🌹 مرکزی برادران لائق قابل تحسین 🌹
الحمدللہ امسال گلشن تاج الشریعہ جامعۃ الرضا بریلی شریف سے شعبہء تخصص وہ درجہ فضیلت سے فارغین طلباء نے اپنی کئی سالوں کی محنت سے جمع کیے ہوئے علمی خزانوں سے کچھ موتیاں صفحہء قرطاس پر بکھیر کر کتابی شکل میں زیور طباعت سے مزین کر کے 107ویں عرس رضوی کے موقع پر قارئین کی زینت نظر بنانے کے لیے تیار ہیں۔
جس میں مفتی جسیم صاحب مرکزی کی "مہر بخشش" اور "اربعین نکاح"، مولانا تنویر مرکزی کی "رسومات شادی"، مولانا توصیف رضا مرکزی کی "فرضی مزارات اور ان کی تباہ کاریاں"، مولانا محمد تحسین رضا مرکزی کی "بدگمان کی مذمت قرآن و احادیث کی روشنی میں"، مولانا ریحان مرکزی کی "تجارت سیرت مصطفی کی روشنی میں"، مولانا مجتبی رضا مرکزی کی "حلالہ و طلاق ثلاثہ کا شرعی و عقلی تجزیہ"، مولانا عامر فضیل مرکزی کی "کذاب کون؟"، اور مولانا انس رضا برکاتی کی "برکات اصحاب حضور" و "برکات تربیت" شامل ہیں۔
یہ مختلف عناوین پر شائع ہونے والی کتابیں ان مرکزی برادران کی علمی صلاحیت، فقہی لیاقت، فکری بصیرت، بالغ النظری، علمی دوستی، قرآن و حدیث کی شناشائی، قوم کی ہمدردی، مسلک پر ثابت قدمی اور اشتغال فی العلم کی غمازی کر رہی ہیں۔
یہ حضرات مبارکبادی کی سوغات پیش کرنے کے قابل ہیں کہ انہوں نے قوم کی دینی اور دنیاوی ضرورتوں کو محسوس کیا اور اپنی علمی صلاحیت و لیاقت کے ذریعے قوم کو قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی ضرورتیں پوری کرنے کی ترغیب دی اور انہیں راہ حق کی رہنمائی کی۔
آخر میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہوں کہ ان حضرات کو علم اور اس کے مقتضیٰ پر عمل کی توفیق بخشے اور ان سے اپنے دین کی تبلیغ و اشاعت کا زیادہ سے زیادہ کام لے۔ آمین۔
از قلم
محمد قربان رضا مرکزیتخصص فی الفقہ سال اول
جامعۃ الرضا، بریلی شریف
















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As