شانِ مصطفیٰ ﷺ اور نورِ ہدایت
تمہید
اسلام محبت، ادب اور اخلاص کا دین ہے۔ جس دل میں حضور نبی کریم ﷺ کی محبت ہوتی ہے وہ دل نورِ ایمان سے روشن ہو جاتا ہے اور زندگی سنور جاتی ہے۔
اہم وضاحت
علمائے اہلِ سنت نے فرمایا کہ عشقِ رسول ﷺ ایمان کی جان ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار محبتِ مصطفیٰ ﷺ کا درس دیا گیا ہے۔
قال الله تعالى
إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ
مفسرین فرماتے ہیں کہ "إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ" میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو بے شمار نعمتوں کی بشارت عطا فرمائی۔
عظمتِ قرآن
قرآنِ کریم انسانیت کیلئے مکمل ہدایت ہے۔ جو شخص قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے اس کے دل میں سکون اور زندگی میں برکت پیدا ہوتی ہے۔
حدیثِ پاک
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ
محدثین نے فرمایا کہ "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ" پوری اسلامی زندگی کی بنیاد ہے کیونکہ ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
اہم نصیحت
انسان کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ سچ بولے، والدین کا ادب کرے اور دوسروں کے حقوق ادا کرے کیونکہ یہی تعلیماتِ اسلام ہیں۔
m1
مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
m2
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
شعر و ادب
اردو شاعری میں عشقِ رسول ﷺ کو خاص مقام حاصل ہے۔ بڑے بڑے شعراء نے اپنی شاعری کے ذریعے محبتِ مصطفیٰ ﷺ کا اظہار کیا ہے۔
m1
مدینے کی ہواؤں میں عجب تاثیر دیکھی ہے
m2
ہر اک بیمار دل نے وہاں تسکین دیکھی ہے
فضائلِ درود
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ درودِ پاک کی کثرت انسان کے غم دور کرتی ہے۔ جو شخص محبت سے درود شریف پڑھتا ہے اس کے دل کو سکون ملتا ہے۔
قال الله تعالى
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
اکابرین نے فرمایا کہ "وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ" حضور ﷺ کی شانِ رفعت اور عظمتِ کبریٰ کی روشن دلیل ہے۔
اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ
حضور نبی اکرم ﷺ کا اخلاق پوری انسانیت کیلئے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ رحم، شفقت اور عدل کا درس دیا۔
حدیثِ مبارکہ
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم
خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ
اس حدیثِ پاک "خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ" میں بہترین انسان وہ قرار دیا گیا جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔
m1
دل میں عشقِ نبی ہو تو اجالا ہوگا
m2
ورنہ انسان کا دل بھی اندھیرا ہوگا
نتیجہ
ہمیں چاہئے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کریں، عشقِ رسول ﷺ کو مضبوط کریں اور اپنی زندگی کو اخلاق و محبت سے آراستہ کریں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔
✔ مضمون کاپی ہو گیا
















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As