صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
ماہ صفر: حقیقت یا نحوست
احوال قوم وملت

ماہ صفر: حقیقت یا نحوست

✍️ Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

ماہ صفر: حقیقت یا نحوست
زمانۂ جاہلیت کی تاریکیوں سے لے کر آج کے ترقی یافتہ دور تک، انسان کی فطرت میں وہم و گمان کی ایک ایسی کمزور ڈور ہمیشہ سے جڑی رہی ہے جو اسے حقیقت کی مضبوط بنیادوں سے ہٹا کر توہمات کے دھندلکوں میں بھٹکاتی رہی۔ ماہِ صفر کے بارے میں پھیلی ہوئی بے اصل باتیں، خود ساختہ خوف اور نسل در نسل منتقل کیے گئے وہمی تصورات اسی انسانی کمزوری کی زندہ مثال ہیں۔ یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے کہ جب عقل کی روشنی مدھم پڑ جائے اور علم کا چراغ بجھنے لگے تو بے بنیاد دھڑکے اور خود ساختہ نحوستیں انسان پر غالب آ جاتی ہیں، حتیٰ کہ ایک عام سا مہینہ بھی حادثات، آفتوں اور مصیبتوں کا سرچشمہ سمجھ لیا جاتا ہے۔
نحوست کے وہمی تصورات کے شکار لوگ ماہِ صفر کو مصیبتوں اور آفتوں کا مہینہ سمجھتے ہیں، خاص طور پر اس کی ابتدائی تیرہ تاریخیں جنہیں ’’تیرہ تیزی‘‘ کہا جاتا ہے، بہت منحوس تصور کی جاتی ہیں۔ ایسے لوگ یہ گمان رکھتے ہیں کہ صفر کے مہینے میں نیا کاروبار شروع کرنا نقصان دہ ہے، سفر کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ حادثات کا خطرہ ہے، شادیاں یا بچیوں کی رخصتی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ گھر برباد ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ بڑے کاروباری معاملات سے گریز کرتے ہیں، گھر سے باہر آمد و رفت کم کر دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ آفات نازل ہو رہی ہیں، لہٰذا اپنے گھر کے ہر برتن اور سامان کو خوب جھاڑتے ہیں۔۔۔
اسی طرح، اگر کسی کے گھر میں اس ماہ میں کوئی فوت ہو جائے تو اسے منحوس قرار دیتے ہیں، اور اگر اسی گھرانے میں لڑکے یا لڑکی کی شادی طے ہوئی ہو تو اسے منسوخ کر دیتے ہیں۔ تیرہ تیزی کے موقع پر سفید چنے یا اکابلی چنے کی نیاز دینے کا بھی رواج پایا جاتا ہے۔
جہاں تک نیاز دینے کا معاملہ ہے تو فاتحہ پڑھنا مستحب اور باعثِ ثواب ہے، اور ہر ماہ کی کسی بھی تاریخ پر جائز ہے؛ لیکن یہ سمجھنا کہ اگر ’’تیرہ تیزی‘‘ کی فاتحہ نہ پڑھی جائے یا سفید چنے تقسیم نہ کیے جائیں تو گھر کے کمانے والوں کا روزگار متاثر ہوگا بالکل بے بنیاد اور وہم و خرافات پر مبنی خیال ہے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لا عدوى ولا طيرة، ولا هامة ولا صفر چھوت لگنا، بدشگونی لینا، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں۔. (بخاری شریف: کتاب الطب، باب الجذام، حدیث ۵۷۰۷)
محقق علی الاِطلاق حضرت علّامہ مولانا شاہ عبدالحق محدّث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالیٰ عَلَیْہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: عوام اسے (یعنی صفر کے مہینے کو) بلاؤں، حادثوں اور آفتوں کے نازل ہونے کا وَقْت قرار دیتے ہیں، یہ عقیدہ باطِل ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ (اشعۃ اللمعات: جلدسوم صفحہ ٦٦٤)
حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ماہ صفر کو لوگ منحوس جانتے ہیں اس میں شادی بیاہ نہیں کرتے لڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے اور بھی اس قسم کے کام کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں، خصوصاً ماہ صفر کی ابتدائی تیرہ تاریخیں بہت زیادہ نحس مانی جاتی ہیں اور ان کو تیرہ تیزی کہتے ہیں یہ سب جہالت کی باتیں ہیں۔
حدیث میں فرمایاکہ صفر کوئی چیز نہیںیعنی لوگوں کا اسے منحوس سمجھنا غلط ہے۔ اسی طرح ذیقعدہ کے مہینہ کو بھی بہت لوگ برا جانتے ہیں اور اس کو خالی کا مہینہ کہتے ہیں یہ بھی غلط ہے اور ہر ماہ میں ۳، ۱۳، ۲۳، ۸، ۱۸، ۲۸ کو منحوس جانتے ہیں یہ بھی لغوبات ہے ۔(بہار شریعت جلدسوم حصہ١٦ صفحہ ٦٦٢)

صفر کے متعلق زمانہ جاہلیت کا غلط نظریہ:

اہل عرب حرمت کی وجہ سے چار ماہ، رجب المرجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم میں جنگ و جدل اور لوٹ مار سے باز رہتے اور انتظار کرتے کہ یہ پابندیاں ختم ہوں تو وہ نکلیں اور لوٹ مار کریں لہذا صفر شروع ہوتے ہی وہ لوٹ مار، رہزنی اور جنگ و جدل کے ارادے سے جب گھروں سے نکلتے تو ان کے گھر خالی رہ جاتے، اسی وجہ سے کہا جاتا ہے: ”صفر المكان (مکان خالی ہو گیا۔ جب عربوں نے دیکھا کہ اس مہینے میں لوگ قتل ہوتے ہیں اور گھر برباد یا خالی ہو جاتے ہیں تو انہوں نے اس سے یہ شگون لیا کہ یہ مہینہ ہمارے لئے منحوس ہے اور گھروں کی بربادی اور ویرانی کی اصل وجہ پر غور نہیں کیا، نہ اپنے عمل کی خرابی کا احساس کیا اور نہ ہی لڑائی جھگڑے اور جنگ و جدال سے خود کو باز رکھا بلکہ اس مہینے کو ہی منحوس ٹھہر ادیا۔

کسی دن کو منحوس سمجھنا یہود کا طریقہ ہے:

علامہ سید محمد امین بن عمر بن عبد العزیز شامی قدس سرہ لکھتے ہیں: علامہ حامد آفندی علیہ الرحمہ سے سوال کیا گیا: کیا بعض دن منحوس یا مبارک ہوتے ہیں جو سفر اور دیگر کام کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جو شخص یہ سوال کرے کہ کیا بعض دن منحوس ہوتے ہیں اس کے جواب سے اعراض کیا جائے اور اس کے فعل کو جہالت کہا جائے اور اس کی مذمت بیان کی جائے، ایسا سمجھنا یہود کا طریقہ ہے، مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں۔

کونسا وقت کونسادن منحوس ہوتا ہے؟

مشہور مفسر شارح حدیث حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمة الله تعالی علیہ ایک حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اسلام میں کوئی دن یا کوئی ساعت منحوس نہیں ہاں بعض دن بابرکت ہیں۔

تفسیر روح البیان میں ہے:

صفر وغیرہ کسی مہینے یا مخصوص وقت کو منحوس سمجھنا درست نہیں، تمام اوقات اللہ عزوجل کے بنائے ہوئے ہیں اور ان میں انسانوں کے اعمال واقع ہوتے ہیں۔ جس وقت میں بندہ مومن اللہ عزوجل کی اطاعت و بندگی میں مشغول ہو وہ وقت مبارک ہے اور جس وقت میں اللہ کریم کی نافرمانی کرے وہ وقت اس کے لئے منحوس ہے۔ در حقیقت اصل نحوست تو گناہوں میں ہے۔ (ماخوذ: فیضان صفر المظفر، صفحہ٢٩ مطبوعہ دعوت اسلامی)

ماہ صفر کا آخری بدھ منانا:

ماہ صفر کا آخر چہار شنبہ ہندوستان میں بہت منایا جاتا ہے، لوگ اپنے کاروبار بند کردیتے ہیں، سیر و تفریح و شکار کو جاتے ہیں، پوریاں پکتی ہیں اور نہاتے دھوتے خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس روز غسل صحت فرمایا تھا اور بیرون مدینۂ طیبہ سیر کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ یہ سب باتیں بے اصل ہیں، بلکہ ان دنوں میں حضور اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مرض شدت کے ساتھ تھا، وہ باتیں خلاف واقع ہیں۔
اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس روز بلائیں آتی ہیں اور طرح طرح کی باتیں بیان کی جاتی ہیں سب بے ثبوت ہیں، بلکہ حدیث کا یہ ارشاد لاصفر یعنی صفر کوئی چیز نہیں۔ ایسی تمام خرافات کو رد کرتا ہے۔(بہار شریعت جلدسوم حصہ١٦ صفحہ ٦٦٣)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ایسے نظریات سے بچیں، کیونکہ یہ سراسر شریعت کے خلاف ہیں۔ اسلام میں نہ کوئی مہینہ، نہ کوئی دن اور نہ کوئی ساعت نہ کوئی تاریخ منحوس ہے۔ ہر مہینہ، ہر دن اور ہر تاریخ رب تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں، اور اس نے ان میں سے کسی کو منحوس قرار نہیں دیا۔
از قلم:
محمد اشفاق عالم امجدی علیمی (بچباری آبادپور کٹیہـار)
استاذ و مفتی: جامعہ مصباح العلوم کدمتلی پوکھریا (مالدہ بنگال)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
117
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 7
Kalam 0
Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi
زمرہ جات

آرٹیفیشل جیولری اور عموم بلوی: ایک تحقیقی جائزہ (قسط اول)

یوم آزادی اور جماعت اہلسنت کے مجاہدین

ماہ صفر: حقیقت یا نحوست - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

ماہ صفر: حقیقت یا نحوست

مضمون نگار: Md Abul Kalam Azad Markazi

ماہ صفر: حقیقت یا نحوست

زمانۂ جاہلیت کی تاریکیوں سے لے کر آج کے ترقی یافتہ دور تک، انسان کی فطرت میں وہم و گمان کی ایک ایسی کمزور ڈور ہمیشہ سے جڑی رہی ہے جو اسے حقیقت کی مضبوط بنیادوں سے ہٹا کر توہمات کے دھندلکوں میں بھٹکاتی رہی۔ ماہِ صفر کے بارے میں پھیلی ہوئی بے اصل باتیں، خود ساختہ خوف اور نسل در نسل منتقل کیے گئے وہمی تصورات اسی انسانی کمزوری کی زندہ مثال ہیں۔ یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے کہ جب عقل کی روشنی مدھم پڑ جائے اور علم کا چراغ بجھنے لگے تو بے بنیاد دھڑکے اور خود ساختہ نحوستیں انسان پر غالب آ جاتی ہیں، حتیٰ کہ ایک عام سا مہینہ بھی حادثات، آفتوں اور مصیبتوں کا سرچشمہ سمجھ لیا جاتا ہے۔

نحوست کے وہمی تصورات کے شکار لوگ ماہِ صفر کو مصیبتوں اور آفتوں کا مہینہ سمجھتے ہیں، خاص طور پر اس کی ابتدائی تیرہ تاریخیں جنہیں ’’تیرہ تیزی‘‘ کہا جاتا ہے، بہت منحوس تصور کی جاتی ہیں۔ ایسے لوگ یہ گمان رکھتے ہیں کہ صفر کے مہینے میں نیا کاروبار شروع کرنا نقصان دہ ہے، سفر کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ حادثات کا خطرہ ہے، شادیاں یا بچیوں کی رخصتی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ گھر برباد ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ بڑے کاروباری معاملات سے گریز کرتے ہیں، گھر سے باہر آمد و رفت کم کر دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ آفات نازل ہو رہی ہیں، لہٰذا اپنے گھر کے ہر برتن اور سامان کو خوب جھاڑتے ہیں۔۔۔

اسی طرح، اگر کسی کے گھر میں اس ماہ میں کوئی فوت ہو جائے تو اسے منحوس قرار دیتے ہیں، اور اگر اسی گھرانے میں لڑکے یا لڑکی کی شادی طے ہوئی ہو تو اسے منسوخ کر دیتے ہیں۔ تیرہ تیزی کے موقع پر سفید چنے یا اکابلی چنے کی نیاز دینے کا بھی رواج پایا جاتا ہے۔
جہاں تک نیاز دینے کا معاملہ ہے تو فاتحہ پڑھنا مستحب اور باعثِ ثواب ہے، اور ہر ماہ کی کسی بھی تاریخ پر جائز ہے؛ لیکن یہ سمجھنا کہ اگر ’’تیرہ تیزی‘‘ کی فاتحہ نہ پڑھی جائے یا سفید چنے تقسیم نہ کیے جائیں تو گھر کے کمانے والوں کا روزگار متاثر ہوگا بالکل بے بنیاد اور وہم و خرافات پر مبنی خیال ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “لا عدوى ولا طيرة، ولا هامة ولا صفر” چھوت لگنا، بدشگونی لینا، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں۔. (بخاری شریف: کتاب الطب، باب الجذام، حدیث ۵۷۰۷)

محقق علی الاِطلاق حضرت علّامہ مولانا شاہ عبدالحق محدّث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالیٰ عَلَیْہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: *عوام اسے (یعنی صفر کے مہینے کو) بلاؤں، حادثوں اور آفتوں کے نازل ہونے کا وَقْت قرار دیتے ہیں، یہ عقیدہ باطِل ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔* (اشعۃ اللمعات: جلدسوم صفحہ ٦٦٤)

*حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ* ماہ صفر کو لوگ منحوس جانتے ہیں اس میں شادی بیاہ نہیں کرتے لڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے اور بھی اس قسم کے کام کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں، خصوصاً ماہ صفر کی ابتدائی تیرہ تاریخیں بہت زیادہ نحس مانی جاتی ہیں اور ان کو تیرہ تیزی کہتے ہیں یہ سب جہالت کی باتیں ہیں۔

حدیث میں فرمایاکہ *صفر کوئی چیز نہیں*یعنی لوگوں کا اسے منحوس سمجھنا غلط ہے۔ اسی طرح ذیقعدہ کے مہینہ کو بھی بہت لوگ برا جانتے ہیں اور اس کو خالی کا مہینہ کہتے ہیں یہ بھی غلط ہے اور ہر ماہ میں ۳، ۱۳، ۲۳، ۸، ۱۸، ۲۸ کو منحوس جانتے ہیں یہ بھی لغوبات ہے ۔(بہار شریعت جلدسوم حصہ١٦ صفحہ ٦٦٢)

#صفر کے متعلق زمانہ جاہلیت کا غلط نظریہ:

اہل عرب حرمت کی وجہ سے چار ماہ، رجب المرجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم میں جنگ و جدل اور لوٹ مار سے باز رہتے اور انتظار کرتے کہ یہ پابندیاں ختم ہوں تو وہ نکلیں اور لوٹ مار کریں لہذا صفر شروع ہوتے ہی وہ لوٹ مار، رہزنی اور جنگ و جدل کے ارادے سے جب گھروں سے نکلتے تو ان کے گھر خالی رہ جاتے، اسی وجہ سے کہا جاتا ہے: ”صفر المكان (مکان خالی ہو گیا۔ جب عربوں نے دیکھا کہ اس مہینے میں لوگ قتل ہوتے ہیں اور گھر برباد یا خالی ہو جاتے ہیں تو انہوں نے اس سے یہ شگون لیا کہ یہ مہینہ ہمارے لئے منحوس ہے اور گھروں کی بربادی اور ویرانی کی اصل وجہ پر غور نہیں کیا، نہ اپنے عمل کی خرابی کا احساس کیا اور نہ ہی لڑائی جھگڑے اور جنگ و جدال سے خود کو باز رکھا بلکہ اس مہینے کو ہی منحوس ٹھہر ادیا۔

#کسی دن کو منحوس سمجھنا یہود کا طریقہ ہے:

علامہ سید محمد امین بن عمر بن عبد العزیز شامی قدس سرہ لکھتے ہیں: علامہ حامد آفندی علیہ الرحمہ سے سوال کیا گیا: کیا بعض دن منحوس یا مبارک ہوتے ہیں جو سفر اور دیگر کام کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جو شخص یہ سوال کرے کہ کیا بعض دن منحوس ہوتے ہیں اس کے جواب سے اعراض کیا جائے اور اس کے فعل کو جہالت کہا جائے اور اس کی مذمت بیان کی جائے، ایسا سمجھنا یہود کا طریقہ ہے، مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں۔

#کونسا وقت کونسادن منحوس ہوتا ہے؟

مشہور مفسر شارح حدیث حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمة الله تعالی علیہ ایک حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: *اسلام میں کوئی دن یا کوئی ساعت منحوس نہیں ہاں بعض دن بابرکت ہیں۔*

#تفسیر روح البیان میں ہے:

صفر وغیرہ کسی مہینے یا مخصوص وقت کو منحوس سمجھنا درست نہیں، تمام اوقات اللہ عزوجل کے بنائے ہوئے ہیں اور ان میں انسانوں کے اعمال واقع ہوتے ہیں۔ جس وقت میں بندہ مومن اللہ عزوجل کی اطاعت و بندگی میں مشغول ہو وہ وقت مبارک ہے اور جس وقت میں اللہ کریم کی نافرمانی کرے وہ وقت اس کے لئے منحوس ہے۔ در حقیقت اصل نحوست تو گناہوں میں ہے۔ (ماخوذ: فیضان صفر المظفر، صفحہ٢٩ مطبوعہ دعوت اسلامی)

#ماہ صفر کا آخری بدھ منانا:

ماہ صفر کا آخر چہار شنبہ ہندوستان میں بہت منایا جاتا ہے، لوگ اپنے کاروبار بند کردیتے ہیں، سیر و تفریح و شکار کو جاتے ہیں، پوریاں پکتی ہیں اور نہاتے دھوتے خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس روز غسل صحت فرمایا تھا اور بیرون مدینۂ طیبہ سیر کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ یہ سب باتیں بے اصل ہیں، بلکہ ان دنوں میں حضور اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مرض شدت کے ساتھ تھا، وہ باتیں خلاف واقع ہیں۔
اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس روز بلائیں آتی ہیں اور طرح طرح کی باتیں بیان کی جاتی ہیں سب بے ثبوت ہیں، بلکہ حدیث کا یہ ارشاد “لاصفر” یعنی صفر کوئی چیز نہیں۔ ایسی تمام خرافات کو رد کرتا ہے۔(بہار شریعت جلدسوم حصہ١٦ صفحہ ٦٦٣)

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ایسے نظریات سے بچیں، کیونکہ یہ سراسر شریعت کے خلاف ہیں۔ اسلام میں نہ کوئی مہینہ، نہ کوئی دن اور نہ کوئی ساعت نہ کوئی تاریخ منحوس ہے۔ ہر مہینہ، ہر دن اور ہر تاریخ رب تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں، اور اس نے ان میں سے کسی کو منحوس قرار نہیں دیا۔

@از قلم:
*محمد اشفاق عالم امجدی علیمی (بچباری آبادپور کٹیہـار)*
*استاذ و مفتی: جامعہ مصباح العلوم کدمتلی پوکھریا (مالدہ بنگال)*

Scan this QR code to read online:

QR Code