Login Required

Continue to login page

تلاش جاری ہے...
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

توجہ خاص بر مصرع آسی علیہ الرحمہ پوچھتے کیا ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

<!-- wp:paragraph -->
<p>توجہ خاص بر مصرع آسی علیہ الرحمہ پوچھتے کیا ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوایہ شعر حضرت عبد العلیم آسی رشیدی غازی پوری علیہ الرحمہ کا ہے جو بحر رمل مثمن مشعث یعنی فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن کے وزن پر ہے جس میں آٹھ صورتیں جائز ہیں رکن اول فاعلاتن کو فعلاتن کرنا جائز ہے اور رکن آخر فعلن بسکون العین کو فعلن متحرک العین کرنا جائز ہے نیز مقصور یعنی فعلان بسکون العین یا فعلان متحرک العین کرنا جائز ہے یہ چار صورتیں ہیں ہوئیں اور رکن اول میں دو صورتیں دو کو چار سے ضرب دینے سے آٹھ صورتیں حاصل ہوتیں ہیں اب ان آٹھ صورتوں میں سے کسی صورت میں شعر مذکور کے مصرع اول کو رکھیں تو وہ کسی صورت کو قبول نہیں کرے گا لہذا ثابت ہو جاتا ہے مصرع اول بے وزن ہے جو کہ کاتب کی کرامت کا ثمرہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے شعر مذکور کے مصرع اول پوچھتے کیا ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی اس میں لفظ کیا کا اضافہ کر دیا ہے در اصل مصرع اول یوں تھا پوچھتے ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی؟ اب یہ مصرع با وزن ہے عند العروض و المعانی صحیح بھی ہے لہذا آپ حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اپنی تحریروں میں تقریروں میں اس شعر کی تصحیح فرما لیں اور یوں لکھیں پڑھیںپوچھتے ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی ؟ ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوااز: محمد جسیم اکرم مرکزی</p>
<!-- /wp:paragraph -->
مزید علمی و تحقیقی مضامین پڑھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ کو فالو کریں اور ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں!

توجہ خاص بر مصرع آسی علیہ الرحمہ پوچھتے کیا ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

<!-- wp:paragraph -->
<p>توجہ خاص بر مصرع آسی علیہ الرحمہ پوچھتے کیا ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوایہ شعر حضرت عبد العلیم آسی رشیدی غازی پوری علیہ الرحمہ کا ہے جو بحر رمل مثمن مشعث یعنی فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن کے وزن پر ہے جس میں آٹھ صورتیں جائز ہیں رکن اول فاعلاتن کو فعلاتن کرنا جائز ہے اور رکن آخر فعلن بسکون العین کو فعلن متحرک العین کرنا جائز ہے نیز مقصور یعنی فعلان بسکون العین یا فعلان متحرک العین کرنا جائز ہے یہ چار صورتیں ہیں ہوئیں اور رکن اول میں دو صورتیں دو کو چار سے ضرب دینے سے آٹھ صورتیں حاصل ہوتیں ہیں اب ان آٹھ صورتوں میں سے کسی صورت میں شعر مذکور کے مصرع اول کو رکھیں تو وہ کسی صورت کو قبول نہیں کرے گا لہذا ثابت ہو جاتا ہے مصرع اول بے وزن ہے جو کہ کاتب کی کرامت کا ثمرہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے شعر مذکور کے مصرع اول پوچھتے کیا ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی اس میں لفظ کیا کا اضافہ کر دیا ہے در اصل مصرع اول یوں تھا پوچھتے ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی؟ اب یہ مصرع با وزن ہے عند العروض و المعانی صحیح بھی ہے لہذا آپ حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اپنی تحریروں میں تقریروں میں اس شعر کی تصحیح فرما لیں اور یوں لکھیں پڑھیںپوچھتے ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی ؟ ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوااز: محمد جسیم اکرم مرکزی</p>
<!-- /wp:paragraph -->
مزید علمی و تحقیقی مضامین پڑھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ کو فالو کریں اور ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں!

jamiaturrazastudents.com

[your_author_profile_shortcode]
کامیابی!
×
Total Profiles: 0