مرکز علم وفن
گلستان تاج شریعت مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا ایک عظیم دینی ادارہ ہے جس کی تغریس وارث علوم اعلی حضرت ،نواسۂ مفتئ اعظم، تاج شریعت، شہزادۂ مفسر اعظم سرکار علامہ اختر رضا خاں علیہ الرحمہ نے فرمائی تقریبا ۰۰۰۲ء میں یہ گلستاں سجایا گیا جس کے گل وثمر آج عالم اسلام کو بہارستاں بنائے ہوۓ ہیں ایسی نمایاں عالی شان پرشکوہ عمارت ہے جس کی ہندوستان میں نظیر نہیں ملتی تعلیمی عمارت رہائشی عمارت سے منفصل بنائی گئ جس کا مقصد قیام فقط تعلیم وتعلم ہے تاکہ طلبہ و اساتذہ بغیر کسی خلل کے صرف تعلیم و تعلم میں مشغول رہیں
اس بوستان علم و فن کی نگہداشت شہزادۂ تاج الشریعہ قائد ملت علامہ الحاج مفتی عسجد رضا خاں صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی قاضی القضاۃ فی الہند فرما رہے ہیں اس کی چمک دمک مہک لہک ایک الگ ہی فرحت و انبساط کی دنیا کی سیر کراتی ہے کہ اسمیں جہاں فیض رضا اور نوازش مفتئ اعظم ہے وہیں حجۃ الاسلام کے علم کی بو، تاج شریعت کا روحانی کرم بھی شامل حال ہے تو جب یہ جامعہ منبع فیوض اولیاء، مجمع علوم وارثین انبیاء، تحتِ نوازشات اصفیاء پر مشتمل ہے تو کیوں نہ یہ جامعہ مقام ومرتبہ میں اولویت کا حامل ہو کیسے نہ ستاروں میں اس کی شمولیت ہو ؟
میں نے بذات خود کئ عظیم دینی درسگاہوں کے پنگھٹ سے سیرابی کا شرف پایا مگر جو لطف وسرور، تازگی وعمدگی،لذت وچاشنی،فرحت وشادمانی، یہاں حاصل ہوئ کسی اور مقام پر اس کثرت سے حاصل نہ ہوئی
یہاں کا تعلیمی معیار بھی نہایت دلکش اور نظام بھی دیگر مدارس سے بہت بہتر ہے نیز تعلیم کا خوب انتظام کہ نصاب وافر مقدار میں ہونے کے باوجود اساتذہ کا طرز تدریس نہایت جاذبانہ، اخلاقانہ کہ کوئی گوشہ تشنہ باقی نہیں رکھتے
عموما دیگر مقامات پر اونچی جماعت کے طلبہ کی تفہیم میں تکلف برتا جاتا ہے ان کے ذہن ودماغ پر چھوڑ دیا جاتا ہے کتاب کے مسائل کی جانب اشارۂ ابرو کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں مگر یہاں انتہائی جماعت کے لیے ان کے علمی معیار کے مطابق مزید مسائل مع دلائل نیز دیگر گوشے اجاگر کیے جاتے ہیں اور بہت سے مغلق مقامات کی نقاب کشائی کی جاتی ہے ،علم کے دریچے کھول دیے جاتے ہیں جس کی خوشبو سے قلوب و اذہان معطر اور انکی روشنی سے منور وتاباں ہوجاتے ہیں جس کی تابشیں اکناف عالم میں پھیلی ہوئی ہیں جگ جگ میں اجالا کر رہی ہیں جس کے سپاہی دین وسنیت کے فروغ ،مشن اعلی حضرت کی نشر واشاعت ،دفاع اہلسنت نیز احقاق حق وابطال باطل کا قلادہ گردنوں میں ڈالے ہوئے ہیں۔۔
قائد ملت نے نظم ونسق کا فریضہ اس طرح بخوبی انجام دیا کہ آج مادر علمی مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے نہایت قلیل مدت میں اس کا ستارہ اوج ثریا پر ہے جہاں اساتذہ کے لۓ عمدہ طعام وقیام کا انتظام کیا وہیں مہمان رسول ﷺ کے لیے تعلیم وطعام مع قیام کا بے مثل ومثال اہتمام فرمایا مشفق باصلاحیت اساتذہ کا انتخاب کیا دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم کا بندوبست ،جدید ٹیکنالوجی(کمپیوٹر) کا علمی وعملی دونوں طرح کا انتظام و انصرام فرمایا النظافۃ نصف الایمان کے تحت مکمل طور سے صفائی ستھرائی کا خیال رکھا
اس مدت قلیلہ میں اتنی خوبیوں کا مالک ،تمام مہمات کا اہتمام اس قدر تعلیمی معیار کی بلندی ،عالم اسلام کے لیے باعث افتخار کہ اتنا سفر طے کرنے میں صدیاں گزر جاتی ہیں مگر الحمد للہ ہمارے جامعہ کو یہ بلندیاں محض چند سالوں میں حاصل ہوگئیں
یہ سب امام احمد رضا کی نظر عنایت ،مفتئ اعظم کی سخاوت، مفسر اعظم کی اعانت ،حجۃ الاسلام کی حمایت ،تاج شریعت کی کرامت اور قائد ملت کی قیادت کا ثمرہ ہے
آج کئی ہزار کی تعداد میں طالبان علوم نبویہ اس در کا جام شیریں پینے کے لۓ تڑپ رہے ہیں
علمی پیاس بجھانے کی غرض سے خواہشمند ہیں
کئی ہزار بچے امتحان میں شرکت کرتے ہیں مگر افسوس کہ سیٹیں محدود ہوتی ہیں
ایک مختصر عرصے میں مادر علمی ایک ایسا بلند پایہ مضبوط قلعہ بن چکا ہے جس کا قد دیکھنے کے لیے کلاہیں مائل بکجی ہیں
ہمت وبلندی کی ایسی چٹان کہ حاسدین مسلسل اس کے منارۂ شان وشوکت جھکانے میں کوشاں ہیں مگر الحمد للہ ہمارا جامعہ پہاڑ کی مانند اپنی جگہ پر مکمل جاہ وجلال کے ساتھ قائم ودائم ہے اور رہے گا انشاءاللہ۔
ظالم وجابر حکمرانوں کے ظلم کا بھی سامنا کیا مگر لچک تک نہ آئی اور پھر شہر محبت و جرات بریلی شریف کا تو شیوۂ حسنہ ہی رہا باطل کے خلاف اعلان جنگ کرنا ظالم کے خلاف تن تنہا بھی ہو تو آواز بلند کرتے رہنا تخت ظلم وستم کو پلٹ دینا
دشمن لاکھوں سعی تام کے بعد بھی ناکام رہے اور مادر علمی کی شان وشوکت میں کمی نہ آئی بلکہ مزید عظمت وعزت جلال وہیبت میں افزائش ہوئی
مادر علمی کی ہر شے در نایاب ہر ذرہ مثل آفتاب کہاں تک میں بیان کروں کیا چھوڑوں کیا ذکر کروں
بس مولی تعالی کے بارگاہ میں عرض گزار ہوں کہ اپنے حبیب لبیب نبی کریم رؤف ورحیم ﷺ کے توسل اس چمن کو شاد وآباد رکھے حاسدین کے حسد شرپسندوں کی نظر بد سے بچاۓ رکھے ترقی میں دوام بخشے
آمیں بجاہ سید المرسلین ﷺ
ان شاء اللہ آئندہ استاذہ کرام کی درس وتدریس کے متعلق گفتگو کروں گا
✍🏻 خیر خواہ - *ہشام الدین قادری مرکزی*
*متعلم مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا*
✔ مضمون کاپی ہو گیا
















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As