صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
Poetry Banner

نعت شریف

Poetry Category 119 All Kalam

بہت مشکل میں ہے بندہ تمہارا یا رسول اللہ

فرازِ عرش سے اونچا ہے جھنڈا انکی عظمت کا

قیامت تک لحد کا گوشہ گوشہ جگمگائے گا

جوش پر جب آئی رحمت آپ کی

ملے گا مجھکو حصہ جنتِ محبوب داور سے

رحمت و نور کے انبار میں آ جاتے ہیں

بیٹھا تھا سانپ برسوں سے بس اسی انتظار میں

آئے ہیں آج وہ شاہ کون و مکاں مرحبا مرحبا

صاحب حسن و وجاہت آمنہ کا لعل ہے

ظلم کی تیرگی دنیا سے مٹانے کے لئے

عرس ہے آج احمد رضا خان کا مرحبا مرحبا

کیسے بتاؤں کیا ہے میں رتبہ حضور کا

فرش سے عرش بریں تک رحمت وانوار ہے

نعمت و رحمتِ یزدان رسول عربی

اے صبا لے جا مدینے کو پیام

قطعہ 3 جبین وہابی یہ دل کی سیاہی

قطعہ 2سویا نہیں میں رات بھر عشق حضور میں

قطعہ 1 الٰہی ! رحم کن بر حال زارم

تمہارے رخ کے جلووں سے منور ہوگیا عالم

سوز نہاں اشک رواں آہ و فغاں دیتے ہیں

نہیں جاتی کسی صورت پریشانی نہیں جاتی

تاروں کی انجمن میں یہ بات ہو رہی ہے

پی کے جو مست ہو گیا بادۂ عشق مصطفیٰ

وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت

غیر اپنے ہوگئے جو ہمارے بدل گئے

ہر نظر کانپ اٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجا دہل جائے گا

میری میت پہ یہ احباب کا ماتم کیا ہے

نت نئ ایک الجھن ہے

تخت زریں ہے نہ تاج شاہی ہے

در احمد پہ اب میری جبیں ہے

گر ہمیں ذوق طلب سا رہنما ملتا نہیں

عرش پر ہیں ان کی ہر سو جلوہ گستر ایڑیاں

اس طرف بھی اک نظر مہر درخشانِ جمال

نظر پہ کسی کی نظر ہو رہی ہے

شمیم زلف نبی لا صبا مدینے سے

فرشتے جس کے زائر ہیں مدینے میں وہ تربت ہے

ہمارے باغ ارماں میں بہار بے خزاں آئے

اپنے رندوں کی ضیافت کیجئے

مرکے جینے کا پاؤں مزہ خیر سے

فرقت طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے

تیرے دامنے کرم میں جسے نیند آ گئی ہے

شہنشاہ دو عالم کا کرم ہے

رہنمائی کے لئے ذوق طلب درکار ہے

مست مے الست ہے وہ بادشاہ وقت ہے

نہاں جس دل میں سرکار دو عالم کی محبت ہے

سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے

میر ی خلوت میں مزے انجمن آرائی کے

صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے

دور اے دل رہیں مدینے سے

صدر بزم کثرت یا رسول اللّٰہ

وہ چھائی گھٹا بادہ بار مدینہ

در جاناں پہ فدائی کو اجل آئی ہو

اپنے دَر پہ جو بلاؤ تو بہت اچھا ہو

لب جاں بخش کا اے جاں مجھے صدقہ دے دو

چاند سے ان کے چہرے پہ گیسوئے مشک فام دو

تمہارے در پہ جو میں باریاب ہو جاؤں

کچھ کریں اپنے یار کی باتیں

بو الہوس سن سیم و زر کی بندگی اچھی نہیں

تیری چوکھٹ پہ جو سر اپنا جھکا جاتے ہیں

کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں

تلاطم ہے یہ کیسا آنسوؤں کا دیدۂ تر میں

آج کی رات ضیاؤں کی ہے بارات کی رات

جھکے نہ بار صد احساں سے کیوں بناۓ فلک

جب کبھی ہم نے غم جاناں کو بھلایا ہوگا

وہ بڑھتا سایہ رحمت چلا زلف معنبر کا

لب کوثر ہے میلا تشنہ کامان محبت کا

تم چلو ہم چلیں سب مدینے چلیں

داغ فرقت طیبہ قلبِ مضمحل جاتا

وجہ نشاطِ زندگی راحتِ جاں تم ہی تو ہو

مصطفائے ذات یکتا آپ ہیں

نعت ِ رسول ﷺ

ابر کرم گیسوۓ محمّد*ﷺ*

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لئے

منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں

کوئی مشکل مجھے سرکار اگر ہوتی ہے

کرو روشن دیوار و در مرے سرکار آئے ہیں

خدا کے نور سے دل جگمگانے والے ہیں

کاش قسمت سے شرف میں نے یہ پایا ہوتا

جانِ قلب و جگر مدینہ ہے

دل ہے روشن مرا مدینے سے

جو جام ہمیں ساقی کوثر سے عطا ہو

ہوتی ہے سخاوت کی برسات مدینے میں

ان سے دعوائے محبت کو یوں زندہ رکھنا

ادراک سے ورا ہے سراپا حضور کا

قرار چاہیے بیمار زندگی کے لئے

لکھو نعت نبی شام و سحر آہستہ آہستہ

جلوہ گاہِ مصطفیٰ صل علی کیا خوب ہے

سرکار آگئے مرے سرکار آگئے

سارا جہاں ہے روشن سرکار آرہے ہیں

درود کی محفلیں سجاؤ حضور تشریف لا رہے ہیں

غم کے مارو ! مسکراؤ آمد سرکار ہے

بہت ہی خوبصورت ہے نبی کا در مدینے میں

باغ فردوس کا آؤ چلو نقشہ دیکھیں

خوب آتا ہے تمہیں درد کا درماں کرنا

منور عشق شہ سے قوم کے افکار کرتے ہیں

ہم ہیں تیار ستم گر کو ستانے کے لئے

ہو گیا جو دل سے شیدہ احمد مختار کا

سوائے آپ کے ہے کون میرا یا رسول اللہ

مدح رسول پاک میں لکھوں تو کیا لکھوں

دکھا دے يا خدا روضہ مجھے محبوبِ داور کا

رحمت کی گھٹاؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں

فکر و خیالِ جلوۂ گلفام آگیا

چلے بادِ صبا طیبہ سے میرے آشیانے کو

مرے حضور ﷺ کرم بے شمار کرتے ہیں

المدد اے سرورِ کون و مکاں ﷺ

یوں رندِ میکدہ کو ساقی بے قرار نہ کر

ایسا کوئی بھی بندۂ رب العُلیٰ نہیں

عشق محبوب ﷺ میں سرشار ہوا جاتا ہوں

گلشن کے عنادل یہی سب نغمہ سرا ہیں

عظیم الشان کتنا مرتبہ محبوب داور ﷺ کا

حرم و قبلہ و کعبہ یوں ہی طیبہ تیرا

آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ

رسول  پاک  کو  رب  نے  کیا  مختار  سو فیصد

اُس دل پہ کفر و شرک کا پھر کیسے آئے داغ

حضور ﷺ دیکھیں نا

گُل عِذاروں کی نہ لالہ زار کی

نعتِ نبیِ کونین ﷺ

آسان میری مشکل فرما شہ مدینہ

ان ﷺ کے کرم کی بارش

تمام شعراء