی رات، جیسے کائنات نے خواب کی چادر اوڑھ لی ہو۔ میں اپنے گھر کی چھت پر خامشی کے گہوارے میں لیٹا ہوں، اور آسمان کی نیلگوں وسعتیں میری آنکھوں میں اتر رہی ہیں۔ فلک کی پیشانی پر جگمگاتے ہوئے تارے یوں محسوس ہوتے ہیں گویا قدرت نے آسمان پر ہیرے چمکا دیے ہوں۔ ہر ایک تارا، ایک اسرار ہے، ہر ایک جھلک، ایک پیام۔

چاند، شب کا تاجدار، اپنی تابانی کے جادو سے فضا کو رنگین کر رہا ہے۔ اس کی چاندنی، شب کی روح پر نقرئی روشنی کا مرہم رکھ رہی ہے۔ وہ روشنی، جو نہ خیرہ کرتی ہے، نہ ماند پڑتی ہے؛ بس دل کی گہرائیوں میں اُتر جاتی ہے اور وہاں خامشی سے ایک گیت چھیڑ دیتی ہے۔

ہوا چل رہی ہے، نرم اور سبک۔ اس کے لمس میں ایسی لطافت ہے جیسے محبوب کا بے ساختہ پیار بھرا ہاتھ۔ وہ کبھی میرے بالوں کو چُھو کر گزر جاتی ہے، کبھی در و دیوار سے ٹکرا کر سرگوشیاں کرتی ہے، کبھی درختوں کے پَتوں کو چھیڑ کر قدرت کا نغمہ بکھیرتی ہے۔

موسم نے نہ حدت کی شدت سے آزمایا، نہ سردی کی چُبھن سے ڈرایا۔ ایک ایسا دلکش اعتدال ہے کہ جس میں روح کو راحت بھی ہے اور دل کو سکون بھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وقت نے اپنا سفر روک لیا ہے، لمحے نے لمحے کو گلے لگا لیا ہے، اور سکوت نے کلام کر لیا ہے۔

ایسی راتیں، دنوں کی دھول کو دھو دیتی ہیں۔ یہ راتیں نہ صرف آنکھوں کو حسن دکھاتی ہیں، بلکہ دل کو معرفت کی خوشبو سونگھاتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ فلک، یہ چاند، یہ ہوا، سب مل کر کوئی آسمانی ترانہ چھیڑ رہے ہوں، جس کا ایک ایک لفظ انسان کو اس کے خالق کی طرف بلاتا ہے۔

آج کی رات فقط ایک رات نہیں، یہ ایک لمحۂ تجلّی ہے، ایک ساعتِ وصال ہے، جس میں فطرت بھی مخلوق کو گلے لگا لیتی ہے، اور مخلوق اپنے خالق کے قریب تر ہو جاتی ہے۔

Scan this QR code to read online:

QR Code