صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:
اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

✍️ Mohd Qasim ul Qadri Markazi

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:
امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟
جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگوں میں کوتاہ بینی آتی گئی اس لیے ضرورت ہوئی کہ اظہار کرامت سے انہیں تقویت دی جائے۔
علامہ یا فعی یمنی ہیں: شیوخ کبار نے فرمایا، حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا سے ابتداءً کرامات کا ظہور زیادہ ہوا تاکہ ان کے ایمان کو قوت دی جائے۔ اور ان کے یقین کو درجہ کمال تک پہنچایا جائے۔ بے موسم کے پھلوں کا ان کی خدمت میں آنا وغیرہ اسی لیے تھا۔ مگر جب ایمان و یقین کاملیت تک پہنچ گئے تو انہیں بھی وسیلہ اور سبب کا محتاج بنا دیا گیا اور حکم ہوا کہ کھجور کی شاخیں ہلاؤ تو زیادہ پھل گریں گے۔ حالانکہ رب تعالی چاہے تو بغیر شاخوں اور ٹہنیوں کے بھی تازہ پھل عطا کرے۔ مگر چونکہ اب ایمان و ایقان قوی ہو چکے تھے اس لیے نظام اسباب کے ساتھ مقید کیا گیا۔
عارف حق شیخ شہاب الدین سہروردی کا ارشاد ہے :- بندہ پر کرامتوں کے دروازے اس لیے کھولے جاتے ہیں کہ اس کا یقین قوی ہو جائے اور جن لوگوں سے کرامتوں کا صدور ہوتا ہے ان سے اوپر ایک اور طبقہ ان لوگوں کا ہے جن کے قلوب سے پردے اٹھا لیے گئے ہیں ان کے دل روح یقین سے زندہ ہیں انہیں کرامت کی حاجت نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صحابہ کی کرامتیں اسی وجہ سے کم اور مشائخ متأخرین کی کرامات زیادہ منقول ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
صحابہ رضی اللہ عنہم کے قلوب روشن، نفوس پاک اور باطن سے صیقل تھے، دنیا سے بے رغبتی ان کا مزاج بن چکا تھا، عبادت ان کی خصلت بن گئی تھی، انہوں نے آخرت کا معائنہ کر لیا تھا اس لیے کہ ان حضرات نے صحبت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نورانیت پائی تھی انہوں نے نزول وحی کا مشاہدہ کیا تھا فرشتگان قدس ان کے سامنے آتے جاتے تھے۔ اس لیے وہ حضرات کرامات و خوارق سے بے نیاز تھے۔ جو یقین کے اس کمال کو پہنچ جائے عالم حکمت کے نظام میں ہی ان حقائق کا مشاہدہ کر لیتا ہے، جو دوسروں کو انوار قدرت میں نظر آتے ہیں وہ حکمت کے پردوں میں ہی قدرت کو پوشیدہ بلکہ عیاں دیکھتا ہے۔ اگر قدرت مجرد اور نمایاں ہو کر اس کے سامنے جلوہ گر ہو تو اسے کوئی حیرت نہ ہوگی اور جو حیرت والے ہوں گے ان کے یقین کو تقویت ہوگی کیونکہ حجاب حکمت کی وجہ سے جس قدرت کا انہیں مشاہدہ نہ ہو سکا وہ ان پر آشکارہ ہو چکی۔ (بزم اولیاء ترجمہ روض الریاحین فی حکایات الصالحین)
اولیاء کرام کی کرامتوں پر اعتراض کرنے والے۔ در حقیقت اللہ کی قدرت کاملہ پر اعتراض کرتے ہیں۔
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

Graduate - 2025 | Jamiatur Raza
101
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 12
Kalam 14
Mohd Qasim ul Qadri Markazi
زمرہ جات

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

مروّجہ تعزیہ داری اور عوام کا رویّہ

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

پی ڈی ایف تیار ہو رہی ہے، برائے مہربانی انتظار کریں...

PDF ڈاؤنلوڈ ہوتے ہی یہ ونڈو بند ہو جائے گی۔

Jamiatur Raza Students Portal
Jamiatur Raza Students Portal
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

قلمکار: Mohd Qasim ul Qadri Markazi

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟

جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگوں میں کوتاہ بینی آتی گئی اس لیے ضرورت ہوئی کہ اظہار کرامت سے انہیں تقویت دی جائے۔

علامہ یا فعی یمنی ہیں: شیوخ کبار نے فرمایا، حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا سے ابتداءً کرامات کا ظہور زیادہ ہوا تاکہ ان کے ایمان کو قوت دی جائے۔ اور ان کے یقین کو درجہ کمال تک پہنچایا جائے۔ بے موسم کے پھلوں کا ان کی خدمت میں آنا وغیرہ اسی لیے تھا۔ مگر جب ایمان و یقین کاملیت تک پہنچ گئے تو انہیں بھی وسیلہ اور سبب کا محتاج بنا دیا گیا اور حکم ہوا کہ کھجور کی شاخیں ہلاؤ تو زیادہ پھل گریں گے۔ حالانکہ رب تعالی چاہے تو بغیر شاخوں اور ٹہنیوں کے بھی تازہ پھل عطا کرے۔ مگر چونکہ اب ایمان و ایقان قوی ہو چکے تھے اس لیے نظام اسباب کے ساتھ مقید کیا گیا۔

عارف حق شیخ شہاب الدین سہروردی کا ارشاد ہے :- بندہ پر کرامتوں کے دروازے اس لیے کھولے جاتے ہیں کہ اس کا یقین قوی ہو جائے اور جن لوگوں سے کرامتوں کا صدور ہوتا ہے ان سے اوپر ایک اور طبقہ ان لوگوں کا ہے جن کے قلوب سے پردے اٹھا لیے گئے ہیں ان کے دل روح یقین سے زندہ ہیں انہیں کرامت کی حاجت نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صحابہ کی کرامتیں اسی وجہ سے کم اور مشائخ متأخرین کی کرامات زیادہ منقول ہیں۔

صحابہ رضی اللہ عنہم کے قلوب روشن، نفوس پاک اور باطن سے صیقل تھے، دنیا سے بے رغبتی ان کا مزاج بن چکا تھا، عبادت ان کی خصلت بن گئی تھی، انہوں نے آخرت کا معائنہ کر لیا تھا اس لیے کہ ان حضرات نے صحبت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نورانیت پائی تھی انہوں نے نزول وحی کا مشاہدہ کیا تھا فرشتگان قدس ان کے سامنے آتے جاتے تھے۔ اس لیے وہ حضرات کرامات و خوارق سے بے نیاز تھے۔ جو یقین کے اس کمال کو پہنچ جائے عالم حکمت کے نظام میں ہی ان حقائق کا مشاہدہ کر لیتا ہے، جو دوسروں کو انوار قدرت میں نظر آتے ہیں وہ حکمت کے پردوں میں ہی قدرت کو پوشیدہ بلکہ عیاں دیکھتا ہے۔ اگر قدرت مجرد اور نمایاں ہو کر اس کے سامنے جلوہ گر ہو تو اسے کوئی حیرت نہ ہوگی اور جو حیرت والے ہوں گے ان کے یقین کو تقویت ہوگی کیونکہ حجاب حکمت کی وجہ سے جس قدرت کا انہیں مشاہدہ نہ ہو سکا وہ ان پر آشکارہ ہو چکی۔ (بزم اولیاء ترجمہ روض الریاحین فی حکایات الصالحین)

اولیاء کرام کی کرامتوں پر اعتراض کرنے والے۔ در حقیقت اللہ کی قدرت کاملہ پر اعتراض کرتے ہیں۔

مضمون آن لائن پڑھنے کے لیے اسکین کریں:

QR Code