صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
علم ایک لازوال دولت ہے
متفرقات

علم ایک لازوال دولت ہے

✍️ Amir Fuzail Markazi

علم ایک لازوال دولت ہے
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ،بسم اللہ الرحمن الرحیم
قل ربی زدنی علما
صدق اللہ العلی العظیم ۔۔۔۔
حضرات محترم !آئۓ سب سے پہلے ہم اور آپ عقیدت و محبت کے ساتھ نبی اکرم نور مجسم سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں درود شریف کا نذرانہ عقیدت پیش کرے پڑھے بآواز بلند اللہم صل علی محمد ۔۔۔
حضرت مولی علی فرماتے ہیں :
رضِینا قسمۃَ الجبارِ فینا
لنا علمٌ و للجہالِ مالٌ
انّ المالَ یفنی عن قریب
فانّ العلمَ باقٍ لا یزال
حضرات محترم!اس نورانی علمی مسابقہ میں میری تقریر کا عنوان علم ایک لازوال دولت ہے کچھ دیر میں اس موضوع پر آپ سے مخاطب ہونگا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ! قل رب زدنی علما اے محبوب آپ مجھ سے علم کی زیادتی طلب کیجیے ۔یعنی اے محبوب آپ مجھ سے دعا کیجئے کہ اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ رب تعالی کے نزدیک علم کا کتنا بڑا مقام ہے کہ رب تعالی اپنے پیارے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو علم کی زیادتی طلب کرنے کے لیے فرما رہا ہےاور حکم دے رہا ہے اے محبوب! آپ مجھ سے زیادتی علم طلب کیجئے حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی رحمت اللہ علیہ فتح الباری شرح بخاری جلد اول صفحہ نمبر 130 پر ارشاد فرماتے ہیں ۔اس آیت کریمہ سے علم کی فضیلت وعظمت واضح طور پر ثابت ہو رہی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو علم کے علاوہ کسی دوسری چیز کی زیادتی طلب کرنے کے لیے حکم نہیں فرمایا۔اس آیت مقدسہ سے معلوم ہوا خدا تعالی کے نزدیک علم ایک ایسی دولت ہے علم ایک ایسا سرمایہ ہے علم ایک ایسی نعمت ہے جو دنیا اور مافیہ سے بہتر ہے اس کا کوئی جواب نہیں اس کے لیے کوئی زوال نہیں بلکہ علم ایک لازوال دولت ہے تبھی تو اللہ تبارک و تعالی دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء ان کے بندوں میں اللہ تعالیٰ سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے یرفع اللہ الذین آمنوا منکم اوتوا العلم درجٰت یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والے اور علماء کے درجات کو بلند فرمائے گا ۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اہل علم کے درجات کو بلند فرماتا ہے تو ہم اپنے آپ کو علم کے حصول میں منہمک رکھے اور ڈاکٹر اقبال کی زبان کہتے رہے!
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جاۓ ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر
تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے ایک ڈھیر
اب سوال اٹھتا ہے ہم علم حاصل کیوں کریں جواب یہ ہےہم علم اس لیے حاصل کرتے ہیں کہ ہمیں رضا الہی حاصل ہوجاۓ،ہم علم حاصل کرتے ہیں کیوں کہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کی میراث ہے میرے آقا فرماتے ہیں العلماء ورثۃ الانبیاءعلماء انبیا کے وارث ہے۔دوسری حدیث پاک میں ہے العلم خیر من العبادۃ علم عبادت سے بہتر ہے ایک اور جگہ میرے آقا فرماتے ہیں!من صار بالعلم حیا لم یمت ابدا جو علم کی وجہ سے زندہ ہوا وہ کبھی نہیں مرےگا۔کیونکہ علم لازوال دولت ہے جو کبھی فنا ہونے والی نہیں تبھی تو داغ دہلوی نے کہا تھا!
رہتا ہے نام علم سے زندہ ہمیشہ داغ
اولاد سے تو بس یہی دو پست چار پست
لیکن آج دیکھا جاتا ہے لوگ حصول مال کی خاطر علم دین حاصل کرنے کو ترک کردیتے لیکن حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ نے علم اور مال میں سات طریقے سے فرق واضح فرمایا ہے! چنانچہ آپ پہلا فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں!
العلم میراث الانبیاء والمال میراث الفراعنۃ یعنی علم انبیاء کرام علیہم السلام کی میراث ہے اور مال فرعونیوں کی میراث ہےدوسرا فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں!
العلم لا ینقص بالنفقۃ والمال ینقصعلم خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں ،مگر مال خرچ کرنے سے گھٹ جاتا ہے
تیسرا فرق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں!
یحتاج المال الی الحافظ والعلم یحفظ صاحبہ مال حفاظت کا محتاج ہوتا ہے لیکن علم صاحب علم کی حفاظت کرتا ہے ۔ یعنی اگر کسی شخص کے پاس مال ہواگر وہ اس کی حفاظت نہ کرے اور محفوظ جگہ نہ رکھے تو چور مال کو اچک لے جاۓگا لیکن علم ایک ایسی دولت ہے جس کو کوئی چرا نہیں سکتا لیکن علم ایمان کے لٹییرے سے صاحب علم کی حفاظت کرتا ہے تبھی توشاعر نے کہا ہے!
@چرا سکتا نہیں جس کو کبھی کوئی کسی فرحت
وہ دولت علم کی ہے جس پہ ساری دنیا ناز کرتی ہے
چوتھا فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں!
المال یحصل للمومن والکافروالعلم لا يحصل الا للمؤمن مال مومن اور کافر سب کو حاصل ہوتا ہے لیکن علم دین صرف ایمان والے کو ہی حاصل ہوتا ہے
پانچواں فرق بیان کرتے ہوئے آپ ارشاد فرماتے ہیں !جميع الناس يحتاجون الى صاحب العلم في امر دينهم ولا يحتاجون الى صاحب المال۔ تمام لوگ دینی معاملے میں علماء کے محتاج ہوتے ہیں لیکن مالدار کے محتاج تمام لوگ نہیں ہوتے ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
چھٹا فرق بیان کرتے ہوئے حضرت مولا علی ارشاد فرماتے ہیں : العلم يقوي الرجل على المرور على الصراط والمال يمنعه ۔علم پل صراط پر گزرنے پر طاقت عطا فرماتا ہے لیکن مال پلصراط پر گزرنے سے روکے گا ۔
ساتواں فرق بیان کرتے ہوئے حضرت مولا علی ارشاد فرماتے ہیں! اذا مات الرجل يبقى ماله والعلم يدخل مع صاحبه في قبره يعني جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا مال دنیا ہی میں رہ جاتا ہے لیکن علم دین ایسی لازوال دولت ہے جو صاحب علم کے ساتھ اس کے قبر میں جاتا ہے معلوم یواجو دولت دنیا میں بھی کام آۓ آخرت میں بھی کام آۓ۔حشر میں بھی کام آۓ وہ لازوال دولت کوئی اور نہیں بلکہ وہ علم دین ہے وما علینا الاالبلاغ
از قلم : محمد عامر فضیل مرکزی براۓ طلبا
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Amir Fuzail Markazi

Student - Takhassus 1st | Jamiatur Raza
90
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 38
Kalam 12
Amir Fuzail Markazi
زمرہ جات

تارکین نماز کا انجام قرآن وحدیث کی روشنی میں

علم غیب پر عقلی اعتراض کا علمی محاسبہ

علم ایک لازوال دولت ہے - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

علم ایک لازوال دولت ہے

مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi

علم ایک لازوال دولت ہے

“نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ،بسم اللہ الرحمن الرحیم
“قل ربی زدنی علما ”
صدق اللہ العلی العظیم ۔۔۔۔”

حضرات محترم !آئۓ سب سے پہلے ہم اور آپ عقیدت و محبت کے ساتھ نبی اکرم نور مجسم سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں درود شریف کا نذرانہ عقیدت پیش کرے پڑھے بآواز بلند اللہم صل علی محمد ۔۔۔

حضرت مولی علی فرماتے ہیں :

@”رضِینا قسمۃَ الجبارِ فینا
لنا علمٌ و للجہالِ مالٌ
انّ المالَ یفنی عن قریب
فانّ العلمَ باقٍ لا یزال ”

حضرات محترم!اس نورانی علمی مسابقہ میں میری تقریر کا عنوان “علم ایک لازوال دولت ہے “کچھ دیر میں اس موضوع پر آپ سے مخاطب ہونگا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ! “قل رب زدنی علما “اے محبوب آپ مجھ سے علم کی زیادتی طلب کیجیے ۔یعنی اے محبوب آپ مجھ سے دعا کیجئے کہ اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ رب تعالی کے نزدیک علم کا کتنا بڑا مقام ہے کہ رب تعالی اپنے پیارے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو علم کی زیادتی طلب کرنے کے لیے فرما رہا ہےاور حکم دے رہا ہے اے محبوب! آپ مجھ سے زیادتی علم طلب کیجئے حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی رحمت اللہ علیہ فتح الباری شرح بخاری جلد اول صفحہ نمبر 130 پر ارشاد فرماتے ہیں ۔اس آیت کریمہ سے علم کی فضیلت وعظمت واضح طور پر ثابت ہو رہی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو علم کے علاوہ کسی دوسری چیز کی زیادتی طلب کرنے کے لیے حکم نہیں فرمایا۔اس آیت مقدسہ سے معلوم ہوا خدا تعالی کے نزدیک علم ایک ایسی دولت ہے علم ایک ایسا سرمایہ ہے علم ایک ایسی نعمت ہے جو دنیا اور مافیہ سے بہتر ہے اس کا کوئی جواب نہیں اس کے لیے کوئی زوال نہیں بلکہ علم ایک لازوال دولت ہے تبھی تو اللہ تبارک و تعالی دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے” انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء” ان کے بندوں میں اللہ تعالیٰ سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے “یرفع اللہ الذین آمنوا منکم اوتوا العلم درجٰت ” یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والے اور علماء کے درجات کو بلند فرمائے گا ۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اہل علم کے درجات کو بلند فرماتا ہے تو ہم اپنے آپ کو علم کے حصول میں منہمک رکھے اور ڈاکٹر اقبال کی زبان کہتے رہے!

@تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جاۓ ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر
تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے ایک ڈھیر

اب سوال اٹھتا ہے ہم علم حاصل کیوں کریں جواب یہ ہےہم علم اس لیے حاصل کرتے ہیں کہ ہمیں رضا الہی حاصل ہوجاۓ،ہم علم حاصل کرتے ہیں کیوں کہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کی میراث ہے میرے آقا فرماتے ہیں “العلماء ورثۃ الانبیاء”علماء انبیا کے وارث ہے۔دوسری حدیث پاک میں ہے “العلم خیر من العبادۃ” علم عبادت سے بہتر ہے ایک اور جگہ میرے آقا فرماتے ہیں!”من صار بالعلم حیا لم یمت ابدا “جو علم کی وجہ سے زندہ ہوا وہ کبھی نہیں مرےگا۔کیونکہ علم لازوال دولت ہے جو کبھی فنا ہونے والی نہیں تبھی تو داغ دہلوی نے کہا تھا!

@رہتا ہے نام علم سے زندہ ہمیشہ داغ
اولاد سے تو بس یہی دو پست چار پست

لیکن آج دیکھا جاتا ہے لوگ حصول مال کی خاطر علم دین حاصل کرنے کو ترک کردیتے لیکن حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ نے علم اور مال میں سات طریقے سے فرق واضح فرمایا ہے! چنانچہ آپ پہلا فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں!

“العلم میراث الانبیاء والمال میراث الفراعنۃ “یعنی علم انبیاء کرام علیہم السلام کی میراث ہے اور مال فرعونیوں کی میراث ہےدوسرا فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں!
“العلم لا ینقص بالنفقۃ والمال ینقص”علم خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں ،مگر مال خرچ کرنے سے گھٹ جاتا ہے

تیسرا فرق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں!
“یحتاج المال الی الحافظ والعلم یحفظ صاحبہ “مال حفاظت کا محتاج ہوتا ہے لیکن علم صاحب علم کی حفاظت کرتا ہے ۔ یعنی اگر کسی شخص کے پاس مال ہواگر وہ اس کی حفاظت نہ کرے اور محفوظ جگہ نہ رکھے تو چور مال کو اچک لے جاۓگا لیکن علم ایک ایسی دولت ہے جس کو کوئی چرا نہیں سکتا لیکن علم ایمان کے لٹییرے سے صاحب علم کی حفاظت کرتا ہے تبھی توشاعر نے کہا ہے!
@چرا سکتا نہیں جس کو کبھی کوئی کسی فرحت
وہ دولت علم کی ہے جس پہ ساری دنیا ناز کرتی ہے

چوتھا فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں!
“المال یحصل للمومن والکافروالعلم لا يحصل الا للمؤمن “مال مومن اور کافر سب کو حاصل ہوتا ہے لیکن علم دین صرف ایمان والے کو ہی حاصل ہوتا ہے
پانچواں فرق بیان کرتے ہوئے آپ ارشاد فرماتے ہیں !”جميع الناس يحتاجون الى صاحب العلم في امر دينهم ولا يحتاجون الى صاحب المال۔” تمام لوگ دینی معاملے میں علماء کے محتاج ہوتے ہیں لیکن مالدار کے محتاج تمام لوگ نہیں ہوتے ۔

چھٹا فرق بیان کرتے ہوئے حضرت مولا علی ارشاد فرماتے ہیں :” العلم يقوي الرجل على المرور على الصراط والمال يمنعه ۔”علم پل صراط پر گزرنے پر طاقت عطا فرماتا ہے لیکن مال پلصراط پر گزرنے سے روکے گا ۔
ساتواں فرق بیان کرتے ہوئے حضرت مولا علی ارشاد فرماتے ہیں!” اذا مات الرجل يبقى ماله والعلم يدخل مع صاحبه في قبره” يعني جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا مال دنیا ہی میں رہ جاتا ہے لیکن علم دین ایسی لازوال دولت ہے جو صاحب علم کے ساتھ اس کے قبر میں جاتا ہے معلوم یواجو دولت دنیا میں بھی کام آۓ آخرت میں بھی کام آۓ۔حشر میں بھی کام آۓ وہ لازوال دولت کوئی اور نہیں بلکہ وہ علم دین ہے وما علینا الاالبلاغ

از قلم : محمد عامر فضیل مرکزی براۓ طلبا

Scan this QR code to read online:

QR Code