محسن اہلسنت
صدر المفتیین رئیس الفقہاء خلیفہ ومعتمد حضور مفتی اعظم ہند قاضی ملت قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ
ماضی قریب کے عہد شباب میں ایسی تاریخ ساز ہستیاں تشریف رکھتی تھیں جن کے علم وادب فضل وکمال تقوی طہارت ، متانت وسنجیدگی ، نفاست و سادگی بے مثال تھی
سرکار مفتئ اعظم کے وجود مسعود نے خستہ حال دور کو عہد آفریں بنایا اور آپ کی شفقت عنایت فضل وکرم نے ہزاروں حجر کو لعل یمن بنادیا جن کے علم وفضل کی روشنی عالم اسلام کو منور وتاباں کررہی ہے
اسی عہد گل کی سرکار مفتئ اعظم ہند کی دست کرم کی ایک کرامت جس کو زمانہ صدر المفتیین رئیس الفقہاء خلیفہ ومعتمد حضور مفتی اعظم ہند قاضی ملت قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ کے نام سے جانتا پہچانتا ہے
یکم جولائ 1935ء کو گاؤں" جبجّوا " پوسٹ ہلور ڈمریا گنج بستی موجودہ سدھارتھ نگر یوپی کے ایک مذھبی علمی روحانی گھرانے میں آپ کی ولادت ہوئ
آپ کا سلسلہ نسب خلیفہ اول افضل البشر بعد الانبیاء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تک سلسلہ ذھب ہے
آپ کے مورث اعلی آشوب زمانہ سے تنگ آکر مدینہ منورہ سے بغداد شریف ،وہاں سے لاہور ہوتے ہوئے دہلی پھر بارہ بنکی ضلع میں سکونت پذیر ہوئے پھر بعض خاندان کے افراد گورکھپور میں قیام پذیر ہوئے
صدیقی جاہ وجلال ،فضل وکمال شرافت وجاہت کی بنیاد پر خاندان کے کسی بزرگ کو عہدہ قضاۃ کا منصب ملا جس کی بنیاد پر یہ گھرانہ قاضی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا
قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ کے نام کے ساتھ قاضی کا لقب محض لفاظی اور عرفی نہیں تھا بلکہ آپ حقیقتا قاضی تھے تادم آخر شہر بریلی شریف میں منصب قضاء پر فائز رہے
حضرت قاضی ملت کا پورا خاندان ہمیشہ گہوارہ علم وفن رہا ہے,
آپ کے پردادا عربی فارسی سے خوب آشنا تھے اور کاتب قرآن بھی تھے,
آپ کے دادا جن کا نام احمد اللہ تھا اچھی صلاحیت کے مالک تھے اور طبیب حاذق تھے فن حکمت میں حکومت تھی
دینی بصیرت کا یہ عالم تھا کہ رسوائے زمانہ اسمعیل دہلوی کی کتاب تفویہ الایمان پر یہ نوٹ لگا دیا تھا کہ " اس کتاب کا کوئ شخص بھولے سے بھی مطالعہ نہ کرے ورنہ اس کے ایمان میں خلل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے"
الغرض آپ کے دادا ، پردادا، اور خاندان کے اکثر وبیشتر افراد علم وہنر ، فکر وفن زہد و اتقاء ، عجز و انکساری شریفانہ عادات واطوار اور نوری کردار کے حامل تھے
آپ کے چچیرے دادا مولانا مولوی حکیم قاضی محمد علی نقی شاہ فضل رحمانی علیہ الرحمہ عالم ربانی ،صاحب کشف و کرامت بزرگ اور طبیب حاذق تھے
حضرت شاہ فضل الرحمان گنج مرادآبادی علیہ الرحمہ کی بارگاہ سے آپ کو خلافت و اجازت سن 1900 میں حاصل ہوئ یعنی سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگ تھے جس میں داخل سلسلہ بھی فرماتے تھے
آپ کے وصال کے بعد اس کی جانشینی حضرت قاضی ملت کے سپرد تھی آپ کو بھی سلسہ نقشبندیہ کی اجازت حاصل تھی
دار العلوم فضل رحمانیہ پچپڑوا میں درس نظامی کی تعلیم میں 5 سال صرف فرمائے بعد ازاں بریلی شریف کی جانب پھر وہاں سے امام النحو صدر العلماء سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ کی خدمت میں میرٹھ حاضر ہوکر فیض حاصل کیا اور درس نظامی کی تکمیل فرمائ
حضور مفتی اعظم ہند ، صدر العلماء امام النحو ، سید افضل حسین مونگیری ، ریحان ملت علیھم الرحمہ والرضوان جیسی عظیم المرتبت رفیع الدرجات شخصیات سے اکتساب فیض کیا اور ان نفوس قدسیہ کی عنایت وشفقت نے آپ کو گوہر نایاب بنادیا
16 ربیع الاول 1386ھ کو سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے دامن کرم سے وابسطہ ہوگئے اسی سال کے ماہ رجب میں آپ کے مرشد گرامی نے خلافت اجازت سے بھی سرفراز فرمایا
آپ نے خود فرمایا کہ میں خوشخط تھا اس لئے حضور مفتئ اعظم جب کسی کو خلافت عطا فرماتے تو فرماتے *قاضی جی* خلافت نامہ لکھ دیجئے پھر میں لکھ کر حضرت کو دے دیتا حضرت اس پر ماذون کا نام وپتہ لکھ کر اسے عنایت فرماتے
ایک بار حضرت نے فرمایا *قاضی جی* خلافت نامہ لکھ کر لے آئیے میں نے حکم کی تعمیل کی حضرت کے سامنے لکھ کر پیش کیا حضرت نے مجھے دیکھا تبسم فرمایا اور کہا *قاضی جی* کیا لکھوں میں باادب چپ کھڑا رہا حضرت نے میرا نام لکھ کر خلافت عطا فرمادیا اور جملہ مشاغل، اوراد وظائف،احادیث کتب اور افتاء کی بھی اجازت عطا فرمائ اور عملی طور سے حدیث مصافحہ اور حدیث ماء و تمر وغیرہ براوں شریف میں عطا فرمایا
تکمیل درس کے بعد سے ہی بحکم صدر العلماء آپ مظہر اسلام میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے
چونکہ بریلی ہمیشہ سے مرجع فتوی رہا سرکار مفتئ اعظم کی خدمت میں استفتاء بکثرت آتے تھے دن بدن اضافہ ہوتا جاتا اس لئے سرکار مفتئ اعظم ہند نے قاضی ملت کی عارفانہ ،فقیہانہ صلاحیت کے پیش نظر فتوی نویسی کے فرائض آپ کے سپرد کئے
آپ بڑی محنت و جانفشانی کے ساتھ تقریبا نو سال تک رضوی دار الافتاء میں فتوی نویسی کی خدمت انجام دیتے رہے
دن میں تحریر فرماتے رات کو 2 بجے تک سرکار مفتئ اعظم کی بارگاہ میں اصلاح لیتے رہتےـ
ایک طبیب حاذق کے مطب میں جب سات سال اس طرح محنت وعرق ریزی کے ساتھ گزر گئے اور آپ کے جواب کو آپ کے مرشد نے مدلل ومبرہن پایا تو فرمایا اب آپ کے ہر مسئلے کو دیکھنا ضروری نہیں جو اہم مسئلہ ہو وہ دکھا لیا کریں ـ
پھر عرض مرض کی بنیاد پر آپ نے بریلی شریف چھوڑ دیا اور گھر پر رہے سرکار مفتئ اعظم عیادت کو تشریف لے گئے اور یوں فرمایا
*اللہ تعالی آپ کو جلد صحتیاب فرمائے اور بریلی شریف پہنچائے*
قطب الاقطاب کے زبان مبارک کا اثر کہ بہت جلد ہی مکمل صحت یابی کے ساتھ بریلی شریف جلوہ گر ہوئے
مظہر اسلام کے بعد آپ کا تقرر منظر اسلام میں 1971 میں بحیثیت صدر مفتی ہوا
بعد قیام مرکزی دار الافتاء آپ ہمیشہ وہاں کے صدر مفتی کی حیثیت سے رہے
سرکار تاج شریعت علیہ الرحمہ قاضی ہندوستان تھے اور آپ اس وقت بھی شہر بریلی شریف کے قاضی تھے
پھر آخر وقت تک *مرکزی دار الافتاء* میں فتوی نویسی ، اصلاح فتوی، تصحیح نقول اور مفتیان کرام کی تربیت کے فرائض انجام دیتے رہے
آپ کی فقہی جلالت علمی کرامت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے نوک قلم سے سے معرض وجود میں آنے والے فتاوی جات 150 ضخیم رجسٹر میں قید ہیں
اور جابجا *فتاوی تاج الشریعہ* میں سرکار تاج شریعت کے فتاوی پر آپ کی تصدیقی مہر اس بات کا بین ثبوت ہے کہ فقہ و فتاوی میں کمال حاصل تھا ذہانت و فطانت اور قوت حافظہ ، اللہ کی خاص عطا تھی جزئیات پر دسترس حاصل تھی
ایک مرتبہ *خواجہ مقبول احمد صاحب نے ایک مسئلے پر جزئیہ تلاش کیا نا مل سکا تو مفتی افضل حسین اور مفتی شریف الحق امجدی* علیھما الرحمہ والرضوان سے دریافت کیا ان دونوں صاحبان علم وفضل نے *مفتئ اعظم علیہ الرحمہ* کی طرف بھیج دیا
حضرت سے استفسار ہوا تو حضرت نے مسکراتے ہوئے فرمایا *قاضی جی* سے پوچھو وہ بتائیں گے
حضرت قاضی ملت کی بارگاہ میں مسئلہ آیا تو آپ نے *الاتحاف والبصائر* سے جزئیہ نکال کر انھیں دکھایا ،خواجہ صاحب متعجب ہوئے
دوڑے آئے مفتی اعظم کی بارگاہ میں جزئیہ دکھایا ، حضرت نے مسکراتے ہوئے خواجہ صاحب سے فرمایا *قاضی جی* کی دست بوسی و قدم بوسی کرو ـ
آپ نے رد المحتار پر امام اہلسنت کے گراں قدر حاشیہ جد الممتار کی نقل فرماکر ضائع ہونے سے محفوظ فرمالیا نیز عالمگیری (کتاب الطلاق) مجموعہ فوائد کتب فقہ ، حدیث ،حاشیہ فتح الباری ، حاشیہ صحیح البخاری ، حاشیہ عمدۃ القاری ، حاشیہ مواہب لدنیہ و ملا جلال وغیرہ کو نقل فرماکر خرد برد ہونے سے محفوظ کیا اور امام اہلسنت کی مایہ ناز تصانیف ہم تک پہنچائ ـ
عملیات میں بڑے ماہر تھے چنانچہ جب شمع شبستان رضا وجود میں آئی اور اس میں امام اہلسنت کی جانب بہت سے تعویذاتی نسخے غلط منسوب تھے تو حضور مفتئ اعظم نے آپ کو یہ ذمہ داری عطا کی کہ اصل نقوش و تعویذات کو جمع کیجئے
آپ نے نہایت جانفشانی اور لگن کے ساتھ اس کام کو انجام دیا اور بہت سے نقوش میں موکلین کے سہارے سے آپنے مجموعہ اعمال رضا کو ترتیب دیا ـ
اس کے علاؤہ مسلکی عقائد ونظریات کی تشہیر کے لئے بریلی شریف میں قادری بکڈپو کے نام سے ایک کتب خانہ قائم فرمایا جس میں اعلی حضرت کے 70 سے زائد رسائل طبع کراکر خواص و عوام کو رضوی خدمات سے روشناس کرایا
آپ کے پانچ صاحبزادے اور دو صاحبزادیان ہیں جن میں سے ایک محترم جناب قاضی غلام مجتبی صاحب حفظہ اللہ تعالی( استاذ مرکز الدراسات الاسلامیہ *جامعہ الرضا* بریلی شریف ) ہیں
جن سے فقیر راقم الحروف کو شرف تلمذ حاصل ہے
فالحمد للہ علی ذلک -
آپ کا وصال ظاہری 4 رمضان المبارک 1431ھ بمطابق 15 اگست 2010 کو بریلی شریف میں عین ظہر کی جماعت کے وقت ہوا
نماز جنازہ حضور قائد ملت حضرت علامہ *مفتی عسجد رضا صاحب قبلہ* نے ادا فرمائ ـ
آپ کا مزار پر انوار ضلع بستی کے اسی گاؤں میں مرجع خلائق ہے
✍ ہشام الدین قادری
✔ مضمون کاپی ہو گیا















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As