صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مہر بخشش حدائق بخشش کا عکس جمیل
تاثرات

مہر بخشش حدائق بخشش کا عکس جمیل

✍️ Amir Fuzail Markazi

مہر بخشش حدائق بخشش کا عکس جمیل
نعت و منقبت ادب کی وہ عظیم اور پاکیزہ صنف سخن ہے، جس میں عشقِ رسولِ عربی ﷺ کے سوز و گداز سے معمور نغمے گونجتے ہیں، اور اولیاء و صلحاء کی عظمتوں کے نقوش دلوں پر ثبت ہوتے ہیں۔ یہ محض لفظوں کی دلآویز آرائش یا سخن کی نازک کاریگری نہیں، بلکہ ایک مخلصانہ ایمانی جذبات کی ترجمان،اور روحانیت سے لبریز تحریر، اور اخلاص و عقیدت سے معمور وجدانی پیغام ہوتا ہے،جو قلبِ صادق سے نکل کر، صدق و وفا کےحامل دلوں میں جا گزیں ہو جاتا ہے۔
اسی مبارک سلسلے کی ایک خوبصورت کڑی مہر بخشش ہے جو علم و ادب کے افق پر درخشاں ستارے، امیرِ شعر و سخن، فاضلِ قرطاس و قلم، استاذُالشعراء، جسیمُ الشعراء حضرت علامہ مولانا حافظ و قاری مفتی محمد جسیم اکرم مرکزی دامت برکاتہم العالیہ کی نعتیہ و ادبی کاوشوں کا دلکش مرقع اور گلشنِ سخن کا ایک نادر گلدستہ ہے۔ جس میں فکرِ رضا، وجدانِ جامی، اور حکمتِ سعدی کی مہک محسوس ہوتی ہے۔ اس میں تاجدارِ اہلِ سنت، مفتی اعظم ہند اور سرکارِ تاج الشریعہ علیہما الرحمہ کا روحانی فیضان جھلکتا ہے۔
حضرت جسیم مرکزی کی شاعری کی عظمت ومعنویت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نامور محقق اور فصاحت و بلاغت کے امین، علامہ ساحل شہسرامی جیسے اکابر اہلِ قلم ان کے کلام کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں:
جسیم مرکزی کی شاعری میں فن اپنی تکمیل کی منزل کی جانب گامزن ہے ۔ سہولت بیان حسن ادا، سلاست اسلوب فکری وسعت ، دینی تصلب ، اصلاحی مزاج ، قلندرانہ فکر سوز الفت اور باطن کا اضطراب نمایاں ہے جو ہر بے ہنگم صورت حال پر تڑپ اٹھتا ہے ۔ شاعر زمانے کا نباض اور مصلح ہوتا ہے ۔ اقبال کی شاعری اس کا بہترین نمونہ ہے ۔ وہ رنگ جسیم کی شاعری میں بھی نمایاں ہے۔ ان کی اصلاحی نظمیں اور تنقیدی اشعار اس جذبے کے بہترین آئینہ دار ہیں لفظوں کی بنت ، تراکیب کی بندش ، تعبیر کا ہنر مشکل قافیوں کا استعمال بھی ان کی شاعری میں عنفوان شباب کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔۔۔۔ان کے بعض اشعارپر تو کہنہ مشقی کا گماں ہوتا ہے(تقریظ بر قاش دل و مہر بخشش)
اور ان کی فن شاعری پر کامل دسترس ہی کا نتیجہ ہےکہ لاک ڈاؤن کے بعد سے اب تک جامعۃ الرضا کی فضا جسیم مرکزی کی فکری و شعری خوشبو سے معطر ہے۔ آج وہاں ہونے والی بزم ہائے سخن میں موجود بیشتر شعراء یا تو ان کے خوشہ چین ہیں یا کسی نہ کسی درجے میں اُن سے اکتسابِ فیض کر رہے ہیں۔
اگر ہم اُن کے اشعار کا مطالعہ کریں تو ہمیں امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کی روحانی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً اعلیٰ حضرت نے فرمایا:
جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کریں خدا
جس کو ہو درد کا مزا ناز دوا اٹھاۓ کیوں
اسی تسلسل کو جسیم مرکزی صاحب نے یوں کمال خوبصورتی سے آگے بڑھایا:
عشق رسول پاک ہے بس مقصد حیات
کچھ بھی سواۓ اس کے نہیں جانتا ہوں میں
عشق حضور میں جیوں عشق حضور میں مروں
پی کے مگن سدا رہوں ساقی مجھے وہ جام دو
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :
فرش والے تیری شوکت کا علو کیا جانیں
خسرواں عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا
جسیم الشعراء لکھتے ہیں :
کوئ کیا جانے کہاں تک ہے رسائ تیری
عرش پر بھی ترے قدموں کے نشاں ملتے ہیں
امام اہل سنت فرماتے ہیں :
اس گلی کا گدا ہوں میں جس میں
مانگتے تاجدار پھرتے ہیں
جسیم مرکزی اسی کو اپنے خاص انداز میں یوں کہتے ہیں :
ہم ایسے در کے ہیں ادنی گدا جسیم اکرم
جہاں پہ شاہ ترستے ہیں نوکری کیلئے
یہ تو صرف چند جھلکیاں ہیں آپ مہر بخشش کا مطالعہ کریں ایک سے ایک عشق وعرفان سے ڈوبے ہوئے اشعار رنگ رضا میں آپ کو پڑھنے کو ملیں گے جو آپ کے ایمان میں تازگی کا سبب بنے گی اور آپ جسیم الشعراء کو مبارکباد دۓ بغیر نہیں رہ سکیں گے ۔کیوں کہ فکر رضا کو اپنی شاعری میں پرونا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے:
نبی کی مدح وثناء کے لۓ جسیم اکرم
رضا کی فکر کا خامہ تلاش کرتے ہیں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے مؤلف اور اس کے معاونین کیلئے ذریعۂ نجات بنائے، اور حضرت جسیم مرکزی صاحب کی عمر، علم اور قلم میں مزید برکتیں عطا فرمائے۔آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
از :محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
فاضل جامعۃ الرضا بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Amir Fuzail Markazi

Student - Takhassus 1st | Jamiatur Raza
93
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 38
Kalam 12
Amir Fuzail Markazi
زمرہ جات

سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۳)

تارکین نماز کا انجام قرآن وحدیث کی روشنی میں

مہر بخشش حدائق بخشش کا عکس جمیل - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مہر بخشش حدائق بخشش کا عکس جمیل

مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi

مہر بخشش حدائق بخشش کا عکس جمیل

نعت و منقبت ادب کی وہ عظیم اور پاکیزہ صنف سخن ہے، جس میں عشقِ رسولِ عربی ﷺ کے سوز و گداز سے معمور نغمے گونجتے ہیں، اور اولیاء و صلحاء کی عظمتوں کے نقوش دلوں پر ثبت ہوتے ہیں۔ یہ محض لفظوں کی دلآویز آرائش یا سخن کی نازک کاریگری نہیں، بلکہ ایک مخلصانہ ایمانی جذبات کی ترجمان،اور روحانیت سے لبریز تحریر، اور اخلاص و عقیدت سے معمور وجدانی پیغام ہوتا ہے،جو قلبِ صادق سے نکل کر، صدق و وفا کےحامل دلوں میں جا گزیں ہو جاتا ہے۔

اسی مبارک سلسلے کی ایک خوبصورت کڑی *مہر بخشش* ہے جو علم و ادب کے افق پر درخشاں ستارے، امیرِ شعر و سخن، فاضلِ قرطاس و قلم، استاذُالشعراء، جسیمُ الشعراء* حضرت علامہ مولانا حافظ و قاری مفتی محمد جسیم اکرم مرکزی دامت برکاتہم العالیہ* کی نعتیہ و ادبی کاوشوں کا دلکش مرقع اور گلشنِ سخن کا ایک نادر گلدستہ ہے۔ جس میں فکرِ رضا، وجدانِ جامی، اور حکمتِ سعدی کی مہک محسوس ہوتی ہے۔ اس میں تاجدارِ اہلِ سنت، مفتی اعظم ہند اور سرکارِ تاج الشریعہ علیہما الرحمہ کا روحانی فیضان جھلکتا ہے۔

*حضرت جسیم مرکزی* کی شاعری کی عظمت ومعنویت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نامور محقق اور فصاحت و بلاغت کے امین، علامہ ساحل شہسرامی جیسے اکابر اہلِ قلم ان کے کلام کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں:
* جسیم مرکزی کی شاعری میں فن اپنی تکمیل کی منزل کی جانب گامزن ہے ۔ سہولت بیان حسن ادا، سلاست اسلوب فکری وسعت ، دینی تصلب ، اصلاحی مزاج ، قلندرانہ فکر سوز الفت اور باطن کا اضطراب نمایاں ہے جو ہر بے ہنگم صورت حال پر تڑپ اٹھتا ہے ۔ شاعر زمانے کا نباض اور مصلح ہوتا ہے ۔ اقبال کی شاعری اس کا بہترین نمونہ ہے ۔ وہ رنگ جسیم کی شاعری میں بھی نمایاں ہے۔ ان کی اصلاحی نظمیں اور تنقیدی اشعار اس جذبے کے بہترین آئینہ دار ہیں لفظوں کی بنت ، تراکیب کی بندش ، تعبیر کا ہنر مشکل قافیوں کا استعمال بھی ان کی شاعری میں عنفوان شباب کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔۔۔۔ان کے بعض اشعارپر تو کہنہ مشقی کا گماں ہوتا ہے*(تقریظ بر قاش دل و مہر بخشش)

اور ان کی فن شاعری پر کامل دسترس ہی کا نتیجہ ہےکہ لاک ڈاؤن کے بعد سے اب تک جامعۃ الرضا کی فضا *جسیم مرکزی *کی فکری و شعری خوشبو سے معطر ہے۔ آج وہاں ہونے والی بزم ہائے سخن میں موجود بیشتر شعراء یا تو ان کے خوشہ چین ہیں یا کسی نہ کسی درجے میں اُن سے اکتسابِ فیض کر رہے ہیں۔

اگر ہم اُن کے اشعار کا مطالعہ کریں تو ہمیں امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کی روحانی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً اعلیٰ حضرت نے فرمایا:

@جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کریں خدا
جس کو ہو درد کا مزا ناز دوا اٹھاۓ کیوں

اسی تسلسل کو جسیم مرکزی صاحب نے یوں کمال خوبصورتی سے آگے بڑھایا:

@عشق رسول پاک ہے بس مقصد حیات
کچھ بھی سواۓ اس کے نہیں جانتا ہوں میں

@عشق حضور میں جیوں عشق حضور میں مروں
پی کے مگن سدا رہوں ساقی مجھے وہ جام دو

اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :

@فرش والے تیری شوکت کا علو کیا جانیں
خسرواں عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا

جسیم الشعراء لکھتے ہیں :

@کوئ کیا جانے کہاں تک ہے رسائ تیری
عرش پر بھی ترے قدموں کے نشاں ملتے ہیں

امام اہل سنت فرماتے ہیں :

@اس گلی کا گدا ہوں میں جس میں
مانگتے تاجدار پھرتے ہیں

جسیم مرکزی اسی کو اپنے خاص انداز میں یوں کہتے ہیں :

@ ہم ایسے در کے ہیں ادنی گدا جسیم اکرم
جہاں پہ شاہ ترستے ہیں نوکری کیلئے

یہ تو صرف چند جھلکیاں ہیں آپ مہر بخشش کا مطالعہ کریں ایک سے ایک عشق وعرفان سے ڈوبے ہوئے اشعار رنگ رضا میں آپ کو پڑھنے کو ملیں گے جو آپ کے ایمان میں تازگی کا سبب بنے گی اور آپ جسیم الشعراء کو مبارکباد دۓ بغیر نہیں رہ سکیں گے ۔کیوں کہ فکر رضا کو اپنی شاعری میں پرونا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے:

@ نبی کی مدح وثناء کے لۓ جسیم اکرم
رضا کی فکر کا خامہ تلاش کرتے ہیں

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے مؤلف اور اس کے معاونین کیلئے ذریعۂ نجات بنائے، اور حضرت جسیم مرکزی صاحب کی عمر، علم اور قلم میں مزید برکتیں عطا فرمائے۔آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

از :محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
فاضل جامعۃ الرضا بریلی شریف

Scan this QR code to read online:

QR Code