اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سنیوں کے پاس بہت دولت ہے
احوال قوم وملت

سنیوں کے پاس بہت دولت ہے

✍️ Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

سنیوں کے پاس بہت دولت ہے
میاں مہدی تعجب کی نگاہ سے دیکھنے لگ گئے کیا کہہ رہے ہیں آپ ، حیرت واستعجاب کے بادل جناب مہدی صاحب کے ارد گرد گردش کررہے تھے کہ کہہ اٹھے ایسا نہیں ہے حالات سے دو چار اقتدار کے پاؤں تلے روندے ہوئے معتدل زندگیاں گزارنے والے صبح وشام کی روٹی کی فکر سے آگے کبھی سوچ ہی نہ سکے ۔ مجھے جناب مہدی کی فکر پر افسوس ہوا ،ان کی تنگ نظری پر رحم آیا میں نے کہا حضور حقیقتا سنیوں کے پاس بہت پیسہ ہے ۔
کیا کہا ۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا جی وہی جو آپ نے سنا
عرس ،گاگر چادر کے نام پر کئ لاکھ منٹوں میں جمع ہوجاتے ہیں ، ناچنے گانے والے فاسق وفاجر قوالوں کی جیبیں لاکھوں روپے سے گرم کردی جاتی ہیں کئ ہزار تو ان کے اوپر یوں ہی نچھاور کردئے جاتے ہیں ،مشاعرہ کا انتظام وانصرام سے اس قوم کو بڑی دلچسپی ہے کئ کئ لاکھ کا چندہ وہ معزز حضرات کرنے نکل جاتے ہیں جو خدمت خلق کے نام پر چندہ کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں ،جلسے جلوس میں غیر شرعی طرز وطریقے پر نعت و تقریر کرنے والے اچھل کود مچانے والے بے پر کے موضوع واقعات کو بیان کرنے والے مقررین کے خاطر کثرت سے مال خرچ کرنے میں تامل نہیں کرتے ، پیر صاحب کی رضا و خوشنودی کے لئے ۷۵ پکوان پیش کرتا ہے لیکن اسی قوم کی ایک ۵ سالہ بیٹی اور اللہ کی بندی کو ایک قسم کا پکوان بھی میسر نہیں ہوتا ۔
شادی کے نام پر جس طرح کے غیر شرعی رسومات کا رواج سنیوں کے یہاں رائج ہے شاید کسی مذہب والے اس طرح کا ڈھونگ کرتے ہوں شریعت نے جہاں سادگی رکھی وہاں قوم نے زیادتی کی ،،، نکاح میں آسانی کی تو قوم نے آسمانی بنا ڈالا ۔

اس معنی کر سنی بڑا مالدار ہے

مہدی صاحب حیرت سے میری طرف نم آنکھوں سے کچھ کہنے کی نیت سے دیکھ ہی رہے تھے تبھی میں نے کہا کہ مگر مسجد کے امام کی تنخواہ دینے کے وقت یہ قوم غریب ہو جاتی ہے ،پسماندہ طبقات حالات زدہ انسانوں کی امداد وتعاون کے وقت جیب سے ۲۰ روپے کا نوٹ بھی دل پر پتھر رکھ کر نکلتا ہے ایک وقت کا امام مسجد کا کھانا دیتے وقت غربت کا رونا رونے والے شادی کی تقریب میں ۲۰ قسم کے پکوان نام ونمود چاہتے ہوئے بنوا ڈالتے ہیں ،مسلمان قوم کی بد حالی کو دیکھ کر نظر چرانے والے سنی حضرات پیران عظام کی جیب میں ۵۰۰۰۰ کا لفافہ اس لئے رکھ دیا کہ حضرت جی خوش ہوجائیں لیکن اسے اللہ کی رضا کا خیال نہیں آتا کہ مالک حقیقی کی خوشنودی کس میں ہےجی ہاں حضرت یہ قوم غریب بھی ہے مگر مسجد میں رقم دینے کے وقت ،پریشان بھی ہیں زکوۃ کی ادائگی کے وقت، حد تو یہ ہے کہ زکوۃ لینے کے مستحق بن جاتے ہیں۔
یہ قوم دلدار بھی ہے مگر جب پیر صاحب پر حقیقی تبصرہ ہو جان دینے کی نوبت آجاتی ہے مگر مسلم سماج کی لڑائ لڑنے کے وقت بزدل ہو جاتی ہے اعلاء کلمۃ الحق کے وقت بے حس ہوجاتی ہے ،برادری واد کے جھگڑے میں تمام مخفی اسلحے ہاتھ میں، آستین چڑھی ہوئ ہوتی ہے لیکن اسلام کی لڑائ لڑنے کے وقت ضعیف وناتواں وقت کے مارے بن جاتے ہیں ۔
مہدی صاحب کی حالت دیکھ کر میں نے کچھ اور نہیں کہا مہدی صاحب جمود وسکوت کا مجسمہ بنے سن رہے تھے ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
پھر ان کے فکر کے دریچے کھلے اور نتیجتا وہ بات کہہ دی کی حضرت جی آپ صحیح فرمارہے ہیں جب بھی قوم کا مسئلہ در پیش ہوا ہے باطل نظریات والوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے انھوں نے بازی مار لی ہے اور ہم گاگر چادر نظر ونیاز پیر مرید عرس وجلوس سے آگے نہ بڑھ سکے ۔ یاد رہے ہم معمولات اہلسنت کے مخالف نہیں مگر بیجا اسراف کے ضرور مخالف ہیں۔
✍️ ہشام الدین قادری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

Graduate - 2025 | Jamiatur Raza
104
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 13
Kalam 0
Mufti Hishamuddin Quadri Markazi
زمرہ جات

مرکز علم وفن

اودھ کی ایک یادگار شام

سنیوں کے پاس بہت دولت ہے - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

سنیوں کے پاس بہت دولت ہے

مضمون نگار: Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

سنیوں کے پاس بہت دولت ہے

میاں مہدی تعجب کی نگاہ سے دیکھنے لگ گئے کیا کہہ رہے ہیں آپ ، حیرت واستعجاب کے بادل جناب مہدی صاحب کے ارد گرد گردش کررہے تھے کہ کہہ اٹھے ایسا نہیں ہے حالات سے دو چار اقتدار کے پاؤں تلے روندے ہوئے معتدل زندگیاں گزارنے والے صبح وشام کی روٹی کی فکر سے آگے کبھی سوچ ہی نہ سکے ۔ مجھے جناب مہدی کی فکر پر افسوس ہوا ،ان کی تنگ نظری پر رحم آیا میں نے کہا حضور حقیقتا سنیوں کے پاس بہت پیسہ ہے ۔

کیا کہا ۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا جی وہی جو آپ نے سنا
عرس ،گاگر چادر کے نام پر کئ لاکھ منٹوں میں جمع ہوجاتے ہیں ، ناچنے گانے والے فاسق وفاجر قوالوں کی جیبیں لاکھوں روپے سے گرم کردی جاتی ہیں کئ ہزار تو ان کے اوپر یوں ہی نچھاور کردئے جاتے ہیں ،مشاعرہ کا انتظام وانصرام سے اس قوم کو بڑی دلچسپی ہے کئ کئ لاکھ کا چندہ وہ معزز حضرات کرنے نکل جاتے ہیں جو خدمت خلق کے نام پر چندہ کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں ،جلسے جلوس میں غیر شرعی طرز وطریقے پر نعت و تقریر کرنے والے اچھل کود مچانے والے بے پر کے موضوع واقعات کو بیان کرنے والے مقررین کے خاطر کثرت سے مال خرچ کرنے میں تامل نہیں کرتے ، پیر صاحب کی رضا و خوشنودی کے لئے ۷۵ پکوان پیش کرتا ہے لیکن اسی قوم کی ایک ۵ سالہ بیٹی اور اللہ کی بندی کو ایک قسم کا پکوان بھی میسر نہیں ہوتا ۔

شادی کے نام پر جس طرح کے غیر شرعی رسومات کا رواج سنیوں کے یہاں رائج ہے شاید کسی مذہب والے اس طرح کا ڈھونگ کرتے ہوں شریعت نے جہاں سادگی رکھی وہاں قوم نے زیادتی کی ،،، نکاح میں آسانی کی تو قوم نے آسمانی بنا ڈالا ۔

#اس معنی کر سنی بڑا مالدار ہے

مہدی صاحب حیرت سے میری طرف نم آنکھوں سے کچھ کہنے کی نیت سے دیکھ ہی رہے تھے تبھی میں نے کہا کہ مگر مسجد کے امام کی تنخواہ دینے کے وقت یہ قوم غریب ہو جاتی ہے ،پسماندہ طبقات حالات زدہ انسانوں کی امداد وتعاون کے وقت جیب سے ۲۰ روپے کا نوٹ بھی دل پر پتھر رکھ کر نکلتا ہے ایک وقت کا امام مسجد کا کھانا دیتے وقت غربت کا رونا رونے والے شادی کی تقریب میں ۲۰ قسم کے پکوان نام ونمود چاہتے ہوئے بنوا ڈالتے ہیں ،مسلمان قوم کی بد حالی کو دیکھ کر نظر چرانے والے سنی حضرات پیران عظام کی جیب میں ۵۰۰۰۰ کا لفافہ اس لئے رکھ دیا کہ حضرت جی خوش ہوجائیں لیکن اسے اللہ کی رضا کا خیال نہیں آتا کہ مالک حقیقی کی خوشنودی کس میں ہےجی ہاں حضرت یہ قوم غریب بھی ہے مگر مسجد میں رقم دینے کے وقت ،پریشان بھی ہیں زکوۃ کی ادائگی کے وقت، حد تو یہ ہے کہ زکوۃ لینے کے مستحق بن جاتے ہیں۔

یہ قوم دلدار بھی ہے مگر جب پیر صاحب پر حقیقی تبصرہ ہو جان دینے کی نوبت آجاتی ہے مگر مسلم سماج کی لڑائ لڑنے کے وقت بزدل ہو جاتی ہے اعلاء کلمۃ الحق کے وقت بے حس ہوجاتی ہے ،برادری واد کے جھگڑے میں تمام مخفی اسلحے ہاتھ میں، آستین چڑھی ہوئ ہوتی ہے لیکن اسلام کی لڑائ لڑنے کے وقت ضعیف وناتواں وقت کے مارے بن جاتے ہیں ۔
مہدی صاحب کی حالت دیکھ کر میں نے کچھ اور نہیں کہا مہدی صاحب جمود وسکوت کا مجسمہ بنے سن رہے تھے ۔

پھر ان کے فکر کے دریچے کھلے اور نتیجتا وہ بات کہہ دی کی حضرت جی آپ صحیح فرمارہے ہیں جب بھی قوم کا مسئلہ در پیش ہوا ہے باطل نظریات والوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے انھوں نے بازی مار لی ہے اور ہم گاگر چادر نظر ونیاز پیر مرید عرس وجلوس سے آگے نہ بڑھ سکے ۔ یاد رہے ہم معمولات اہلسنت کے مخالف نہیں مگر بیجا اسراف کے ضرور مخالف ہیں۔

✍️ ہشام الدین قادری

Scan this QR code to read online:

QR Code