اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سفر بلگرام کچھ یادیں کچھ باتیں
مبارک شب وروز

سفر بلگرام کچھ یادیں کچھ باتیں

✍️ Amir Fuzail Markazi

سفر بلگرام کچھ یادیں کچھ باتیں
فقیرِ قادری کو مورخہ 19 جون، بروز جمعہ اپنے رفقائے درس مولانا عبدالمصور مرکزی، مولانا رضاء اللہ مرکزی، مولانا امیر الدین مرکزی، مولانا ریحان رضا مرکزی، مولانا عظیم الدین مرکزی اور( مولانا غلام رسول متعلم جماعت ثامنہ) کے ہمراہ بریلی شریف سے پہلی بار بلگرام شریف حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ بلگرام وہ مردم خیز، علم پرور اور روحانیت آفریں سرزمین ہے جسے بجا طور پر مخزنِ اولیاء و علماء کہا جا سکتا ہے۔ اسی بلگرام کے بارے میں میرے امام، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ نے فرمایا:
اللہ اللہ عزّ و شاں و احترامِ بلگرام
عبدِ واحد کے سبب جنت ہے نامِ بلگرام
روزِ عرس آوارگانِ دشتِ غربت کے لیے
منّ و سلویٰ ہے مگر خبز و ادامِ بلگرام
آسماں عینک لگا کر مہر و مہ کی دیکھ لے
جلوۂ انوارِ حق ہے صبح و شامِ بلگرام
یادگار اب تک ہیں اس گل کی بہارِ فیض
خندہ ہاے گل رخاں ولالہ فامِ بلگرام
لائی ہے اس آفتابِ دیں کی تحویلِ جلیل
ساغرِ مارہِرہِ میں صہبائے جامِ بلگرام
بلگرام شریف پہنچ کر وہاں مدفون اولیائے کرام علیہم الرحمہ کے مزاراتِ مقدسہ پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور ان نفوسِ قدسیہ کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ خصوصاً بارگاہِ سیدی، سندی، عمدۃ المحققین قطب الاولیاء حضرت سید میر عبد الواحد بلگرامی،اور فاتح بلگرام مجمع البحرین غوث الثقلین جد اعلیٰ مشائخ مارہریرہ شریف ،مسولی شریف ،بلگرام شریف سیدی سندی محمد صاحب دعوۃ الصغری علیھما الرحمہ میں حاضری میرے لیے باعثِ سعادت رہی۔
میں بارگاہ بڑی سرکار بلگرامی ( خانقاہ اویس میاں واسطی مد ظلہ العالی)میں حاضر تھا کہ اسی دوران محب گرامی حضرت مولانا راشد احمد جامعی حفظہ اللہ (خادم التدریس دارالعلوم واحدیہ طیبہ، بلگرام شریف) کا کال آیا کہ وہ ملاقات کے خواہش مند ہیں۔ چنانچہ فاتحہ سے فراغت کے بعد ہم سب دارالعلوم واحدیہ طیبہ حاضر ہوئے۔ یہ حضرت مولانا راشد احمد جامعی حفظہ اللہ سے میری پہلی ملاقات تھی، اگر چہ سوشل میڈیا پر ان کی تحریر یں نظر نواز ہوا کرتی تھی ،مگر ان کی شفقت، خندہ پیشانی اور اخلاص نے اجنبیت کا ہر احساس مٹادیاحضرت نے نہایت پرتکلف انداز میں اصاغر نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناشتے کا اہتمام فرمایا، پھر تعارف، اور باہمی تبادلۂ خیال کا سلسلہ شروع ہوا۔
چند ہی لمحے گزرے تھے کہ اذانِ جمعہ کی آواز بلند ہوئی۔ ہم خانقاہ سے متصل قدیم مسجد میں نمازِ جمعہ کے لیے حاضر ہوئے، جہاں حضور سیدی سرکار سہیل میاں قادری واحدی مد ظلہ العالی خطابِ جمعہ فرما رہے تھے۔ ان کے پُرمغز، مدلل اور ایمان افروز خطاب سے میں بہت متاثر ہوا،بیان کا محور سیرتِ امام حسین رضی اللہ عنہ، دفاع عقائدِ اہلِ سنت، ردِّ وہابیہ اور ردِّ روافض کا سنگم تھا۔
دورانِ خطاب حضرت نے ایک نہایت ایمان افروز جملہ ارشاد فرمایاجس سے میرا دل باغ باغ ہوگیا:
اہلِ بیت کی محبت نصف ایمان ہے، یقینا نصف ایمان ہے،لیکن سن لو !اہلِ بیت کا سچا محب وہی ہے جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پہلا، حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو دوسرا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو تیسرا اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو چوتھا خلیفہ برحق مانے، اور تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی تعظیم و توقیر کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھے۔
اور آپ نے جم کر روافض کی تردید کی،سید زادے کایہ طرز خطاب دیگر سجادگان کے لیے قابل تقلید ہےحقیقت یہی ہے کہ" اگر خانقاہوں کے سجادگان اور ساداتِ کرام اسی جرأت و بصیرت کے ساتھ کھل کر فتنۂ رافضیت کی تردید اور عقائدِ اہلِ سنت کا دفاع کرتے رہیں تو بعید نہیں کہ یہ فتنہ اپنے محدود دائرے میں محصور ہو کر رہ جائے۔* اللہ تعالیٰ انہیں استقامت، اخلاص اور مزید توفیقِ خیر عطا فرمائے۔آمین
حضرت نے اپنے خطاب میں مروجہ تعزیہ داری،اور سات محرم کو نکلنے والے عَلَم کے جلوس اوراس میں منتیں سماجتیں، ڈھول تاشے اور دیگر خرافات کی بھی نہایت مؤثر انداز میں مذمت فرمائی اور عوام کو ان بدعات و رسومِ باطلہ سے اجتناب کی تلقین کی۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان تمام خرافات سے محفوظ رکھے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
بعدہ نمازِ جمعہ حضرت کی اقتدا میں ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ نماز کے بعد دوبارہ بارگاہِ حضرت سید میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ میں حاضر ہو کر فاتحہ و سلام پیش کیا۔ واپسی کا ارادہ ہی تھا کہ نظر حضرت سیدنا سہیل میاں مدظلہ العالی پر پڑی، جو خانقاہ میں تشریف فرما تھے۔ خادم سے اجازت لے کر بارگاہ میں حاضر ہوا۔ حضرت نے نہایت شفقت سے آمد کا مقصد دریافت فرمایا اور اصاغر نوازی کا حسین مظاہرہ فرمایا اور خادم کو مٹھائی وغیرہ لانے کا حکم دیا۔ بعدہ ،الحمدللہ! تقریباً ڈھائی گھنٹے حضرت کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ اس دوران متعدد اہم علمی، فکری اور اصلاحی موضوعات پر گفتگو ہوئی، جن میں خصوصاً خانقاہوں میں بڑھتی ہوئی رافضیت و مولائیت، اس کے اسباب و تدارک، مروجہ تعزیہ داری، عَلَم کے جلوس، اور بعض خانقاہی حلقوں میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی جیسے حساس مسائل شامل تھے۔ حضرت نے نہایت حکیمانہ، متوازن اور بصیرت افروز انداز میں رہنمائی فرمائی، جس سے خاطر خواہ استفادہ ہوا۔اور فقیر نے حضرت کے سینے میں دوران گفتگو سنیت اور عوام اہل سنت کی اصلاح کا درد ملاحظہ کیا اللہ تعالیٰ حضرت کا سایہ اہل سنت پر بدیر قائم رکھے آمین
بعد ازاں حضرت سے اجازت لے کر فاتح بلگرام مجمع البحرین غوث الثقلین جد اعلیٰ مشائخ مارہریرہ شریف ،مسولی شریف، بلگرام شریف سیدی سندی محمد صاحب دعوۃ الصغری علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا، فاتحہ و سلام پیش کیا، اور ان نفوسِ قدسیہ سے روحانی فیوض و برکات سمیٹنے کے بعد رات تقریباً دس بجے بحفاظت بریلی شریف واپس پہنچ گیا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ ان جلیل القدر اولیائے کرام کے صدقے ہمیں صحیح عقائد پر استقامت، اخلاص، عملِ صالح اور ان کے فیوض و برکات سے وافر حصہ عطا فرمائے، اور اہلِ سنت و جماعت کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
از قلم ;محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر :7492077390
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Amir Fuzail Markazi

Student - Takhassus 1st | Jamiatur Raza
305
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 38
Kalam 12
Amir Fuzail Markazi
زمرہ جات

ردِ الحاد

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]

سفر بلگرام کچھ یادیں کچھ باتیں - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

سفر بلگرام کچھ یادیں کچھ باتیں

مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi

سفر بلگرام کچھ یادیں کچھ باتیں

فقیرِ قادری کو مورخہ 19 جون، بروز جمعہ اپنے رفقائے درس مولانا عبدالمصور مرکزی، مولانا رضاء اللہ مرکزی، مولانا امیر الدین مرکزی، مولانا ریحان رضا مرکزی، مولانا عظیم الدین مرکزی اور( مولانا غلام رسول متعلم جماعت ثامنہ) کے ہمراہ* بریلی شریف سے پہلی بار بلگرام شریف *حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ بلگرام وہ مردم خیز، علم پرور اور روحانیت آفریں سرزمین ہے جسے بجا طور پر مخزنِ اولیاء و علماء کہا جا سکتا ہے۔ اسی بلگرام کے بارے میں میرے امام، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ نے فرمایا:

@اللہ اللہ عزّ و شاں و احترامِ بلگرام
عبدِ واحد کے سبب جنت ہے نامِ بلگرام

@روزِ عرس آوارگانِ دشتِ غربت کے لیے
منّ و سلویٰ ہے مگر خبز و ادامِ بلگرام

@آسماں عینک لگا کر مہر و مہ کی دیکھ لے
جلوۂ انوارِ حق ہے صبح و شامِ بلگرام

@یادگار اب تک ہیں اس گل کی بہارِ فیض
خندہ ہاے گل رخاں ولالہ فامِ بلگرام

@لائی ہے اس آفتابِ دیں کی تحویلِ جلیل
ساغرِ مارہِرہِ میں صہبائے جامِ بلگرام

بلگرام شریف پہنچ کر وہاں مدفون اولیائے کرام علیہم الرحمہ کے مزاراتِ مقدسہ پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور ان نفوسِ قدسیہ کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ خصوصاً بارگاہِ سیدی، سندی، عمدۃ المحققین قطب الاولیاء* حضرت سید میر عبد الواحد بلگرامی،*اور فاتح بلگرام مجمع البحرین غوث الثقلین جد اعلیٰ مشائخ مارہریرہ شریف ،مسولی شریف ،بلگرام شریف سیدی سندی* محمد صاحب دعوۃ الصغری علیھما الرحمہ *میں حاضری میرے لیے باعثِ سعادت رہی۔

میں بارگاہ بڑی سرکار بلگرامی ( خانقاہ اویس میاں واسطی مد ظلہ العالی)میں حاضر تھا کہ اسی دوران* محب گرامی حضرت مولانا راشد احمد جامعی حفظہ اللہ (خادم التدریس دارالعلوم واحدیہ طیبہ، بلگرام شریف)* کا کال آیا کہ وہ ملاقات کے خواہش مند ہیں۔ چنانچہ فاتحہ سے فراغت کے بعد ہم سب دارالعلوم واحدیہ طیبہ حاضر ہوئے۔ یہ *حضرت مولانا راشد احمد جامعی حفظہ اللہ* سے میری پہلی ملاقات تھی، اگر چہ سوشل میڈیا پر ان کی تحریر یں نظر نواز ہوا کرتی تھی ،مگر ان کی شفقت، خندہ پیشانی اور اخلاص نے اجنبیت کا ہر احساس مٹادیاحضرت نے نہایت پرتکلف انداز میں اصاغر نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناشتے کا اہتمام فرمایا، پھر تعارف، اور باہمی تبادلۂ خیال کا سلسلہ شروع ہوا۔

چند ہی لمحے گزرے تھے کہ اذانِ جمعہ کی آواز بلند ہوئی۔ ہم خانقاہ سے متصل قدیم مسجد میں نمازِ جمعہ کے لیے حاضر ہوئے، جہاں* حضور سیدی سرکار سہیل میاں قادری واحدی مد ظلہ العالی * خطابِ جمعہ فرما رہے تھے۔ ان کے پُرمغز، مدلل اور ایمان افروز خطاب سے میں بہت متاثر ہوا،بیان کا محور سیرتِ امام حسین رضی اللہ عنہ، دفاع عقائدِ اہلِ سنت، ردِّ وہابیہ اور ردِّ روافض کا سنگم تھا۔

دورانِ خطاب حضرت نے ایک نہایت ایمان افروز جملہ ارشاد فرمایاجس سے میرا دل باغ باغ ہوگیا:
“اہلِ بیت کی محبت نصف ایمان ہے، یقینا نصف ایمان ہے،لیکن سن لو !اہلِ بیت کا سچا محب وہی ہے جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پہلا، حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو دوسرا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو تیسرا اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو چوتھا خلیفہ برحق مانے، اور تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی تعظیم و توقیر کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھے۔”

اور آپ نے جم کر روافض کی تردید کی،سید زادے کایہ طرز خطاب دیگر سجادگان کے لیے قابل تقلید ہےحقیقت یہی ہے کہ” اگر خانقاہوں کے سجادگان اور ساداتِ کرام اسی جرأت و بصیرت کے ساتھ کھل کر فتنۂ رافضیت کی تردید اور عقائدِ اہلِ سنت کا دفاع کرتے رہیں تو بعید نہیں کہ یہ فتنہ اپنے محدود دائرے میں محصور ہو کر رہ جائے۔* اللہ تعالیٰ انہیں استقامت، اخلاص اور مزید توفیقِ خیر عطا فرمائے۔آمین

حضرت نے اپنے خطاب میں مروجہ تعزیہ داری،اور سات محرم کو نکلنے والے عَلَم کے جلوس اوراس میں منتیں سماجتیں، ڈھول تاشے اور دیگر خرافات کی بھی نہایت مؤثر انداز میں مذمت فرمائی اور عوام کو ان بدعات و رسومِ باطلہ سے اجتناب کی تلقین کی۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان تمام خرافات سے محفوظ رکھے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

بعدہ نمازِ جمعہ حضرت کی اقتدا میں ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ نماز کے بعد دوبارہ بارگاہِ *حضرت سید میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ* میں حاضر ہو کر فاتحہ و سلام پیش کیا۔ واپسی کا ارادہ ہی تھا کہ نظر حضرت سیدنا *سہیل میاں* مدظلہ العالی پر پڑی، جو خانقاہ میں تشریف فرما تھے۔ خادم سے اجازت لے کر بارگاہ میں حاضر ہوا۔ حضرت نے نہایت شفقت سے آمد کا مقصد دریافت فرمایا اور اصاغر نوازی کا حسین مظاہرہ فرمایا اور خادم کو مٹھائی وغیرہ لانے کا حکم دیا۔ بعدہ ،الحمدللہ! تقریباً ڈھائی گھنٹے حضرت کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ اس دوران متعدد اہم علمی، فکری اور اصلاحی موضوعات پر گفتگو ہوئی، جن میں خصوصاً خانقاہوں میں بڑھتی ہوئی رافضیت و مولائیت، اس کے اسباب و تدارک، مروجہ تعزیہ داری، عَلَم کے جلوس، اور بعض خانقاہی حلقوں میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی جیسے حساس مسائل شامل تھے۔ حضرت نے نہایت حکیمانہ، متوازن اور بصیرت افروز انداز میں رہنمائی فرمائی، جس سے خاطر خواہ استفادہ ہوا۔اور فقیر نے حضرت کے سینے میں دوران گفتگو سنیت اور عوام اہل سنت کی اصلاح کا درد ملاحظہ کیا اللہ تعالیٰ حضرت کا سایہ اہل سنت پر بدیر قائم رکھے آمین

بعد ازاں حضرت سے اجازت لے کر* فاتح بلگرام مجمع البحرین غوث الثقلین جد اعلیٰ مشائخ مارہریرہ شریف ،مسولی شریف، بلگرام شریف سیدی سندی محمد صاحب دعوۃ الصغری علیہ الرحمہ* کی بارگاہ میں حاضر ہوا، فاتحہ و سلام پیش کیا، اور ان نفوسِ قدسیہ سے روحانی فیوض و برکات سمیٹنے کے بعد رات تقریباً دس بجے بحفاظت بریلی شریف واپس پہنچ گیا۔

اللہ تعالیٰ ان جلیل القدر اولیائے کرام کے صدقے ہمیں صحیح عقائد پر استقامت، اخلاص، عملِ صالح اور ان کے فیوض و برکات سے وافر حصہ عطا فرمائے، اور اہلِ سنت و جماعت کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

از قلم ;محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر :7492077390

Scan this QR code to read online:

QR Code