صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
Poetry Banner

رومانوی غزل

Poetry Category 71 All Kalam

درد کی کوئی انتہا ہی نہیں

ہماری نگاہوں میں سارا زماں ہے

مجھ کو دیدار جب یار کا ہو گیا

میرے بکھرے ہوئے دل کو بھی سجایا ہر بار

ہم سے جسے بھی چاہت و الفت نہیں رہی

میں نے جب ڈھونڈا تو پاس اپنے ہی پایا ہر بار

گر کسی شخص سے الفت نہیں ہوتی مجھ کو

یا دو میں اس کی ہر گھڑی کھویا نہیں رہا

شاید اب ان کو ہم سے محبت نہیں رہی

وہ مجھ سے بچھڑ کر چلا بھی گیا

شاید ہو آخری مرا دیدار دیکھ لو

میرے حالات سے جب تو بھی گزر جائے گا

بات یہ وہ بھی جانتے ہوں گے

ماضی میں جو مرا تھا وہ میرا نہیں رہا

اس شخص کی یادوں مِیں مَیں الجھا نہیں رہا

میں تو ترا تھا پر تو مرا کیوں ہوا نہیں ؟

میں نے چاہا جسے دل و جاں سے

آپ کو پانے کی ہے اِس دل میں حسرت آج بھی

آپ سے عشق ہو گیا مجھ کو

میرے غمگین دل کی فرحت ہو

کیا بتاؤں کہ کیا ہوا جاناں

مت ہو ناراض کہ ہے دور منانے والا

میں جو کہتا ہوں وہ سنا کیجے

جو ان کے بارے میں سوچا وہ اب کس حال میں ہوں گے

میری نظروں میں فقط رہتا ہے چہرہ ان کا

بہت ہی خوف تھا وحشت تھی تب کہاں تھے تم

تلاش کر لو ملے گا کلامِ خان میں کیا ؟

حاضرِ در ہے تجھے دل میں بسانے والا

کس کے لیے بنائیں گے پکوان عید کا

ساتھ تا عمر رہیں گے یہ کہا تھا تو نے

آپ سے عشق ہو گیا مجھ کو

درمیاں دوری ہیں جتنی وہ مٹائیں جاناں

کیا بتاؤں کہ کیا ضروری ہے

دیدار یار یار کو کرنے نہیں دیا

شکایتوں کو بھلاؤ کہ عید آئی ہے

ہے یہ ارمان کے دیدار کو آؤں جاناں

یہی ہے فرض مجھ پہ میں کروں کوشش منانے کی

اس عشق و محبت سے گزر جاؤ گے تم بھی

تمہیں ہر دم منانے میں لگا ہوں

ہمیں بھی راہوں میں تنہا ملا کرے کوئی

تام الفت کا مرا یہ سلسلہ ہو جائے گا

شمول کس کا ہے اب آپ کی دعاؤں میں ؟

یقین مانو اے یارو ! میں بے شراب رہا

وہ شخص میری آنکھوں کا تارا نہ ہو سکا

تم ایک بات سنو اس کو بے وفا نہ کہو

ہاتھ دینا نہ کسی کو بھی تھما میرے بعد

پھول سا کھلتاترا چہرہ جدھر جاۓگا

رہ وفا میں کوئی راہبر نہیں آیا

دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا

تنہائی میں

کیا کہوں دل صورتِ ظالم پہ کیوں قربان ہے

دل لگانا بری بلا ہے

سنو، سنو دلِ نجمیؔ میں جاگزیں تم ہو

دورِ وفا جہان سے کب کا گزر گیا

جب سے دل کو ملا رابطہ آپ کا

ہم ان کو دیکھ کے زار و قطار روئیں گے

جائیں کس سمت راستہ ہی نہیں

حسیں تو تھا ہی مگر تُو ذہین کتنا تھا

کوئی بات نہیں

عین شین قاف نہ کر

کس کو دیکھوں کہ نیند آ جائے

دردِ دل سے مجھے شفا دے دے

رخِ محبوبِ من مثلِ قمر ہے

تری گلی میں نہ آتے جاتے تو اچھا ہوتا

حال یہ میری مفلسی کا ہوا

خون کے آنسو رلاتا ہے مجھے یہ دردِ دل

تبسم ریز مثل گل لبوں سے

آ جاؤ محبت کا چلو سوگ منائیں

عشق ہے زہرِ ہلال

مرے یارو! بڑی دشواریاں ہیں

راہ میں چھوڑ کے تو مُجھ کو اگر جائے گا

تمام شعراء