صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
خاندان اعلیٰ حضرت اور فتویٰ نویسی پر اجرت
خیر وخبر

خاندان اعلیٰ حضرت اور فتویٰ نویسی پر اجرت

✍️ Amir Fuzail Markazi

خاندان اعلیٰ حضرت اور فتویٰ نویسی پر اجرت
سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
بحمد اﷲ تعالیٰ فتوٰی پر کوئی فیس نہیں لی جاتی بفضلہ تعالیٰ تمام ہندستان ودیگر ممالك مثل چین و افریقہ و امریکہ وخود عرب شریف وعراق سے استفتے آتے ہیں، اور ایك وقت میں چار چار سوفتوے جمع ہوجاتے ہیں بحمد اﷲ تعالیٰ حضرت جد امجد قدس سرہ العزیز کے وقت سے اس ۱۳۳۷ھ تك اس دروازے سے فتوے جاری ہوئے اکانوے ۹۱ برس، اور خود اس فقیر غفرلہ کے قلم سے فتوے نکلتے ہوئے اکاون۵۱ برس ہونے آئے یعنی اس صفر کی ۱۴ تاریخ کو پچاس۵۰ برس چھ ۶مہینے گزرے ، اس نو۹ کم سو۱۰۰ برس میں کتنے ہزار فتوے لکھے گئے ، بارہ مجلد تو صرف اس فقیر کے فتاوے کے ہیں، بحمد ﷲ یہاں کبھی ایک پیسہ نہ لیا گیا نہ لیا جائے گا۔ بعونہٖ تعالیٰ ولہ الحمد معلوم نہیں کون لوگ ایسے پست فطرت و دنیٰ ہمت ہیں جنھوں نے یہ صیغہ کسب کا اختیار کر رکھا ہے جس کے باعث دور دور کے ناواقف مسلمان کئی بار پوچھ چکے ہیں کہ فیس کیا ہوگی وَ مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا میرا اجر تو سارے جہاں کے پرور دگار پر ہے اگر وہ چاہے ۔ (فتاویٰ رضویہ قدیم جلد3ص230 مترجم ج6 ص562 )
الحمد للّٰہ آج خانوادۂ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے فتویٰ جاری ہوتے ہوئے تقریباً 202سال ہونے کو ہے ، اورآج بھی بکثرت استفتے کا جواب دیا جاتا ہے ،مگر آج تک اس عظیم خانوادہ کی یہ درخشاں روایت پوری آب و تاب کے ساتھ برقرار ہے کہ فتویٰ نویسی پر کسی قسم کی اجرت طلب نہیں کی جاتی۔خانوادۂ رضویہ میں یہ اخلاص للّٰہیت، خدمتِ دین کا وہ تابندہ امتیاز ہے جس کی نظیر عصرِ حاضر میں کم ہی دار الافتا میں نظر آتی ہے۔
از قلم: محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Amir Fuzail Markazi

Student - Takhassus 1st | Jamiatur Raza
87
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 38
Kalam 12
Amir Fuzail Markazi
زمرہ جات

محسن اہلسنت حضور قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ

اخلاص

خاندان اعلیٰ حضرت اور فتویٰ نویسی پر اجرت - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

خاندان اعلیٰ حضرت اور فتویٰ نویسی پر اجرت

مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi

خاندان اعلیٰ حضرت اور فتویٰ نویسی پر اجرت

سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
*بحمد اﷲ تعالیٰ فتوٰی پر کوئی فیس نہیں لی جاتی بفضلہ تعالیٰ تمام ہندستان ودیگر ممالك مثل چین و افریقہ و امریکہ وخود عرب شریف وعراق سے استفتے آتے ہیں، اور ایك وقت میں چار چار سوفتوے جمع ہوجاتے ہیں بحمد اﷲ تعالیٰ حضرت جد امجد قدس سرہ العزیز کے وقت سے اس ۱۳۳۷ھ تك اس دروازے سے فتوے جاری ہوئے اکانوے ۹۱ برس، اور خود اس فقیر غفرلہ کے قلم سے فتوے نکلتے ہوئے اکاون۵۱ برس ہونے آئے یعنی اس صفر کی ۱۴ تاریخ کو پچاس۵۰ برس چھ ۶مہینے گزرے ، اس نو۹ کم سو۱۰۰ برس میں کتنے ہزار فتوے لکھے گئے ، بارہ مجلد تو صرف اس فقیر کے فتاوے کے ہیں، بحمد ﷲ یہاں کبھی ایک پیسہ نہ لیا گیا نہ لیا جائے گا۔ بعونہٖ تعالیٰ ولہ الحمد معلوم نہیں کون لوگ ایسے پست فطرت و دنیٰ ہمت ہیں جنھوں نے یہ صیغہ کسب کا اختیار کر رکھا ہے جس کے باعث دور دور کے ناواقف مسلمان کئی بار پوچھ چکے ہیں کہ فیس کیا ہوگی” وَ مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ ” میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا میرا اجر تو سارے جہاں کے پرور دگار پر ہے اگر وہ چاہے ۔* (فتاویٰ رضویہ قدیم جلد3ص230 مترجم ج6 ص562 )

الحمد للّٰہ آج خانوادۂ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے فتویٰ جاری ہوتے ہوئے تقریباً 202سال ہونے کو ہے ، اورآج بھی بکثرت استفتے کا جواب دیا جاتا ہے ،مگر آج تک اس عظیم خانوادہ کی یہ درخشاں روایت پوری آب و تاب کے ساتھ برقرار ہے کہ فتویٰ نویسی پر کسی قسم کی اجرت طلب نہیں کی جاتی۔خانوادۂ رضویہ میں یہ اخلاص للّٰہیت، خدمتِ دین کا وہ تابندہ امتیاز ہے جس کی نظیر عصرِ حاضر میں کم ہی دار الافتا میں نظر آتی ہے۔
از قلم: محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف

Scan this QR code to read online:

QR Code