یوم آزادی میں علمائے اہل سنت کا کردار از: محمد جسیم اکرم مرکزی تا ریخ: 15/08/2024 یوم آزادی ہندوستان ہر سال 15 اگست کو آزادی کے دن کی نسبت سے منا یا جاتا ہے ، یہ وہ دن ہے جب 1947 ء میں انگریزوں کے جبر و استبداد سے آزاد ہو کر ، ملک ہندوستان میں نئی بہار آئی ۔ غلامیت کی زنجیریں ٹوٹ گئیں کشت در کشت لہلہا اٹھی آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع میسر ہوا تاریخ ہند سے دلچسپی رکھنے والا ہر شخص بخوبی جانتا ہے، کہ 1857ء کی جنگ آزادی میں ، علمائے اہل سنت اور مشایخ طریقت کا نہایت ہی اہم کردار رہا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، کہ شمالی ہند میں انگریزوں کے خلاف مسلم رائے ہموار کرنے ، اور پورے خطے میں انقلاب برپا کرنے کا بنیادی سہرا، انہی قائدین و بزرگان دین کے سر جاتا ہے۔ ان مجاہدین میں مولانا امام بخش صہبائی دہلوی (م۱۲۷۳ھ/1857ء)، مولانا سید احمد اللہ شاہ مدراسی (م ۱۲۷۴ھ / 1858ء)، مولانا تاج الدین مراد آبادی (م ۱۲۷۴ھ / 1858ء)، مجاہد اعظم جنگ آزادی ہند بطل حریت، علامہ مفتی فضل حق خیر آبادی شہید (م۱۲۷۸ھ/1861ء)، مفتی عنایت احمد کاکوروی (م ۱۲۷۹ھ / 1863ء)، مفتی صدر الدین خاں آزردہ دہلوی (م ۱۲۸۵ھ/1868ء)، امام العلما مولانا رضا علی خان بریلوی (اعلیٰ حضرت کے دادا) (م۱۲۸۶ھ/1869ء)، مولانا ڈاکٹر وزیر خان اکبر آبادی (م ۱۲۸۹ھ / 1873ء)، رئیس المتکلمین مفتی نقی علی خان بریلوی (م ۱۲۹۷ھ / 1880ء)، مولانا رحمت اللہ کیرانوی (م ۱۳۰۸ھ/1891ء)، حکیم سعید اللہ قادری (م ۱۳۲۵ھ/1909ء) وغیرہم، ان نفوس قدسیہ کے انقلابی کارنامے آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں، اور شہید جنگ آزادی حضرت مولانا مفتی سید کفایت علی کافی مراد آبادی علیہ الرحمہ کا نام تو اس فہرست میں بہت نمایاں نظر آتا ہے ۔ رئیس المتکلمین حضرت علامہ مفتی نقی علی خان علیہ الرحمہ ( والد اعلیٰ حضرت) کو ملک میں انگریز اقتدار سے شدید نفرت تھی، آپ نے تا حین حیات انگریزوں کی سخت مخالفت کی، اور انگریزی اقتدار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ وطن عزیز کو انگریزوں کے جبر و استبداد سے آزاد کرانے کے لیے ، آپ نے زبردست قلمی ولسانی جہادی خدمات انجام دیں، اس بارے میں چندہ شاہ حسینی لکھتے ہیں: “مولانا رضا علی خاں انگریزوں کے خلاف، لسانی و قلمی جہاد میں مشہور ہو چکے تھے ، انگریز مولانا کی علمی وجاہت و دبدبہ سے بہت گھبراتا تھا، آپ کے صاحبزادے مولانا نقی علی خاں بھی انگریزوں کے خلاف جہاد میں مصروف تھے، مولانا نقی علی خاں کا ہند کے علماء میں ، بہت اونچا مقام تھا، انگریزوں کے خلاف آپ کی عظیم قربانیاں ہیں” ۔ ملک سے انگریزوں کو باہر نکالنے کے لیے ، علماء ہند نے ایک جہاد کمیٹی بنائی، انگریزوں کے خلاف عملاً جہاد کا آغاز کرنے کے لیے ، جہاد کمیٹی نے جہاد کا فتوی صادر کیا، اس جہاد کمیٹی میں امام العلماء مولانا رضا علی خاں، علامہ فضل حق خیر آبادی، مفتی عنایت احمد کاکوروی، مولانا نقی علی خاں بریلوی، مولانا احمد اللہ شاہ، مولانا سید احمد بدایونی ثم بریلوی، جنرل بخت خاں وغیرہم کے اسمائے گرامی ، خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ حضرت مولانا نقی علی خاں انگریزوں کے خلاف جہاد کے لیے مجاہدین کو مناسب مقامات پر گھوڑے پہنچایا کرتے۔ آپ نے اپنی انگریز مخالف تقاریر سے ، مسلمانوں میں جہاد کا جوش و ولولہ پیدا کیا، ان کے دلوں میں جہاد اہمیت کو اجاگر کیا بریلی کا جہاد کامیاب ہوا، انگریزوں کو مسلمانوں نے شکست دی، اور ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا ۔ انگریز کی آمد اور برصغیر پر اس کے مکمل قبضہ کے بعد، وقت کے تقاضے نے علماء و مشایخ کو، مسند دعوت وارشاد سے اٹھا کر، رسم شبیری ادا کرنے کے لیے، میدان عمل میں اترنے پر مجبور کر دیا۔ 1857ء کے معرکہ کار زار میں، مذکورہ بالا علماء و مشایخ اہل سنت نے تحریک آزادی کی شمع روشن کی۔ ایک انگریز لکھتا ہےکہ دہلی کے دروازے سے پشاور تک، گرینڈ ٹرنک روڈ کے دونوں طرف شاید کوئی ایسا درخت رہا ہو جس پر علماء کرام کی نعشیں نہ ہوں تقریباً بائیس ہزار علماء کرام کو جام شہادت پلا دیا اور تقریباً پانچ لاکھ مسلمانوں کو پھانسی دی گئیں۔ علامہ کفایت علی مراد آبادی رضی اللہ عنہ کو جب تخت دار پر لے جایا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ آپ کچھ کہنا چاہیں گے تو آپ نے فرمایا کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گاپر رسول اللہ کا دین حسن رہ جائے گااطلس و کم خواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہواس تن بے جان پر خا کی کفن رہ جائے گاہم سفیر و باغ میں ہیں کوئی دم کا چہچہابلبلیں اڑ جائیں گی سونا چمن رہ جائے گاجو پڑھے گا صاحب لولاک کے اوپر دورودآگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گاسب فنا ہو جا ئیں گے کافی وہ لیکن حشر تکنعت حضرت کا زبانوں پر سخن رہ جائے گامحترم احبا! آج کی نوجوان نسل یوم آزادی مناتی تو ہے ، مگر ان میں وہ جوش و جذبہ نظر نہیں آتا جو ہم سے پہلی نسل میں ہوا کرتا تھا۔ ہماری نوجوان نسل کو یاد رکھنا چاہیے، کہ آج اگر ہم ایک آزاد وطن میں سانس لے رہے ہیں، تو یہ ان شہیدوں کی برکت ہے، جنہوں نے اپنا کل ہمارے آج کے لیے قربان کیا ! ہمیں یہ بات ہر گز نہیں بھولنی چاہیے، کہ ہندوستان کی خاک میں لاکھوں شہیدوں کا لہو شامل ہے؛ کیونکہ اس ملک کو آزاد کرنے کے لیے مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔محترم احبا! چونکہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے ؛ اس لیے اس نعمت کی حفاظت بھی ہماری اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔ آزادی کا جشن مناتے ہوئے ہمیں یہ عہد کرنا ہے، کہ ہندوستان کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے ، وطن عزیز کی سالمیت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے ، اور وقت آنے پر ہندوستان کے لیے اپنی جان دینے کو بھی تیار رہیں گےاور کہیں گےبلبل باغ و بہار و باغباں آزاد ہے اس وطن کا ذرہ ذرہ جاوداں آزاد ہےہم ہیں ہندی فخر ہے ہم کو جسیم قادریہم وفاداروں سے ہی ہندوستاں آزاد ہے
















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As