اسلام مخالف صہیونی کرداراسلام مخالف صہیونی کردار کی آئینہ نمائ !
*اسلام۔۔۔VS۔۔صہیونی*
✍🏻 ہشام الدین قادری
متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
ان سلگتے حالات میں ہر ایک فرد مسلم حسب فکر واستطاعت اپنی اپنی مسجد اذھان میں صلاۃ مناجات *ایاک نستعین* کی قرأت کے ساتھ تلاوت کررہا ہے اور مسجد اقصی کی صیانت وحفاظت کےحاملین ،قبلۂ اول کی عزت و حرمت کے قائلین کے دل ودماغ میں *اذا جاء نصر اللہ والفتح* و *جاءالحق وزھق الباطل* اپنے تمام مفاہیم ومطالب مالہ وماعلیہ کے ساتھ گردش کررہی ہے
البتہ یہ بات بھی سب پر عیاں ہے کہ اس وقت کیا روز اول سے ہی مسلمان ہونا آسان نہیں رہا ہے بشرطیکہ مسلمان ہو
صہیونی طاقتیں اسلام و مسلمان کے خاتمے کی کوشش میں ہمہ تن مصروف ہیں اگرچہ اپنی تمام تر غیر معمولی ناکام کوششیں کرنے کے بعد بھی اسلام کی الف کو بھی ٹیڑھا کرنے سے عاجز رہے
اسلام مخالف طاقتوں نے اپنے فن کا خوب مظاہرہ کیا قوم مسلم میں ضعف ایمانی ڈالنے کے لئے اپبے سارے حربے مستعمل کر ڈالے کبھی اللہ رب العزت کی خشیت، کبھی عشق رسالت سے پر قالب کو کھوکھلا کرنے کی مذموم سعی کی تو کبھی اقتصادی معاشی طور پر کمزور کرنے کا ارادہ رکھا، کہیں دوشیزاؤں کے ریشمی و گلابی حسن اور عشق کا جال بچھایا تو کبھی سیم وزر کی لالچ دی اس پر مزید اسلام اور پیغمبر اسلام کے تعلق سے ایسے توہین آمیز کلمات کہے کہ مسلمانان عالم کے دل دہل اٹھے تو دوسری طرف ہماری نسلوں کی افزائش پر پابندی کا منصوبہ بنایا مگر اسلام کی حقانیت کی بنیاد پر ان کا حشر ویسا ہی ہوا جیسا کہ حضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام کے عصائے مبارک کے سامنے سامری کے فن سحر کا ہوا تھا
اپنی منھ کی کھانے کے بعد بھی انہوں نے ہار نہ مانی بلکہ مسلسل کامیابی اور غلبہ حاصل کرنے کی گھات میں ہی رہے ضعیف و مریض صبی و مستورات پر بھی اپنے زور آزمائے قتل وقتال جدل وجدال کرنے کے ساتھ ایک ایسا شیطانی مکر پھیلایا تاکہ دنیا کے سامنے ظلم دفاع اور دفاع کو ظلم سمجھا جائے ظالم کو مظلوم جبکہ مظلوم کو ظلم سے تعبیر کیا جائے
در اصل انہوں نے چہار دانگ عالم کے ساکنان کو یہ باور کرادیا کہ اسلام ایک دہشت گرد مذہب ہے اور مسلمان اس کی تعلیم سے آراستہ ہو کر دہشت گردی پھیلاتا ہے *اسلامی خطرے و اسلامی دہشت گرد* جیسے نام دے کر اقوام عالم کی ذہن سازی کی گئ
آپ مطالعہ کریں امریکہ کا ۲۰۰۱ کا وہ حملہ جس میں ٣ ہوائ جہاز اغوا ہوئے تھے اور یکے بعد دیگرے نیویارک کی(World Trade Center) عالمی تجارتی مرکز کے دونوں فلک بوس منارے اغوا شدہ طیارے کی ٹکر سے زمیں دوز ہوگئے جس میں ہزاروں کی تعداد لوگ مارے گئے اس حادثے کا تعلق بلاثبوت ودلیل اردو اور عربی نام کے ساتھ جوڑا گیا جھوٹ پر جھوٹ بولتے بولتے آخر کار یک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے جرائم سے برأت کا اظہار اور اپنی فرعونی طاقت کی شکست کے اعتراف سے بچنے ، اور ذلیل ورسوا ہونے کے خوف سے مسلمان دہشت گرد کے نام کا پردہ ڈالا گیا
جس کے بعد انتقام کے نام پر قلبی عداوت دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر نکالی گئ جس کی قیمت افغانستان کے مسلمانوں کو اپنا خون دے کر چکانی پڑی جسمیں کثیر سادہ لوح مسلمانوں کو بھڑکتی ہوئ آگ میں ڈالا گیا۔۔
یا اس کے علاوہ کسی بھی ملک میں کوئ بھی معاملہ در پیش آیا ہے تو اپنے کردار پر لگے بدنما اور ظالمانہ داغ کو اسلامی نام کے لیبل اور اسٹیکر چسپاں کرکے بچتے آئے ہیں
یہ ممکن اس لئے ہوا کیونکہ
عالمی ذرائع ابلاغ یعنی عالمی میڈیا کی باگ ڈور
ان دشمنان اسلام کے ہاتھوں میں ہے جس کی اتباع ہر غیر عالمی میڈیا کرتی ہے جس کا استعمال کر کے آج تمام غیر مسلموں کے لا شعور میں یہ زہر گھول دیا کہ اب کسی بھی ظالمانہ غیر اخلاقی حملے کی تصویر اولا ذہن میں مسلم نام کے ساتھ ہی متصور ہوتی ہے بعد تحقیق اگرچہ کوئ Pitter یا Michel جیسے نام آئیں لیکن اولا ذہن میں لا شعوری طور پر مسلم نام ہی آتے ہیں یعنی کوئ ملا تو ٹھیک ہے ورنہ بالآخر محمد فلاں نام کا بکرا تو حلال ہی کیا جائے گا اور مقدمے کو بند کردیا جائے گا جس کی سینکڑوں نظیریں آپ کے سامنے موجود ہیں
حد تو یہ ہے کہ مسلمان خود احساس کمتری کا شکار ہوچکا ہے اور اس کو بھی یقین ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں مخفی انداز سے سطح ذہن پر ابھر کر یہ سوال آتا ہے کہ ہر جھگڑے اور معاملے کے پیچھے اردو نام والا بندہ ہی کیوں نظر آتا ہے !!!
کاش باخبر ہوتے !
فلسطین کے حالیہ قضیہ سے دل خوف زدہ آنکھیں اشکبار ہیں
غیر مسلحہ مومنین پر گزرنے والے ان سختی کے ایام میں برائے نام اسلامی لبادہ اوڑھے ۵۰ سے زائد صاحب اقتدار ملک گونگے شیطان بنے ہوئے ہیں، اپنے ملک کی رنگینیوں میں شب وروز بلا تکلف بسر کررہے ہیں آہ وفغاں سن کر فقط نرم لہجے میں مذمت کی جارہی ہے آخر کیوں اپنی حمیت وغیرت کا سودا کرنے والے ،اپنی نکیل کو یھودیوں ،عیسائیوں کو زیر دست دینے والوں کو
قبلۂ اول اور فلسطین کے مسلمانوں کا خیال رہے گا جن کی لگام محمد عربی ﷺ کے دست اقدس میں ہے وہی اس مقدس گھر کی بازیابی میں اپنا مومنانہ کردار پیش کرے گا نا کہ وہ جو بدمست ہاتھی کی طرح زندگی گزارتے جا رہے ہیں
اس حملے کے مسلسل ۱۵ دن ہونے کو ہے مگر اپنی تھدید کی وفائ کا بھی خیال نہیں ہے اور یقینا ان زر خرید غلاموں سے ہمارا توقع رکھنا ہی بے جا ہے
ادھر مذہبی مقتداؤں وتنظیموں کا حال یہ ہے کہ بائیکاٹ بائیکاٹ بائیکاٹ! کیا عجب حماقت ہے چھوٹی سے لیکر بڑی چیز تک سوئ سے لے کر ہوائ جہاز تک انہیں کا استعمال کررہے ہیں پھر اعلان ترک جبکہ مقابل میں کوئ بدل بھی نہیں کیونکر ممکن ہے ؟ سنی عوام کا پیسہ گاگر چادر عرس وفاتحہ میں لگایا جا رہا ہے
کاش اس سرمایے کا استعمال فلاحی کام اور ملی مسائل پر کیا جاتا تو شاید ہمارا بھی زمانے کے اعتبار سے ایک مقام ہوتا ہم بالاتفاق اس کا استعمال اپنی زندگی میں کرتے غیر کو غیر معمولی ہونے والا نفع ہماری جھولی میں جاتا جس سے قوم مسلم مضبوط ومستحکم ہوتی
سبب کچھ اور ہے جسے تو خود سمجھتا ہے m1
زوال بندۂ مومن کا بے ذری سے نہیں m2
لیکن یہاں تو سبھی کو اپنی پڑی ہوئی ہے اور دین میں میں بھی تجارت شروع کردی ہے ۔۔۔۔ اللہ خیر فرمائے
ابھی بھی وقت ہے للہ دانشوراں قوم سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور لائحہ عمل تیار کریں۔
اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو
✔ مضمون کاپی ہو گیا
















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As