اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
برھان صلوۃ – ایک مدلل اور قابلِ قدر علمی کاوش
تاثرات

برھان صلوۃ – ایک مدلل اور قابلِ قدر علمی کاوش

✍️ Mohd Qasim ul Qadri Markazi

برھان صلوۃ - ایک مدلل اور قابلِ قدر علمی کاوش
شرعی مسائل پر قلم برداشتہ ہونا ظاہرا مشکل معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن جب کوئی مسئلہ اعتراض و مناقشہ کا موضوع بن جائے۔ اور عوام کے ذہنوں میں خلجان اور شبہات پیدا کیے جانے لگیں۔ تو ایسے مسئلہ پر قلم اٹھانے کے لیے علم و آگہی، نقد و نظر، اصول و ضوابط پر گہری نظر اور اس سے کہیں بڑھ کر دلائل و براہین کو بہتر انداز میں پیش کرنے کا ہنر آنا چاہیے۔
عزیز القدر، محب گرامی وقار مولانا عقیل احمد مرکزی صاحب نے چند روز قبل ایک کتاب کی پی ڈی ایف ارسال فرمائی۔ کتاب کا سروق سامنے آیا جس پر برھان الصلوٰۃ لکھا ہوا تھا لیکن جب مصنف کا نام نظر سے گزرا تو آنکھیں حیرت و مسرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ دل فرحت و شادمانی سے مملو ہوگیا اور طبیعت پر ایک عجیب سی سرشاری طاری ہوگئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے کسی دیرینہ آرزو نے اچانک حقیقت کا روپ دھار لیا ہو۔
کتاب کے مصنف کا نام میرے لیے محض ایک نام نہ تھا، بلکہ ایک علمی نسبت، ایک روشن یاد اور محبت و عقیدت سے وابستہ ایک حسین احساس تھا۔ چند لمحوں تک نگاہیں اسی نام پر ٹھہری رہیں اور دل بے اختیار اس علمی کاوش کی تحسین کرنے لگا۔
اسی احساس شادمانی کے ساتھ پوری کتاب کو بالاستیعاب مطالعہ کر ڈالا۔ سبحان اللہ خوب سے خوب تر پایا۔ اس کتاب میں قبل اذان و اقامت درود پاک پڑھنا جائز و مستحسن ہے کو قرآن و حدیث و اقوال صحابہ و ائمہ سے ثابت کیا گیا ہے۔ مصنف گرامی نے دیگر بزرگان دین کی تصانیف کے ساتھ ساتھ فتاوی رضویہ شریف سے خوب استفادہ فرمایا ہے۔ بالخصوص اعلی حضرت کے بیان کردہ اصولی مباحث کو اس مسئلہ کی تفہیم کے لیے بنیاد بنایا ہے۔ جو آپ کی وسعت مطالعہ اور کمال فہم و ادراک کا بین ثبوت ہے۔
مصنف نے نہایت اہم اور معروف اصول الأصل فی الاشیاء الإباحة یعنی اشیاء میں اصل اباحت ہے کی خوب وضاحت فرمائی ہے۔ کتاب کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عدم فعل، دلیل ممانعت نہیں یعنی کسی کام کو نہ کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ کام جائز ہی نہیں۔
کتاب کا ایک نہایت اہم حصہ مخالفین کے مشہور اعتراضات اور ان کے علمی جوابات پر مشتمل ہے۔ مثلاً یہ اعتراض کہ ’’یہ عمل صحابہ سے ثابت نہیں، لہٰذا بدعت ہے‘‘، یا یہ کہ ’’اگر یہ اچھا عمل ہوتا تو رسول اللہ ﷺ خود فرماتے یا کرتے‘‘، یا یہ کہ ’’اذان میں کسی چیز کا اضافہ جائز نہیں‘‘—ان تمام اعتراضات کو الگ الگ عنوانات کے تحت پیش کرکے جواب دیا گیا ہے۔
میرے نزدیک اس کتاب کی اصل خوبی یہ ہے کہ یہ صرف ایک جزوی مسئلے کا جواب نہیں دیتی بلکہ قاری کو اس مسئلے کے پیچھے کارفرما چند بنیادی اصول بھی سمجھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کا مطالعہ صرف اذان سے پہلے درود و سلام کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے نہیں، بلکہ بدعت، اباحت، عدمِ فعل، عمومی احکام اور فقہی استنباط جیسے اہم مباحث کو سمجھنے کے لیے بھی مفید ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تعالیٰ مصنف گرامی مولانا عقیل احمد مرکزی صاحب کی اس علمی کاوش کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے قلم کو مزید قوت و استقامت عطا فرمائے، اور اس کتاب کو حق کے متلاشیوں کے لیے نافع بنائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
از۔
محمد قاسم القادری گھوسوی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

Graduate - 2025 | Jamiatur Raza
67
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 12
Kalam 14
Mohd Qasim ul Qadri Markazi
زمرہ جات

“برھانِ صلوٰۃ”ایک تیر سے کئی نشانے

بچپن کا سفر [قسطِ ششم]

برھان صلوۃ – ایک مدلل اور قابلِ قدر علمی کاوش - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

برھان صلوۃ – ایک مدلل اور قابلِ قدر علمی کاوش

مضمون نگار: Mohd Qasim ul Qadri Markazi

برھان صلوۃ – ایک مدلل اور قابلِ قدر علمی کاوش

شرعی مسائل پر قلم برداشتہ ہونا ظاہرا مشکل معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن جب کوئی مسئلہ اعتراض و مناقشہ کا موضوع بن جائے۔ اور عوام کے ذہنوں میں خلجان اور شبہات پیدا کیے جانے لگیں۔ تو ایسے مسئلہ پر قلم اٹھانے کے لیے علم و آگہی، نقد و نظر، اصول و ضوابط پر گہری نظر اور اس سے کہیں بڑھ کر دلائل و براہین کو بہتر انداز میں پیش کرنے کا ہنر آنا چاہیے۔

عزیز القدر، محب گرامی وقار *مولانا عقیل احمد مرکزی صاحب* نے چند روز قبل ایک کتاب کی پی ڈی ایف ارسال فرمائی۔ کتاب کا سروق سامنے آیا جس پر *برھان الصلوٰۃ* لکھا ہوا تھا لیکن جب مصنف کا نام نظر سے گزرا تو آنکھیں حیرت و مسرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ دل فرحت و شادمانی سے مملو ہوگیا اور طبیعت پر ایک عجیب سی سرشاری طاری ہوگئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے کسی دیرینہ آرزو نے اچانک حقیقت کا روپ دھار لیا ہو۔
کتاب کے مصنف کا نام میرے لیے محض ایک نام نہ تھا، بلکہ ایک علمی نسبت، ایک روشن یاد اور محبت و عقیدت سے وابستہ ایک حسین احساس تھا۔ چند لمحوں تک نگاہیں اسی نام پر ٹھہری رہیں اور دل بے اختیار اس علمی کاوش کی تحسین کرنے لگا۔

اسی احساس شادمانی کے ساتھ پوری کتاب کو بالاستیعاب مطالعہ کر ڈالا۔ سبحان اللہ خوب سے خوب تر پایا۔ اس کتاب میں قبل اذان و اقامت درود پاک پڑھنا جائز و مستحسن ہے کو قرآن و حدیث و اقوال صحابہ و ائمہ سے ثابت کیا گیا ہے۔ مصنف گرامی نے دیگر بزرگان دین کی تصانیف کے ساتھ ساتھ فتاوی رضویہ شریف سے خوب استفادہ فرمایا ہے۔ بالخصوص اعلی حضرت کے بیان کردہ اصولی مباحث کو اس مسئلہ کی تفہیم کے لیے بنیاد بنایا ہے۔ جو آپ کی وسعت مطالعہ اور کمال فہم و ادراک کا بین ثبوت ہے۔

مصنف نے نہایت اہم اور معروف اصول *”الأصل فی الاشیاء الإباحة”* یعنی “اشیاء میں اصل اباحت ہے” کی خوب وضاحت فرمائی ہے۔ کتاب کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ *”عدم فعل، دلیل ممانعت نہیں”* یعنی کسی کام کو نہ کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ کام جائز ہی نہیں۔
کتاب کا ایک نہایت اہم حصہ مخالفین کے مشہور اعتراضات اور ان کے علمی جوابات پر مشتمل ہے۔ مثلاً یہ اعتراض کہ ’’یہ عمل صحابہ سے ثابت نہیں، لہٰذا بدعت ہے‘‘، یا یہ کہ ’’اگر یہ اچھا عمل ہوتا تو رسول اللہ ﷺ خود فرماتے یا کرتے‘‘، یا یہ کہ ’’اذان میں کسی چیز کا اضافہ جائز نہیں‘‘—ان تمام اعتراضات کو الگ الگ عنوانات کے تحت پیش کرکے جواب دیا گیا ہے۔

میرے نزدیک اس کتاب کی اصل خوبی یہ ہے کہ یہ صرف ایک جزوی مسئلے کا جواب نہیں دیتی بلکہ قاری کو اس مسئلے کے پیچھے کارفرما چند بنیادی اصول بھی سمجھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کا مطالعہ صرف اذان سے پہلے درود و سلام کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے نہیں، بلکہ بدعت، اباحت، عدمِ فعل، عمومی احکام اور فقہی استنباط جیسے اہم مباحث کو سمجھنے کے لیے بھی مفید ہے۔

اللہ تعالیٰ مصنف گرامی مولانا عقیل احمد مرکزی صاحب کی اس علمی کاوش کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے قلم کو مزید قوت و استقامت عطا فرمائے، اور اس کتاب کو حق کے متلاشیوں کے لیے نافع بنائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

از۔
محمد قاسم القادری گھوسوی

Scan this QR code to read online:

QR Code