1
حاضرِ در ہے تجھے دل میں بسانے والا
2
بلبل و قمری کے لب پر ہے صدا پروردگار
3
فرازِ عرش سے اونچا ہے جھنڈا انکی عظمت کا
4
منقبت ِ غوث پاک/ طفیلِ مصطفیٰ ہے فیضِ باری غوثِ صمدانی
5
قیامت تک لحد کا گوشہ گوشہ جگمگائے گا
6
جوش پر جب آئی رحمت آپ کی
7
ملے گا مجھکو حصہ جنتِ محبوب داور سے
8
جھوٹ سے پردہ اٹھایا تو برا مان گیے
9
رحمت و نور کے انبار میں آ جاتے ہیں
10
منقبت ِ سیدنا صدیق اکبر/ وَ مِنھُم سَابقٌ صدقہ مرے صدیق اکبر کا
11
منقبت خواجہ غریب نواز/ تو گلِ باغِ حیدری خواجہ
12
سِل گئے ہونٹ زباں اپنی ہلائیں کیسے
13
منقبت مفتی اعظم/ جام و مینا ساغر و خم مَے کشی اچھی نہیں
14
بیٹھا تھا سانپ برسوں سے بس اسی انتظار میں
15
زمانے میں آہ و فغاں دیکھتے ہیں
16
برکاتِ قرآن
17
مخالف ہیں ہمارے سب نہ جانے کیوں یہاں کب سے
18
کس کے لیے بنائیں گے پکوان عید کا
19
ساتھ تا عمر رہیں گے یہ کہا تھا تو نے
20
آپ سے عشق ہو گیا مجھ کو
21
درمیاں دوری ہیں جتنی وہ مٹائیں جاناں
22
کیا بتاؤں کہ کیا ضروری ہے
23
حالت ایسی ہوئی ہماری ہے
24
دیدار یار یار کو کرنے نہیں دیا
25
شکایتوں کو بھلاؤ کہ عید آئی ہے
26
کبھی تو ساتھ میں یاروں کے یار! یار چلے
27
ہے یہ ارمان کے دیدار کو آؤں جاناں
28
یہی ہے فرض مجھ پہ میں کروں کوشش منانے کی
29
اس عشق و محبت سے گزر جاؤ گے تم بھی
30
تمہیں ہر دم منانے میں لگا ہوں
31
کس طرح سے بتلاؤں کہ کیا کیا ہے مرا دوست
32
ہمیں بھی راہوں میں تنہا ملا کرے کوئی
33
تام الفت کا مرا یہ سلسلہ ہو جائے گا
34
شمول کس کا ہے اب آپ کی دعاؤں میں ؟
35
یقین مانو اے یارو ! میں بے شراب رہا
36
وہ شخص میری آنکھوں کا تارا نہ ہو سکا
37
تم ایک بات سنو اس کو بے وفا نہ کہو
38
ہاتھ دینا نہ کسی کو بھی تھما میرے بعد
39
تہنیت نامہ جشن دستار فضیلت مولانا محمد اعظم رضا خان مرکزی بلگرامی
40
تہنیت نامہ جشن دستار فضیلت مولانا محمد مستوین رضا مرکزی
تلاش جاری ہے...