یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج
استاذی الکریم ابوحنظلہ صاحب قبلہ !
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج کل یونیورسٹیوں میں یہ عام ہوتا جارہاہے کہ طالبان وطالبات 4 سال یادوسال کے لیے دو گواہوں کے سامنے پوشیدہ طور پر ایجاب وقبول کرلیتے ہیں تاکہ زوجین والے تعلقات قائم کرسکیں اور مذکورہ میعاد کو کبھی صراحتاً اشارتاً یاکنایتاً وقت نکاح یا علاوہ مجلس نکاح میں طے کرلیتے ہیں ساتھ ہی چونکہ یہ علانیہ نہیں ہوتا اور نہ اعلان چاہتے ہیں لہذا یہ بھی صراحتاً یاکنایتاً یا اشارتاً مقرر ہوتاہے کہ یہ تعلقات پروٹیکشن کے ساتھ ہی قائم کیے جائیں گے اور اگر کسی طرح استقرار ہوبھی جاے تو اسقاط کے طریقے اپنالیں گے۔
حضور والا سے عرض ہے کہ مذکورہ بالا مسئلہ میں شرعی رہنمائی فرمائیں آیایوں اس تعلق کو نکاح کانام دیا جاسکتا ہے ؟ اور جسے گناہ میں پڑجانے کا صحیح اندیشہ ہو وہ کون سا طریقہ اختیار کرے جو شرعی بھی ہو اور مطلب بھی بر لائے.
متعہ و مؤقت کا قبح بھی بیان کردیں حضور ساتھ ہی رافضیوں کابھی رد بلیغ فرمادیں چوں کہ وہی اسے پروموٹ کررہے ہیں نیز نوجوانان یونیورسٹی اہل سنت اور رافضیوں کے اس اختلاف کوفروعی اختلاف سمجھتے ہیں کہ جس پر عمل آسان ہو وہ اختیار کرلیں اس پر بھی نظر فرمائیں
شکریہ
مستفتی: غلام رسول قادری
خطیب و امام سونار کھاپ ،ہریہر گنج پلاموں جھارکھنڈ.
٧٨٦/٩٢
الجواب بعون الملک الوھاب:
شیطان کے طرق اغوا سے ایک بدتر طریقہ یہ بھی ہے کہ آدمی کو حسنات کے حیلہ سے ہلاک کرتا ہے ـ حیلہ نکاح کا اور طریقہ شیطانی کہ جنسی کج روی میں حد سے متجاوز کہ یہاں نکاح کو مخفی و پوشیدہ رکھا جاتا ہے جبکہ محبوب خدا علیہ التحیۃ والثناء فرماتے ہیں "اعلنوا النكاح و اجعلوه فى المساجد" . نکاح کا اعلان کرو اور نکاح مسجد میں کرو.
دوسری روایت میں ہے
"اظهروا النكاح" یعنی نکاح کا اظہار و اعلان کرو.
پھر نکاح کی آڑ میں شیطان کی پیروی اور نفس شیطانی کی اتباع ہو رہی ہے وہ کیسا نکاح جس میں نکاح کے مقصود (افزائش نسل) کے خاتمے کا انتظام وانصرام کیا جائے اور کیسی سنت کی ادائیگی جس میں سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی خلاف ورزی ہو؟. صورت مسئولہ میں نکاح سے پہلے ہی نسل کشی کے درپے ہیں بلکہ نسل کشی کا عزم جازم ہے ، جبکہ نبی رحمت شفیع امت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "شادی کرو کیوں کہ میں تمہارے سبب دوسری امت پر کثرت تعداد کے باعث فخر کرنے والا ہوں"
"النكاح من سنتى من لم يعمل بسنتى فليس منى و تزوجوا فانى مكاثر بكم الامم"
نیز والدین کے بے اطلاع یہ عمل باعث ناراضی ہے اور والدین کی نافرمانی میں اللہ کی نافرمانی ان کی رضا میں اللہ کی رضا ہے.
حديث شريف ہے
" رضى الله فى رضى الوالدين و سخط الله فى سخط الوالدين".
اللہ عزوجل نے والد کا حق اولاد پر نہایت اعظم بتایا یہاں تک کہ اپنے حق کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا "أن اشكر لى و لوالديك" حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا. جبکہ اس طرز مذموم میں حق والدین کی پامالی ہےـ
یہ تو تھیں وہ خرابیاں جن سے معاشرہ پراگندہ ہو اور مقصد نکاح کا تقدس پامال کیا جائے بلکہ نکاح کی اہمیت اور اس کی حقیقت کو تہ تیغ کیا جائے ـ لیکن صورت مسئولہ مذکورہ تو ان باتوں پر مشتمل ہے کہ انعقاد نکاح میں ہی خلل بلکہ نکاح کا نام دے کر زنا میں خود مبتلا ہونا اور دوسروں کو ترغیب دینا ہے، اس لئے کہ نکاح متعہ و موقت کہ اتنے دنوں، مہینوں یا سالوں کے لئے نکاح کررہا ہوں بنص قرآن کریم و اجماع ائمہ مجتہدین حرام حرام اشد حرام ہے.
قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ تعالیٰ نکاح کے بیان کے بعد فرماتا ہے۔
"والذين هم لفروجهم حٰفظون الا على ازواجهم او ما ملكت ايمانهم فانهم غير ملومين فمن ابتغى وراء ذلك فاولئك هم العادون".
مذاھب اربعہ میں سے کسی نے بھی اس کے جواز کا قول نہ کیا بلکہ بالاجماع حرام بلکہ شرع نے مرتکب کو مستحق تعزیرِ بادشاہ اسلام فرمایا.
کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ میں ہے
" سواء كان نكاح المتعه هو عين النكاح المؤقت او غيره فهو باطل باتفاق واذا وقع من احد استحق عليه التعزير لا الحد" (ج٤ ص ٩١)
فتاوی رضویہ شریف میں سیدی امام اہلسنت فرماتے ہیں
"متعہ بنص قرآن عظیم واجماع ائمہ اہلسنت بلا شبہ باطل و حرام قطعی ہے" (ج ٥ ص ١٥٧)
نیز فرمایا " اگر یوں عقد کرے کہ میں نے تجھ سے ایک مہینہ یا ایک برس یا سو برس کے لئے نکاح کیا تو نکاح نہ ہوگا کہ ایک وقت تک نکاح کو محدود کردینا صورت متعہ ہے اور متعہ محض حرام و زنا" (ج ٥ ص ١٢٨)
جب وہ(نکاح متعہ و موقت) بنص قطعی اور باجماع ائمہ اہلسنت حرام ٹھہرا تو رافضی بے دین کا جواز ، مانع اجماع نہیں بلکہ خرق اجماع ہے کہ روافض اہلسنت سے بلکہ اسلام سے خارج ہیں اور ایسوں کا اجماع میں کوئی اعتبار نہیں.
فواتح الرحموت میں ہے
" الاجماع حجة قطعا و يفيد العلم الجازم عند جميع اهل القبلة ولا يعتد بشرذمة من الحمقاء الخوارج والشيعة لأنهم حادثون بعد الاتفاق يتشككون فى ضروريات الدين" ( بحث الاجماع )
پس خوب واضح ہو لیا کہ طریقہ مذکورہ پر نکاح نکاح نہیں بلکہ بازار زنا کا یہ جدید رنگ ہوگا جس سے بچنا بچانا ہر مسلمان کی ذمہ داری اور علمائے اسلام کا فرض منصبی ہے.
یہ بھی یاد رکھیں کہ نکاح کے لئے اولین شرط اسلام ہے اور روافض زمانہ بالعموم یہ سب اپنے عقائد باطلہ نظریات فاسدہ کے باعث کافر بالیقین مرتد بے دین ہیں، ان سے سلام کلام ، نشست و برخاست ، نکاح وپیام سب ناجائز وحرام، مرجائیں تو تعزیت ، غسل، کفن، دفن میں اعانت ، جنازے میں شرکت سب حرام ہے
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
"ان الله اختار لى اصحابى و اصهارى و سيأتى قوم يسبونهم و يبغضونهم فلا تجالسوهم ولا تشاربوهم ولا تؤاكلوهم ولا تناكحوهم".
فتاوی رضویہ شریف میں ہے
"روافض زمانہ ہرگز صرف تبرائی نہیں بلکہ یہ تبرائی علی العموم منکران ضروریات دین اور باجماع مسلمین یقینا قطعا کفار مرتدین ہیں یہاں تک کہ علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ جو انھیں کافر نہ جانے خود کافر ہے بہت عقائد کفریہ کے علاؤہ دو کفر صریح میں ان کے عالم وجاہل مرد وعورت چھوٹے بڑے سب بالا تفاق گرفتار ہیں کفر اول قرآن عظیم کو ناقص بتاتے ہیں کفر دوم ان کا ہر متنفس سیدنا امیر المؤمنین مولی علی کرم اللہ و دیگر ائمہ طاہرین رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کو حضرات عالیات انبیائے سابقین علیھم الصلوات والتحیات سے افضل بتاتا ہے" (ج ١٠ ص ٥٢٣)
کسی سنی کا نکاح مرتد سے اسی طرح مرتدین کا نکاح بھی کسی غیر سے بلکہ آپس میں مرتد کا مرتدۃ سے بھی جائز نہیں ـ
عالمگیری میں ہے
" ولا يجوز للمرتد أن يتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا كافرة اصلية و كذلك لا يجوز نكاح المرتدة مع احد كذا فى المبسوط" (ج١ ص ٣٤٧)
اور اگر بالفرض شیعان تفضیلیہ ہوں پھر بھی گمراہ و بد دین ضرور اور گمراہ کسی سنی صحیح العقیدہ لڑکی کا کفو نہیں ہو سکتا تو جب کفو نہیں پھر نکاح غیر کفو میں ضرور خلاف شرع ہے کہ اگر اولیائے زن نے قبل از نکاح اجازت صریحہ نہ دی تھی نکاح منعقد نہ ہوا ـ
بعد نکاح اگر اجازت دے بھی دیں تو وہ نافذ نہیں ہو سکتا کہ باطل کسی اجازت سے صحیح نہیں ہو سکتا در مختار میں ہے "يفتى فى غير الكفو بعدم جوازه اصلا" حاصل یہ کہ نکاح مذکور کی راہ مسدود اور ایسا نکاح شرعا مردود ہے.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
کتبہ. ہشام الدین قادری مرکزی
مرکزی دارالافتاء ٨٢ سوداگران بریلی شریف
١٨ ذوقعدہ ١٤٤٧ھ / ٦ مئی ٢٠٢٦ء
✔ مضمون کاپی ہو گیا
















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As