صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
اودھ کی ایک یادگار شام
ادبیات

اودھ کی ایک یادگار شام

✍️ Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

اودھ کی ایک یادگار شام
شب کی تاریکی صبح کے اجالے میں تحلیل ہو رہی تھی روز کی طرح نماز فجر کے بعد پھولوں کے بستر پر تھا یکایک خبر ملی کی اودھ ہمارا منتظر ہے ہم بے سر و سامان تھے وقت قریب تھا گاڑی دروازے آچکی تھی
تہائ سے زائد راہ تو ذھن کے ناز و نخرے اٹھانے میں گزر گئ کسی طرح قابو پایا جانا تھا قریبی کی عیادت میں مگر زندگی نام کاہے کا اگر کروٹ نا لے درمیان میں ہی اتر کر آمین باد کی جانب رخ کیا چوک کی جانب آتے وقت ایک آٹو رکشہ پر سوار ہوا ڈرائیور کے قریب ہی بیٹھ گیا نور علم سے بے نور شخص کی باتیں اردو تہذیب کا پورا اثر لئیے ہوئے تھیں ۔
ایک قیمتی گاڑی سے آگے نکل کر مسکراتے ہوئے کہنے لگا کہ ہم سے آگے تھیں ابھی تک آ نہ سکیں جملے سادے تھے مگر اردو تہذیب کا لباس زیب تن کئے تھے دوسرے رکشے میں ایک سن رسیدہ شخص مل گئے ظاہر پراگندہ اوپر سے غربت کے آثار نمایاں تھے لیکن دل کا امیر شخص تھا توکل کے عجب رنگ کھلا رہا تھا اللہ پر اعتماد کا ہر لفظ درس دے رہا تھا ۔
ان کی باتوں سے دل کو سکون حاصل ہو رہا تھا مگر پھر بزرگ کی منزل ہم سے پہلے آگئی بہت سی مثبت غیر معمولی باتوں سے محروم رہ گئے وقت بھی اپنی رفتار لئے ہوا تھا کب شام ہوگئ پتا بھی نہیں لگا ہاں شام کے بادل آئے تو اودھ کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا گیا ہم نے بھی ذاتی طور پر محسوس کیا کہ یوں ہی نہیں اودھ کی شام مشہور ہے حسین شام کی خوبصورت یادوں میں مگن گھر آ پہنچا لیکن شاید دل وہیں چھوڑ آیا ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اتنی گفتگو کر لیا اور یہ تو بتانا ہی بھول گیا کہ وہیں ایک مکتبے میں جانا ہوا کچھ ادب کی کتابوں کی زیارت کی خواہش ہوئی دیکھا تو نامانوس افراد کی تصنیف پر دل نہیں جما لیکن وہیں ابن صفی بھی اسی صف میں تھے کبھی پڑھا نہیں تھا نام سن رکھا تھا دو چند کتابیں خرید لیں گاڑی میں لوٹا تو اسی دھن میں دو چند ورق الٹ لئے آغاز میں تو زبردستی دو چند ورق پڑھا مگر دو چند ورق کے بعد ہی کتنے ورق پڑھ ڈالے معلوم نہیں نہایت سلیس زبان اور منفرد انداز اختیار کیا قدیم ادباء سے منحرف ایک الگ ہی ادب کی تحریک چلائی جس کو جاسوسی ادب کہا جاتا ہے انھوں نے خاص طور سے اپنی تحریر میں قانون کی رعایت پر زور دیا اور کہا کہ قانون سے لا علمی قانون شکنی کی سزا سے نہیں بچا سکتی اس لئے اس کی طرف توجہ مبذول کرائی ۔
آخر کار ایسا مست تھا کہ دل رکھنے کو راضی نہیں تھا مگر قلب تو قلب ہے ہی اور زندگی بھی ایک انقلاب ہے بالآخر رکھ دیا ۔۔۔
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

Graduate - 2025 | Jamiatur Raza
84
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 13
Kalam 0
Mufti Hishamuddin Quadri Markazi
زمرہ جات

سنیوں کے پاس بہت دولت ہے

الله يعلم المفسد من المصلح

اودھ کی ایک یادگار شام - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

اودھ کی ایک یادگار شام

مضمون نگار: Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

اودھ کی ایک یادگار شام

شب کی تاریکی صبح کے اجالے میں تحلیل ہو رہی تھی روز کی طرح نماز فجر کے بعد پھولوں کے بستر پر تھا یکایک خبر ملی کی اودھ ہمارا منتظر ہے ہم بے سر و سامان تھے وقت قریب تھا گاڑی دروازے آچکی تھی
تہائ سے زائد راہ تو ذھن کے ناز و نخرے اٹھانے میں گزر گئ کسی طرح قابو پایا جانا تھا قریبی کی عیادت میں مگر زندگی نام کاہے کا اگر کروٹ نا لے درمیان میں ہی اتر کر آمین باد کی جانب رخ کیا چوک کی جانب آتے وقت ایک آٹو رکشہ پر سوار ہوا ڈرائیور کے قریب ہی بیٹھ گیا نور علم سے بے نور شخص کی باتیں اردو تہذیب کا پورا اثر لئیے ہوئے تھیں ۔

ایک قیمتی گاڑی سے آگے نکل کر مسکراتے ہوئے کہنے لگا کہ ہم سے آگے تھیں ابھی تک آ نہ سکیں جملے سادے تھے مگر اردو تہذیب کا لباس زیب تن کئے تھے دوسرے رکشے میں ایک سن رسیدہ شخص مل گئے ظاہر پراگندہ اوپر سے غربت کے آثار نمایاں تھے لیکن دل کا امیر شخص تھا توکل کے عجب رنگ کھلا رہا تھا اللہ پر اعتماد کا ہر لفظ درس دے رہا تھا ۔

ان کی باتوں سے دل کو سکون حاصل ہو رہا تھا مگر پھر بزرگ کی منزل ہم سے پہلے آگئی بہت سی مثبت غیر معمولی باتوں سے محروم رہ گئے وقت بھی اپنی رفتار لئے ہوا تھا کب شام ہوگئ پتا بھی نہیں لگا ہاں شام کے بادل آئے تو اودھ کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا گیا ہم نے بھی ذاتی طور پر محسوس کیا کہ یوں ہی نہیں اودھ کی شام مشہور ہے حسین شام کی خوبصورت یادوں میں مگن گھر آ پہنچا لیکن شاید دل وہیں چھوڑ آیا ۔

اتنی گفتگو کر لیا اور یہ تو بتانا ہی بھول گیا کہ وہیں ایک مکتبے میں جانا ہوا کچھ ادب کی کتابوں کی زیارت کی خواہش ہوئی دیکھا تو نامانوس افراد کی تصنیف پر دل نہیں جما لیکن وہیں ابن صفی بھی اسی صف میں تھے کبھی پڑھا نہیں تھا نام سن رکھا تھا دو چند کتابیں خرید لیں گاڑی میں لوٹا تو اسی دھن میں دو چند ورق الٹ لئے آغاز میں تو زبردستی دو چند ورق پڑھا مگر دو چند ورق کے بعد ہی کتنے ورق پڑھ ڈالے معلوم نہیں نہایت سلیس زبان اور منفرد انداز اختیار کیا قدیم ادباء سے منحرف ایک الگ ہی ادب کی تحریک چلائی جس کو جاسوسی ادب کہا جاتا ہے انھوں نے خاص طور سے اپنی تحریر میں قانون کی رعایت پر زور دیا اور کہا کہ قانون سے لا علمی قانون شکنی کی سزا سے نہیں بچا سکتی اس لئے اس کی طرف توجہ مبذول کرائی ۔

آخر کار ایسا مست تھا کہ دل رکھنے کو راضی نہیں تھا مگر قلب تو قلب ہے ہی اور زندگی بھی ایک انقلاب ہے بالآخر رکھ دیا ۔۔۔

Scan this QR code to read online:

QR Code