صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
Poetry Banner

نعت شریف

Poetry Category 352 All Kalam

ذکرِ سرکار مری زیست کا عنوان ہوا

ذرے ذرے پہ شہِ دیں کی نظر ہوتی ہے

ہاں اُسی کو خسروی ہے دستیاب

اندھیرا چھٹ گیا ہر سمت سے ظلم و جہالت کا

عزت ، وقار ، جاہ و حشم ، مرتبہ دیا

جو ذرے مس ہوئے شاہِ اُمم کے پاؤں سے

نقائص سے منزہ طاہر و اطہر بنایا ہے

عزت ، وقار ، شہرت و سطوت کا فائدہ

عشق بازی کا تماشہ اور ہے

لالہ ، عبیر ، مشک نہ یہ نیلوفر کی ہے

او برائے بہشت وا باشد

ہے حقیقت میں وہ بشر بہتر

حقیقت میں وہ اعلیٰ ہو گیا ہے

جب بکا میں ان کے ہاتھوں بیدام خود

قسم ہے آپ کو اپنی ہی عز و عظمت کی

ان کو چاند سا کہنا ہے فقط یہ نادانی

مقام دونوں جہاں میں اسی کا عالی ہے

علم و عرفان کی ہیں کان امام العلماء

مت پریشاں ہو اے دل طیبہ میں چل ، کرلینا

لب و رخسار،ابرو، زلف و مژگاں، چشم، پیشانی

جو تمہاری یاد سے غافل ہوا

آشیاں وہی اپنا خلد میں بناتے ہیں

کمال ، پاۓ شہِ بحر و بر کے دیکھتے ہیں

اگر دل میں نبی کا عشق پوشیدہ نہیں ہوتا

کہا نہیں ہے اگر چہ انہیں خدا میں نے

نام ان کا لیا ابھی کے ابھی

وہ خود کو نار جہنم سے ہے بچائے حضور

سوزِ دروں کا درد ہے درماں مرے لیے

نہ چندا کی ، نہ سورج کی، نہ تاروں کی ضرورت ہے

مستی میں جھومتے ہوئے بیمار آئے ہیں

ہاں وہی مدہوش رہتا ہے گدا شام و سحر

💖جب سے ہیں دل میں مصطفےٰ محفوظ💖

کیا بولوں ؟ ہیں کیسے مرے سرکار کے عاض

بصد خلوص ہوں محوِ ثنا کئی دن سے

اس جیسا جہاں میں کبھی دیکھا نہ گیا پھول

*بیٹھنا ، سوچنا، بولنا ، نعت ہے*

امید ہے یہی مجھے عالم پناہ سے

حال دل غیب داں آ قا کو سنانا کیا ہے

زبرجد نہ یاقوت و دولت کی بارش

لب و رخسار کعبانِ محمدﷺ

ہاشمی ، امّی ، بشر ہے سب سے خاص

“تُجھ “سا نہ کوئی آیا پیکر” إِنَّاۤ أَعۡطَیۡنَـٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ”

واقف رمز جنوں ، حق کا شناسا ہو جائے

تکمیل میری چاہت ہوگی ضرور ہوگی

ماحئ کفر و ضلالت نور والا آگیا

مژدہ خوشی کا سناتے یہ ہیں

رات رانی ترے جوبن پہ فدا دیکھی ہے

جام و مینا بھی نہ دے اور نہ دے خُم جاناں

نہ مال و زر نہ کوئی شئ ہے عاقبت میری

مال و زر پر اور نہ لالہ زار پر

مہ و انجم عقیدت کے دیے ہر سو جلاتے ہیں

سب آمدِ سرکارِ مدینہ کی عطا ہے

یہ اِکرام ہے مصطفیٰ پر خدا کا

ہم نے تقصیر کی عادت کرلی

ہوں جو یادِ رُخِ پرنور میں مرغانِ قفس

ہو اگر مدحِ کف پا سے منور کاغذ

واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا

نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیال رحمت تھپک رہا ہے

نہ مایوس ہو میرے دُکھ دَرد والے

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دنیا کے ساماں میں

نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں

شکرِ خالق کس طرح سے ہو ادا

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے

مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے

مَدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع

مرحبا عزت و کمالِ حضور

مُعْطِیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہوگیا

مجرمِ ہیبت زَدہ جب فردِ عصیاں لے چلا

کرے چارہ سازی زِیارت کسی کی

کیا خدا داد آپ کی اِمداد ہے

کیا کریں محفلِ دِلدار کو کیونکر دیکھیں

کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں

کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف

کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج

کہوں کیاحال زاہد گلشنِ طیبہ کی نزہت کا

قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا

اَلسَّلَام اے خسروِ دنیا و دِیں

عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ

عجب کرم شہِ والا تبار کرتے ہیں

عاصیوں کو در تمہارا مل گیا

طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شانِ جمال

سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے

سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض

سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر

سحابِ رحمت باری ہے بارہویں تاریخ

سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجواب

سر صبح سعادت نے گریباں سے نکالا

رحمت نہ کس طرح ہو ُگنہ گار کی طرف

رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بو پسند

ذاتِ والا پہ بار بار دُرود

یہ چند وَرق نعت کے لایا ہے غلام آج

دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو

دشتِ مَدینہ کی ہے عجب پربہار صبح

دشمن ہے گلے کا ہار آقا

دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا

خوشبوئے دشت ِطیبہ سے بس جائے گر دِماغ

خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وَقعت محفوظ

خدا کی خلق میں سب انبیا خاص

حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے

چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط

جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے

جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت ان کی

جاتے ہیں سوئے مَدینہ گھر سے ہم

جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک

جنابِ مصطفیٰ ہوں جس سے نا خوش

جتنا مِرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز

جو نور بار ہوا آفتابِ ُحسنِ َملیح

جاں بلب ہوں آ مری جاں اَلْغِیَاث

جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب

ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے

تم ہو حسرت نکالنے والے

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو

تیرے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم

ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا

تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سروَر کا

پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے

پرنور ہے زمانہ صبحِ شبِ وِلادت

باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے

بزمِ محشر منعقد کر میرِ سامانِ جمال

اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری

اے راحت جاں جو تِرے قدموں سے لگا ہو

اے مَدینے کے تاجدار سلام

اے دین حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم

اگر چمکا مقدر خاک پائے رہرواں ہو کر

اگر قسمت سے میں ان کی گلی میں خاک ہو جاتا

ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا

آپ کے دَر کی عجب توقیر ہے

آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا

ان کی ناموس پہ قربان دل و جاں کرنا

یاد میں جس کی نہیں ہوشِ تن و جاں ہم کو

یادِ وطن سِتم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں

ہم خاک ہیں اور خاک ہی مَاوا ہے ہمارا

ہے لبِ عیسٰی سے جاں بخشی نِرالی ہاتھ میں

ہے کلامِ الہٰی میں شَمس و ضُحٰے ترے چہرۂ نور فزا کی قسم

واہ کیاجُود و کرم ہے شَہِ بَطْحا تیرا

وہی ربّ ہے جس نے تجھ کو ہَمہ تن کرم بنایا

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

وصفِ رُخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس وضُحٰے کرتے ہیں

وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نَقْص جہاں نہیں

وہ سُوئے لالہ زار پِھرتے ہیں

آج یومِ ولادت ہے سرکار کا مرحبا مرحبا

چمکاہےماہِ انور سرکار آگئے ہیں

نظر اِک چمن سے دو چار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے

نہ عرشِ ایمن نہ اِنِّیْ ذَاھِبٌ میں میہمانی ہے

نبی سرورِ ہر رسول و ولی ہے

نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہار عارِض

نعمتیں بانٹتا جِس سَمْت وہ ذِیشان گیا

نہ آسمان کو یوں سرکَشیدہ ہونا تھا

مژدہ باد اے عاصیو! شافِع شہِ اَبرار ہے

مُرتَضیٰ شیرِ خدا مَرحَب کُشا خَیبر کَشا

مژدۂ رحمت حق ہم کو سنانے والے

ملکِ خاصِ کِبریا ہو

مصطفٰی خیرُالْوَرٰے ہو

مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دِل سے

محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزّت کا

لَحد میں عشقِ رخِ شہ کاداغ لے کے چلے

“لَم یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍ”مثلِ تو نہ شُد پیدا جانا

لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا

گنہ گاروں کو ہاتِف سے نوید خوش مآلی ہے

گزرے جس راہ سے وہ سیِّدِ والا ہو کر

کِس کے جلوہ کی جھلک ہے یہ اُجالا کیا ہے

کیا مہکتے ہیں مہکنے والے

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ

کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل

قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی

غم ہو گئے بے شمار آقا

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

عرشِ حق ہے مسندِ رِفعت رسول اللہ کی

عِشق مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن

عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں

طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ

صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا

شکر خدا کہ آج گھڑی اُس سفر کی ہے

شورِ مہِ نو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا

سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا

سچی بات سکھاتے یہ ہیں

سیّد کونین سلطانِ جہاں

سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے

سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے

سرور کہوں کہ مالک و مَولیٰ کہوں تجھے

سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمَارا نبی

سر تا بقدم ہے تن سُلطانِ زَمن پھول

زمین و زماں تمہارے لئے مَکِین و مکاں تمہارے لئے

زِ عکست ماہِ تاباں آفرِیدَند

زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہد گل کو

زائرو پاسِ اَدب رکھو ہَوَس جانے دو

زہے عزّت و اِعتلائے مُحَمَّد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ واٰلہ سَلَّم

آتے رہے اَنبیا” کَمَا قِیْلَ لَھُمْ”

پیشہ ِمرا شاعری نہ دعویٰ مجھ کو

راہ پُرخار ہے کیا ہونا ہے

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ

رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں

رشکِ قمر ہُوں رنگ رُخِ آفتاب ہُوں

ذرّے جھڑ کر تری پیزاروں کے

دُشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے

دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے

خراب حال کیا دِل کو پُرمَلال کیا

حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

چمنِ طیبہ میں سُنبل جو سنوارے گیسو

جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائی دوست

تمہارے ذَرِّے کے پر تو ستارہائے فلک

تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب

پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زَار ہم

پھر اُٹھا وَلولۂ یادِ مُغِیلانِ عرب

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے

پُل سے اُتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں سب کی کھائے کیوں

پُوچھتے کیا ہو عَرش پر یوں گئے مصطفٰے کہ یوں

بَکارِ خَویْش حَیرانَم” اَغِثْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللہ”

بَندہ اَم وَالْاَمْرُ اَمْرُکْ آنچہ دانی کُن بمن

بھینی سُہانی صبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے

بندہ ملنے کو قریب حضرتِ قادر گیا

“اَلَا یٰایُّھَا السَّاقِیْ اَدِرْ کَاْسًاوَّ نَاوِلْھَا”

اُمَّتان و سیاہ کاریْہا

اَنبیا کو بھی اَجل آنی ہے

ایمان ہے قالِ مُصطَفائی

اے شافعِ تردامناں وَے چارۂ دردِ نِہاں

اے شافعِ اُمَم شہِ ذِی جاہ لے خبر

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

اُٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حجاب میں ہے

اللہ اللہ کے نبی سے

اُن کی مہک نے دِل کے غُنچے کِھلا دئیے ہیں

اہلِ صِراط رُوحِ امیں کو خبر کریں

آنکھیں رو رو کے سُجانے والے

درد دل سینے سے ہم اپنے لگائے ہوئے ہیں

بہت مشکل میں ہے بندہ تمہارا یا رسول اللہ

فرازِ عرش سے اونچا ہے جھنڈا انکی عظمت کا

قیامت تک لحد کا گوشہ گوشہ جگمگائے گا

جوش پر جب آئی رحمت آپ کی

ملے گا مجھکو حصہ جنتِ محبوب داور سے

رحمت و نور کے انبار میں آ جاتے ہیں

بیٹھا تھا سانپ برسوں سے بس اسی انتظار میں

آئے ہیں آج وہ شاہ کون و مکاں مرحبا مرحبا

صاحب حسن و وجاہت آمنہ کا لعل ہے

ظلم کی تیرگی دنیا سے مٹانے کے لئے

عرس ہے آج احمد رضا خان کا مرحبا مرحبا

کیسے بتاؤں کیا ہے میں رتبہ حضور کا

فرش سے عرش بریں تک رحمت وانوار ہے

نعمت و رحمتِ یزدان رسول عربی

اے صبا لے جا مدینے کو پیام

قطعہ 3 جبین وہابی یہ دل کی سیاہی

قطعہ 2سویا نہیں میں رات بھر عشق حضور میں

قطعہ 1 الٰہی ! رحم کن بر حال زارم

تمہارے رخ کے جلووں سے منور ہوگیا عالم

سوز نہاں اشک رواں آہ و فغاں دیتے ہیں

نہیں جاتی کسی صورت پریشانی نہیں جاتی

تاروں کی انجمن میں یہ بات ہو رہی ہے

پی کے جو مست ہو گیا بادۂ عشق مصطفیٰ

وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت

غیر اپنے ہوگئے جو ہمارے بدل گئے

ہر نظر کانپ اٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجا دہل جائے گا

میری میت پہ یہ احباب کا ماتم کیا ہے

نت نئ ایک الجھن ہے

تخت زریں ہے نہ تاج شاہی ہے

در احمد پہ اب میری جبیں ہے

گر ہمیں ذوق طلب سا رہنما ملتا نہیں

عرش پر ہیں ان کی ہر سو جلوہ گستر ایڑیاں

اس طرف بھی اک نظر مہر درخشانِ جمال

نظر پہ کسی کی نظر ہو رہی ہے

شمیم زلف نبی لا صبا مدینے سے

فرشتے جس کے زائر ہیں مدینے میں وہ تربت ہے

ہمارے باغ ارماں میں بہار بے خزاں آئے

اپنے رندوں کی ضیافت کیجئے

مرکے جینے کا پاؤں مزہ خیر سے

فرقت طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے

تیرے دامنے کرم میں جسے نیند آ گئی ہے

شہنشاہ دو عالم کا کرم ہے

رہنمائی کے لئے ذوق طلب درکار ہے

مست مے الست ہے وہ بادشاہ وقت ہے

نہاں جس دل میں سرکار دو عالم کی محبت ہے

سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے

میر ی خلوت میں مزے انجمن آرائی کے

صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے

دور اے دل رہیں مدینے سے

صدر بزم کثرت یا رسول اللّٰہ

وہ چھائی گھٹا بادہ بار مدینہ

در جاناں پہ فدائی کو اجل آئی ہو

اپنے دَر پہ جو بلاؤ تو بہت اچھا ہو

لب جاں بخش کا اے جاں مجھے صدقہ دے دو

چاند سے ان کے چہرے پہ گیسوئے مشک فام دو

تمہارے در پہ جو میں باریاب ہو جاؤں

کچھ کریں اپنے یار کی باتیں

بو الہوس سن سیم و زر کی بندگی اچھی نہیں

تیری چوکھٹ پہ جو سر اپنا جھکا جاتے ہیں

کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں

تلاطم ہے یہ کیسا آنسوؤں کا دیدۂ تر میں

آج کی رات ضیاؤں کی ہے بارات کی رات

جھکے نہ بار صد احساں سے کیوں بناۓ فلک

جب کبھی ہم نے غم جاناں کو بھلایا ہوگا

وہ بڑھتا سایہ رحمت چلا زلف معنبر کا

لب کوثر ہے میلا تشنہ کامان محبت کا

تم چلو ہم چلیں سب مدینے چلیں

داغ فرقت طیبہ قلبِ مضمحل جاتا

وجہ نشاطِ زندگی راحتِ جاں تم ہی تو ہو

مصطفائے ذات یکتا آپ ہیں

نعت ِ رسول ﷺ

ابر کرم گیسوۓ محمّد*ﷺ*

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لئے

منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں

کوئی مشکل مجھے سرکار اگر ہوتی ہے

کرو روشن دیوار و در مرے سرکار آئے ہیں

خدا کے نور سے دل جگمگانے والے ہیں

کاش قسمت سے شرف میں نے یہ پایا ہوتا

جانِ قلب و جگر مدینہ ہے

دل ہے روشن مرا مدینے سے

جو جام ہمیں ساقی کوثر سے عطا ہو

ہوتی ہے سخاوت کی برسات مدینے میں

ان سے دعوائے محبت کو یوں زندہ رکھنا

ادراک سے ورا ہے سراپا حضور کا

قرار چاہیے بیمار زندگی کے لئے

لکھو نعت نبی شام و سحر آہستہ آہستہ

جلوہ گاہِ مصطفیٰ صل علی کیا خوب ہے

سرکار آگئے مرے سرکار آگئے

سارا جہاں ہے روشن سرکار آرہے ہیں

درود کی محفلیں سجاؤ حضور تشریف لا رہے ہیں

غم کے مارو ! مسکراؤ آمد سرکار ہے

بہت ہی خوبصورت ہے نبی کا در مدینے میں

باغ فردوس کا آؤ چلو نقشہ دیکھیں

خوب آتا ہے تمہیں درد کا درماں کرنا

منور عشق شہ سے قوم کے افکار کرتے ہیں

ہم ہیں تیار ستم گر کو ستانے کے لئے

ہو گیا جو دل سے شیدہ احمد مختار کا

سوائے آپ کے ہے کون میرا یا رسول اللہ

مدح رسول پاک میں لکھوں تو کیا لکھوں

دکھا دے يا خدا روضہ مجھے محبوبِ داور کا

رحمت کی گھٹاؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں

فکر و خیالِ جلوۂ گلفام آگیا

چلے بادِ صبا طیبہ سے میرے آشیانے کو

مرے حضور ﷺ کرم بے شمار کرتے ہیں

المدد اے سرورِ کون و مکاں ﷺ

یوں رندِ میکدہ کو ساقی بے قرار نہ کر

ایسا کوئی بھی بندۂ رب العُلیٰ نہیں

عشق محبوب ﷺ میں سرشار ہوا جاتا ہوں

گلشن کے عنادل یہی سب نغمہ سرا ہیں

عظیم الشان کتنا مرتبہ محبوب داور ﷺ کا

حرم و قبلہ و کعبہ یوں ہی طیبہ تیرا

آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ

رسول  پاک  کو  رب  نے  کیا  مختار  سو فیصد

اُس دل پہ کفر و شرک کا پھر کیسے آئے داغ

حضور ﷺ دیکھیں نا

گُل عِذاروں کی نہ لالہ زار کی

نعتِ نبیِ کونین ﷺ

آسان میری مشکل فرما شہ مدینہ

ان ﷺ کے کرم کی بارش

تمام شعراء