صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
243 Posts
1

حاضرِ در ہے تجھے دل میں بسانے والا

2

بلبل و قمری کے لب پر ہے صدا پروردگار

3

فرازِ عرش سے اونچا ہے جھنڈا انکی عظمت کا

4

منقبت ِ غوث پاک/ طفیلِ مصطفیٰ ہے فیضِ باری غوثِ صمدانی

5

قیامت تک لحد کا گوشہ گوشہ جگمگائے گا

6

جوش پر جب آئی رحمت آپ کی

7

ملے گا مجھکو حصہ جنتِ محبوب داور سے

8

جھوٹ سے پردہ اٹھایا تو برا مان گیے

9

رحمت و نور کے انبار میں آ جاتے ہیں

10

منقبت ِ سیدنا صدیق اکبر/ وَ مِنھُم سَابقٌ صدقہ مرے صدیق اکبر کا

11

منقبت خواجہ غریب نواز/ تو گلِ باغِ حیدری خواجہ

12

سِل گئے ہونٹ زباں اپنی ہلائیں کیسے

13

منقبت مفتی اعظم/ جام و مینا ساغر و خم مَے کشی اچھی نہیں

14

بیٹھا تھا سانپ برسوں سے بس اسی انتظار میں

15

زمانے میں آہ و فغاں دیکھتے ہیں

16

برکاتِ قرآن

17

مخالف ہیں ہمارے سب نہ جانے کیوں یہاں کب سے

18

کس کے لیے بنائیں گے پکوان عید کا

19

ساتھ تا عمر رہیں گے یہ کہا تھا تو نے

20

آپ سے عشق ہو گیا مجھ کو

21

درمیاں دوری ہیں جتنی وہ مٹائیں جاناں

22

کیا بتاؤں کہ کیا ضروری ہے

23

حالت ایسی ہوئی ہماری ہے

24

دیدار یار یار کو کرنے نہیں دیا

25

شکایتوں کو بھلاؤ کہ عید آئی ہے

26

کبھی تو ساتھ میں یاروں کے یار! یار چلے

27

ہے یہ ارمان کے دیدار کو آؤں جاناں

28

یہی ہے فرض مجھ پہ میں کروں کوشش منانے کی

29

اس عشق و محبت سے گزر جاؤ گے تم بھی

30

تمہیں ہر دم منانے میں لگا ہوں

31

کس طرح سے بتلاؤں کہ کیا کیا ہے مرا دوست

32

ہمیں بھی راہوں میں تنہا ملا کرے کوئی

33

تام الفت کا مرا یہ سلسلہ ہو جائے گا

34

شمول کس کا ہے اب آپ کی دعاؤں میں ؟

35

یقین مانو اے یارو ! میں بے شراب رہا

36

وہ شخص میری آنکھوں کا تارا نہ ہو سکا

37

تم ایک بات سنو اس کو بے وفا نہ کہو

38

ہاتھ دینا نہ کسی کو بھی تھما میرے بعد

39

تہنیت نامہ جشن دستار فضیلت مولانا محمد اعظم رضا خان مرکزی بلگرامی

40

تہنیت نامہ جشن دستار فضیلت مولانا محمد مستوین رضا مرکزی

41

آئے ہیں آج وہ شاہ کون و مکاں مرحبا مرحبا

42

سر پہ دستار فضیلت سج گئی ساجد رضا

43

مچی ہے دھوم آیا جشن کیا تحقیق و افتا کا

44

صاحب حسن و وجاہت آمنہ کا لعل ہے

45

پھول سا کھلتاترا چہرہ جدھر جاۓگا

46

غریبوں میں آہ وفغاں دیکھتے ہیں

47

ظلم کی تیرگی دنیا سے مٹانے کے لئے

48

مفتی اعظم کے تقوی کی ضیا شیر بہار

49

عرس ہے آج احمد رضا خان کا مرحبا مرحبا

50

رضویت کے ہیں علمبردار تاج الاصفیا

51

تہنیت بموقع دستار فضیلت عزیز القدر مولانا آفرید رضا مرکزی سلمہ الباری

52

کیسے بتاؤں کیا ہے میں رتبہ حضور کا

53

فرش سے عرش بریں تک رحمت وانوار ہے

54

نعمت و رحمتِ یزدان رسول عربی

55

مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

56

اے مدینے کے شہریار سلام

57

میرے اللّٰہ کے نگار سلام

58

یا رسول اللّٰہ یا خیر الانام

59

منقبت حضور بحر العلوم – گلشن علم کی بہار ہوئے

60

منقبت حضور امین شریعت -چھوڑ کر آپ سارا جہاں چل دیئے

61

اے نقیب اعلیٰ حضرت مصطفیٰ حیدر حسن

62

حق پسند و حق نوا و حق نما ملتا نہیں

63

دل نے کہا مجاہد ملت کو ڈھونڈیئے

64

مصطفیٰ کی ضیا شمع امجد علی

65

عرس امجد علی میں چلے آ یئے

66

کس کے غم میں ہائے تڑ پاتا ہے دل

67

حامی دین ہدیٰ تھے شاہ جیلانی میاں

68

زینت سجاده و بزم قضا ملتا نہیں

69

چل دئیے تم آنکھ میں اشکوں کا در یا چھوڑ کر

70

مفتی اعظم دین خیر الوریٰ

71

حضرت مسعود غازی اختر برج هدیٰ

72

خواجہ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا

73

پیروں کے آپ پیر ہیں یا غوث المدد

74

باغ تسلیم و رضا میں گل کھلاتے ہیں حسین

75

شجاعت ناز کرتی ہے جلالت ناز کرتی ہے

76

اے صبا لے جا مدینے کو پیام

77

قطعہ 3 جبین وہابی یہ دل کی سیاہی

78

قطعہ 2سویا نہیں میں رات بھر عشق حضور میں

79

قطعہ 1 الٰہی ! رحم کن بر حال زارم

80

تمہارے رخ کے جلووں سے منور ہوگیا عالم

81

سوز نہاں اشک رواں آہ و فغاں دیتے ہیں

82

نہیں جاتی کسی صورت پریشانی نہیں جاتی

83

تاروں کی انجمن میں یہ بات ہو رہی ہے

84

پی کے جو مست ہو گیا بادۂ عشق مصطفیٰ

85

وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت

86

غیر اپنے ہوگئے جو ہمارے بدل گئے

87

ہر نظر کانپ اٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجا دہل جائے گا

88

میری میت پہ یہ احباب کا ماتم کیا ہے

89

نت نئ ایک الجھن ہے

90

تخت زریں ہے نہ تاج شاہی ہے

91

در احمد پہ اب میری جبیں ہے

92

گر ہمیں ذوق طلب سا رہنما ملتا نہیں

93

عرش پر ہیں ان کی ہر سو جلوہ گستر ایڑیاں

94

اس طرف بھی اک نظر مہر درخشانِ جمال

95

نظر پہ کسی کی نظر ہو رہی ہے

96

شمیم زلف نبی لا صبا مدینے سے

97

فرشتے جس کے زائر ہیں مدینے میں وہ تربت ہے

98

ہمارے باغ ارماں میں بہار بے خزاں آئے

99

اپنے رندوں کی ضیافت کیجئے

100

مرکے جینے کا پاؤں مزہ خیر سے

101

فرقت طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے

102

تیرے دامنے کرم میں جسے نیند آ گئی ہے

103

شہنشاہ دو عالم کا کرم ہے

104

رہنمائی کے لئے ذوق طلب درکار ہے

105

مست مے الست ہے وہ بادشاہ وقت ہے

106

نہاں جس دل میں سرکار دو عالم کی محبت ہے

107

سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے

108

میر ی خلوت میں مزے انجمن آرائی کے

109

صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے

110

دور اے دل رہیں مدینے سے

111

صدر بزم کثرت یا رسول اللّٰہ

112

وہ چھائی گھٹا بادہ بار مدینہ

113

در جاناں پہ فدائی کو اجل آئی ہو

114

اپنے دَر پہ جو بلاؤ تو بہت اچھا ہو

115

لب جاں بخش کا اے جاں مجھے صدقہ دے دو

116

چاند سے ان کے چہرے پہ گیسوئے مشک فام دو

117

تمہارے در پہ جو میں باریاب ہو جاؤں

118

کچھ کریں اپنے یار کی باتیں

119

بو الہوس سن سیم و زر کی بندگی اچھی نہیں

120

تیری چوکھٹ پہ جو سر اپنا جھکا جاتے ہیں

121

کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں

122

تلاطم ہے یہ کیسا آنسوؤں کا دیدۂ تر میں

123

آج کی رات ضیاؤں کی ہے بارات کی رات

124

جھکے نہ بار صد احساں سے کیوں بناۓ فلک

125

جب کبھی ہم نے غم جاناں کو بھلایا ہوگا

126

وہ بڑھتا سایہ رحمت چلا زلف معنبر کا

127

لب کوثر ہے میلا تشنہ کامان محبت کا

128

تم چلو ہم چلیں سب مدینے چلیں

129

داغ فرقت طیبہ قلبِ مضمحل جاتا

130

وجہ نشاطِ زندگی راحتِ جاں تم ہی تو ہو

131

مصطفائے ذات یکتا آپ ہیں

132

نعت ِ رسول ﷺ

133

ابر کرم گیسوۓ محمّد*ﷺ*

134

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لئے

135

منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں

136

واقعاتِ رضویہ

137

کوئی مشکل مجھے سرکار اگر ہوتی ہے

138

منقبت در شان مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ – مہک رہا ہے گلستانِ مفتی اعظم

139

خدا کے فضل کا دھارا مرے غریب نواز

140

ہوائے ستم ہے چلی غوث اعظم

141

رب کے محبوب کے دلدار ہیں غوث اعظم

142

کوئی جا کے اب بھی پوچھ لے کہتی ہے زمینِ کربلا

143

منقبت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ – میرے خیال و خواب کا کعبہ حسین ہے

144

منقبت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ – ہے جسے تم سے محبت اے حسین ابن علی

145

منقبت در شان امام حسین ۔راہ خدا میں بر سر پیکار ہیں حسین

146

رہ وفا میں کوئی راہبر نہیں آیا

147

منقبت در شان امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔جہاں سے ظلم مٹانے حسین آۓ ہیں

148

منقبت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ – کرم کے پھول کھلانے حسین آئے ہیں

149

کرو روشن دیوار و در مرے سرکار آئے ہیں

150

خدا کے نور سے دل جگمگانے والے ہیں

151

کاش قسمت سے شرف میں نے یہ پایا ہوتا

152

جانِ قلب و جگر مدینہ ہے

153

دل ہے روشن مرا مدینے سے

154

جو جام ہمیں ساقی کوثر سے عطا ہو

155

ہوتی ہے سخاوت کی برسات مدینے میں

156

ان سے دعوائے محبت کو یوں زندہ رکھنا

157

ادراک سے ورا ہے سراپا حضور کا

158

حمد باری تعالیٰ ۔ بحکم شیخ الحدیث حضور مفتی صالح صاحب قبلہ – تو ہے خالق برایا تری بے عدد عطایا

159

نہ اس کی ابتدا نہ انتھا ہے

160

قرار چاہیے بیمار زندگی کے لئے

161

لکھو نعت نبی شام و سحر آہستہ آہستہ

162

جلوہ گاہِ مصطفیٰ صل علی کیا خوب ہے

163

سرکار آگئے مرے سرکار آگئے

164

سارا جہاں ہے روشن سرکار آرہے ہیں

165

درود کی محفلیں سجاؤ حضور تشریف لا رہے ہیں

166

غم کے مارو ! مسکراؤ آمد سرکار ہے

167

بہت ہی خوبصورت ہے نبی کا در مدینے میں

168

باغ فردوس کا آؤ چلو نقشہ دیکھیں

169

منقبتِ حضور شیرِ بہار

170

آپ پر ہے رب کی رحمت

171

دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا

172

تنہائی میں

173

بہارِ گلشنِ ایمان مفتئ اسلم

174

کیا کہوں دل صورتِ ظالم پہ کیوں قربان ہے

175

دل لگانا بری بلا ہے

176

سنو، سنو دلِ نجمیؔ میں جاگزیں تم ہو

177

دورِ وفا جہان سے کب کا گزر گیا

178

جب سے دل کو ملا رابطہ آپ کا

179

سستے ہوئے ہیں دہر میں سودے زبان کے

180

چھوڑ کر راہِ خدا حشر میں رسوا ہوگا

181

ہمارے بچے ادب سے کلام کرنے لگے

182

ہم ان کو دیکھ کے زار و قطار روئیں گے

183

جائیں کس سمت راستہ ہی نہیں

184

حسیں تو تھا ہی مگر تُو ذہین کتنا تھا

185

کوئی بات نہیں

186

عین شین قاف نہ کر

187

کس کو دیکھوں کہ نیند آ جائے

188

دردِ دل سے مجھے شفا دے دے

189

رخِ محبوبِ من مثلِ قمر ہے

190

تری گلی میں نہ آتے جاتے تو اچھا ہوتا

191

حال یہ میری مفلسی کا ہوا

192

خون کے آنسو رلاتا ہے مجھے یہ دردِ دل

193

تبسم ریز مثل گل لبوں سے

194

آ جاؤ محبت کا چلو سوگ منائیں

195

عشق ہے زہرِ ہلال

196

مرے یارو! بڑی دشواریاں ہیں

197

خوب آتا ہے تمہیں درد کا درماں کرنا

198

تری شوکت تری رفعت مرے مخدوم سمنانی

199

امن و راحت کی غزل گاتے ہیں گھر

200

منور عشق شہ سے قوم کے افکار کرتے ہیں

201

ہم ہیں تیار ستم گر کو ستانے کے لئے

202

ہو گیا جو دل سے شیدہ احمد مختار کا

203

سوائے آپ کے ہے کون میرا یا رسول اللہ

204

مدح رسول پاک میں لکھوں تو کیا لکھوں

205

دکھا دے يا خدا روضہ مجھے محبوبِ داور کا

206

رحمت کی گھٹاؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں

207

فکر و خیالِ جلوۂ گلفام آگیا

208

چلے بادِ صبا طیبہ سے میرے آشیانے کو

209

صفحۂ دل پہ نقش ہے نام ابو الحسین کا

210

مرے حضور ﷺ کرم بے شمار کرتے ہیں

211

المدد اے سرورِ کون و مکاں ﷺ

212

سبطِ رسول ابن علی مرتضٰی حسن

213

یوں رندِ میکدہ کو ساقی بے قرار نہ کر

214

ایسا کوئی بھی بندۂ رب العُلیٰ نہیں

215

عشق محبوب ﷺ میں سرشار ہوا جاتا ہوں

216

میرے مرشد کا عرس آ گیا

217

گلشن کے عنادل یہی سب نغمہ سرا ہیں

218

نازشِ اہلِ سنن اختر رضا

219

خالقِ کل کی عطا قرآن ہے

220

افقِ فضل کے خاور وہ ہمارے اختر

221

حسین سبطِ پیمبر حسین ابنِ علی

222

عظیم الشان کتنا مرتبہ محبوب داور ﷺ کا

223

حرم و قبلہ و کعبہ یوں ہی طیبہ تیرا

224

رضا کے پیر و مرشد کا دلارا حضرتِ نوری

225

خلاقِ جہاں کی ہیں عطا حضرتِ نوری

226

ہیں عطائے‌خدا شاہ اختر رضا

227

آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ

228

لعنۃ اللہ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت

229

تضمین بر کلامِ حضور تاج الشریعہ: منقبتِ حضور احسن العلماء

230

ہادئ حق تیری سیرت سیدی مخدومِ پاک

231

رسول  پاک  کو  رب  نے  کیا  مختار  سو فیصد

232

راہ میں چھوڑ کے تو مُجھ کو اگر جائے گا

233

سیم و زر  لعل  و گہر سے  دل  لگی  اچھی نہیں

234

اہل  سنن  کے  دل کی  صدا  مصطفےٰ رضا

235

کروں شان   تیری  بیاں   اعلیٰ  حضرت

236

اُس دل پہ کفر و شرک کا پھر کیسے آئے داغ

237

کعبہ کے بدرالدجیٰ تم پر کروڑوں سلام

238

حضور ﷺ دیکھیں نا

239

گُل عِذاروں کی نہ لالہ زار کی

240

العقد الفريد في حمد الرب المجيد

241

نعتِ نبیِ کونین ﷺ

242

آسان میری مشکل فرما شہ مدینہ

243

ان ﷺ کے کرم کی بارش

تلاش جاری ہے...