امام محمد بن حسن شیبانی اور فقہ حنفی کی خدمات
از قلم محمد ذاکر رضا مرکزی
*رابطہ نمبر 7869325766
مذہبِ حنفی آج پوری دنیا میں تمام مذاہب میں سب سے زیادہ متداول اور شائع مذہب ہے اور اسی طرح سے فقہی جزئیات واقوال کے اعتبار سے یہ مذہب سب سے زیادہ مالامال ہے ۔ نت نئے قوانین وضوابط کے استنباط، اور قضاء سے متعلق اجتہادات میں اس سے زیادہ نافع مذہب کوئی بھی نہیں ہے ۔
فقہ حنفی کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اس مذہب کو فروغ دینے میں علماءِ عراق کا ہاتھ رہا ہے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد یہ فقہ آپ کے عبقری تلامذۃ کی بدولت اپنے عروج کو پہنچ گیا اور چار دانگِ عالم میں پھیل گیا اور اسلامی قانون کی شکل اختیار کرلیا۔ ان تلامذہ میں امام ابو یوسف و امام محمد علیهما الرحمۃ کا نام سر فہرست نظر آتا ہے چونکہ امام ابو یوسف کا تحریری کارنامہ کتاب الامالی جیسی چند کتب تک ہی محدود رہا اس کے بر عکس امام محمد شیبانی کی تالیفات فقہ و قانون کے سارے زاویوں کو جامع اور نہایت مفصل ہے امام محمد کے ان خدمات کے سبب جملہ متأخر حنفی فقہاء ان کے خوشہ چین ہیں ـ
امام محمد کا مختصر تعارف***
امام شیبانی حدیث و فقہ کے استاذ،امام اور مجتہد،عابد و زاہد،جواد و فیاض،صاحب تصانیف کثیرہ جنہوں نے ایک لاکھ سے زائد مسائل کا استنباط کیا تقریباً ایک ہزار کتب تصنیف کیں اور بے شمار تلامذہ چھوڑےـ کتاب الآثار کے تذکرۂ مصنف میں ہے آپ کی ولادت 132ھ میں عراق کے شہر واسط میں ہوئی پھر کچھ عرصہ کے بعد آپ کے والد صاحب کوفہ چلے آئے اور اسی شہر میں آپ کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا اس وقت کوفہ میں امام ابو حنیفہ امام, ابو یوسف اور سفیان ثوری عليهم الرحمة جیسے نابغۂ روزگار حضرات کے علم و فضل کا چرچا تھا آپ نے امام ابو حنیفہ سے شرف تلمذ حاصل کیا ان کے وصال کے بعد امام ابو یوسف سے علم فقہ میں مزید مہارت حاصل کی پھر امام اوزاعی اور امام مالک عليهما الرحمة کی بارگاہ سے علم حدیث حاصل کیا ـ
آپ کی تدریسی خدمات ****
جب آپ کے علم و فضل کی شہرت اکناف عالم میں ہوئی تو دور دور سے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر تشنگان علم اپنی پیاس بجھاتے رہے آپ سے تکمیل علم کرکے فارغ ہونے والوں کی تعداد معلوم کرنا مشکل ہے ـ اس بات میں ادنی شک کی بھی گنجائش نہیں کیوں کہ آپ نے اپنی تقریبا پوری زندگی حصول علم اور درس و تدریس کے لئے وقف کر رکھی تھی اور خدمت دین کے جذبے سے سرشار تھے اور لوگوں کے لیے احکام دین کو آسان بنانے کی خاطر شب و روز کوشاں رہتے تھےـ لہذا اگر ان جیسی نابغۂ روزگار، ذہانت کو روشن کرنے ،عقلی صلاحیت کو پروان چڑھانے، زہد و ورع کو فروغ دینے اور طلبہ کو مجالس علمیہ کی طرف متوجہ کرنے والی شخصیت استاد ہو تو تلامذہ کا ہجوم لا تعداد ہی ہوگا ـ میٹھے چشمہ پر لوگوں کا ہجوم ہوا ہی کرتا ہےـ امام محمد شیبانی نے تقریبا بیس برس کی عمر میں تدریس شروع کردی اور فقہ و حدیث اور لغت کی امامت کے انتہائی مرتبے پر فائز ہوئے تو لازمی ہے کہ آپ سے حصول علم و کسب فضل کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی ـ چنانچہ آپ کے حلقۂ درس میں بیٹھنے والوں اور آپ سے علمی استفادہ کرنے والوں کو شمار کرنا دشوار کام ہے ـ لہذا کتاب الآثار کے تذکرۂ مصنف میں آپ کے چند مشہور تلامذہ کا ذکر ہے جن متوسلین میں محمد بن ادریس شافعی,ابو سلیمان جوزجانی,ہشام بن عبد اللہ رازی,ابو عبید القاسم بن سلام,اسماعیل بن توبہ اور علی بن مسلم طوسی عليهم الرحمة بھی شامل ہیں ـ
فقہ حنفی کی تدوین و نشر ***
فقہ حنفی کے تحفظ میں امام شیبانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات آفتاب نیم روز کی مانند عیاں ہیں ـ اگر امام شیبانی کی تدوین خارج میں نہ آتی تو اس کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا کیوں کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ تصنیف کے بمقابل تربیت رجال پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتے تھے ـ باوجودیکہ ان سے عقیدے کے متعلق چند رسالے منقول ہیں اور امام ابو یوسف سے بھی زیادہ تالیفات وجود میں نہ آئیں جن کو تدوین فقہ کی بنیاد قرار دیا جائے ـ لیکن امام شیبانی نے فقہ حنفی کو تحریری شکل دی ـ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے اقوال کو محفوظ کیا اور ان کی روشنی میں نئے پیش آنے والے مسائل کے احکام واضح کیے اور ان مسائل کو اپنی تصانیف کے ذریعہ عام کیا آپ کی تصانیف کو بنیادی طور پر دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: ظاہر الروایۃ اور نوادر یا غیر ظاہر الروایۃ۔
القسم الاول: ظاہر الروایۃ وہ چھ بنیادی کتب جو فقہ حنفی کا ستون مانی جاتی ہیں اور جن کی تدوین بعد میں حاکم شہید رحمۃ اللہ علیہ نے "الکافی فی فروع الفقہ" کے نام سے کی۔ وہ چھ کتب یہ ہیں:
الجامع الصغیر: یہ امام ابو یوسف اور امام محمد عليهما الرحمة دونوں نے ترتیب دی۔ اس میں مختصر فقہی مسائل شامل ہیں۔ اس کی تالیف کا سبب یہ ہے کہ امام ابو یوسف نے امام شیبانی سے ایسی کتاب تالیف کرنے کو کہا جس میں ان کی سند سے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی روایات جمع کریں جب آپ نے اسے تالیف کر کے پیش کیا تو وہ بہت خوش ہوئے یہ کتاب ایک ہزار پانچ سو بتیس 1532 مسائل پر مشتمل ہے ـ(شرح عقود رسم المفتی ص 96)
الجامع الکبیر : اس میں نسبتاً زیادہ تفصیلی اور اہم فقہی مسائل، خصوصاً وہ جن پر ائمۂ ثلاثہ کا اتفاق یا اختلاف ہے، جمع کیے گئے ہیں۔ مگر ان کو نہایت ہی ایجاز و اختصار کے ساتھ بیان کیا جس کی وجہ سے آپ کی وجوہ تفریع سمجھنے میں دشواری پیدا ہوتی اسی وجہ سے بہت سے ائمۂ فقہ نے اس کی شرحیں تالیف کیں جن کی تعداد تراسی ہے جن کی منظومات تلخیصات اور شروح ان کے علاوہ ہیں ـ (الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقہ الاسلامی ص 154)
السِیَر الصغیر: یہ بین الاقوامی قانون اور جنگی قوانین سے متعلق امام ابو حنیفہ کے اقوال پر مبنی ہے۔ جو آپ نے ان کے حلقۂ درس میں شریک ہو کر روایت کئے ہیں اور بعض اقوال امام ابو یوسف سے بھی اس میں اخذ کئے ہیں ـ (الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقہ الاسلامی ص 158)
السِیَر الکبیر: جہاد، معاہدات، اور جنگ و امن کے قوانین پر ایک تفصیلی اور جامع کتاب ہے۔ امام شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح السیر الکبیر کے آغاز میں ذکر کیا السیر الکبیر فقہ میں امام محمد کی آخری تصنیف ہے پھر فرمایا اس کا سبب تالیف یہ ہے کہ جب آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب السیر الصغیر اہل شام کے عالم امام عبد الرحمٰن بن اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھی تو پوچھا یہ کتاب کس کی ہے ؟ بتایا گیا محمد عراقی کی فرمایا اہل عراق کو اس موضوع سے کیا سروکار! انہیں تو سیرت کا علم ہی نہیں کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کے غزوات تو عراق کے بجائے حجاز اور شام میں ہوئے نیز عراق تو نیا مفتوحہ علاقہ ہے چنانچہ امام محمد علیہ الرحمۃ کو جب یہ بات پہنچی تو ناراضگی کا اظہار کیا اور کام موقوف کرتے ہوئے اسے تالیف کیا کہا جاتا ہے کہ امام اوزاعی علیہ الرحمۃ نے جب اسے ملاحظہ کیا تو فرمایا اگر مصنف نے اس میں احادیث ذکر نہ کی ہوتیں تو میں کہتا کہ یہ خود سے علم گڑھنے والا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے ان کی رائے میں اصابتِ جواب کی سمت متعین فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا وَفَوۡقَ كُلِّ ذِی عِلۡمٍ عَلِیمࣱ پھر امام محمد علیہ الرحمۃ نے اسے ساٹھ دفتروں میں لکھنے کا حکم دیا اور اسے ایک بیل گاڑی پر لاد کر خلیفۂ وقت کے پاس بھجوایا خلیفہ نے بہت پسند کیا اور اسے اپنے زمانے کے باعث فخر کاموں میں شمار کیا (شرح عقود رسم المفتی صفحہ 98)
المبسوط: اس کو الاصل کہا جاتا ہے کہ یہ آپ کی اولین تصنیف میں سے ہے یہ آپ کی سب سے اہم تصنیف سمجھی جاتی ہے، جو فقہ حنفی کے تمام ابواب پر تفصیلی مباحث پر مشتمل ہے۔ اسے "فقہ حنفی کا سرچشمہ" کہا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے فقہی مسائل کے موضوعات کے مطابق ابواب قائم کرنے کا اسلوب اختیار کیا امام محمد علیہ الرحمۃ اس کتاب کے آغاز میں اس کے تالیفی منہج کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں میں نے تمہارے سامنے امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف علیہما الرحمۃ اور اپنے مسلک کی وضاحت کر دی ہے اور کسی مذہب میں مسلک کا ذکر نہ ہو تو سمجھ لو کہ وہ ہم سب کا مسلک ہے (الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثری فی الفقہی الاسلامی ص146)
الزیادات: یہ ان مسائل کا مجموعہ ہے جو المبسوط، الجامع الصغیر اور الجامع الکبیر میں شامل نہیں ہو سکے یا بعد میں ان کے سامنے آئے۔ اس کا سبب تالیف یہ ہے کہ امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ نے ایک مجلس میں دقیق فروع کی تفریع کرنے کے بعد فرمایا کہ ان مسائل کی تفریع امام محمد کے لئے مشکل ہے جب یہ بات امام محمد کو پہنچی تو آپ نے الزیادات تالیف کی تاکہ اتمام حجت ہو جائے کہ ان جیسے بلکہ ان سے بھی ادق مسائل کی تفریع آپ کے لئے مشکل نہیں (الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقہ الاسلامی 163)
القسم الثانی غیر ظاہر الروایۃ یا نوادر یہ کتابیں پہلی قسم کی کتابوں سے متقابل ہیں مثلاً الاکتساب فی الرزق المستطاب الجرجانیات الرقیات الکیسانیات معاشرات الشیبانی ہارونیات یہ کتابیں ظاہرالروایۃ کی طرح امام محمد سے تواتر کے ساتھ ثابت نہیں ہیں علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ان کتابوں کو غیر ظاہر الروایۃ اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ امام محمد سے روایات ظاہرہ ثابتہ صحیحہ کے ذریعہ مروی نہیں ہیں جس طرح ظاہر الروایۃ مروی ہیں (شرح عقود رسم المفتی ص 83)
نیز ائمۂ حنفیہ میں ان سے زیادہ کسی امام کی تصنیف نہیں اور محض علم فقہ ہی نہیں بلکہ علم حدیث میں بھی آپ نے قلم چلایا جن میں مشہور تصنیف کتاب الآثار ہے جو 106 احادیث اور 718 آثار مع اقوال امام اعظم محتوی ہے
امام محمد منصب قضاء پر ****
کتاب الآثار میں ہے کہ امام ابو یوسف فقہ حنفی کی ترویج و اشاعت کا انتہائی شوق رکھتے تھے ان کی خواہش تھی کہ ملک کے قوانین فقہ حنفی کے مطابق ہوں اسی سبب آپ نے خلیفہ ہارون رشید کی درخواست پر قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول کر لیا کچھ عرصہ بعد ہارون رشید نے شام کے علاقہ کے لئے امام محمد کو بحیثیت قاضی مقرر کیا جب امام محمد کو اس کی خبر ہوئی تو امام ابو یوسف کی بارگاہ میں اعتذار پیش کیا کہ میں اس قابل نہیں امام ابو یوسف نے اپنی خواہش کے پیش نظر کہ مسلک حنفی کی اشاعت ہو ان سے اتفاق نہ کیا اور ان کو مجبوراً منصب قضاء کو قبول کرنا پڑا چنانچہ امام محمد اپنی حق گوئی اور بے باکی کی وجہ سے کچھ عرصہ بعد سبکدوش ہو گئے اسی عرصہ میں ہارون رشید کی زوجہ نے کسی مسئلہ کے متعلق آپ کی بارگاہ میں درخواست پیش کی تو آپ نے فرمایا کہ مجھے افتاء سے روک دیا گیا ہے پھر ہارون رشید سے ان کی زوجہ نے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو ہارون رشید نے امام محمد کو نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ قاضی القضاۃ کا عہدہ پیش کیا
امام محمد قانون بین الممالک کے بانی ****
امام محمد واحد ایسے فقیہ ہیں جنہوں نے قانون بین
الممالک کے اصول کو مکمل تفصیل کے ساتھ لکھا کہ آپ سے پہلے اتنی شرح و بسط کسی نے نہ کی اس لئے آپ کو اسلام کی بین الاقوامی قانونی فکر کا بانی شمار کیا جاتا ہے اس سلسلہ میں آپ نے گروٹیس (huge grotius) پر بھی سبقت کر لی جو اہل یورپ کے نزدیک آٹھ صدیوں سے زائد عرصے سے قانون بین الممالک کا بانی گردانا جا رہا ہے گروٹیس 1645ء میں مرا حالانکہ امام محمد کی وفات 189ھ مطابق 804ء میں ہوئی لہذا امام محمد شیبانی پوری دنیا میں قانون بین الممالک کے بانی ثابت ہوئے بعض علم تاریخ سے شغف رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بسا اوقات ایسا لگتا ہے کہ گروٹیس نے امام محمد کی کتاب السیر الکبیر کا مطالعہ کرکے انہیں اساسی قوانین کے اصول نقل کر دیے جنہیں امام محمد نے بین الممالک تعلقات کے ضمن میں بیان کیا ہے اور اس نے یہ قواعد اپنی طرف منسوب کر لئے اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ امام محمد گروٹیس سے ایک طویل عرصہ پہلے گزرے ہیں آپ نے اپنی کتاب میں شریعت اسلامی کے اصلی مصادر پر اعتماد کیا ہے اور وہ مسائل بھی بیان کیے جنہیں آپ سے پہلے کسی مسلم و غیر مسلم فقیہ نے بیان نہیں کیے اور گروٹیس نے اپنی کتاب میں طبعی قانون پر اعتماد کیا لہذا امام محمد پوری دنیا میں بلا اختلاف قانون بین الممالک کے بانی ہیں امام محمد کا صرف اتنا فضل نہیں کہ وہ پہلے قانون بین الممالک کے مؤسس ہیں بلکہ ان کا فضل تو قانونی فکر کے میدان میں بھی آفتاب نیم روز کی مانند عیاں ہے اور یہ بات بھی ہے کہ موجودہ قانون بین الممالک امام محمد کے قانون بین الممالک سے جدید بھی نہیں (الامام محمد بن الحسن الشيباني و اثره في الفقه الاسلامي ص343)
سانحۂ وصال ****
کتاب الآثار کے تذکرۂ مصنف میں ہے امام محمد کی اٹھاون سالہ حیات کا بیشتر حصہ فقہی تحقیقات اور مسائل کے استنباط و اجتہاد میں گزارا جب آپ قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز تھے تو ایک مرتبہ ہارون رشید آپ کو اپنی رفاقت میں ایک سفر پر لے گئے لہذا درمیان سفر مقام رے میں آپ کا وصال ہوا اسی سفر میں ہارون رشید کے ہمراہ نحو کے مشہور امام امام کسائی بھی تھے اتفاقاً آپ کا بھی اسی دن وصال ہوا لہذا آپ دونوں حضرات وہیں مدفون ہوئے روایت ہے کہ بعد وصال کسی کو خواب میں آپ کی زیارت نصیب ہوئی تو عرض کی کہ آپ کا نزع کے وقت کیا حال تھا آپ نے فرمایا میں اس وقت مکاتب کے مسائل میں سے ایک مسئلہ پر غور کر رہا تھا مجھ کو روح نکلنے کی خبر نہیں ہوئی
امام محمد کی فقہی خدمات کے جس بھی زاویے پر قلم اٹھایا جائے اس کے لئے ایک دفتر بھی کافی نہ ہوگا لہذا اپنے علمی کم مائیگی کے باوجود اس بحر ناپیدا کنار سے کچھ اپنے کانسے میں لینے کے لئے اس مضمون کو قلم بند کیا ہے
اللہ تعالٰی میری اس کوشش کو قبول فرمائے اور ان کے تفقہ فی الدین سے کچھ قطرات عطا فرمائے آمین
✔ مضمون کاپی ہو گیا
















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As