بے شعور کا غرور تذکیر و تانیث کے دائرے میں از: محمد جسیم اکرم مرکزیجامعۃ الرضا بریلی شریفرابطہ : 9523788434 بعض حضرات کی مثال اس مکھی کی طرح ہے جو سارا بدن چھوڑ کر زخم پر ہی بیٹھتی ہے یا اس بلی کی طرح ہے جو مرغا چھوڑ کر چوہے پر لپکتی ہے یا اس موچی کی طرح ہے جس کی نظر سارا بدن چھوڑ کر فقط چپل اور جوتے پر ہی پڑتی ہے اس کی نظر اور جگہوں پر بھی جاتی ہے لیکن ان سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے کیونکہ اس کا اپنا ذاتی مفاد انھیں چیزوں سے متعلق ہوتا ہے ایسے ہی بعض حضرات شیخی دکھانے کے لیے مکمل تحریر یا کلام چھوڑ کر تذکیر و تانیث پر جھپٹ پڑتے ہیں چہ می گوئیاں کرتے ہیں لیکن انھیں کیا پتہ ۔۔۔۔۔۔ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے۔۔۔۔۔۔ اس کلام و تحریر کی خوبی اسے کیوں نظر نہیں آتی جس طرح تذکیر و تانیث پر زبان دراز کیا کرتے ہیں اسی طرح تحریر و کلام کی معنویت ، فکر پاروں، جواہر پاروں، نکتہ دانی، سلاست و روانی، شائستگی و شگفتگی پر لبہائے مبارک کو جنبش دینے کی جسارت کیوں نہیں کرتے ہیں وجہ میں بتاتا ہوں در اصل ایسے حضرات کی تفہیم کلام کا دائرہ تذکیر و تانیث تک ہی محدود ہے اور اسی میں انھیں غرور ہے انھیں کون بتائے؟سنائی کے ادب سے تو نے غواصی نہ کی ورنہ ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولؤ و لالہ لیکن کبھی ایسے افکار و نظریات کے حاملین حضرات اپنے دامن لگے داغ بھی دیکھے ہیں ؟ میرا تجربہ ہے اپنی زبان پر غرور کرنے والے حضرات بالفاظ دیگر ماہرین تذکیر و تانیث جب اپنے درمیان گفتگو کرتے ہیں تو یوں گویا ہوتے ہیں۔۔۔۔۔آپ بیٹھو۔۔۔۔۔۔آپ لکھو۔۔۔۔۔آپ بولونا۔۔۔۔۔۔آپ کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ سنتے نہیں ہو۔۔۔۔۔۔آپ اردو بولنا نہیں جانتے ہو ۔۔۔۔۔۔آپ بڑے چاپلوس ہو۔۔۔۔۔آپ صرف اغلاط تذکیر و تانیث ہی پکڑتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔اب انہیں کون سمجھائے دنیائے اردو ادب میں اس طرح کے جملے کے استعمال پر سو کوڑے لگائے جاتے ہیں اسی لیے کبھی بھی مرزا غالب۔۔۔۔۔ذوق دہلوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جگر مرادآبادی۔۔۔۔فیض احمد فیض۔۔۔۔میر تقی میر۔۔۔۔۔۔بہادر شاہ ظفر۔۔۔۔۔۔نے ایسے جملے استعمال نہیں کیے لیکن اب ان کی حکومت نہیں رہی تو بتائیے ایسے جملے استعمال کرنے والے کو کونسی سزا دی جائے عمر قید کی یا یہ کہہ کر رہائی دلا دی جائے کہ۔۔۔۔۔۔۔ الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا ۔۔۔۔۔۔ اس لیے اپنا گریبان بھی جھانک کر دیکھنا چاہیے اپنے دامن میں لگے داغ نہ دیکھے تم نے کیسے کہہ ڈالا فلاں شخص تماشائی ہے ایسے ہی حضرات کو متنبہ کرتے ہوئے امیر القلم ماہر رضویات علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی دام ظلہ العالی مؤسس امام احمد رضا یونیورسٹی فرماتے ہیں: شستہ، پختہ سلیس، رواں اردو زبان … دہلی، لکھنو والوں کا حق ہے۔ یہ حق وہ اپنے حق میں محفوظ رکھیں ۔ دوسروں۔۔۔۔۔۔۔۔ دیہاتیوں کو نہ گھسیٹیں دوسرے بھی منھ میں زبان رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ پلٹ کر کہہ دیں ۔۔۔۔۔ چونکہ دیہاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس لیے ان کا لب ولہجہ بھی وہی ہوگا … کیا عرب میں صرف اسپ چابک ہی پیدا ہوتے ہیں ….. دراز گوش نہیں ؟ اگر نہیں ، تو یہ دو پہر کی تیز دھوپ میں سفید جھوٹ ہوگا پھر اگر اس وائٹم وائٹ جھوٹ پر اصرار بڑھا پھر تو اس زبان کا قطعاً کوئی اعتبار نہیں …سب جانتے ہیں … ماہ عرب، شاہِ کنعان، ولد عدنان نے دراز گوش کی سواری فرمائی ہے، پھر یہ تو مشاہدہ ہی ہے۔ اردو کے اپنے گھر سے ہنہناتے گھوڑے ہی نہیں نکلتے ڈھیچوں ڈھیچوں کرتے گدھے بھی خوب برآمد ہوتے ہیں ….. جو دندناتے یہاں وہاں جہاں تہاں پھرتے ہیں … دہلی لکھنو والے … اگر اردو کی ٹانگ توڑے ….. مانگ بگاڑے سندور اُڑائے تو قیامت سے پہلے قیامت والی بات ہے۔ جو بے وقت بر پا کرنے والا بدترین سزا کا مستحق ہے۔[بولتی تصویریں ص 68] ایک جگہ فرماتے ہیں: در اصل اردو والوں کی نظر تانیث، تذکیر، تلفظ پر اٹکی رہتی ہے. دیہاتی ، غیر اردو والے کی نگاہ ہمیشہ معنی پر ٹکی ہوتی ہے۔ وہ صدف کو نہیں دیکھتے۔ موتی پر نظر کرتے ہیں۔ لفافہ کوڑے دان کی نذر ہوتا ہے … ملفوف کی قدر و حفاظت ہوتی ہے۔ جب تک اردو والے تانیث، تذکیر ، تلفظ کی تلاش یا مشق کرتے ہیں …تیز اردو والے اتنی دیر میں اپنی بات فٹافٹ کہہ چکا ہوتا ہے۔ بھلے وہ گھوڑا، کو گھورا لڑکا کو لرکا ، چائے ٹھنڈا ہے کیوں نہ بولیں … سامنے والے کو اس کا مفہوم کچھ جاننا چاہیے اگر وہ “سرک پر گھورا دورا” اور چائے ٹھنڈا ہوتا ہے، یہ جملے نہ سمجھ سکیں تو یہ کتنے بھوندو گوندو ہیں تو اردو دانوں کو ہر آسان جملے سمجھانے میں بھیجہ فرائی … یاد ماغ خوری کون کرے۔ پنڈولم کی طرح بلاوجہ پریکٹس کون کرتے رہے۔ جو چاہے . کرے ہمارے اور بھی کام ہیں اس کے سوا … الفاظ کے چکر میں پڑتے نہیں دانا[بولتی تصویریں ص 71] اس لیے آپ تذکیر و تانیث کے غرور میں مغرور نہ ہو جائیں کیونکہ یہ بے شعور لوگوں کا کام ہے اہل شعور کا انداز الگ ہوتا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی تذکیر و تانیث میں غلطی کرے تو آپ اصلاح نہ کریں اصلاح کریں ضرور کریں لیکن محرر و متکلم کا مذاق نہ اڑائیں کیونکہ آپ مصلح ہیں۔۔۔۔۔۔ مزاح نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ رہبر ہیں۔۔۔۔۔۔۔ جوکر نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ انسان ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ حیوان نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سامنے والا آپ کا بھائی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی پرائی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے ان چیزوں کا لحاظ کریں اور بحسن و خوبی اصلاح کی کوشش کریں اور جہان غلطیوں پر تنقید کریں وہیں اچھائیوں پر سراہنے کی بھی کوشش کریں تاکہ آپ کے مسلم بھائی کی ہمت برقرار رہے اور وہ آگے بڑھنے کے لیے مزید محنت کرے خود کو بھی اتنا سنوارو سے جسم قادری داد و تحسیں سے نوازے خود جناب زندگی
















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As