رضا بک ریویو پٹنہ جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء پر مرکزی تبصرہ قسط دوم علمائے فرنگی محل اور رد وہابیت یہ مقالہ علامہ مفتی محمد احمد رفاقتی علیہ الرحمہ کا ہے اس مقالے میں علمائے فرنگی محل کی جو رد وہابیت میں خدمات ہیں ان کو اجاگر کرنے کی سعی بلیغ کی گئی ہے چنانچہ رقم طراز ہیں مولانا شاہ جمال الدین احمد فرنگی محلی نے ضلالت وہابیہ میں جمال الملۃ و الدین لکھی جو ممبئی ١٢٧٥ھ میں چھپی، حضرت مولانا محمد سعید اسلمی نے سفینۃ الجاۃ لکھی جس کی طباعت مدراس میں ہوئی ، امام العلما قاضی الملک حضرت مولانا محمد صبغۃ اللہ مفتی مدراس نے “گلزار ہدایت” تصنیف کی جو خاص تقویۃ الایمان کے رد میں ہے مطبع کشن راج مدراس سے ١٢٦٤ھ میں چھپی” ص ٨٠ مقالے میں تاریخی حقائق کی نقشہ کشی کی گئی ہے جو بہت ہی جواہر پاروں پر مشتمل ہے جو مطالعے سے تعلق رکھتے ہیں شائقین مطالعہ حضرات تفصیل کے لیے شمارے کی طرف رجوع فرمائیں حضور حجۃ الاسلام کے خطبہ کی عصری معنویت یہ مقالہ مولانا قمر الزماں مصباحی مظفر پوری صاحب کا ہے شیخ الانام حجۃ الاسلام شہزادۂ اعلی حضرت علامہ حامد رضا خان رضی اللہ عنہ کا چونسٹھ صفحات پر مشتمل خطبۂ صدارت پر لکھی ہوئی یہ گرانقدر تحریر ہے فرماتے ہیں: “یہ وہ کلیدی خطبہ ہے جو ہماری مذہبی شوکتوں کا امین ، ہمارے ملی و معاشرتی تحفظ کا مضبوط لائحہ عمل ، ٹوٹتے حوصلوں میں رنگ بھرنے کا خاکہ آپسی اتحاد کا خوبصورت نعرہ ، ہماری اجتماعی قوت کا دستور اساسی ، فکری زبوں حالی سے نکال کر روحانی اور علمی بلندیوں تک پہنچانے کا پیغام سرمدی ، اقتصادی اور معاشی کمزوریوں سے نجات حاصل کرنے کے ایک نسخہ شفا اور علم و دانش اور حسن تدبر سے بھر پور ایک دعوت فکر ہے مگر اس سے بڑھ کر قلق کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم نے اس تاریخ ساز کلیدی خطبہ کے نکات آفریں پہلوؤں سے اس قدر پہلو تہی کی، کہ جس نقطۂ انجماد پر کل کھڑے تھے اس سے ایک انچ بھی قدم آگے نہیں بڑھا سکے۔ نہ ان تجاویز کو اپنایا نہ انہیں اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس مرکزی نکتے پر بیٹھ کر کبھی سوچنے سمجنے کی زحمت اٹھائی اور ہمارا حریف انہیں بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر علمی ، سیاسی تعمیری ، تمدنی، اقتصادی اور سماجی ہر محاذ پر کامیاب و کامران ہے۔ حضور حجۃ الاسلام نے مسلمانوں کے بقائے باہم، پر امن زندگی ، خوشحالی ترقی اور ایک مہذب کلچر کی تعمیر وتشکیل کے لئے چار باتوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی تھی (١) تبلیغ (٢)مذہبی (٣) حفظ امن (٤) اصلاح معاشرت یہی وہ چار بنیادی مقاصد ہیں جس کے نفاذ کے لیے حضرت نے یہ وقیع اور معقولیت سے بھر پور خطبہ صدارت رقم فرمایا” ص ٩٦ لیکن ہم نے انھیں چار بنیادی مقاصد کو ترک کر دیا جس کے نتیجے میں زبوں حالی کے شکار ہوتے چلے گئے غور کریں اپنے اطراف میں اپنے ارد گرد صاحب اقتدار حضرات کو دیکھیں کیا کوئی تبلیغ کا فریضہ انجام دے رہا ہے تبلیغ تو ہند میں مابین سنیاں آنٹے میں نمک کے برابر ہو گئی ہے اور جس کو بعض حضرات تبلیغ کہتے ہیں اگر بنظر عمیق دیکھیں تو وہ تبلیغ نہیں بلکہ تخریب ہے مذہبی تعلیم : کیا نئی نسل مذہبی تعلیم کی طرف راغب ہے؟ کیا والدین اولاد کو مذہبی تعلیم دینے کے لیے کوشاں ہیں؟ نئی نسل مغربی تہذیب کی طرف راغب ہو گئی ہے اسے مغربی تعلیم اچھی لگتی ہے اختلاط مرد و زن کی پر بہار فضائیں اچھی لگتیں ہیں تو کیا اسیے عالم قوم ترقی کرے گی حفظ امن: ہندوستان میں حفظ امن تو شاید و باید کہیں ہو ایک خانقاہ کی دوسری خانقاہ سے لڑائی ایک مدرسے والوں دوسرے مدرسے والوں سے جلن بلکہ ایک ممبر میں بیٹھے ہوئے علما میں بھی نا اتفاقی خدا ہی اس قوم کا حافظ ہے اصلاح معاشرت: اصلاح معاشرت تو دور حاضر میں تقریبا معدوم ہی ہو چکی ہے نماز روزے زکوٰۃ حج کی دعوت تو بہت دور کی بات ہے اب کوئی برائی کرتا ہے تو دوسرا روکتا بھی نہیں ہے بلکہ اور بھی برائی میں حصہ لیتے ہوئے نظر آتا ہے ایک دور تھا کہ لوگ کس کے سامنے برائی کرتے ہوئے شرماتے تھے اب تو فخریہ انداز میں برائی کرتے ہیں اور اس برائی اس کی اعانت بھی کرتے بلکہ بسا اوقات حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں کسی کے اندر حیا نظر نہیں آتی سب بے حیائی میں مست ہیں بلکہ اب تو لوگ کفر و ارتداد کے دہانے میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن کوئی اسے بچانے کے لیے ہاتھ نہیں اس پر کالجز یونیورسٹیز کے مناظر بین ثبوت ہیں جو چیزیں ترقی و تعمیر کی بنیاد ہیں وہی مفقود و معدوم ہیں تو بھلا یہ قوم کیسے ترقی کر سکتی ہے؟ انھیں بنیادی چیزوں کو غیروں نے اپنا کر ترقی کی منزلیں طے کیں لیکن ہم ہاتھوں پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا رہ گئے مولانا شاہ معین الدین آروی: ایک تعارف یہ مقالہ حافظ معراج احمد فریدی استاذ مرکزی ادارہ شرعیہ سلطان گنج پٹنہ بہار کا ہے اس میں عارف باللہ فنا فی الرسول حضرت مولانا الشاہ معین الدین آروی علیہ الرحمہ کا نفیس تذکرہ ہے جن کی ولادت با سعادت بہار کا مشہور شہر آرہ میں ١٣٠٢ھ میں ہوئی آپ بہت ذہین و فطین تھے جو کتاب ایک بار پڑھ لیتے وہ ذہن میں محفوظ ہو جاتی گویا سرکار سے “سنقرئک فلا تنسی” کی خیرات آپ کو ملی تھیآٹھ سال کی عمر مبارک میں آپ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے شرف یاب ہوئے تذکرہ آبادانیہ کے مصنف نے لکھا ہے جب آپ علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت حاصل کر لی تو وقت کے مجدد اعظم حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ اور مجدد ابن مجدد حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ اپنے دست مبارک سے رسم دستار بندی ادا فرمائی اور ساتھ ہی دعاؤں سے نوازا لیکن آپ کی زندگی نے زیادہ وفا نہیں کی اور ٣٦ سال کی عمر مبارک گزار کر ١١/ جمادی الاول ١٣٣٨ھ کو دار الفنا سے دار البقا کی طرف کوچ کر گئے انھیں جب ڈھونڈتا نکلوں گا مرقد سے تو محشر میں اٹھیں گی انگلیاں آیا وہ دیوانہ محمد کا [شاہ معین الدین رضی اللہ عنہ] جامعہ حضرت فاطمہ زہرا شمارے کے اخیر میں جامعہ فاطمہ زہرا کا سعادت لوح و قلم علامہ مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد صاحب قبلہ دام ظلہ العالی نے مختصر تعارف پیش کیا ہے جامعہ فاطمہ زہرا کی تعمیر خوش آئند قدم روشن مستقبل کی طرف مشیر ہے اور وقت کی اہم ضرورت بھی ہے بڑی مسرت کی بات ہے کہ تعمیری کام جاری و ساری ہے کافی حد تک کام بھی ہو چکا ہے جب ہماری بچیاں ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کریں گی تو ان کا ایمان و عقیدہ محفوظ رہے گا ورنہ ایمان کے لٹیرے گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں اسکولس کالیجیز میں کثیر تعداد میں مسلم لڑکیاں مرتدہ ہو رہیں ہیں حال ہی میں مظفر نگر یوپی سول لائن چھیتر میں چل رہے کیفے کارنر مہاویر چوک پر بازار میں چل رہے سپا سینٹر پر چھاپا ماری ہوئی بتایا جا رہا ہے ان میں تقریبا پچاس لڑکیاں ہیں جن میں چوالیس مسلم لڑکیاں ہیں ستر فیصد لڑکیاں عظمت ڈگری کالج میں پڑھنے والی اور تیس فیصد لڑکیاں جین ڈگری کالج میں پڑھنے والی ہیں یہ بھی خبر ہے کہ تقریبا انچاس لڑکے ہیں جن میں اڑتالیس ہندو لڑکے ہیں اور ایک لڑکا مسلم ہے اور سبھی شری رام کالج کے لڑکے ہیں یہ تو یوپی کی حالیہ ایک خبر ہے مگر ان خرافات سے پٹنہ بھی کسی طرح محفوظ نہیں ہے بلکہ وہاں بھی فتنۂ ارتداد عروج پر ہے اسی سال راقم الحروف ادارہ شرعیہ گیا تھا وہاں سے مولانا آغاز اور مولانا سبیل مرکزی صاحبان کی معیت میں خدا بخش لائبریری گیا وہاں کچھ دیر مطالعہ کیا پھر سیر و سیاحت کے لیے باہر نکلا ایک ہوٹل میں کچھ کھانے پینے کے لیے بیٹھا تو دیکھا سامنے ایک لڑکی برقعہ پہنی ہوئی بیٹھی ہے اور اس کے سامنے دو ہندو لڑکا بیٹھا ہے اور تینوں عشق و معاشقہ کی باتیں کر رہے تھے دیکھ کر بہت کوفت ہوئی ایسے عالم میں جامعہ حضرت فاطمہ کی تعمیر بہت ضروری تھی تا کہ پٹنہ کی مسلم بچیوں کا ایمان و عقیدہ محفوظ رہ سکے اور دینی تعلیم سے آراستہ ہو سکیں کیونکہ ایک عورت پورے گھر کی تربیت کرتی ہے ماں کا اثر بچوں پر نمایاں نظر آتا ہے لہذا اہل زر مخلصین حضرات سے گزارش ہے کہ اس کار خیر میں حصہ لیں اور جامعہ حضرت فاطمہ زہرا جتنی جلد ہو سکے بنوانے میں اپنا مالی تعاون پیش کریں
















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As