عرس حامدی 2024ء کے یادگار لمحات از: محمد جسیم اکرم مرکزی فاضل بریلی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضابریلی شریف 9523788434 ہر سال کی طرح امسال بھی 17 جمادی الاولی 1446ھ بمطابق 20 نومبر 2024ء بروز بدھ شہزاداۂ اعلی حضرت حجۃ الاولیا حجۃ الاسلام حامد ملت حضور علامہ مفتی محمد حامد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ کا عرس مبارک بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا راقم الحروف حاضری بارگاہ حامد ملت کے لیے بعد نماز مغرب مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا سے روانہ ہوا کچھ ہی دیر میں گلستان اعلی حضرت منظر اسلام پہنچا دستار فضیلت کے پر بہار موقع پر عزیز القدر محب گرامی وقار مولانا حماد رضا خان منظری حفظہ اللہ القوی کو مبارکبادی پیش کر نے کے لیے نوری گیسٹ ہاؤس گیا تو انھوں نے بتایا کہ ان کے والد گرامی وقار سعادت لوح و قلم ماہر رضویات چیف ایڈیٹر رضا بک ریویو حضرت علامہ مولانا مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد دام ظلہ العالی مجھ ناچیز کو بعد نماز عصر یاد فرما رہے تھے مجھے تو ملنے کا شوق پہلے ہی سے تھا لیکن یہ سن کر مزید اشتیاقی بڑھ گئی میں نے ان سے پوچھا کہ حضرت کہاں تشریف فرما ہیں انھوں نے بتایا نیچے کی منزل میں ہیں علامہ ڈاکٹر امجد رضا امجد سے ملاقات________ میں نیچے اترا ایک روم کے اندر نظر پڑی جس میں بعض علماء کرام محو گفتگو تھے میں سمجھا یہی روم ہے اندر گیا تو دیکھا فقیہ و ادیب حضرت علامہ مفتی محمد مبشر ازہر مصباحی دام ظلہ العالی مفتی محمد نفیس صاحب قبلہ دام ظلہ العالی اور ایک بزرگ عالم دین ذی وجاہت غالبا ان کا نام مولانا احمد رضا صاحب ہیں اور ایک عالم دین جنھیں یہ حضرات خواجہ صاحب کہہ کر پکارتے تھے میں ان کے نام سے ہنوز واقف نہیں ہوں ان سے سلام و مصافحہ کیا انھیں کے درمیان ایک بزرگ عالم دین سرخ ریش سرخ بال دراز قد ملبوس بہ جبہ تشریف فرما تھے جیسے کہ پروانوں کے بیچ شمع ہو ستاروں کے بیچ چاند ہو لیکن وہ مفتی مبشر ازہر مصباحی صاحب سے محو گفتگو تھے تو میں نے انھیں ادبا سلام و مصافحہ کر کے گفتگو میں خلل نہ دینا چاہا اور ان سے ملے بغیر روم سے نکلنے لگا اتنے میں مفتی نفیس صاحب نے فرمایا آپ کہاں جا رہے ہیں میں نے کہا ڈاکٹر صاحب کو ڈھونڈ رہا ہوں ان سے ملنا ہے انھیں کے پاس جا رہا ہوں پھر انھوں کہا کون ڈاکٹر صاحب؟ میں نے کہا ڈاکٹر امجد رضا امجد صاحب! مفتی نفیس صاحب نے مسکرا کر کہا یہ جو ہمارے بیچ تشریف فرما ہیں یہی تو ڈاکٹر صاحب ہیں پھر میں پلٹا اور ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی ڈاکٹر صاحب میری طرف دیکھا تو میں نے کہا حضرت میں جسیم اکرم ہوں ڈاکٹر صاحب خوش ہوئے اور مجھے بیٹھنے کا حکم دیا میں وہیں بیٹھ گیا سیمینار کے متعلق گفتگو_____________ان کے درمیان ایک سیمینار کے متعلق گفتگو چل رہی تھی یہ سیمنار با حیات بزرگان دین کی حیات و خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے اور ان سے لوگوں کو روشناس کرانے کے لیے ہونا طے پایا تھا اس میں میرے لیے ایک خوشی کی بات یہ تھی کہ دوران گفتگو جب مفتی نفیس صاحب نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے حاضرین علما سے مخاطب ہو کر کہا کہ ان سے ان بزرگوں کی شان میں چند کلام لکھوا لیجیے گا بہت اچھا لکھتے ہیں تو ادھر سے خواجہ صاحب فرمانے لگے میں جانتا ہوں اور ان کے کلام گاہے بگاہے پڑھتا رہتا ہوں اور خاص بات یہ کہ ہم نے متذکرہ سیمنار کرنے کا فیصلہ انھیں کی ایک تحریر پڑھ کر لیا ہے جس کا نام ہے۔۔۔۔ “زندوں کی قدر”۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے مفتی مبشر ازہر مصباحی صاحب سے کہا کہ کیوں نہ اس پر مستقل کام کیا جائے بعد مشورہ اب یہ سیمینار ہونے والا ہے ان باتوں کو سن کر مجھ فقیر کو بہت خوشی ہوئی کہ راقم الحروف کی ایک روٹی پھوٹی بے ربط چھوٹی سی تحریر کی وجہ سے ان شاءاللہ تعالیٰ متذکرہ سیمنار کے توسط تقریبا دو سو صفحات پر مشتمل کتاب منظر پر آئے گی اللہ جل جلالہ سیمینار کو بحسن و خوبی پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور اسباب خیر مہیا فرمائے آمین ثم آمین ڈاکٹر صاحب کی دلچسپ باتیں_____________بعدہ میں ڈاکٹر صاحب سے اجازت لے کر کچھ دیر کے لیے باہر گیا جب واپس ہوا تو میرے ساتھ میرے احباب میں سے مولانا صاحب مرکزی مولانا امانت مرکزی مولانا ذیشان مرکزی بھی تھے ہم حضرت کے پاس آکر بیٹھ گئے تھوڑی دیر بعد رفیق گرامی وقار مولانا آصف نوری منظری [ایم اے] بھی تشریف لائے جب ہم ڈاکٹر صاحب کے حجرے میں پہنچے تو دیکھتے ہیں کہ آپ مطالعہ فرما رہے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس منزل تک پہنچنے میں ڈاکٹر صاحب نے کتنی محنتیں کی ہیں کتنی کتابوں کی ورق گردانی کی ہے کہ تھوڑا سا بھی وقت ملتا ہے تو ضائع نہیں ہونے دیتے ہیں بلکہ کسی نہ کسی امر دینی میں صرف کر دیتے ہیں اور یہ طلبا کے لیے بھی نمونۂ عمل ہے کتابوں سے دوستی عروج و ارتقا کی آسان راہ ہے شاید اسی لیے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں ہر ایک کی دنیا ہے اور میری دنیا کتاب کاغذ قلم ہے بعدہ ڈاکٹر صاحب نے سب سے خندہ پیشانی سے ملاقات کی نام، جماعت، داخل نصاب کتابوں کے بارے میں پوچھا پھر سب کو اہم مشوروں سے نوازا ان مشوروں میں آپ نے لکھنے کی طرف خاصی توجہ دلائی کہ بیٹا لکھو جیسے بھی ہو مگر لکھو کچھ نہیں لکھنے آتا ہے تو تم نے پورے دن میں کیا؟ کیا؟ کیا ہے وہ لکھو تم نے فون کتنا چلایا ہے کتابیں کب تک پڑھیں ہیں رات کو سوتے وقت فون چلا کے سویا یا کتابیں پڑھ کر اٹھتے وقت ہاتھوں میں پہلے فون اٹھایا یا کتابیں سب لکھو اور اگر شرم آتی ہے کہ لکھیں گے تو کوئی پڑھ لے گا تو چھپا کر لکھو کسی کو مت دکھاؤ خود لکھو خود پڑھو اس سے یہ ہوگا جہاں تم کو لکھنا آجائے گا وہیں اس بات کا بھی احساس ہوگا کہ تمہاری زندگی کس کام میں گزر رہی اسے بہتر بنانے کے لیے کیا کرنا پڑے گا ؟ مولانا آصف نوری صاحب سے آپ نے پوچھا کہ تم کیا کر رہے انھوں نے کہا میں فی الحال بی ایڈ کر رہا ہوں ایم اے کر چکا ہوں اور اب پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ ہے تو آپ نے فرمایا کس موضوع پر پی ایچ ڈی کروگے وہ بولے ابھی کسی موضوع کا انتخاب نہیں کیا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ کسی بھی موضوع پر پی ایچ ڈی کرو لیکن اس میں اعلی حضرت آنا چاہیے تو مولانا آصف صاحب نے کہا حضرت آج کل اس طرح کے مذہبی موضوعات پر پی ایچ ڈی کرنا امر مشکل ہے کیونکہ یونیورسٹیز والے کرنے نہیں دیتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ اعلی حضرت کا نام سرخی میں مت رکھیے موضوع کوئی بھی ہو اس کے مواد میں اعلی حضرت کی تحقیقات ضرور آئیں گی اعلی حضرت کا نام ضرور آئے گا آپ مجھے کوئی بھی موضوع بتائیے میں اس میں اعلی حضرت کو لے آتا ہوں کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر اعلی حضرت نے قلم نہ اٹھایا ہو مثلا اگر موضوع ہو “قدیم ہندوستان کا مذہبی مطالعہ” تو اس میں اعلی حضرت کو کیسے لائیں گے؟ تو سنو کہ قدیم ہندوستان کونسا ہے پہلے اس کا دائرہ متعین کریں گے پھر اس وقت جو مذہبی رسم و رواج تھے ان کا ذکر کریں گے اس کے بعد ان کے صحیح یا غلط ہونے پر دلیلیں فتاوی رضویہ وغیرہ سے دیں گے اور اس میں دکھائیں گے کہ قدیم ہندوستان کے اعتقادات رسم و رواج تو یہ ہیں لیکن ان کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کی دلیلیں فتاوی رضویہ میں اس طرح سے ہیں آ گئے اعلی حضرت پھر فرماتے جب میں نے پی ایچ ڈی کیا تو میرا موضوع تھا “فقہی تنقید نگاری” اس مقالے میں میں نے قادیانی، دیوبندی، وہابی، سب کی تکفیر کی تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی، قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی، اشرف علی تھانوی، خلیل احمد انبیٹھوی، سب کے سب کافر ہیں میرا مقالہ پڑھنے کے بعد یونیورسٹی کے پروفیسر حضرات نے کہا یہ آپ نے کیا کیا ہے سب کی تکفیر کر دی ہے آپ نے ان حضرات کی تکفیر کیوں کی آپ نے جوابا فرمایا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو کیا وہ کافر ہے تو کہا ہاں ہے لیکن آپ جواب دینے کے بجائے ہمیں سے سوال کیوں کر رہے ہیں تو آپ نے فرمایا میں آپ حضرات کو جواب ہی دے رہا ہوں جب آپ حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ کوئی نبوت کا دعوی کرے تو وہ کافر ہو جائے گا اور جو نبوت کا دروازہ ہی کھول دے کیا وہ کافر نہیں ہوگا تو ان حضرات نے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے ان میں کس نے دروازہ کھولا ہے ؟ آپ نے کتاب اٹھائی اور نکال کر وہ جگہ دکھائی جہاں قاسم نانوتوی نے لکھا ہے “بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے ” [تحذیر الناس ص 14] پھر ان حضرات نے پوچھا کہ آپ یہ بتائیں کہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ ایمان کسے کہتے ہیں تو آپ نے فرمایا یہ کوئی سوال ہے جس کو سب ایمان کہتے ہیں اسی کو امام احمد رضا خان بھی ایمان کہتے ہیں اگر آپ کہیں تو میں اس کا جواب شعر میں دے دوں انھوں نے کہا اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے تو آپ نے اعلی حضرت کا یہ شعر پڑھااللہ کی سر تا بہ قدم شان ہیں یہان سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہقرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیںایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہمولانا کیف مولانا فرحان سے ملاقات____________ اس کے بعد میں مولانا کیف منظری پورنوی کے پاس گیا اور ان کو دستار بندی کی مبارکبادی پیش کی بعدہ نبیرۂ فخر بہار حضرت مولانا محمد فرحان قادری منظری کے پاس گیا اور ان کو دستار بندی کی مبارکبادی پیش کی مولانا فرحان صاحب نے اپنی ایک نو تصنیف پیش کی جس کا نام ہے “12 ربیع الاول حضور کی پیدائش کا دن یا وفات کا؟” جو 152 صفحات پر مشتمل دلائل و براہین سے مزین ہے موصوف کی اس کے علاوہ بھی کئی تصانیف صراط پبلیکیشنز سے مطبوعہ ہیں “مسائل روزہ اور ان کا حل” “شان تاج الشریعہ” “علم دین کی اہمیت و فضیلت” “تجلیات اعلی حضرت” “عید میلاد سبب وجود کل کائنات” کے نام سے موسوم ہیں اللہ جل جلالہ فاضل اجل مولانا فرحان صاحب کو دین و ملت کی خدمات کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمینڈاکٹر صاحب کی فکر انگیز تقریر _____________ بعدہ جلسہ گاہ میں گیا تو دیکھا سعادت لوح و قلم علامہ مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد صاحب قبلہ دام ظلہ العالی کی تقریر ہو رہی ہے میں بیٹھ گیا اور بغور سننے لگا آپ نے علم دین کی اہمیت، تصنیف و تالیف خدمات دینیہ کی فضیلت پر بہت ہی بہترین بیان دیا جس سے حاضرین بہت متأثر ہوئے خاص کر ایک واقعے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا آپ نے بیان فرمایا : کہ ہمارے بہت سارے علما نے جیل میں رہ کر بھی دین کی خدمات انجام دیں مشکلات کو خاطر میں نہ لایا جب کہ ان کے پاس اسباب بھی مہیا نہیں تھے علم الصیغہ تورایخ حبیب الہ جیسی مایۂ ناز کتاب مفتی عنایت احمد کاکوروی رضی اللہ عنہ نے حالت اسیری میں تحریر فرمائی شمس الائمہ علامہ شمس الدین امام سرخسی رضی اللہ عنہ کو قید کر لیا گیا جیل خانہ میں کنویں کے اندر آپ کو رکھا گیا اس کے با وجود آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ منقطع نہیں فرمایا اور طلبہ بھی اپنے استاذ کو نہ بھلایا بلکہ جیل کے اندر طلب علم کے لیے پہنچے اور کنویں سے باہر رہ کر طلبا پڑھتے اور امام سرخسی پڑھاتے تھے فقط یہ کام پڑھانے تک محدود نہیں رہا بلکہ کنویں کے اندر رہ کر آپ اپنے شاگر کو کتاب املا کراتے شاگرد باہر رہتا آپ اندر فرماتے یہ لکھو یہ لکھو اس طرح ایک صفحہ دو صفحہ ایک جلد دو جلد نہیں بلکہ 31 جلد پر مشتمل المبسوط املا کروائی جو آپ کی مایۂ ناز تصنیف ہے اگر موجودہ دور میں نئے سرے سے اک کتاب کو کمپیوٹرائزڈ کے مراحل سے گزارا جائے تو 40 جلد سے زائد ہو جائے گی اتنا بڑا کام وہ بھی قید خانے میں کنویں کے اندر رہ کر انجام دینا کسی عجوبے سے کم نہیں ہے اس سے آپ کی وسعت ذہنی قوت حافظہ کی مضبوطی استحضار ذہنی کا پتہ چلتا ہے حضور حامد ملت کی کرامت__________ ان کے بعد مولانا سخاوت صاحب نے تقریر کی جس میں انھوں حضور حامد ملت کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا کہ آپ بہت حسین و جمیل تھے ایک جگہ آپ تشریف لے گئے تو ایک ہندو آپ کو بار بار دیکھنے جاتا تھا تو کسی نے اس سے کہا کہ آپ بار بار وہاں کیوں جاتے ہیں تو اس ہندو نے کہا میں ان کی خوبصورتی دیکھنے جاتا ہوں میں نے ایسا انسان اس سے پہلے نہیں دیکھا ایک ہندو حضور حامد ملت کے قدموں میں جا گرا حضور حامد ملت نے اسے اٹھایا اور فرمایا بتاؤ کیا کام ہے اس نے کہا میری اولاد نہیں ہے مجھے اولاد دے دیجیے آپ نے فرمایا اگر اولاد ہو جائے گی تو تم کیا کروگے اس ہندو نے کہا کلمہ پڑھ لوں گا آپ نے فرمایا ٹھیک ہے اولاد ہو جائے گی دو سال کے بعد پھر حضور حامد ملت وہیں تشریف لے گئے تو وہ ہندو ملاقات کو آیا آپ نے دیکھتے ہی پہچان لیا اور فرمایا تم وہی ہو نا کہا ہاں حضور میں وہی ہوں کہا اولاد ہوئی کہاں ہاں ایک ساتھ دو لڑکا ہوا اور میں اسی دن کلمہ پڑھ کر دامن اسلام سے وابستہ ہو گیا سبحان اللہعلامہ عاقل صاحب کی نصیحت آموز تقریر______ بعدہ شارح بخاری علامہ مفتی محمد عاقل صاحب قبلہ دام ظلہ العالی نے نصیحت آموز پر اثر تقریر فرمائی جس سے راقم الحروف بہت متأثر ہوا اور آپ کے اخلاق کریمانہ کو دیکھ کر میں متحیر رہ گیا آپ کا ایک شاگرد جو سابق فارغین میں سے ہے وہ آیا اور آکر نیچے عوام کی صف میں بیٹھ گیا علامہ عاقل صاحب نے تقریر روک کر اپنے شاگرد سے فرمایا مفتی نسیم منظری صاحب آپ اوپر تشریف لائیے اور اس کی تعریف بھی کی اس بھرے مجمع اپنے شاگرد کی اس طرح حوصلہ افزائی واقعی قابل تحسین لائق تقلید ہے جب اساتذہ تلامذہ کو عزت دیں گے تو تلامذہ خود بخود اپنے اساتذہ کی عزت کریں گے خصوصی فضیلت کی وجہ____________دوران تقریر علامہ عاقل صاحب نے فرمایا کہ حضور ریحان ملت رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ کوئی کہیں بھی تعلیم حاصل کرے لیکن میں چاہتا ہوں کہ وہ برکتا مرکز اہل سنت بریلی شریف منظر اسلام میں آکر دستار بندی لے تب سے خصوصی فضیلت کا اہتمام کیا گیا خصوصی فضیلت کے لیے پہلے داخلہ امتحان ہوتا ہے پھر ششماہی کے موقع پر فائنل امتحان ہوتا ہے اس میں کامیاب ہونے والے طلبا کو سند و دستار بندی دی جاتی ہے اس بار خصوصی فضیلت والے 21 طلبا تھے لیکن راقم الحروف سمجھتا ہے کہ یہ تعداد بہت کم ہے جب اتنا اچھا موقع طلبا کو مرکز اہل سنت فراہم کر رہا ہے تو طلبا کو چاہیے کثیر تعداد میں یہاں سے سند فراغت حاصل کریں اور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے فیض سے فیضیاب ہوں خلافت کی سند سے فیضیاب ہونا تو بہت آسان ہے اس میں علمی لیاقت بھی نہیں دیکھی جاتی ہے لیکن فضیلت کی سند سے فیضیابی علمی لیاقت کی خبر دیتی ہے اس لیے طلباء دینہ کو چاہیے اس طرف ضرور توجہ فرمائیں علامہ عاقل صاحب نے بر سر منبر تمام اساتذہ کی حوصلہ افزائی فرمائی اور ان کا تعارف کرایا جو راقم الحروف کو بہت پسند آیا نیز جن آٹھ طلبا نے کتاب تصنیف کی ان کی فراخدلی سے حوصلہ افزائی کی ان کی تعریفیں کیں ان کو جی بھر کر سراہا اور ایسا ہونا بھی چاہیے تاکہ طلبا مزید دینی خدمات کی طرف راغب ہوں راقم الحروف علامہ عاقل کے ساتھ ساتھ تمام فارغین کو مبارکباد پیش کرتا ہے خصوصاً ان آٹھ طلبا کو جنھوں نے کتابیں لکھ کر عوام و خواص کو علمی سرمایہ فراہم کیا میں دوسرے ادارے کے اساتذہ سے کہنا چاہوں گا آپ بھی اسی طرح فراخدلی دکھائیں آپ کے مدرسے کے جو طلبا کتابیں لکھ کر آپ کو پیش کرتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی فرمائیں رسم اجرا کرانے کے لیے مدد کریں اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی کا خاص خیال رکھیں کیونکہ آپ کا ایک جملہ ان کی زندگی سنوار سکتا ہے اختتامیہ مع راقم الحروف کی دستار بندی ______اس کے بعد حضرت مولانا سلیم صاحب قبلہ تشریف لائے اور انھوں نے بچوں کی دستار بندی کا اعلان کیا بڑے ہی خندہ پیشانی سے طلبا سے پیش آتے اور طلبا کی تعریف بھی کرتے جاتے ایک کتاب اجرا کے لیے رہ گئی تھی اس کا اجرا بھی کیا پہلے مفتیان کرام کی دستار بندی ہوئی پھر فضلاء کرام کی اور فضلا میں ان کو مقدم رکھا گیا جنھوں نے مسلسل منظر اسلام میں رہ کر تعلیم حاصل کی اس کے بعد خصوصی فضیلت والوں کی دستار بندی ہوئی اسی صف میں راقم الحروف کو بھی جگہ ملی اور مجھ حقیر فقیر محمد جسیم اکرم مرکزی منظری غفر لہ المولی القدیر کی دستار بندی شارح بخاری علامہ عاقل صاحب قبلہ دام ظلہ العالی کے ہاتھوں ہوئی بعدہ بارگاہ مرشدنا سیدنا حضور تاج الشریعہ و حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی و حضور مفتی اعظم ہند و حضور حامد ملت رضوان اللہ علیہم اجمعین میں حاضری کا شرف حاصل ہوا سلام پڑھا اور علم و فضل اور عمر میں برکت کی دعائیں کیں دل بہت مطمئن ہوا ایسا لگا کہ آج فیوض اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے خالی دامن کو بھر لیا ہوں آنکھوں سے خوشی کے دو تین قطرے ٹپکے اور پھر مادر علمی مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا کی طرف رواں دواں ہو گیا
















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As