صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
فقہ حنفی کی جامعیت
فقہ، اصول فقہ

فقہ حنفی کی جامعیت

✍️ Mufti Noor Nawaz Nashid Markazi

فقہ حنفی کی جامعیت
فقہ اسلامی قانون کے اس مجموعہ کا نام ہے جو ہدایت الٰہی کی روشنی میں حالات اور تقاضوں کا لحاظ کرکے مرتب و مدون کیا گیا ہو جیسا کہ فقہ کی کتابوں میں درج ہے الفقه مجموعة الاحكام المشروعة في الاسلام یعنی شرعی قوانین کے مجموعہ کا نام فقہ ہے۔
فقہ مسلم معاشرے کی حیات مستعار کا جزو لاینفک ہے فقہ اسلامی اک ایسا علمی ڈھانچہ ہے۔ جس کو قرآن، سنت، اجماع اور قیاس کے خمیر سے بنایا اور سنوارا گیا ہے جو کہ ہر موڑ پر نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کرتا ہے کیوں کہ انسان جس طرح عبادات میں اسلام کا پابند ہے اسی طرح اخلاقیات، معاملات، معاشیات اور سیاسیات میں بھی لحظہ لحظہ قدم بقدم اسلام کا پابند ہے اور فقہ ہی معالم حلال و حرام ہے جس کو جان کر حلال کام کا بجالانا اور حرام چیز کے ارتکاب سے بچا جاتا ہے اور یہی اک مسلم اور مسلم معاشرے کا بنیادی مقصد ہے اور ہر دور میں اس کی ضرورت متحقق و مسلم رہی ہے جب اس کی حاجت عھد رسالت مأب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں ہوئی تو لوگوں نے براہ راست آقائے نعمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اپنی حاجت برآری کی یونہی قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے صحابہ کرام سے اپنی دینی تشنگی کو بجھاتے ہوۓ نظر آۓ لیکن جب اسلام کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا اور لوگوں کے درمیان اختلاف ہونے لگے نۓ نۓ فتنے ابھر نے لگے تب کئ ائمۂ کرام نے اس کام کو اپنے ذمۂ کرم پر لیا اور لوگوں کو قرآن و حدیث اور اقوال صحابہ کرام کے مطابق وضع کۓ ہوے قواعد و ضوابط کی رو سے احکام اسلام سے روشناس کرتے رہے لیکن ان تمام میں سے صرف چار مذاہب پر ائمۂ امت کا اجماع قائم ہوا یعنی امام اعظم امام مالک اور امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم لیکن ان چاروں میں سے جو مقبولیت خاص و عام اور شہرت دوام و استقرار مذہب حنفی کے دامن کرم میں آئی ایسی شہرت و مقبولیت کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔

فقہ حنفی کا تعارف

فقہ اسلامی کی تاریخ میں چار عظیم مذاھب میں سے جو مقام و مرتبہ
شہرت و مقبولیت و اشاعت فقہ حنفی کو حاصل ہے وہ محتاج تعارف نہیں اس عظیم مذہب کی بنیاد سراج الامۃ کاشف الغمۃ نے اپنے دور کے چالیس عالی مرتبت بلند فکر حساس و فعال علماۓ ذوی الاحترام جو کہ اپنے اپنے فن میں گوہر نایاب کی حیثیت رکھتے تھے ایسی عظیم شخصیات کے ساتھ ملکر مذہب حنفی کی بنیاد رکھی اور قرآن و سنت و اجماع کے مطابق قواعد و ضوابط معرض وجود میں لائے اور ایسے ایسے عقد لاینحل مسائل کا حل فرمایا جسے دیکھ کر زمانہ حیران و ششدر رہ گیا اور اصحاب مذہب حنفیہ کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے ائمہ بھی اس عظیم مذہب کی فوقیت و جامعیت کے معترف ہوگۓ جیسا کہ بانی فقہ حنفی سراج الامۃ کاشف الغمۃ کی وسعت فکر و فوقیت علم کا اعتراف کرتے ہوے امام شافعی فرماتے ہیں ۔ الناس فى الفقه عيال على ابى حنيفة اور عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں انه مخ العلم أي انه يصل دائماالى الباب الخالص من العلم في غير انحرافـ ـ مقدمه ردالمحتار ـ اور امام اوزاعی تحریر فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ مشکل سے مشکل مسائل کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے تبییض الصحیفہ صفحہ ۳۴ میں ابوحنیفہ کے علم کی کثرت اور عقل کی وسعت پر رشک کرتا ہوں الخیرات الحسان [صفحہ ۱۰۸]
فقہ حنفی کی جامعیت سے مراد یہ ہے کہ زندگی کے تمام گوشوں عبادات سے لیکر معاملات تک اور عائلی مسائل سے لیکر سیاسی مسائل تک کا حل جس طرح مبرہن و مدلل انداز میں فقہ حنفی میں ہے اس جیسے پیچیدہ مسائل کا حل دوسرے مذہب میں مثل عنقاء ہے فقہ حنفی کی جامعیت کی بنیاد صرف مسائل کی زیادت و کثرت پر ہی نہیں بلکہ سب سے جداگانہ طرزِ استدلال علم کی گہرائی فکر کی وسعت و فقہی بصیرت پر رکھی گئ ہے اور امام اعظم کے بعد آپ کے تلامذہ نے مذہب حنفی کی باگ ڈور سنبھالی اور انہوں نے آپ کے قرآن و سنت و اجماع کے مطابق وضع کۓ ہوے اصول و ضوابط کی پیروی کرتے ہوے ہر طرح کے مشکل سے مشکل مسائل کا حل فرما کر مذہب حنفی کو وسعت عطاء کی جس کے نتیجے میں دو تہائی مسلم آبادی اس مذہب کے پیرو ہوے اور اکثر ممالک میں خلافت عباسیہ سے لیکر مغلیہ سلطنت تک سرکاری مذہب اور عدالتی و ریاستی قانون کے طور پر جاری و ساری کیا گیا اور آج بھی مسلم معاشرہ اکثریت کے ساتھ اسی مذہب کے دامن کرم سے منسلک ہیں اور انشاءاللہ تا قیام قیامت رہیں گے۔

طرز استدلال و طریق استنباط

فقہ حنفی کی فوقیت و جامعیت کی وجوہات میں سے ایک نمایاں وجہ طریق استدلال و طرز استنباط ہے ان کا طریق استنباط اور طرز استدلال یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے پیش آمدہ مسائل کا حل قرآن مجید و برہان رشید سے تلاش کرتے اور قرآن پاک میں نہ ملنے پر وہ احادیث پاک کی طرف رجوع کرتے اور مسائل کو حدیث پاک سے مدلل و مبرہن و مفصل انداز میں بیان کرتے اور احادیث وآثار میں نہ ملنے کی صورت میں اقوال صحابہ سے اپنا فرمان عالیشان جاری فرماتے جیسا کہ ردالمحتار کے مقدمہ میں امام اعظم سے ایک روایت مذکور و مسطور ہے کہ امام اعظم فرماتے ہیں آخذ بكتاب الله فان لم أجد فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم فان لم أجد فى كتاب الله تعالى ولا سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذت بقول اصحابه آخذ من شئت منهم و ادع من شئت منهم ولا اخرج عن قولهم الى قول غيرهم فاما إذا أنتهى الأمر الى ابراهيم ـ اى النخعي ـ و الشعبي و ابن سيرين والحسن و العطاء و سعيد بن المسيب قوم اجتهدوا فاجتهد كما اجتهدوا
تو سراج الامۃ کاشف الغمۃ کی اس فرمان عالیشان سے پتہ چلا کہ آپ پہلے کتاب اللہ سے استدلال و استنباط کا کام لیتے پھر سنت رسول سے اور ان دونوں میں نہ پائے جانے کی صورت میں اقوال صحابہ کرام سے مزین کر کے اپنے موقف کو ثابت کرتے یہ نہج تھا ایسے مسائل کے اجتہاد و استنباط کا جو کہ منصوص ہو اور رہے ایس مسائل جو کہ منصوص نہیں ہے تو اس سلسلے میں امام اعظم کے منہج استدلال کے تعلق سے مناقب میں امام مکی نے اپنے زمانے کے ایک مستند ذات کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم کا کلام مضبوط و مستحکم دلائل سے ہوتے اور آپ کمزور دلائل سے کتراتے اور لوگوں کے معاملات پر گہری نظر ڈالتے اور لوگوں کو اسی چیز کا حکم دیتے جو اس کے لۓ بہتر و مناسب ہوتا اور معاملات کو قیاس سے حل کرتے اگر قیاس بھی مناسب نہیں ہوتا تو استحسان سے ثابت کرتے ۔حنفیوں کا یہ طرز استدلال و طریق استنباط بالمقابل دیگر مذاہب کے کئ گنا اعلی و ارفع و ارجح ہے

قرآن مجید سے مطابقت

مذہب حنفی کی جامعیت و فوقیت کی اہم خصوصیات میں سے ایک یہ ہے قرآن حکیم کے موافق احکام کے استخراج و استنباط کرنے میں ان کے دلائل دیگر مذاہب کے مقابل زیادہ وسعت و جامعیت کے حامل ہیں
مثال کے طور پر قرأت خلف الامام اختلافی مسئلہ ہے امام اعظم کا مذہب یہ ہے کہ مقتدیوں پر قرأت واجب نہیں چاہے نماز سری ہو یا جہری اور امام شافعی کے نذدیک تمام نمازوں میں قرأت واجب ہے اور ان کا مستدل یہ حدیث پاک جو کہ عبادہ بن ثابت سے مروی ہے لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب اس حدیث پاک میں نفی کو نفی جواز پر محمول کرتے ہیں اسی لۓ وہ کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے بھی سورۂ فاتحہ کا پڑھنا جواز صلاۃ کے لۓ واجب ہے
اور حنفیوں کا مستدل یہ آیت پاک ہے إذا قري القرآن فاستمعوا له وانصتوا لعلكم ترحمون سورۂ اعراف اس آیت کریمہ سے واضح ہوتاہے کہ قرأت خلف الامام چاہے سری نماز میں ہو یا جہری نماز دونوں صورتوں میں منع ہے اور آیت کی تأئید میں کثیر احادیث پاک شاہد ہیں جیساکہ ابن ماجہ کی روایت ہے عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من كان له امام فان قراءة الإمام قراءة له
اور دوسری حدیث پاک میں ہے جو کہ ابن عباس سے مروی ہے عن الني صلى الله عليه وسلم قال يكفيك قراءة الإمام خافت أو جهر اور امام شافعی کا مستدل خود متعارض ہے کیوں کہ اس میں نفی سے نفی کمال اور نفی جواز دونوں کا احتمال ہے اور جس میں دو چیزوں کا احتمال ہو اسے دلیل کے طور پر پیش نہیں کر سکتے اگر ہم نفی والی حدیث کو مستدل مان بھی لیں تب بھی اس صورت میں نفی کو نفی کمال کی طرف پھیرنا زیادہ صحیح ہے اس کی کئ ساری مثالیں احادیث پاک میں موجود ہیں جیساکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً روایت ہے لا صلاۃ بحضرۃ الطعام اس میں نفی کمال کی ہے نہ کہ جواز کی [ملخص من تقریرات الالمعی فی کشف مافی جامع الترمذی]
اگر دوسرے کی طرف پھیرا جاۓ تو اس میں دونوں کی نفی ہو جائے گی کیوں کہ جس میں نفی جواز ہو اس میں نفی کمال بدرجہا اولی پایا جاۓگا اور اس صورت میں زیادہ اختلاف ہو گا۔اور یہ نفی کمال اس صورت میں ہے جبکہ مصلی منفرد ہو لیکن اگر خلف الامام ہو تو نفی کمال بھی نہیں بلکہ مقتدی کے لۓ ضروری ہے کہ وہ غور سنے اور خاموش رہے

مثال ثانی

والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء سورۂ بقرہ

ترجمہ۔ مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھے ۔اس آیت میں موجود لفظ قروء جمع ہے اور دو معنوں کے درمیان مشترک ہے یعنی حیض اور طلاق ۔ امام اعظم کے نزدیک قروء سے مراد حیض ہے اور امام شافعی کے نزدیک طھر ہے اور طھر کے مراد لینے سے آیت کریمہ کے موجب پر عمل نہیں ہو پارہا ہے کیوں کہ آیت میں موجود لفظ ثلاثۃ عدد معین خاص ہے جو کہ تین کے عدد کو بتانے کے لۓ وضع کیا گیا ہے اور خاص کا حکم یہ ہے کہ اس کے کل افراد پر عمل کرنا واجب ہے نہ ہی نقصان کے ساتھ اور نہ ہی زیادتی کے ساتھ ۔اس حکم پر اسی وقت عمل کرنا پایا جاۓگا جبکہ اس سے مراد حیض لیا جاۓ اور یہی حنفیوں کا مذہب ہے لیکن یہیں اگر طھر مراد لیا جاۓ جو کہ امام شافعی کا موقف ہے تو وہ طھر جس میں طلاق کا وقوع ہوا ہے اس کو عدت میں شامل کیا جائے گا یا نہیں ۔اگر کیا جائے تو دو طھر اور تیسرے کا بعض ہوگا اور اگر شمار نہ کیا جاۓ تو تین طھر اور بعض ہوگا جبکہ دونوں صورتوں میں خاص کے موجب پر عمل نہیں ہو پا رہا ہے تو اس موقف کے اعتبار سے مسئلہ متفرع ہوگا کہ جب مطلقہ عورت تیسرے طھر میں سے بعض کا شمار کر لے تو اس کا دوسرے شوہر سے نکاح کر نا جائز ہوگا جبکہ یہ اجماع کے خلاف ہے ۔۔[ملخص من التوضیح فی حل غوامض التنقیح]
ان دونو مثالوں سے واضح ہو گیا کہ امام اعظم کا قرآن پاک کے موافق استدلال بالمقابل دیگر مذاہب کے زیادہ اوفق و ارجح ہے

مذہب حنفی کا استدلال صحیح احادیث سے

مذہب حنفی کی بنیاد ہی صحیح احادیث پر ہی رکھی گئ ہے جیساکہ امام اعظم کا ارشاد ہے إذا صح الحديث فهو مذهبي يعنى جو صحیح حدیث ہو وہی میرا مذہب ہے ۔تبییض الصحیفہ
اور غسان کہتے ہیں کہ میں نے اسرائیل سے کہتے ہوے سنا ۔كان نعم الرجل النعمان ما كان احفظه لكل حديث فيه فقه واشد فحصه عنه فاكرمه الخلفاءوالامراء و الوزراء یعنی نعمان بن ثابت اچھے آدمی ہیں احادیث فقہ کے کیسے زبردست حافظ ہیں اور ان احادیث کی بہترین جانچ اور چھان بین کرنے والا آپ سے زیادہ کوئی نہیں ہے جن میں مسائل فقہیہ ہیں اسی وجہ خلفا امیروں وزیروں نے ان کی تعظیم کی جیساکہ مسئلہ رفع یدین سے ظاہر و باہر ہے کہ اس مسئلہ میں نفی رفع یدین اور اثبات رفع یدین دونوں طرح کی حدیثیں پائی جاتی ہیں لیکن احناف نے جس پہلو کو اختیار کیا ہے وہ زیادہ راجح ہے ان احادیث کے روایوں کے فقیہ ہونے اور ان احادیث کااختلاف و اضطراب سے خالی و عاری ہونے اور قرآن کی آیت قوموا لله قانتين سے زیادہ موافق ہونےکے اعتبار سے اور جو حضرات کہتے ہیں کہ احناف نص کے مقابلے میں قیاس کو ترجیح دیتے ہیں یہ بے بنیاد اور کھلا افتراءہے جیساکہ حضرت ابو جعفر اپنی سند متصل کے ساتھ امام اعظم سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے تھے ۔بخدا اس نے مجھ پر افترا کیا جو کہتا ہے کہ میں قیاس کو نص پر مقدم کرتا ہوں ۔جہان امام اعظم صفحہ ۴۴۳ ۔بھول کر کھانے پینے کے مسئلہ میں احناف کا موقف خود اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ کیوں کہ قیاس تو یہی چاہتا ہے کہ روزہ ٹوٹ جائے گا نماز میں عمدا و سہوا کلام کرنے پر نماز کے باطل ہونے پر قیاس کرتے ہوئے جیساکہ امام مالک کا مذہب ہے لیکن احناف نے اس مسئلہ میں نص صریح عن ابى هريرة عن الني صلى الله عليه وسلم قال ـ اذا نسي فأكل أو شرب فليتم صومه فانما اطعمه الله و سقاه ـ صحيح بخارى
یہاں پر استحسانا اس حدیث پر عمل کرتے ہوے قیاس کے مقابل حدیث کو ترجیح دیۓ ہیں

آسانی اور سہولت

مذہب حنفی کے قواعد و ضوابط يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر کے مصداق سہولت و آسانی پر مبنی ہے الاشباہ والنظائر میں ہے ۔ وسع أبو حنيفة فى العبادات كلها فلم يقل ان مس المرأة و الذكر ناقض ولم يشترط النية في الطهارة ولاالدلك ووسع في المياه ففوضه الى رأى المبتلى به ولم يشترط مقارنة النية للتكبير و لم يعين من القرآن شيئا حتى الفاتحة عملا بقوله تعالى ـ فاقرءوا ما تيسر من القرآن صفحه ٢٣٢

شورائی مذہب

اس مذہب کی اہم خصوصیات میں سے مجلسِ شوریٰ سے مسائل کا استنباط و استخراج ہے جو کہ قرآن پاک کی آیت ـ وامرهم شورٰىبينهم و مما رزقنٰهم ينفقون ۔کے عین مصداق ہے امام اعظم نے قرآن حدیث اقوال صحابہ و تابعین کی پیروی کرتے ہوۓ مسائل کا استنباط و استخراج اور قرآن و حدیث و اجماع کے مطابق قواعد وضوابط وضع کرنے میں مجلس شوریٰ کا انتخاب کیا کیونکہ اجتماعی طور پر مسائل کو حل کرنے میں خطا و لغزش کا امکان بہت کم ہوتاہے گویا فقہ حنفی کو یہ اعزاز و افتخار حاصل ہے کہ انفرادی نہیں بلکہ شورائی فقہ ہے جبکہ دیگر ائمۂ کرام کے فقہ ان کے انفرادی اجتہاد کا نتیجہ ہے ۔انہیں اسباب و علل کی وجہ سے عالم اسلام میں مذہب حنفی کو وہ مقبولیت و شہرت حاصل ہوئی جس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں لائی جا سکتی

اختتام

الغرض فقہ اسلامی کی اس طویل تاریخ کے اندر فقہ حنفی میں جو عظیم الشان خدمت، بے مثال أصول و ضوابط پیچیدہ اور لاینحل مسائل کے استنباط و استخراج اور قرآن و سنت اجماع کے موافق استدلال کا منہج پایا جاتا ہے اس جامعیت و فوقیت و برتری کے ساتھ کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتا ہے ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
امام اعظم اور انکے تلامذہ کے مقرر کۓ ہوۓ اصول و ضوابط نہ صرف قرآن و سنت و روایت کے آئنہ دار ہیں بلکہ فطرت عقل سلیم و درایت کے بھی مطابق و موافق ہے یہی وجہ ہے کہ قرون اولیٰ سے لیکر آج تک دو تہائی سے زیادہ مسلمانوں نے اپنے انفرادی و اجتماعی فیصلے کا محور بھی اسی مذہب کو بنایا اور اس مذہب کو قانون ریاست و عدالت کے طور پر بھی منتخب کیا گیا ۔
اور فقہ حنفی کی خصوصیات یعنی قرآن کے عین موافق اور سنت رسول پر اعتماد اور صحابہ و تابعین سے گہرا ربط و ضبط قیاس استحسان عرف اور تعامل ناس کے موافق اور ضرورت کے پاۓ جانے پر آسانی اور سہولت کا فراہم کرنا یہی اہم خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے اس عظیم مذہب کو جامعیت و فوقیت حاصل ہے
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Noor Nawaz Nashid Markazi

Student - Takhassus 2nd | Jamiatur Raza
62
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 3
Kalam 0
Mufti Noor Nawaz Nashid Markazi
زمرہ جات

شب برأت

امام محمد بن حسن شیبانی اور فقہ حنفی کی خدمات

فقہ حنفی کی جامعیت - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

فقہ حنفی کی جامعیت

مضمون نگار: Mufti Noor Nawaz Nashid Markazi

فقہ حنفی کی جامعیت

فقہ اسلامی قانون کے اس مجموعہ کا نام ہے جو ہدایت الٰہی کی روشنی میں حالات اور تقاضوں کا لحاظ کرکے مرتب و مدون کیا گیا ہو جیسا کہ فقہ کی کتابوں میں درج ہے الفقه مجموعة الاحكام المشروعة في الاسلام یعنی شرعی قوانین کے مجموعہ کا نام فقہ ہے۔

فقہ مسلم معاشرے کی حیات مستعار کا جزو لاینفک ہے فقہ اسلامی اک ایسا علمی ڈھانچہ ہے۔ جس کو قرآن، سنت، اجماع اور قیاس کے خمیر سے بنایا اور سنوارا گیا ہے جو کہ ہر موڑ پر نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کرتا ہے کیوں کہ انسان جس طرح عبادات میں اسلام کا پابند ہے اسی طرح اخلاقیات، معاملات، معاشیات اور سیاسیات میں بھی لحظہ لحظہ قدم بقدم اسلام کا پابند ہے اور فقہ ہی معالم حلال و حرام ہے جس کو جان کر حلال کام کا بجالانا اور حرام چیز کے ارتکاب سے بچا جاتا ہے اور یہی اک مسلم اور مسلم معاشرے کا بنیادی مقصد ہے اور ہر دور میں اس کی ضرورت متحقق و مسلم رہی ہے جب اس کی حاجت عھد رسالت مأب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں ہوئی تو لوگوں نے براہ راست آقائے نعمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اپنی حاجت برآری کی یونہی قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے صحابہ کرام سے اپنی دینی تشنگی کو بجھاتے ہوۓ نظر آۓ لیکن جب اسلام کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا اور لوگوں کے درمیان اختلاف ہونے لگے نۓ نۓ فتنے ابھر نے لگے تب کئ ائمۂ کرام نے اس کام کو اپنے ذمۂ کرم پر لیا اور لوگوں کو قرآن و حدیث اور اقوال صحابہ کرام کے مطابق وضع کۓ ہوے قواعد و ضوابط کی رو سے احکام اسلام سے روشناس کرتے رہے لیکن ان تمام میں سے صرف چار مذاہب پر ائمۂ امت کا اجماع قائم ہوا یعنی امام اعظم امام مالک اور امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم لیکن ان چاروں میں سے جو مقبولیت خاص و عام اور شہرت دوام و استقرار مذہب حنفی کے دامن کرم میں آئی ایسی شہرت و مقبولیت کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔

#فقہ حنفی کا تعارف

فقہ اسلامی کی تاریخ میں چار عظیم مذاھب میں سے جو مقام و مرتبہ
شہرت و مقبولیت و اشاعت فقہ حنفی کو حاصل ہے وہ محتاج تعارف نہیں اس عظیم مذہب کی بنیاد سراج الامۃ کاشف الغمۃ نے اپنے دور کے چالیس عالی مرتبت بلند فکر حساس و فعال علماۓ ذوی الاحترام جو کہ اپنے اپنے فن میں گوہر نایاب کی حیثیت رکھتے تھے ایسی عظیم شخصیات کے ساتھ ملکر مذہب حنفی کی بنیاد رکھی اور قرآن و سنت و اجماع کے مطابق قواعد و ضوابط معرض وجود میں لائے اور ایسے ایسے عقد لاینحل مسائل کا حل فرمایا جسے دیکھ کر زمانہ حیران و ششدر رہ گیا اور اصحاب مذہب حنفیہ کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے ائمہ بھی اس عظیم مذہب کی فوقیت و جامعیت کے معترف ہوگۓ جیسا کہ بانی فقہ حنفی سراج الامۃ کاشف الغمۃ کی وسعت فکر و فوقیت علم کا اعتراف کرتے ہوے امام شافعی فرماتے ہیں ۔ الناس فى الفقه عيال على ابى حنيفة اور عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں” انه مخ العلم أي انه يصل دائماالى الباب الخالص من العلم في غير انحرافـ ـ مقدمه ردالمحتار ـ” اور امام اوزاعی تحریر فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ مشکل سے مشکل مسائل کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے تبییض الصحیفہ صفحہ ۳۴ میں ابوحنیفہ کے علم کی کثرت اور عقل کی وسعت پر رشک کرتا ہوں الخیرات الحسان [صفحہ ۱۰۸]

فقہ حنفی کی جامعیت سے مراد یہ ہے کہ زندگی کے تمام گوشوں عبادات سے لیکر معاملات تک اور عائلی مسائل سے لیکر سیاسی مسائل تک کا حل جس طرح مبرہن و مدلل انداز میں فقہ حنفی میں ہے اس جیسے پیچیدہ مسائل کا حل دوسرے مذہب میں مثل عنقاء ہے فقہ حنفی کی جامعیت کی بنیاد صرف مسائل کی زیادت و کثرت پر ہی نہیں بلکہ سب سے جداگانہ طرزِ استدلال علم کی گہرائی فکر کی وسعت و فقہی بصیرت پر رکھی گئ ہے اور امام اعظم کے بعد آپ کے تلامذہ نے مذہب حنفی کی باگ ڈور سنبھالی اور انہوں نے آپ کے قرآن و سنت و اجماع کے مطابق وضع کۓ ہوے اصول و ضوابط کی پیروی کرتے ہوے ہر طرح کے مشکل سے مشکل مسائل کا حل فرما کر مذہب حنفی کو وسعت عطاء کی جس کے نتیجے میں دو تہائی مسلم آبادی اس مذہب کے پیرو ہوے اور اکثر ممالک میں خلافت عباسیہ سے لیکر مغلیہ سلطنت تک سرکاری مذہب اور عدالتی و ریاستی قانون کے طور پر جاری و ساری کیا گیا اور آج بھی مسلم معاشرہ اکثریت کے ساتھ اسی مذہب کے دامن کرم سے منسلک ہیں اور انشاءاللہ تا قیام قیامت رہیں گے۔

#طرز استدلال و طریق استنباط

فقہ حنفی کی فوقیت و جامعیت کی وجوہات میں سے ایک نمایاں وجہ طریق استدلال و طرز استنباط ہے ان کا طریق استنباط اور طرز استدلال یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے پیش آمدہ مسائل کا حل قرآن مجید و برہان رشید سے تلاش کرتے اور قرآن پاک میں نہ ملنے پر وہ احادیث پاک کی طرف رجوع کرتے اور مسائل کو حدیث پاک سے مدلل و مبرہن و مفصل انداز میں بیان کرتے اور احادیث وآثار میں نہ ملنے کی صورت میں اقوال صحابہ سے اپنا فرمان عالیشان جاری فرماتے جیسا کہ ردالمحتار کے مقدمہ میں امام اعظم سے ایک روایت مذکور و مسطور ہے کہ امام اعظم فرماتے ہیں “آخذ بكتاب الله فان لم أجد فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم فان لم أجد فى كتاب الله تعالى ولا سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذت بقول اصحابه آخذ من شئت منهم و ادع من شئت منهم ولا اخرج عن قولهم الى قول غيرهم فاما إذا أنتهى الأمر الى ابراهيم ـ اى النخعي ـ و الشعبي و ابن سيرين والحسن و العطاء و سعيد بن المسيب قوم اجتهدوا فاجتهد كما اجتهدوا ”

تو سراج الامۃ کاشف الغمۃ کی اس فرمان عالیشان سے پتہ چلا کہ آپ پہلے کتاب اللہ سے استدلال و استنباط کا کام لیتے پھر سنت رسول سے اور ان دونوں میں نہ پائے جانے کی صورت میں اقوال صحابہ کرام سے مزین کر کے اپنے موقف کو ثابت کرتے یہ نہج تھا ایسے مسائل کے اجتہاد و استنباط کا جو کہ منصوص ہو اور رہے ایس مسائل جو کہ منصوص نہیں ہے تو اس سلسلے میں امام اعظم کے منہج استدلال کے تعلق سے مناقب میں امام مکی نے اپنے زمانے کے ایک مستند ذات کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم کا کلام مضبوط و مستحکم دلائل سے ہوتے اور آپ کمزور دلائل سے کتراتے اور لوگوں کے معاملات پر گہری نظر ڈالتے اور لوگوں کو اسی چیز کا حکم دیتے جو اس کے لۓ بہتر و مناسب ہوتا اور معاملات کو قیاس سے حل کرتے اگر قیاس بھی مناسب نہیں ہوتا تو استحسان سے ثابت کرتے ۔حنفیوں کا یہ طرز استدلال و طریق استنباط بالمقابل دیگر مذاہب کے کئ گنا اعلی و ارفع و ارجح ہے

#قرآن مجید سے مطابقت

مذہب حنفی کی جامعیت و فوقیت کی اہم خصوصیات میں سے ایک یہ ہے قرآن حکیم کے موافق احکام کے استخراج و استنباط کرنے میں ان کے دلائل دیگر مذاہب کے مقابل زیادہ وسعت و جامعیت کے حامل ہیں

مثال کے طور پر قرأت خلف الامام اختلافی مسئلہ ہے امام اعظم کا مذہب یہ ہے کہ مقتدیوں پر قرأت واجب نہیں چاہے نماز سری ہو یا جہری اور امام شافعی کے نذدیک تمام نمازوں میں قرأت واجب ہے اور ان کا مستدل یہ حدیث پاک جو کہ عبادہ بن ثابت سے مروی ہے” لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب ” اس حدیث پاک میں نفی کو نفی جواز پر محمول کرتے ہیں اسی لۓ وہ کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے بھی سورۂ فاتحہ کا پڑھنا جواز صلاۃ کے لۓ واجب ہے
اور حنفیوں کا مستدل یہ آیت پاک ہے إذا قري القرآن فاستمعوا له وانصتوا لعلكم ترحمون سورۂ اعراف اس آیت کریمہ سے واضح ہوتاہے کہ قرأت خلف الامام چاہے سری نماز میں ہو یا جہری نماز دونوں صورتوں میں منع ہے اور آیت کی تأئید میں کثیر احادیث پاک شاہد ہیں جیساکہ ابن ماجہ کی روایت ہے” عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من كان له امام فان قراءة الإمام قراءة له ”

اور دوسری حدیث پاک میں ہے جو کہ ابن عباس سے مروی ہے “عن الني صلى الله عليه وسلم قال يكفيك قراءة الإمام خافت أو جهر “اور امام شافعی کا مستدل خود متعارض ہے کیوں کہ اس میں نفی سے نفی کمال اور نفی جواز دونوں کا احتمال ہے اور جس میں دو چیزوں کا احتمال ہو اسے دلیل کے طور پر پیش نہیں کر سکتے اگر ہم نفی والی حدیث کو مستدل مان بھی لیں تب بھی اس صورت میں نفی کو نفی کمال کی طرف پھیرنا زیادہ صحیح ہے اس کی کئ ساری مثالیں احادیث پاک میں موجود ہیں جیساکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً روایت ہے لا صلاۃ بحضرۃ الطعام اس میں نفی کمال کی ہے نہ کہ جواز کی [ملخص من تقریرات الالمعی فی کشف مافی جامع الترمذی]

اگر دوسرے کی طرف پھیرا جاۓ تو اس میں دونوں کی نفی ہو جائے گی کیوں کہ جس میں نفی جواز ہو اس میں نفی کمال بدرجہا اولی پایا جاۓگا اور اس صورت میں زیادہ اختلاف ہو گا۔اور یہ نفی کمال اس صورت میں ہے جبکہ مصلی منفرد ہو لیکن اگر خلف الامام ہو تو نفی کمال بھی نہیں بلکہ مقتدی کے لۓ ضروری ہے کہ وہ غور سنے اور خاموش رہے

#مثال ثانی

#والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء سورۂ بقرہ

ترجمہ۔ مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھے ۔اس آیت میں موجود لفظ قروء جمع ہے اور دو معنوں کے درمیان مشترک ہے یعنی حیض اور طلاق ۔ امام اعظم کے نزدیک قروء سے مراد حیض ہے اور امام شافعی کے نزدیک طھر ہے اور طھر کے مراد لینے سے آیت کریمہ کے موجب پر عمل نہیں ہو پارہا ہے کیوں کہ آیت میں موجود لفظ ثلاثۃ عدد معین خاص ہے جو کہ تین کے عدد کو بتانے کے لۓ وضع کیا گیا ہے اور خاص کا حکم یہ ہے کہ اس کے کل افراد پر عمل کرنا واجب ہے نہ ہی نقصان کے ساتھ اور نہ ہی زیادتی کے ساتھ ۔اس حکم پر اسی وقت عمل کرنا پایا جاۓگا جبکہ اس سے مراد حیض لیا جاۓ اور یہی حنفیوں کا مذہب ہے لیکن یہیں اگر طھر مراد لیا جاۓ جو کہ امام شافعی کا موقف ہے تو وہ طھر جس میں طلاق کا وقوع ہوا ہے اس کو عدت میں شامل کیا جائے گا یا نہیں ۔اگر کیا جائے تو دو طھر اور تیسرے کا بعض ہوگا اور اگر شمار نہ کیا جاۓ تو تین طھر اور بعض ہوگا جبکہ دونوں صورتوں میں خاص کے موجب پر عمل نہیں ہو پا رہا ہے تو اس موقف کے اعتبار سے مسئلہ متفرع ہوگا کہ جب مطلقہ عورت تیسرے طھر میں سے بعض کا شمار کر لے تو اس کا دوسرے شوہر سے نکاح کر نا جائز ہوگا جبکہ یہ اجماع کے خلاف ہے ۔۔”[ملخص من التوضیح فی حل غوامض التنقیح]”

ان دونو مثالوں سے واضح ہو گیا کہ امام اعظم کا قرآن پاک کے موافق استدلال بالمقابل دیگر مذاہب کے زیادہ اوفق و ارجح ہے

#مذہب حنفی کا استدلال صحیح احادیث سے

مذہب حنفی کی بنیاد ہی صحیح احادیث پر ہی رکھی گئ ہے جیساکہ امام اعظم کا ارشاد ہے” إذا صح الحديث فهو مذهبي” يعنى جو صحیح حدیث ہو وہی میرا مذہب ہے ۔”تبییض الصحیفہ ”

اور غسان کہتے ہیں کہ میں نے اسرائیل سے کہتے ہوے سنا ۔”كان نعم الرجل النعمان ما كان احفظه لكل حديث فيه فقه واشد فحصه عنه فاكرمه الخلفاءوالامراء و الوزراء” یعنی نعمان بن ثابت اچھے آدمی ہیں احادیث فقہ کے کیسے زبردست حافظ ہیں اور ان احادیث کی بہترین جانچ اور چھان بین کرنے والا آپ سے زیادہ کوئی نہیں ہے جن میں مسائل فقہیہ ہیں اسی وجہ خلفا امیروں وزیروں نے ان کی تعظیم کی جیساکہ مسئلہ رفع یدین سے ظاہر و باہر ہے کہ اس مسئلہ میں نفی رفع یدین اور اثبات رفع یدین دونوں طرح کی حدیثیں پائی جاتی ہیں لیکن احناف نے جس پہلو کو اختیار کیا ہے وہ زیادہ راجح ہے ان احادیث کے روایوں کے فقیہ ہونے اور ان احادیث کااختلاف و اضطراب سے خالی و عاری ہونے اور قرآن کی آیت قوموا لله قانتين سے زیادہ موافق ہونےکے اعتبار سے اور جو حضرات کہتے ہیں کہ احناف نص کے مقابلے میں قیاس کو ترجیح دیتے ہیں یہ بے بنیاد اور کھلا افتراءہے جیساکہ حضرت ابو جعفر اپنی سند متصل کے ساتھ امام اعظم سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے تھے ۔بخدا اس نے مجھ پر افترا کیا جو کہتا ہے کہ میں قیاس کو نص پر مقدم کرتا ہوں ۔جہان امام اعظم صفحہ ۴۴۳ ۔بھول کر کھانے پینے کے مسئلہ میں احناف کا موقف خود اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ کیوں کہ قیاس تو یہی چاہتا ہے کہ روزہ ٹوٹ جائے گا نماز میں عمدا و سہوا کلام کرنے پر نماز کے باطل ہونے پر قیاس کرتے ہوئے جیساکہ امام مالک کا مذہب ہے لیکن احناف نے اس مسئلہ میں نص صریح “عن ابى هريرة عن الني صلى الله عليه وسلم قال ـ اذا نسي فأكل أو شرب فليتم صومه فانما اطعمه الله و سقاه ـ صحيح بخارى ”

یہاں پر استحسانا اس حدیث پر عمل کرتے ہوے قیاس کے مقابل حدیث کو ترجیح دیۓ ہیں

#آسانی اور سہولت

مذہب حنفی کے قواعد و ضوابط” يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر “کے مصداق سہولت و آسانی پر مبنی ہے الاشباہ والنظائر میں ہے ۔ “وسع أبو حنيفة فى العبادات كلها فلم يقل ان مس المرأة و الذكر ناقض ولم يشترط النية في الطهارة ولاالدلك ووسع في المياه ففوضه الى رأى المبتلى به ولم يشترط مقارنة النية للتكبير و لم يعين من القرآن شيئا حتى الفاتحة عملا بقوله تعالى ـ فاقرءوا ما تيسر من القرآن صفحه ٢٣٢”

#شورائی مذہب

اس مذہب کی اہم خصوصیات میں سے مجلسِ شوریٰ سے مسائل کا استنباط و استخراج ہے جو کہ قرآن پاک کی آیت ـ وامرهم شورٰىبينهم و مما رزقنٰهم ينفقون ۔کے عین مصداق ہے امام اعظم نے قرآن حدیث اقوال صحابہ و تابعین کی پیروی کرتے ہوۓ مسائل کا استنباط و استخراج اور قرآن و حدیث و اجماع کے مطابق قواعد وضوابط وضع کرنے میں مجلس شوریٰ کا انتخاب کیا کیونکہ اجتماعی طور پر مسائل کو حل کرنے میں خطا و لغزش کا امکان بہت کم ہوتاہے گویا فقہ حنفی کو یہ اعزاز و افتخار حاصل ہے کہ انفرادی نہیں بلکہ شورائی فقہ ہے جبکہ دیگر ائمۂ کرام کے فقہ ان کے انفرادی اجتہاد کا نتیجہ ہے ۔انہیں اسباب و علل کی وجہ سے عالم اسلام میں مذہب حنفی کو وہ مقبولیت و شہرت حاصل ہوئی جس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں لائی جا سکتی

#اختتام

الغرض فقہ اسلامی کی اس طویل تاریخ کے اندر فقہ حنفی میں جو عظیم الشان خدمت، بے مثال أصول و ضوابط پیچیدہ اور لاینحل مسائل کے استنباط و استخراج اور قرآن و سنت اجماع کے موافق استدلال کا منہج پایا جاتا ہے اس جامعیت و فوقیت و برتری کے ساتھ کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتا ہے ۔

امام اعظم اور انکے تلامذہ کے مقرر کۓ ہوۓ اصول و ضوابط نہ صرف قرآن و سنت و روایت کے آئنہ دار ہیں بلکہ فطرت عقل سلیم و درایت کے بھی مطابق و موافق ہے یہی وجہ ہے کہ قرون اولیٰ سے لیکر آج تک دو تہائی سے زیادہ مسلمانوں نے اپنے انفرادی و اجتماعی فیصلے کا محور بھی اسی مذہب کو بنایا اور اس مذہب کو قانون ریاست و عدالت کے طور پر بھی منتخب کیا گیا ۔

اور فقہ حنفی کی خصوصیات یعنی قرآن کے عین موافق اور سنت رسول پر اعتماد اور صحابہ و تابعین سے گہرا ربط و ضبط قیاس استحسان عرف اور تعامل ناس کے موافق اور ضرورت کے پاۓ جانے پر آسانی اور سہولت کا فراہم کرنا یہی اہم خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے اس عظیم مذہب کو جامعیت و فوقیت حاصل ہے

Scan this QR code to read online:

QR Code