صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
علم غیب پر عقلی اعتراض کا علمی محاسبہ
تحقیق و تعاقب

علم غیب پر عقلی اعتراض کا علمی محاسبہ

✍️ Md Shahnawaz Raza Nawazi

علم غیب پر عقلی اعتراض کا علمی محاسبہ
علمِ غیب کا مسئلہ ان مسائلِ اعتقادیہ میں سے ہے جن پر اہل سنت و جماعت کا عقیدہ اتفاق و اجماع ہے۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے غیب کا علم عطا فرمایا ، یہ علم ذاتی نہیں بلکہ عطائی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو جتنا چاہا اتنا علم عطا فرمایا۔
مگر دور حاضر میں کچھ ایسے کم عقل لوگ رونما ہوئے جنہوں نے علمِ غیبِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا انکار کرتے ہوئے شرک کہہ دیا ، حالانکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو قرآن و حدیث اور اکابر علماء کرام کی کتب سے واضح ہے، علمِ غیبِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر بے شمار دلائل و براہین ہیں مگر وہ کم عقل فکری خرافات کی وجہ سے دلائل و براہین کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
قرآن پاک میں دو قسم کی آیتیں موجود ہیں ایک وہ آیاتِ کریمہ جن میں غیر اللہ کے لیے علمِ غیب کا اثبات اور دوسری وہ آیاتِ کریمہ جن میں غیر اللہ کے لیے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے ہمارا سب پر ایمان ہے۔
جہاں غیر اللہ کے لیے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے وہاں علمِ ذاتی مراد ہے اور جہاں غیر اللہ کے لیے اثبات ہے وہاں علمِ عطائی مراد ہے۔
ارشاد باری عز اسمہ ہے ‌: قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُؕ-
ترجمہ : تم فرماؤ خود غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر الله۔ (کنزالایمان)
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تبارک و تعالی کے علاوہ تمام کے لیے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے اور اس آیتِ کریمہ میں علم سے مراد علمِ ذاتی ہے جو اللہ تبارک و تعالی کے ساتھ خاص ہے۔
ہم اہل سنت و جماعت کا اللہ تبارک و تعالی کے علمِ ذاتی کے تعلق سے کیا عقیدہ ہے وہ حسب ذیل ہے:
العلمُ ذَاتی مختصٌ بالمَولیٰ سَبْحَانَہ و تَعَالی لا یُمْکِنُ لِغیرِہِ ولَوْ اَثْبَتَ شَیئاً منہ ولَوْ اَدْنیٰ مَنْ اَدْنیٰ ، مِنْ اَدْنیٰ مِنْ ذَرَّۃِ لاحَدٍ مِنَ الْعَالَمِیْنَ فَقَدْ کَفَرَ ،واَشْرَکَ وَبَاْرَ وَ ھَلَکَ ،، ترجمہ: علم ذاتی مولی سبحانہ و تعالی کے ساتھ خاص ہے اور اس کے غیر کے لیے محال ہے اور جو کوئی اس میں سے کوئی حصہ جہاں بھر میں کسی کے لیے ثابت کرے اگرچہ ایک ذرہ سے کمتر سے کمتر وہ یقینا کافر اور مشرک ہے اور تباہ و برباد ہوا
(الدولة المكية بالمادة الغيبية مصنف امامِ اہلسنت مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محقق بریلوی)
قرآن شریف میں ایسی بھی آیتیں موجود ہیں جن میں واضح طور پر ہے کہ اللہ تعالی اپنے پسندیدہ رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے غیب کا علم عطا فرماتا ہے اور اس علم کو علمِ غیب عطائی کہتے ہیں یعنی اللہ تعالی کی عطا اور اللہ تعالی کے بتانے سے جاننا کہتے ہیں ، امتِ مسلمہ یعنی ملتِ اسلامیہ کے تمام علماءِ حق کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تبارک و تعالی کے دینے سے انبیاءِ کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو کثیر اور وافرغیبوں کا علم ہے اور یہ ماننا ضروریاتِ دین میں سے ہے جو اس کا انکار کرے وہ کافر ہے کیونکہ اس کا انکار کرنا سرے سے نبوت کا انکار کرنا ہے (خالص الاعتقاد مصنف امام احمد رضا خان محقق بریلوی)
اور قرآن پاک میں ایک وہ آیتِ کریمہ ہے جس میں علمِ عطائی کا ذکر ہے یعنی اللہ تبارک و تعالی جسے چاہتا ہے اسے غیب کا علم عطا فرماتا ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے ‌: عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ (26)اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ
ترجمہ : غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے ( کنزالایمان)
ایک اور آیتِ کریمہ ہے : مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ
ترجمہ : اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے۔
ان آیاتِ مقدسہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالی اپنے پسندیدہ رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے اسے علمِ غیب عطا فرماتا ہے۔
ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا : وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ ترجمہ: اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ اس آیت کریمہ سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے علمِ غیب کا ثبوت صاف صاف نظر اتا ہے۔
لیکن وہ کم عقل یہ نہ سمجھ سکے کہ جہاں غیر اللہ کے لیے اثبات ہے وہاں علمِ عطائی مراد ہے اور جہاں غیر اللہ سے نفی کی گئی ہے وہاں علمِ ذاتی مراد ہے لیکن اہل سنت و جماعت کے مفسرین کرام نورِ ایمان کی روشنی میں قرآن مجید کی آیات کے صرف ظاہری معانی ہی پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ آیت کا مفہوم ، مقصد ، مراد ، مطلب ، شانِ نزول وغیرہ کو ملحوظ رکھ کر قرآن مجید کی صحیح تفہیم و افہام کی صلاحیت رکھتے تھے ۔
لہذا آیاتِ کریمہ کی صحیح تفہیم یہ ہو گی کہ ۔۔۔۔۔
١ ۔ آیت میں اللہ تبارک و تعالی کے سوا کسی دوسرے کے لیے علمِ غیب کا جو انکار کیا گیا ہے اس سے مراد علمِ غیب ذاتی ہے۔
٢ . آیت میں اللہ کے پسندیدہ رسولوں کے لیے علمِ غیب کا جو اقرار فرمایا گیا ہے اس سے مراد علمِ غیب عطائی ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو جو علمِ غیب ہے وہ علمِ ذاتی نہیں بلکہ عطائی ہے اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے عطا کیا گیا ہے اور جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس جو علم ہے وہ علمِ ذاتی ہے تو یہ کفر ہے۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو جو علم عطا فرمایا اس علم سے مراد علمِ عطائی ہے۔
✍️از قلم____محمد شہنواز رضا نوازیؔ
نمبر : 9297865406
متعلم: جامعۃ الرضا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

Student - Khamesa | Jamiatur Raza
104
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 9
Kalam 0
Md Shahnawaz Raza Nawazi
زمرہ جات

علم ایک لازوال دولت ہے

سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۲)

علم غیب پر عقلی اعتراض کا علمی محاسبہ - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

علم غیب پر عقلی اعتراض کا علمی محاسبہ

مضمون نگار: Md Shahnawaz Raza Nawazi

علم غیب پر عقلی اعتراض کا علمی محاسبہ

علمِ غیب کا مسئلہ ان مسائلِ اعتقادیہ میں سے ہے جن پر اہل سنت و جماعت کا عقیدہ اتفاق و اجماع ہے۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے غیب کا علم عطا فرمایا ، یہ علم ذاتی نہیں بلکہ عطائی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو جتنا چاہا اتنا علم عطا فرمایا۔
مگر دور حاضر میں کچھ ایسے کم عقل لوگ رونما ہوئے جنہوں نے علمِ غیبِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا انکار کرتے ہوئے شرک کہہ دیا ، حالانکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو قرآن و حدیث اور اکابر علماء کرام کی کتب سے واضح ہے، علمِ غیبِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر بے شمار دلائل و براہین ہیں مگر وہ کم عقل فکری خرافات کی وجہ سے دلائل و براہین کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

قرآن پاک میں دو قسم کی آیتیں موجود ہیں ایک وہ آیاتِ کریمہ جن میں غیر اللہ کے لیے علمِ غیب کا اثبات اور دوسری وہ آیاتِ کریمہ جن میں غیر اللہ کے لیے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے ہمارا سب پر ایمان ہے۔
جہاں غیر اللہ کے لیے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے وہاں علمِ ذاتی مراد ہے اور جہاں غیر اللہ کے لیے اثبات ہے وہاں علمِ عطائی مراد ہے۔
ارشاد باری عز اسمہ ہے ‌: “قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُؕ-”
ترجمہ : تم فرماؤ خود غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر الله۔ (کنزالایمان)
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تبارک و تعالی کے علاوہ تمام کے لیے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے اور اس آیتِ کریمہ میں علم سے مراد علمِ ذاتی ہے جو اللہ تبارک و تعالی کے ساتھ خاص ہے۔

ہم اہل سنت و جماعت کا اللہ تبارک و تعالی کے علمِ ذاتی کے تعلق سے کیا عقیدہ ہے وہ حسب ذیل ہے:
“العلمُ ذَاتی مختصٌ بالمَولیٰ سَبْحَانَہ و تَعَالی لا یُمْکِنُ لِغیرِہِ ولَوْ اَثْبَتَ شَیئاً منہ ولَوْ اَدْنیٰ مَنْ اَدْنیٰ ، مِنْ اَدْنیٰ مِنْ ذَرَّۃِ لاحَدٍ مِنَ الْعَالَمِیْنَ فَقَدْ کَفَرَ ،واَشْرَکَ وَبَاْرَ وَ ھَلَکَ ،،” ترجمہ: علم ذاتی مولی سبحانہ و تعالی کے ساتھ خاص ہے اور اس کے غیر کے لیے محال ہے اور جو کوئی اس میں سے کوئی حصہ جہاں بھر میں کسی کے لیے ثابت کرے اگرچہ ایک ذرہ سے کمتر سے کمتر وہ یقینا کافر اور مشرک ہے اور تباہ و برباد ہوا
(الدولة المكية بالمادة الغيبية مصنف امامِ اہلسنت مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محقق بریلوی)

قرآن شریف میں ایسی بھی آیتیں موجود ہیں جن میں واضح طور پر ہے کہ اللہ تعالی اپنے پسندیدہ رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے غیب کا علم عطا فرماتا ہے اور اس علم کو علمِ غیب عطائی کہتے ہیں یعنی اللہ تعالی کی عطا اور اللہ تعالی کے بتانے سے جاننا کہتے ہیں ، امتِ مسلمہ یعنی ملتِ اسلامیہ کے تمام علماءِ حق کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تبارک و تعالی کے دینے سے انبیاءِ کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو کثیر اور وافرغیبوں کا علم ہے اور یہ ماننا ضروریاتِ دین میں سے ہے جو اس کا انکار کرے وہ کافر ہے کیونکہ اس کا انکار کرنا سرے سے نبوت کا انکار کرنا ہے (خالص الاعتقاد مصنف امام احمد رضا خان محقق بریلوی)

اور قرآن پاک میں ایک وہ آیتِ کریمہ ہے جس میں علمِ عطائی کا ذکر ہے یعنی اللہ تبارک و تعالی جسے چاہتا ہے اسے غیب کا علم عطا فرماتا ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے ‌: “عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ (26)اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ”
ترجمہ : غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے ( کنزالایمان)
ایک اور آیتِ کریمہ ہے : “مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ”
ترجمہ : اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے۔
ان آیاتِ مقدسہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالی اپنے پسندیدہ رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے اسے علمِ غیب عطا فرماتا ہے۔
ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا : “وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ” ترجمہ: اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ اس آیت کریمہ سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے علمِ غیب کا ثبوت صاف صاف نظر اتا ہے۔

لیکن وہ کم عقل یہ نہ سمجھ سکے کہ جہاں غیر اللہ کے لیے اثبات ہے وہاں علمِ عطائی مراد ہے اور جہاں غیر اللہ سے نفی کی گئی ہے وہاں علمِ ذاتی مراد ہے لیکن اہل سنت و جماعت کے مفسرین کرام نورِ ایمان کی روشنی میں قرآن مجید کی آیات کے صرف ظاہری معانی ہی پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ آیت کا مفہوم ، مقصد ، مراد ، مطلب ، شانِ نزول وغیرہ کو ملحوظ رکھ کر قرآن مجید کی صحیح تفہیم و افہام کی صلاحیت رکھتے تھے ۔
لہذا آیاتِ کریمہ کی صحیح تفہیم یہ ہو گی کہ ۔۔۔۔۔
١ ۔ آیت میں اللہ تبارک و تعالی کے سوا کسی دوسرے کے لیے علمِ غیب کا جو انکار کیا گیا ہے اس سے مراد علمِ غیب ذاتی ہے۔
٢ . آیت میں اللہ کے پسندیدہ رسولوں کے لیے علمِ غیب کا جو اقرار فرمایا گیا ہے اس سے مراد علمِ غیب عطائی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو جو علمِ غیب ہے وہ علمِ ذاتی نہیں بلکہ عطائی ہے اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے عطا کیا گیا ہے اور جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس جو علم ہے وہ علمِ ذاتی ہے تو یہ کفر ہے۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو جو علم عطا فرمایا اس علم سے مراد علمِ عطائی ہے۔

✍️از قلم____محمد شہنواز رضا نوازیؔ
نمبر : 9297865406
متعلم: جامعۃ الرضا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Scan this QR code to read online:

QR Code