اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
دیوبندی مدارس کی زبوں حالی اور وہاں کے اساتذہ کا گھٹیا کردار دیوبندی قلم سے
رد دیوبندیت ووہابیت

دیوبندی مدارس کی زبوں حالی اور وہاں کے اساتذہ کا گھٹیا کردار دیوبندی قلم سے

✍️ Amir Fuzail Markazi

دیوبندی مدارس کی زبوں حالی اور وہاں کے اساتذہ کا گھٹیا کردار دیوبندی قلم سے
ہندوؤں کے چندے سے دیوبندی مدرسے بنتے ہیں
آج دیوبندی حضرات بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارے مدارس اور مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے، دارالعلوم دیوبند ایک عظیم الشان ادارہ بن چکا ہے، لیکن کاش کوئی ان دیوبندیوں سے پوچھے کہ جناب! آپ کے مدرسوں کی فنڈنگ کہاں سے آتی ہے؟ اس میں چندے کون دیتے ہیں ،اللہ تبارک و تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ اس راز کو بھی خود انہی کی زبان سے فاش کروا دیا،چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے مشہور دیوبندی عالم علامہ سید محبوب صاحب لکھتے ہیں:
*دارالعلوم سے تعاون اور چندے کے سلسلے میں شروع ہی سے یہ طریقہ رہا کہ اس میں ہر مذہب و ملت کے لوگوں کے چندے کو قبول کیا جاتا رہا۔ دارالعلوم کے آئین چندہ کی پہلی دفعہ یہ ہے کہ چندے کی کوئی مقدار مقرر نہیں، اور نہ ہی اس میں مذہب و ملت کی کوئی قید ہے۔ چنانچہ دارالعلوم کی رودادوں میں جگہ جگہ ہندوؤں اور دوسرے غیر مسلم چندہ دہندگان کے نام موجود ہیں، اور یہ سلسلہ شروع سے لے کر آج تک جاری ہے۔
(تاریخ دارالعلوم دیوبند، صفحہ 194، سید محبوب رضوی دیوبندی)
اسی بات کی تصدیق دیوبندیوں کے بڑے قلمکار سید مناظر احسن گیلانی بھی کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
عہدِ قاسمی کی ان ہی قدیم رودادوں میں ’دستورالعملِ چندہ‘ اور ’آئینِ چندہ‘ کا عنوان قائم کر کے یہی الفاظ ملتے ہیں کہ ’چندے کی کوئی مقدار مقرر نہیں، اور نہ اس میں مذہب و ملت کی کوئی قید ہے۔‘ انہی رودادوں میں چندہ دینے والوں کی فہرست میں اسلامی ناموں کے ساتھ ساتھ بنشی تلسی رام، رام سہائے، ہردواری لال، لالہ بیجینا، منشی موتی لال، رام لال، سیوا رام، سوار وغیرہ کے نام صاف نظر آتے ہیں۔
(سوانح قاسمی، جلد دوم، صفحہ 317، مکتبہ رحمانیہ لاہور)
اب دیوبندی علما سے پوچھا جائے کہ آخر کفار کی حمایت سے چلنے والے مدارس کے مقاصد کیا ہو سکتے ہیں؟ ہندوؤں کو دیوبندیوں کے مدرسے کی امداد دینے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کفار نے دیوبندیوں کو چندے اس لیے دیے ہوں کہ وہ مسلمانوں میں فتنہ و فساد پیدا کریں؟ اور پھر غور کیجئے کہ دیوبندی مولوی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے!یہ مقولہ بالکل درست ہے بے حیا باش چہ می خواہی کن
دیوبندی مدارس بانجھ ہیں
شاید یہی وجہ ہے کہ اب دیوبندی مدارس سے دہشت گرد تو پیدا ہوتے ہیں لیکن کوئی صحیح عالمِ دین یا ولی اللہ پیدا نہیں ہوتے ہیں۔ اس کا اعتراف بھی خود دیوبندیوں کے مفتی اعظم محمد رفیع عثمانی نے ان الفاظ میں کیا:
میں نے اپنے والد محترم [مفتی محمد شفیع] سے بار بار سنا کہ ہمارے دینی مدارس گزشتہ تیس سال سے عقیم (بانجھ) ہو گئے ہیں، یعنی یہاں سے کوئی مولوی پیدا نہیں ہوتا۔ والد صاحب کو فوت ہوئے اب اٹھائیس سال ہو چکے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب سے تقریباً اٹھاون سال سے ہمارے دینی مدارس اس زبوں حالی کا شکار ہیں۔ فرمایا: مولانا تو بہت پیدا ہوتے ہیں، مولوی پیدا نہیں ہوتے۔ مولوی کس کو کہتے ہیں؟ لفظ مولوی کی نسبت مولا کی طرف ہے، یعنی اس کے معنی ہیں ’مولا والا‘ یعنی اللہ والا، یعنی ولی اللہ۔
(اصلاحی تقریریں، جلد ہفتم، صفحہ 160، بیت العلوم، انار کلی لاہور)
ایک اور دیوبندی عالم نے اس زبوں حالی کا اعتراف ان الفاظ میں کیا:
دیوبند والے حضرات خوش ہوتے ہوں گے کہ ہمارے پاس اتنے طالب علم ہر سال جمع ہوتے ہیں، یہ نہیں معلوم کہ سب کوڑا کرکٹ ہے۔ آخر کوڑا کرکٹ ہی تو ہے جس کا دماغ اور ذہن نہ ہو۔

(مجالس حضرت رائے پوری، صفحہ 144، بحوالہ: دست و گریباں کا تحقیقی جائزہ)
دیوبندی مشائخ گندی فلمیں دیکھتے ہیں
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر دیوبندی مدارس میں ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ تو سنیے! دیوبندی مدارس کے اساتذہ اور مشائخ کے اندر تصوف اور روحانیت باقی نہیں رہی، بلکہ اب وہ اپنے مدرسوں میں بیٹھ کر فحش فلمیں دیکھتے ہیں۔جس کا یہ نتیجہ ہے ۔
چنانچہ خود دیوبندی مولوی عتیق الرحمن گیلانی لکھتے ہیں:
مجھے مدرسے میں طلباء نے بتایا کہ ہر جمعرات کو مدرسے کے مہتمم کے صاحبزادے فحش ویڈیو لے کر آتے ہیں اور بند کمرے میں اسے دیکھتے ہیں۔ چونکہ میں جمعرات کو مدرسے میں موجود نہیں ہوتا تھا، ایک دن جمعرات کے علاوہ بھی وہ لوگ ویڈیو دیکھ رہے تھے۔ میں ڈنڈا لے کر وہاں پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایا، میرا خیال تھا کہ مولوی خلیل احمد درخواستی نکلیں گے، جس کو دو چار ضربیں لگانا مناسب ہو گا۔ مگر جب دروازہ کھلا تو مولانا رشید احمد درخواستی اور ایک اور مدرس اندر سے برآمد ہوئے۔ ان کی شکلیں دیکھ کر، جنہوں نے جرم کیا تھا، شرم مجھے آ رہی تھی۔ یہ 1987ء کی بات ہے، جب عام معاشرے میں بھی ویڈیو کو انتہائی برا سمجھا جاتا تھا۔
(جاندار کی تصویر کے جواز کا شرعی حکم، از عتیق الرحمن گیلانی، صفحہ 35، 36)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
قارئین کرام! جب دیوبندی مشائخ و مدارس کی یہ پستی اور زبوں حالی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، جب ان کے افکار میں گمراہی، ان کے اقوال میں تضاد، اور ان کے اعمال میں ابتری سرایت کر چکی ہو، تو کیا کسی دیوبندی کے لیے یہ زیبندہ ہے کہ وہ اپنی ہی تباہی پر ناز کرے؟ کیا یہ بھی کوئی فخر کی بات ہے کہ زوال کو کمال سمجھا جائے اور انحطاط کو امتیاز گردانا جائے؟
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئ گھر کے چراغ سے
( القول الاحسن فی کشف زور الگھمن المعروف بہ کذاب کون ؟ص 45تا49)
از قلم :محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Amir Fuzail Markazi

Student - Takhassus 1st | Jamiatur Raza
87
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 38
Kalam 12
Amir Fuzail Markazi
زمرہ جات

الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ

کیا اہل بیت اطہار معصوم ہیں ایک تحقیقی جائزہ

دیوبندی مدارس کی زبوں حالی اور وہاں کے اساتذہ کا گھٹیا کردار دیوبندی قلم سے - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

دیوبندی مدارس کی زبوں حالی اور وہاں کے اساتذہ کا گھٹیا کردار دیوبندی قلم سے

مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi

دیوبندی مدارس کی زبوں حالی اور وہاں کے اساتذہ کا گھٹیا کردار دیوبندی قلم سے

ہندوؤں کے چندے سے دیوبندی مدرسے بنتے ہیں

آج دیوبندی حضرات بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارے مدارس اور مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے، دارالعلوم دیوبند ایک عظیم الشان ادارہ بن چکا ہے، لیکن کاش کوئی ان دیوبندیوں سے پوچھے کہ جناب! آپ کے مدرسوں کی فنڈنگ کہاں سے آتی ہے؟ اس میں چندے کون دیتے ہیں ،اللہ تبارک و تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ اس راز کو بھی خود انہی کی زبان سے فاش کروا دیا،چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے مشہور دیوبندی عالم علامہ سید محبوب صاحب لکھتے ہیں:
*دارالعلوم سے تعاون اور چندے کے سلسلے میں شروع ہی سے یہ طریقہ رہا کہ اس میں ہر مذہب و ملت کے لوگوں کے چندے کو قبول کیا جاتا رہا۔ دارالعلوم کے آئین چندہ کی پہلی دفعہ یہ ہے کہ چندے کی کوئی مقدار مقرر نہیں، اور نہ ہی اس میں مذہب و ملت کی کوئی قید ہے۔ چنانچہ دارالعلوم کی رودادوں میں جگہ جگہ ہندوؤں اور دوسرے غیر مسلم چندہ دہندگان کے نام موجود ہیں، اور یہ سلسلہ شروع سے لے کر آج تک جاری ہے۔
(تاریخ دارالعلوم دیوبند، صفحہ 194، سید محبوب رضوی دیوبندی)

اسی بات کی تصدیق دیوبندیوں کے بڑے قلمکار سید مناظر احسن گیلانی بھی کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
*عہدِ قاسمی کی ان ہی قدیم رودادوں میں ’دستورالعملِ چندہ‘ اور ’آئینِ چندہ‘ کا عنوان قائم کر کے یہی الفاظ ملتے ہیں کہ ’چندے کی کوئی مقدار مقرر نہیں، اور نہ اس میں مذہب و ملت کی کوئی قید ہے۔‘ انہی رودادوں میں چندہ دینے والوں کی فہرست میں اسلامی ناموں کے ساتھ ساتھ بنشی تلسی رام، رام سہائے، ہردواری لال، لالہ بیجینا، منشی موتی لال، رام لال، سیوا رام، سوار وغیرہ کے نام صاف نظر آتے ہیں۔*
(سوانح قاسمی، جلد دوم، صفحہ 317، مکتبہ رحمانیہ لاہور)

اب دیوبندی علما سے پوچھا جائے کہ آخر کفار کی حمایت سے چلنے والے مدارس کے مقاصد کیا ہو سکتے ہیں؟ ہندوؤں کو دیوبندیوں کے مدرسے کی امداد دینے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کفار نے دیوبندیوں کو چندے اس لیے دیے ہوں کہ وہ مسلمانوں میں فتنہ و فساد پیدا کریں؟ اور پھر غور کیجئے کہ دیوبندی مولوی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ *یہ سلسلہ اب تک جاری ہے!*یہ مقولہ بالکل درست ہے* بے حیا باش چہ می خواہی کن*

دیوبندی مدارس بانجھ ہیں

شاید یہی وجہ ہے کہ اب دیوبندی مدارس سے دہشت گرد تو پیدا ہوتے ہیں لیکن کوئی صحیح عالمِ دین یا ولی اللہ پیدا نہیں ہوتے ہیں۔ اس کا اعتراف بھی خود دیوبندیوں کے مفتی اعظم محمد رفیع عثمانی نے ان الفاظ میں کیا:
*میں نے اپنے والد محترم [مفتی محمد شفیع] سے بار بار سنا کہ ہمارے دینی مدارس گزشتہ تیس سال سے عقیم (بانجھ) ہو گئے ہیں، یعنی یہاں سے کوئی مولوی پیدا نہیں ہوتا۔ والد صاحب کو فوت ہوئے اب اٹھائیس سال ہو چکے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب سے تقریباً اٹھاون سال سے ہمارے دینی مدارس اس زبوں حالی کا شکار ہیں۔ فرمایا: مولانا تو بہت پیدا ہوتے ہیں، مولوی پیدا نہیں ہوتے۔ مولوی کس کو کہتے ہیں؟ لفظ مولوی کی نسبت مولا کی طرف ہے، یعنی اس کے معنی ہیں ’مولا والا‘ یعنی اللہ والا، یعنی ولی اللہ۔”
(اصلاحی تقریریں، جلد ہفتم، صفحہ 160، بیت العلوم، انار کلی لاہور)
ایک اور دیوبندی عالم نے اس زبوں حالی کا اعتراف ان الفاظ میں کیا:
“دیوبند والے حضرات خوش ہوتے ہوں گے کہ ہمارے پاس اتنے طالب علم ہر سال جمع ہوتے ہیں، یہ نہیں معلوم کہ سب کوڑا کرکٹ ہے۔ آخر کوڑا کرکٹ ہی تو ہے جس کا دماغ اور ذہن نہ ہو۔*
(مجالس حضرت رائے پوری، صفحہ 144، بحوالہ: دست و گریباں کا تحقیقی جائزہ)

دیوبندی مشائخ گندی فلمیں دیکھتے ہیں

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر دیوبندی مدارس میں ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ تو سنیے! دیوبندی مدارس کے اساتذہ اور مشائخ کے اندر تصوف اور روحانیت باقی نہیں رہی، بلکہ اب وہ اپنے مدرسوں میں بیٹھ کر فحش فلمیں دیکھتے ہیں۔جس کا یہ نتیجہ ہے ۔

چنانچہ خود دیوبندی مولوی عتیق الرحمن گیلانی لکھتے ہیں:
*مجھے مدرسے میں طلباء نے بتایا کہ ہر جمعرات کو مدرسے کے مہتمم کے صاحبزادے فحش ویڈیو لے کر آتے ہیں اور بند کمرے میں اسے دیکھتے ہیں۔ چونکہ میں جمعرات کو مدرسے میں موجود نہیں ہوتا تھا، ایک دن جمعرات کے علاوہ بھی وہ لوگ ویڈیو دیکھ رہے تھے۔ میں ڈنڈا لے کر وہاں پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایا، میرا خیال تھا کہ مولوی خلیل احمد درخواستی نکلیں گے، جس کو دو چار ضربیں لگانا مناسب ہو گا۔ مگر جب دروازہ کھلا تو مولانا رشید احمد درخواستی اور ایک اور مدرس اندر سے برآمد ہوئے۔ ان کی شکلیں دیکھ کر، جنہوں نے جرم کیا تھا، شرم مجھے آ رہی تھی۔ یہ 1987ء کی بات ہے، جب عام معاشرے میں بھی ویڈیو کو انتہائی برا سمجھا جاتا تھا۔*
(جاندار کی تصویر کے جواز کا شرعی حکم، از عتیق الرحمن گیلانی، صفحہ 35، 36)

قارئین کرام! جب دیوبندی مشائخ و مدارس کی یہ پستی اور زبوں حالی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، جب ان کے افکار میں گمراہی، ان کے اقوال میں تضاد، اور ان کے اعمال میں ابتری سرایت کر چکی ہو، تو کیا کسی دیوبندی کے لیے یہ زیبندہ ہے کہ وہ اپنی ہی تباہی پر ناز کرے؟ کیا یہ بھی کوئی فخر کی بات ہے کہ زوال کو کمال سمجھا جائے اور انحطاط کو امتیاز گردانا جائے؟

@دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئ گھر کے چراغ سے
( القول الاحسن فی کشف زور الگھمن المعروف بہ کذاب کون ؟ص 45تا49)
از قلم :محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی

Scan this QR code to read online:

QR Code