دین فطرت کی رعنائی
✍️ *ہشام الدین قادری مرکزی*
متعلم جامعہ الرضا بریلی شریف
اسلام کا خمیر چشمہ زلال و خوشگوار ،خوشبودار میں گوندھا گیا ہے اس کی جامعیت ومانعیت طہارت و پاکیزگی کا تصور بلا شرکت غیر دیگر مذاھب کے افراد کو روز بروز متاثر کررہی ہے
بنیاد کی پاکیزگی دامن امن میں آنے والے اشخاص کو شفافیت کا درس دیتی ہے
طبع سلیم اس بات سے اختلاف نہیں رکھتی کہ ظاہر کا مدار باطن پر ہے اندرونی خباثت بیرونی خباثت سے ہزارہاں بد انجام ہے
شریعت مطہرہ نے لاالہ الااللہ کی تصدیق واقرار سے دل و زبان دونوں کو ستھرا نتھرا کیا
مگر معاشرے میں جنمی بری صحبت، شیطان کے مکر وفریب نے پاکدامن افراد کو اپنا شکار کرلیا
حسد ،جلن بغض کینہ، غصہ و نفرت انانیت وعداوت ان سب برائیوں کا مدار در اصل فکر وذھن میں اٹھنے بیٹھنے والی بدگمانی ہے
ااگر چہ ہمیں حکم قرآن وسنت " اجتنبوا کثیرا من الظن اور ایاکم والظن" ہے اور حسنات کو مانند آگ لکڑی کے کھانے کے وعیدات سدھرنے سمجھنے کے لئے نازل ہوچکیں
ایسے پراگندہ ماحول میں ضرورت تھی کہ عام فہم سلیس زبان میں الامر بالمعروف و النہی عن المنکر کا فریضہ کوئ شخص امت مسلمہ سے ادا کرے تنبیہ الغافلین کا حق ادا کرے پس دیرینہ مراد بر آئ کہ مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعة الرضا بریلی شریف کے گلستان علم وفضل کے کھلتے ہوئے ایک پھول نے مسکراتے ہوئے،، معاشرے کو معطر کرنے کا سہرا اپنے ماتھے لیا
یہ مذکورہ کتاب اس باغ و بہار کے گل رنگیں کی مشک پاشی ہے
اس میں مصنف موصوف نے سماج میں بڑھتی بدگمانی کے وعیدات ومذمت کو قرآن واحادیث کی روشنی میں پیش فرماکر ہمیں شکر گزاری کا موقع عطا کیا ہے
کتاب از اول تا آخر مطالعہ نہ کرسکا لیکن بقدر مطالعہ کی بنیاد اور سید زادے کی ذات وعلم پر اعتماد کرتے ہوئے کہ جن کا خمیر چشمہ صاف وشفاف میں گندھا اور پاکی سے پاکی کی جانب منتقل ہوتا رہا کہ امام فرماتے ہیں
تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا m1
تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا m2
یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ یہ تحفہ بھی منفرد ولاجواب ہے آنکھیں خنک دل مسرور ہوگا اپنے عنوان کی بناء پر عوام و خواص کی ھدایت کا سبب ہوگی اسلام کے مشک بیز دامن سے لپٹے ہوئے گل لالہ و نسترن پر بیٹھنے والی مکھی سے پھیلی ہوئ گندگی کو دور کرنے کا منبع ثابت ہوگی ان شاء اللہ
راقم الحروف فقیر قادری جناب قبلہ *سید تحسین رضا مرکزی صاحب* کو ان کی پہلے قلمی جہاد کی کاوش سے بموقع دستار فضیلت عرس رضوی معرض وجود میں آنے والی کتاب مستطاب پر مبارکباد پیش کرتا ہے
اور دعا کرتا ہے کہ مولی تعالیٰ اس جد وجہد کو قبول مقبول فرمائے عام خاص کو نفع بخشے اور قبلہ سید صاحب کو دین متین کی خدمت گذاری کا ذوق و شوق عطا فرمائے
آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
✔ مضمون کاپی ہو گیا
















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As