اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مساجد پر بلڈوزر ( اپنے کعبے کی حفاظت ہمیں خود کرنی ہوگی)
احوال وطن

مساجد پر بلڈوزر ( اپنے کعبے کی حفاظت ہمیں خود کرنی ہوگی)

✍️ Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

مساجد پر بلڈوزر ( اپنے کعبے کی حفاظت ہمیں خود کرنی ہوگی)✍️ مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی📱8446974711📱
✍️ آج ہندوستان کا مسلمان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کے دل میں بے شمار سوالات انگڑائیاں لے رہے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں سے کبھی مسجد، کبھی مدرسہ اور کبھی کسی اسلامی عبادت گاہ پر بلڈوزر چلنے کی خبریں سامنے آتی ہیں تو ہر صاحبِ ایمان کا دل تڑپ اٹھتا ہے۔ میناروں کی خاموشی، اذانوں کی صدائیں اور سجدہ گاہوں کی مٹی گویا مسلمانوں سے یہ سوال کر رہی ہے کہ کیا تمہیں اپنی دینی شناخت اور مذہبی ورثے کی حفاظت کا احساس باقی ہے؟
🕌 مساجد محض اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کا نام نہیں ہوتیں بلکہ یہ ایمان کی علامت، تہذیب کی پہچان اور امت کی روحانی زندگی کا مرکز ہوتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اپنی عبادت گاہوں سے تعلق کمزور کیا، اس کی اجتماعی قوت بھی کمزور پڑ گئی۔ آج اگر مسلمان اس صورتِ حال پر صرف افسوس اور غصے تک محدود رہیں گے تو حالات بدلنے والے نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جذبات کے ساتھ حکمت، شعور اور اتحاد کو بھی اپنا شعار بنایا جائے۔
📢 یہ حقیقت ہے کہ ملک میں بعض مقامات پر مساجد اور مدارس سے متعلق تنازعات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ سیاسی مفادات، فرقہ وارانہ ذہنیت اور ووٹ بینک کی سیاست بعض اوقات ایسے ماحول کو جنم دیتی ہے جس میں مذہبی مقامات کو بھی تنازعات کا مرکز بنا دیا جاتا ہے۔ مگر ایک سنجیدہ مسلمان کو ہر معاملے کو تحقیق، قانون اور حقیقت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، نہ کہ محض افواہوں اور جذباتی نعروں کی بنیاد پر۔
✍️ کسی بھی واقعے کے پس منظر، قانونی حیثیت اور حقائق کو سمجھے بغیر فیصلے صادر کرنا دانشمندی نہیں۔
📢سوال یہ ہے کہ مسلمان کیا کریں؟ سب سے پہلے مسلمان اپنے تعلق کو مسجد سے مضبوط کریں۔ جو قوم اپنی مسجدوں کو آباد نہیں رکھتی، وہ ان کی حفاظت کا حق بھی ادا نہیں کر سکتی۔ فجر کی صفیں خالی ہوں، نوجوان مسجد سے دور ہوں، مدارس مالی مشکلات کا شکار ہوں اور پھر صرف خطرات کے وقت احتجاج کیا جائے، تو یہ رویہ کافی نہیں۔ مسجد کی اصل حفاظت اس کی آبادی سے ہوتی ہے، اس کے میناروں سے نہیں بلکہ اس کے نمازیوں سے ہوتی ہے۔
✍️ دوسری اہم بات اتحاد ہے۔ افسوس کہ مسلمان مسلک، جماعت، زبان اور علاقائی اختلافات میں تقسیم ہو کر اپنی اجتماعی طاقت کمزور کر چکے ہیں۔ دشمن کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہماری باہمی کمزوری اور انتشار ہے۔ اگر مسلمان اپنے بنیادی دینی اور ملی مفادات پر متحد ہو جائیں تو ان کی آواز کہیں زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔
📢 تیسری بات قانونی اور آئینی جدوجہد ہے۔ ہندوستان کا آئین تمام شہریوں کو مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے۔ مسلمان جذباتی ردعمل کے بجائے قانونی راستے اختیار کریں، ماہر وکلا، سماجی اداروں اور آئینی ذرائع سے اپنے حقوق کا تحفظ کریں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پائیدار کامیابیاں صبر، حکمت اور منظم جدوجہد سے حاصل ہوتی ہیں۔
✍️ آج ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ مسلمان تعلیم، معاشی استحکام اور سماجی اثر و رسوخ پر توجہ دیں۔ کمزور قوموں کے حقوق اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں جبکہ مضبوط اور باوقار قومیں اپنے تشخص کا دفاع بہتر انداز میں کر سکتی ہیں۔ لہٰذا مسجد کی حفاظت صرف مسجد کی دیواروں کی حفاظت کا نام نہیں بلکہ پوری ملت کی فکری، تعلیمی اور معاشی مضبوطی کا نام ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
یاد رکھئے! کعبہ شریف کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ابرہہ کے ہاتھیوں کو تباہ کر دیا تھا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائیں۔ اللہ کی نصرت انہی کو ملتی ہے جو خود بھی اپنے دین کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنی مساجد کو آباد کریں، اپنی نسلوں کو دین سے جوڑیں، اتحاد پیدا کریں اور قانونی و جمہوری طریقوں سے اپنے حقوق کا دفاع کریں تو ان شاء اللہ حالات بدل سکتے ہیں۔
✍️ وقت کا پیغام صاف ہے.. صرف آنسو بہانے سے کچھ نہیں ہوگا، صرف سوشل میڈیا کے نعروں سے کچھ نہیں ہوگا، صرف شکایتوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ اپنے کعبے کی حفاظت، اپنی مسجدوں کی آبادی، اپنی نسلوں کے ایمان اور اپنی ملی شناخت کی حفاظت کے لیے ہمیں خود بیدار ہونا ہوگا۔ کیونکہ *تاریخ ہمیشہ جاگنے والوں کو یاد رکھتی ہے اور غفلت میں سونے والوں کو فراموش کر دیتی ہے۔
razamarkazi@gmail.com
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

Graduate - 2013 | Jamiatur Raza
91
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 9
Kalam 0
Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi
زمرہ جات

📢*کرکٹ کا جنون صاحبانِ منبر و محراب تک!*

٨ویں عرس حضور تاج الشریعہ کی روداد

مساجد پر بلڈوزر ( اپنے کعبے کی حفاظت ہمیں خود کرنی ہوگی) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مساجد پر بلڈوزر ( اپنے کعبے کی حفاظت ہمیں خود کرنی ہوگی)

مضمون نگار: Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

مساجد پر بلڈوزر *( اپنے کعبے کی حفاظت ہمیں خود کرنی ہوگی)*✍️ *مفتی محمد رضا قادری رفاعی مرکزی📱8446974711📱*

✍️ آج ہندوستان کا مسلمان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کے دل میں بے شمار سوالات انگڑائیاں لے رہے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں سے کبھی مسجد، کبھی مدرسہ اور کبھی کسی اسلامی عبادت گاہ پر بلڈوزر چلنے کی خبریں سامنے آتی ہیں تو ہر صاحبِ ایمان کا دل تڑپ اٹھتا ہے۔ میناروں کی خاموشی، اذانوں کی صدائیں اور سجدہ گاہوں کی مٹی گویا مسلمانوں سے یہ سوال کر رہی ہے کہ کیا تمہیں اپنی دینی شناخت اور مذہبی ورثے کی حفاظت کا احساس باقی ہے؟

🕌 مساجد محض اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کا نام نہیں ہوتیں بلکہ یہ ایمان کی علامت، تہذیب کی پہچان اور امت کی روحانی زندگی کا مرکز ہوتی ہیں۔ *تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اپنی عبادت گاہوں سے تعلق کمزور کیا، اس کی اجتماعی قوت بھی کمزور پڑ گئی۔* آج اگر مسلمان اس صورتِ حال پر صرف افسوس اور غصے تک محدود رہیں گے تو حالات بدلنے والے نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جذبات کے ساتھ حکمت، شعور اور اتحاد کو بھی اپنا شعار بنایا جائے۔

📢 یہ حقیقت ہے کہ ملک میں بعض مقامات پر مساجد اور مدارس سے متعلق تنازعات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ سیاسی مفادات، فرقہ وارانہ ذہنیت اور ووٹ بینک کی سیاست بعض اوقات ایسے ماحول کو جنم دیتی ہے جس میں مذہبی مقامات کو بھی تنازعات کا مرکز بنا دیا جاتا ہے۔ مگر ایک سنجیدہ مسلمان کو ہر معاملے کو تحقیق، قانون اور حقیقت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، نہ کہ محض افواہوں اور جذباتی نعروں کی بنیاد پر۔

✍️ کسی بھی واقعے کے پس منظر، قانونی حیثیت اور حقائق کو سمجھے بغیر فیصلے صادر کرنا دانشمندی نہیں۔
📢*سوال یہ ہے کہ مسلمان کیا کریں؟ *سب سے پہلے مسلمان اپنے تعلق کو مسجد سے مضبوط کریں۔ جو قوم اپنی مسجدوں کو آباد نہیں رکھتی، وہ ان کی حفاظت کا حق بھی ادا نہیں کر سکتی۔ فجر کی صفیں خالی ہوں، نوجوان مسجد سے دور ہوں، مدارس مالی مشکلات کا شکار ہوں اور پھر صرف خطرات کے وقت احتجاج کیا جائے، تو یہ رویہ کافی نہیں۔ مسجد کی اصل حفاظت اس کی آبادی سے ہوتی ہے، اس کے میناروں سے نہیں بلکہ اس کے نمازیوں سے ہوتی ہے۔

✍️* دوسری اہم بات اتحاد ہے۔* افسوس کہ مسلمان مسلک، جماعت، زبان اور علاقائی اختلافات میں تقسیم ہو کر اپنی اجتماعی طاقت کمزور کر چکے ہیں۔ دشمن کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہماری باہمی کمزوری اور انتشار ہے۔ اگر مسلمان اپنے بنیادی دینی اور ملی مفادات پر متحد ہو جائیں تو ان کی آواز کہیں زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔

📢 تیسری بات قانونی اور آئینی جدوجہد ہے۔ ہندوستان کا آئین تمام شہریوں کو مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے۔ مسلمان جذباتی ردعمل کے بجائے قانونی راستے اختیار کریں، ماہر وکلا، سماجی اداروں اور آئینی ذرائع سے اپنے حقوق کا تحفظ کریں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پائیدار کامیابیاں صبر، حکمت اور منظم جدوجہد سے حاصل ہوتی ہیں۔

✍️ *آج ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ *مسلمان تعلیم، معاشی استحکام اور سماجی اثر و رسوخ پر توجہ دیں۔ کمزور قوموں کے حقوق اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں جبکہ مضبوط اور باوقار قومیں اپنے تشخص کا دفاع بہتر انداز میں کر سکتی ہیں۔ لہٰذا مسجد کی حفاظت صرف مسجد کی دیواروں کی حفاظت کا نام نہیں بلکہ پوری ملت کی فکری، تعلیمی اور معاشی مضبوطی کا نام ہے۔

یاد رکھئے! کعبہ شریف کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ابرہہ کے ہاتھیوں کو تباہ کر دیا تھا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائیں۔ اللہ کی نصرت انہی کو ملتی ہے جو خود بھی اپنے دین کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنی مساجد کو آباد کریں، اپنی نسلوں کو دین سے جوڑیں، اتحاد پیدا کریں اور قانونی و جمہوری طریقوں سے اپنے حقوق کا دفاع کریں تو ان شاء اللہ حالات بدل سکتے ہیں۔

✍️* وقت کا پیغام صاف ہے.. *صرف آنسو بہانے سے کچھ نہیں ہوگا، صرف سوشل میڈیا کے نعروں سے کچھ نہیں ہوگا، صرف شکایتوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ اپنے کعبے کی حفاظت، اپنی مسجدوں کی آبادی، اپنی نسلوں کے ایمان اور اپنی ملی شناخت کی حفاظت کے لیے ہمیں خود بیدار ہونا ہوگا۔ کیونکہ *تاریخ ہمیشہ جاگنے والوں کو یاد رکھتی ہے اور غفلت میں سونے والوں کو فراموش کر دیتی ہے۔
razamarkazi@gmail.com

Scan this QR code to read online:

QR Code