پہلے تاج الشریعہ کا قل یا نماز مغرب؟
حضرت علامہ و مولانا مفتی بلال رضا مرکزی صاحب
مرکزی دار الافتاء
سوال ورثۃ الانبیاء کیا حکم فرماتے ہیں مسئلے ذیل کے بارے میں
بزرگانِ دین کے وصال کی تاریخ میں محفل کا انعقاد کرنا مستحب ہے جسے اصطلاح میں عرس کے نام سے جانا جاتا ہے
سوال یہ ہیکہ کیا قل شریف بھی عینِ وصال کے وقت ہی کرنا مستحب ہے ہاں یا نہیں اگر ہاں پھر بھی یہاں پر ایک سوال ہے جو بار بار پڑھے لکھے *سنیوں* (یعنی سچے مسلک اعلی حضرت کے پیروکار) کی جانب سے کیا جاتا ہے وہ یہ ہیکہ عرس حضور تاج الشریعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قل شریف مغرب کی نماز سے تھوڑا پہلے ہوتا ہے اور مغرب کی *نماز فرض* ہے اب اس پر سوال یہ ہیکہ بہت سارے لوگ جو نمازی ہیں پنج وقتہ نماز پڑھتے ہیں ان کی *فرض نماز* چھوٹ جاتی ہے ایک *مستحب* امر کے لیے
اور مفتیان کرام سادات کرام بھی ممبر رسول پر جلوہ افروز ہوتے ہیں
جب یہ سوال کیا گیا تو کسی مفتی صاحب کی جانب سے یہ جواب دیا گیا علماء *اپنی پڑھ لیتے* ہیں اسٹیج پر ہی
اب بھی سائل( متعدد سائل ہیں )مطمئن نہیں ہوا بلکہ پلٹ کر سوال کرتا ہے وہ علماء کرام جو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے پیغام کو عام کرنے والے ہیں وہ بس اپنی پڑھ کر بری ہوگئے جس طریقے سے وہ یہ پیغام دیتے ہوۓ نظر آتے ہیں دیگر محافل میں کہ *نماز فرض* ہے اسے مت چھوڑنا میں کہتا ہوں پیغام دینا بھی چاہیے یہ علماء کی ذمے داری ہے اسی طریقے سے ممبرِ رسول سے یہ اعلان ہونا چاہیئے کے مغرب کی نماز اتنے بجکر اتنے منٹ پر ہوگی قل شریف نماز کے بعد ہوگا جس کو جہاں جگہ ملے وہی پر جماعت میں شامل ہو جائے
کیا نمازِ مغرب کے بعد قل شریف *نہیں ہو سکتا* یا *ثواب حاصل نہیں* ہوگا یا *مرشد برحق ناراض* ہوجائے گیں سائل کو کیا جواب دیا جائے
برائے کرم *شریعت* کی روشنی میں جواب دیکر عند اللہ ماجور ہوں
سائل غلام رسول - فریدہ پور *بریلی شریف*
*جواب*
سوال اچھا ہے.
مگر سوال پر نہیں بلکہ سائل پر حیرت ہے کہ فریدہ پور بریلی شریف کا رہنے والا شخص ایسا سوال کرے؟
کیا سائل کو نہیں معلوم کہ اس سے پیشتر متعدد مرتبہ اسی پر عمل ہوا ہے جو سائل نے اپنا مشورہ سوال کے آخر میں لکھا ہے مگر کچھ لوگوں کو اعتراض کا دھن سوار ہوتا ہے
وقت مغرب میں اگر گنجائش ہوتی ہے تو پہلے قل شریف کا پروگرام ہوتا ہے پھر مغرب کی جامع جماعت ہوتی ہے اور اگر وقت میں گنجائش نہیں تو پہلے جماعت ہوتی ہے پھر قل شریف.
ممکن ہے کہ سائل کے ذہن میں پھر سوال پیدا ہو جائے کہ گنجائش ہوتے ہوئے بھی پہلے نماز پھر قل شریف کریں.
تو أولا اس میں بڑی دقتوں کا سامنا ہوگا کہ لوگ محفل سے اٹھیں پھر بیٹھیں، کوئی دو چار ہزار کی مجلس نہیں ہوتی، ثانیاً نماز مغرب کو وقت کراہت سے پہلے تک ایسے وقت میں مؤخر کرنا باعث کراہت بھی نہیں.
أبو حنظلہ
✔ مضمون کاپی ہو گیا
















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As