صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
دیابنہ کی میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم روکنے کی کوشش اور دوگلی پالیسی
رد دیوبندیت ووہابیت

دیابنہ کی میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم روکنے کی کوشش اور دوگلی پالیسی

✍️ Amir Fuzail Markazi

دیابنہ کی میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم روکنے کی کوشش اور دوگلی پالیسی
دیوبندی وہ قوم ہے جو سرکارِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے اور طرح طرح کے اعتراضات کے ذریعے لوگوں کو ذکرِ مصطفیٰ ﷺ سے بدظن کرنے کی سعیِ لاحاصل میں مصروف رہتی ہے، بلکہ یہ ان کا قدیم وطیرہ ہے۔ تبھی میرے امام، امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ذکر روکے، فضل کاٹے، نقص کا جویاں رہے
پھر کہے مردک کہ ہوں اُمتِ رسول اللہ کی
یہ تو دیوبندیوں کا شیوہ اور ان کا نصیبہ ہے، لیکن ہم اہلِ محبت کا شعار ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذکر کو عام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے آپ کی ولادتِ باسعادت کی خوشیاں مناتے ہیں اور مناتے رہیں گے۔ چنانچہ امامِ اہلِ سنت فرماتے ہیں:
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ کی دھوم
مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
خاک ہو جائے عدو جل کر، مگر ہم تو رضا
دم میں جب تک دم ہے، ذکر اُن کا سناتے جائیں گے
جب ہم اہلِ سنت عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر اظہارِ مسرت کرتے ہیں، گھروں کو سجاتے ہیں، جھنڈے نصب کرتے ہیں اور آمدِ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں محافلِ میلاد منعقد کرتے ہیں تو دیابنہ فوراً بدعت اور ناجائز ہونے کا فتویٰ جڑ دیتے ہیں اور دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ عہدِ رسالت میں نہیں تھا۔
حالاں کہ یہی لوگ یومِ آزادی کے موقع پر جھنڈے بھی لگاتے ہیں، تقریبات بھی منعقد کرتے ہیں، جلسے بھی کرتے ہیں اور ہر سال خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہر سال فتحِ مکہ کا جشن نہیں منایا؟ ہر سال جھنڈے نہیں لگائے؟ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ کام نہیں ہوا تو تم کیوں کرتے ہو ؟تو جواب دیتے ہے کہ یومِ آزادی منانا امورِ دنیا سے ہے، جب کہ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا امورِ دین میں سے ہے۔ہم یوم آزادی کو امور دنیا سمجھتے ہیں ، چنانچہ یوٹیوبر مفتی امتیاز پلاموی لکھتا ہے:
جشنِ آزادی منانا امورِ دنیا میں سے ہے، جب کہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا امورِ دین میں سے ہے اور امورِ دین کے لیے شرعی دلیل درکار ہوتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ دیابنہ ان امور دنیا کو نیت حسن سے انجام دیتے ہیں یا بد سے ؟لامحالہ کہینگے حسن سے تو کیا امور دنیا و مباحات نیت حسن سے عبادت و کار ثواب نہیں ہوتے ضرور ہوتے ہیں ۔الامور بمقاصدھا اس پر دال ہےاورعلامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
وأما المباحات فإنها تختلف صفتها باعتبار ما قصدت لأجله، فإذا قصد بها التقوى أو التوصل إليها كانت عبادة كالأكل والنوم واكتساب المال والوطء۔
(الأشباه والنظائر، ص: 42)
ترجمہ: مباح امور کی حیثیت اور نوعیت اس مقصد کے اعتبار سے بدل جاتی ہے جس کے لیے انہیں اختیار کیا جائے۔ اگر ان کے ذریعے تقویٰ یا طاعتِ الٰہی تک پہنچنے کا ارادہ کیا جائے تو وہ بھی عبادت بن جاتے ہیں، جیسے کھانا، سونا، مال کمانا اور ازدواجی تعلق قائم کرنا۔
جب امور دنیا نیت حسن سے عبادت ہو جاتے ہیں تو دیابنہ کیوں جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں مناتے اور جشن یوم آزادی کیوں مناتے ہیں ؟کیا خوف تو لاحق نہیں ؟یا دال میں کچھ کالا ہے ۔یا سرکار کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو روکنے کا یہ ایک بہانہ ہے کیونکہ ان کا وطیرہ ہے!
ذکر روکے، فضل کاٹے، نقص کا جویاں رہے
پھر کہے مردک کہ ہوں اُمتِ رسول اللہ کی
مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ دیوبندی اکابر کے نزدیک اعمال مسلم میں امور دین و دنیا کی تفریق سرے سے درست ہی نہیں بلکہ یہ تفریق کرنے والا یورپ کا پیدا وار زندیق و ملحد ہے جیسا کہ دیوبندی امام اہل سنت سرفراز گھگڑوی لکھتا ہے:
غرض یہ کہ دین و دنیا، مذہب و سیاست میں فرق نکالنا اہلِ یورپ کی پیداوار ہے۔ شریعتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا ألف ألف تحیۃ وسلام کا دامن اس تفریق سے بالکل پاک و منزہ ہے۔ مسلمان کی دنیا بھی دین ہے، بلکہ مسلمان کا سونا، جاگنا، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، بلکہ زندگی کا ہر شعبہ اور ہر پہلو دین ہے۔
(الکلام المفید فی إثبات التقلید، ص: 83)
ایک اور مقام پر لکھتا ہے:
حضرات! مسلمانوں کا دین اور دنیا، مذہب اور سیاست دو الگ الگ راستے نہیں ہیں، بلکہ مسلمان کی سیاست اور دنیا بھی دین ہی ہے۔ یہاں دین اور دنیا اور مذہب و سیاست میں فرق نکالنا زندقہ اور الحاد ہے۔
(الکلام المفید فی إثبات التقلید، ص: 58)
سرفراز گھگڑوی کے اس قول کے مطابق جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور جشن یوم آزادی میں امور دین و دنیا کی تفریق کرنے والا امتیاز پلاموی اور دیگر دیوبندی یورپ کی پیداوار زندیق ملحد ثابت ہوگیا!
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
یہ ہے دیابنہ کی سرکار کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کا نتیجہ ہمیشہ اپنے منہ کی کھانی پڑتی ہے ۔کیونکہ یہ مسلم ہے!
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
جو ترے در سے یار پھرتے ہیں
دربدر یونہی خوار پھرتے ہیں
از قلم محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Amir Fuzail Markazi

Student - Takhassus 1st | Jamiatur Raza
109
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 38
Kalam 12
Amir Fuzail Markazi
زمرہ جات

کیا اعلی حضرت وہابیوں کے سرتاج ہے؟

Test

دیابنہ کی میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم روکنے کی کوشش اور دوگلی پالیسی - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

دیابنہ کی میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم روکنے کی کوشش اور دوگلی پالیسی

مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi

دیابنہ کی میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم روکنے کی کوشش اور دوگلی پالیسی

دیوبندی وہ قوم ہے جو سرکارِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے اور طرح طرح کے اعتراضات کے ذریعے لوگوں کو ذکرِ مصطفیٰ ﷺ سے بدظن کرنے کی سعیِ لاحاصل میں مصروف رہتی ہے، بلکہ یہ ان کا قدیم وطیرہ ہے۔ تبھی میرے امام، امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

@ذکر روکے، فضل کاٹے، نقص کا جویاں رہے
پھر کہے مردک کہ ہوں اُمتِ رسول اللہ کی

یہ تو دیوبندیوں کا شیوہ اور ان کا نصیبہ ہے، لیکن ہم اہلِ محبت کا شعار ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذکر کو عام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے آپ کی ولادتِ باسعادت کی خوشیاں مناتے ہیں اور مناتے رہیں گے۔ چنانچہ امامِ اہلِ سنت فرماتے ہیں:

@حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائشِ مولیٰ کی دھوم
مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے

خاک ہو جائے عدو جل کر، مگر ہم تو رضا
دم میں جب تک دم ہے، ذکر اُن کا سناتے جائیں گے

جب ہم اہلِ سنت عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر اظہارِ مسرت کرتے ہیں، گھروں کو سجاتے ہیں، جھنڈے نصب کرتے ہیں اور آمدِ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں محافلِ میلاد منعقد کرتے ہیں تو دیابنہ فوراً بدعت اور ناجائز ہونے کا فتویٰ جڑ دیتے ہیں اور دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ عہدِ رسالت میں نہیں تھا۔

حالاں کہ یہی لوگ یومِ آزادی کے موقع پر جھنڈے بھی لگاتے ہیں، تقریبات بھی منعقد کرتے ہیں، جلسے بھی کرتے ہیں اور ہر سال خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہر سال فتحِ مکہ کا جشن نہیں منایا؟ ہر سال جھنڈے نہیں لگائے؟ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ کام نہیں ہوا تو تم کیوں کرتے ہو ؟تو جواب دیتے ہے کہ یومِ آزادی منانا امورِ دنیا سے ہے، جب کہ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا امورِ دین میں سے ہے۔ہم یوم آزادی کو امور دنیا سمجھتے ہیں ، چنانچہ یوٹیوبر مفتی امتیاز پلاموی لکھتا ہے:
*جشنِ آزادی منانا امورِ دنیا میں سے ہے، جب کہ جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا امورِ دین میں سے ہے اور امورِ دین کے لیے شرعی دلیل درکار ہوتی ہے۔*

اب سوال یہ ہے کہ دیابنہ ان امور دنیا کو نیت حسن سے انجام دیتے ہیں یا بد سے ؟لامحالہ کہینگے حسن سے تو کیا امور دنیا و مباحات نیت حسن سے عبادت و کار ثواب نہیں ہوتے ضرور ہوتے ہیں ۔”الامور بمقاصدھا “اس پر دال ہےاورعلامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“وأما المباحات فإنها تختلف صفتها باعتبار ما قصدت لأجله، فإذا قصد بها التقوى أو التوصل إليها كانت عبادة كالأكل والنوم واكتساب المال والوطء۔”
(الأشباه والنظائر، ص: 42)
ترجمہ: مباح امور کی حیثیت اور نوعیت اس مقصد کے اعتبار سے بدل جاتی ہے جس کے لیے انہیں اختیار کیا جائے۔ اگر ان کے ذریعے تقویٰ یا طاعتِ الٰہی تک پہنچنے کا ارادہ کیا جائے تو وہ بھی عبادت بن جاتے ہیں، جیسے کھانا، سونا، مال کمانا اور ازدواجی تعلق قائم کرنا۔

جب امور دنیا نیت حسن سے عبادت ہو جاتے ہیں تو دیابنہ کیوں جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں مناتے اور* جشن یوم آزادی کیوں مناتے ہیں ؟کیا خوف تو لاحق نہیں ؟یا دال میں کچھ کالا ہے ۔یا سرکار کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو روکنے کا یہ ایک بہانہ ہے* کیونکہ ان کا وطیرہ ہے!

@ذکر روکے، فضل کاٹے، نقص کا جویاں رہے
پھر کہے مردک کہ ہوں اُمتِ رسول اللہ کی

مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ دیوبندی اکابر کے نزدیک اعمال مسلم میں امور دین و دنیا کی تفریق سرے سے درست ہی نہیں بلکہ یہ تفریق کرنے والا یورپ کا پیدا وار زندیق و ملحد ہے جیسا کہ دیوبندی امام اہل سنت سرفراز گھگڑوی لکھتا ہے:
*غرض یہ کہ دین و دنیا، مذہب و سیاست میں فرق نکالنا اہلِ یورپ کی پیداوار ہے۔ شریعتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا ألف ألف تحیۃ وسلام کا دامن اس تفریق سے بالکل پاک و منزہ ہے۔ مسلمان کی دنیا بھی دین ہے، بلکہ مسلمان کا سونا، جاگنا، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، بلکہ زندگی کا ہر شعبہ اور ہر پہلو دین ہے۔*
(الکلام المفید فی إثبات التقلید، ص: 83)
ایک اور مقام پر لکھتا ہے:
*حضرات! مسلمانوں کا دین اور دنیا، مذہب اور سیاست دو الگ الگ راستے نہیں ہیں، بلکہ مسلمان کی سیاست اور دنیا بھی دین ہی ہے۔ یہاں دین اور دنیا اور مذہب و سیاست میں فرق نکالنا زندقہ اور الحاد ہے۔*
(الکلام المفید فی إثبات التقلید، ص: 58)
سرفراز گھگڑوی کے اس قول کے مطابق جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور جشن یوم آزادی میں امور دین و دنیا کی تفریق کرنے والا *امتیاز پلاموی اور دیگر دیوبندی* یورپ کی پیداوار زندیق ملحد ثابت ہوگیا!

@لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

یہ ہے دیابنہ کی سرکار کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کا نتیجہ ہمیشہ اپنے منہ کی کھانی پڑتی ہے ۔کیونکہ یہ مسلم ہے!

@جو ترے در سے یار پھرتے ہیں
دربدر یونہی خوار پھرتے ہیں

از قلم محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف

Scan this QR code to read online:

QR Code