صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
رد دیوبندیت اور لفظِ اُمّی کے معانی و مفاہیم
تحقیق و تعاقب

رد دیوبندیت اور لفظِ اُمّی کے معانی و مفاہیم

✍️ Muhammad Ahsan Raza Qadri

رد دیوبندیت اور لفظ امی کے معانی و مفاہیم
بسم الله الرحمٰن الرحيم
الحمد لله هادي القلوب ، وافضل الصلاة والسلام على النبي المطلع الغيوب ، المنزه من جميع النقائص والعيوب، وعلى اله وصحبه المطهرين من الذنوب، القاهرين على كل شقي مفتر كذوب، صلاة وسلاما يتجددان بكل طلوع و غروب.
قال الله تعالي في القرآن المجيد و الفرقان الحميد:
هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
ترجمۂ کنز الایمان:
وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انھیں پاک کرتے ہیں اور انھیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بے شک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔
تفسیر:
ارشاد فرمایا کہ وہی اللّٰہ ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جس کے نسب و شرافت کو وہ اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں ،ان کا نامِ پاک محمد مصطفی ﷺ ہے،وہ ان کے سامنے قرآنِ مجید کی آیتیں تلاوت فرماتے ہیں جن میں رسالت، حلال و حرام اور حق و باطل کا بیان ہے ،انہیں باطل عقیدوں ،مذموم اَخلاق، دورِ جاہلیّت کی خباثتوں اور قبیح اَعمال سے پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت(یعنی قرآن ،سنت اور فقہ یا شریعت کے اَحکام اور طریقت کے اَسرار) کا علم عطا فرماتے ہیں اور بیشک لوگ نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے کہ شرک ،باطل عقائد، اور خبیث اَعمال میں گرفتار تھے اور انہیں کامل مرشد کی شدید حاجت تھی۔
نبی اکرم ﷺ کی صفت’’ نبی اُمّی ‘‘کی وجوہ:
آپ اُمت ِاُمِیّہ کی طرف مبعوث ہوئے ۔کتاب شعیاء میں ہے، اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے’’ میں اُمِیّوں میں ایک اُمّی بھیجوں گا اور اس پر نبوت ختم کردوں گا۔
آپ کی بِعثَت اُمُّ القُریٰ یعنی مکہ مکرمہ میں ہوئی۔
حضورِ انور علیہ الصلوٰۃ والسلام لکھتے اور کتاب سے کچھ پڑھتے نہ تھے اور یہ آپ کی فضیلت تھی کہ غایتِ حضور علم سے اس کی حاجت نہ تھی ۔خط ایک صنعت ذہنیہ ہے جو آلۂ جسمانیہ سے صادر ہوتی ہے، تو جو ذات ایسی ہو کہ قلمِ اعلیٰ اس کے زیرِ فرمان ہو اُس کو اِس کتابت کی کیا حاجت؟ پھر حضور ﷺ کا کتابت نہ فرمانا اور(پھر بھی) کتابت کا ماہر ہونا ایک معجزۂ عظیمہ ہے، آپ کاتِبوں کو علم خط اور رسم کتابت کی تعلیم فرماتے ،اہل حرفت کو حرفتوں کی تعلیم دیتے اور ہر کمالِ دنیوی و اخروی میں اللّٰه تعالیٰ نے آپ کو تمام خلق سے اعلم کیا۔
( خزائن العرفان، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۰۲۳، ملخصاً)
دوسری جگہ رب تعالی ارشاد فرماتا ہے:
اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیلِ
ترجمۂ کنز الایمان:
وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں ۔
اُمّی کا ترجمہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ’’بے پڑھے ‘‘ فرمایا۔ یہ ترجمہ بالکل حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ارشاد کے مطابق ہے اور یقیناً اُمّی ہونا آپ ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے کہ دنیا میں کسی سے پڑھا نہیں اور کتاب وہ لائے جس میں اَوّلین و آخرین اور غیبوں کے علوم ہیں۔
( خازن ، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۷، ۲ / ۱۴۷) ۔
امام عشق و محبت علیہ الرحمہ کیا خوب فرماتے ہیں:
فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضر
بس قسم کھائیے اُمّی تری دانائی کی
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان نے خالص الاعتقاد ص ٥٨٨ ج ١٨ میں لکھا:
امام قاضی عیاض ”شفا شریف میں فرماتے ہیں: هذا مع أنه صلى الله تعالى عليه وسلم كان لا يكتب ولكنه أوتي علم كل شيء حتى قد وردت أثار بمعرفته حروف الخط و حسن تصويرها كقوله: ((لا تمدوا بسم ﷲ الرحمن الرحيم)) رواه ابن شعبان من طريق ابن عباس ، وقوله الحديث الآخر الذي روي عن معاوية رضي الله تعالى عنه أنه كان يكتب بين يديه صلى الله تعالى عليه وسلم، فقال: ((له ألق الدواة و حرف القلم و أقم الباء و فرق السين ولا تعور الميم و حسن الله ومد الرحمن وجود الرحيم)).
یعنی حالاں کہ نبی کریم ﷺ لکھتے نہ تھے مگر حضور کو ہر چیز کا علم عطا ہوا تھا یہاں تک کہ بے شک حدیثیں آتی ہیں کہ حضور کتابت کے حروف پہچانتے تھے اور یہ کہ کس طرح لکھے جائیں تو خوبصورت ہوں گے ، جیسے ایک حدیث ابن شعبان نے عبد ﷲ ابن عباس سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا " بسم ﷲ کشش سے نہ لکھو (سین میں دندانے ہوں نری کشش نہ ہو) دوسری حدیث ( مسند الفردوس) میں امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ سے مروی ہوئی کہ یہ حضور کے سامنے لکھ رہے تھے نبی ﷺ نے ان سے فرمایا دوات میں صوف ڈالو اور قلم پر ترچھا قط دو اور بسم ﷲ کی ب کھڑی لکھو اور اس کے دندانے جدا رکھو اور میم اندھا نہ کر دو ( اس کے چشمہ کی سفیدی کھلی رہے) اور لفظ ﷲ خوبصورت لکھو اور لفظ رحمن میں کشش ہو رحمٰن یا رحمٰن یا رحمٰن یا رحمٰن ) اور لفظ رحیم اچھا لکھو۔
اس بدگو خبیث نے بکا کہ کاتبین وحی بعض اوقات غلط لکھ دیتے تھے تو حضور ﷺ اس کی تصحیح نہیں فرماتے کیونکہ حضور ﷺ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے (معاذ ﷲ) تو آپ کو پتہ نہیں چلتا تھا کہ کہا پر غلطی ہوئی ہے لیکن یہاں تو حضور ایک ایک حرف کی تصحیح فرما رہے ہیں مگر یہ اندھے کو نظر نہیں آرہا کیا کریں زاغ خوری کی عادت نے عقل و حواس سلب کر لیے گمراہ ہو گئے وﷲ لا یھدي القوم الظالمین۔
میرے مرشد حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:
جو جنونِ خلد میں کووّں کو دے بیٹھے دھرم
ایسے اندھے شیخ جی کی پیروی اچھی نہیں
دین اسلام میں رسول ﷲ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے ۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں ، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز و محور ہیں۔ آپ معلم کائنات بن کر اس صفحۂ گیتی پر جلوہ افروز ہوئے تہذیب و تمدن سے عاری انسانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ فرمایا۔
ایک معلم کا بلند مقصد ہمیشہ اس کے مطمح نظر رہتا ہے ۔ ﷲ کی زمین پر ﷲ کا نظام قائم کرنا " اس عظیم مقصد کے لئے غار حرا سے اترتے ہی آپ ﷺ ہمہ تن مصروف عمل ہو گئے۔ پہلے گھر اور خاندان کو دعوت دی پھر قبیلہ کو متوجہ کیا۔ دور نبوت کا ہر لمحہ گواہ ہے کہ آپ اپنے مقصد میں کبھی مصلحت یا مداہنت کا شکار نہیں ہوئے۔
آپ ﷺ کی ذات تمام انسانوں کے لیے نمونہ قرار پائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
انما بعثت معلما مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔
تاجدارِ رسالت ﷺ دنیا میں کسی کے شاگرد نہیں کیونکہ آپ کی تشریف آوری کے وقت عام لوگ جاہل تھے۔
امام قاضی عیاض علیه الرحمہ الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ﷺ میں فرماتے ہیں:
وقد علموا أنه ﷺ أُمي لا يقرأ ولا يكتب ، ولا اشتغل بمُدارسة ولا مُثَافَنَةٍ ، ولم يَغِب عنهم ، ولا جَهِل حالَه أحدٌ منهم۔ و قد كان أهل الكتاب كثيراً ما يسألونه - ﷺ- عَنْ هذا ، فينزل عليه من القرآن ما يَتلُو عليهم منه ذِكراً؛ كقصص الأنبياء مع قَوْمِهِم ، وخَبَرِ موسى والخضر ، ويوسف وإخوته ، وأصحاب الكهف ، وذي القرنين ، ولقمان وابنه ، وأشباه ذلك من الأنباء."
ترجمہ: لوگ خوب جانتے تھے کہ آپ ﷺ اُمّی ہے آپﷺ نے کہیں لکھنا پڑھنا بظاہر سیکھا نہ تھا اور نہ کسی مدرسے میں بیٹھے اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں رہے اور نہ ان سے کسی وقت اوجھل رہے اور نہ ان میں سے کوئی اپ کے حال سے واقف تھا اکثر اہل کتاب ہی آپﷺ سے پہلوں کے متعلق سوالات کرتے رہتے تھے اس پر آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا اور آپ ﷺ اس کو پڑھ کر سناتے۔ جیسے وہ قصے جو انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوم کے بارے میں ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰ اور حضرت خضر، حضرت یوسف علیہم السلام اور ان کے بھائی۔ اصحاب کہف، حضرت ذوالقرنین، حضرت لقمان ان کے بیٹے اور اس کے مثل دیگر اخبار قبلیہ ہیں۔
جس کو اس کا رب فرمائے اقرا و ربك الاکرم پڑھو اے محبوب تمہارا رب بڑی عظمت و بزرگی والا ہے ایسا نبی امی کیوں کسی استاد کے احسان کا بوجھ اٹھاتا پھرے؟ کیا اس کو خدا کا پڑھانا کافی نہیں ہے جس نے الرحمٰن علّم القران فرما کر اپنے محبوب کو اعلم الناس اور عالم ما کان و ما یکون کر دیا۔ میرے امام نے کیا خوب فرمایا:
ایسا اُمّی کس لئے منت کَشِ استاد ہو
کیا کفایت اس کو اِقْرَاْ رَبُّکَ الْاَکْرَمْ نہیں
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ الاستمداد علی اجیال الارتداد میں فرماتے ہیں
معجزۂ اُمّیّت شہ سے
پیر کا جہل ملاتے یہ ہیں
تکمیل: شفا شریف امام قاضی عیاض ص ۳۳۷ میں ہے کہ ایک جوان نیک مشہور سے کسی نے کہا چپ کہ تو امّی ہے۔ اس کی زبان سے نکلا کیا نبی ﷺ اُمّی نہ تھے۔ فکفرہ الناس اس پر علماء نے اسے کافر کہا اور وہ ڈرا، پشیمان ہوا۔ امام ابو الحسن قابسی نے فرمایا کافر کہنا تو ٹھیک نہیں ، ہاں یہ اس کی خطا ہے کون النبی اُمّیا آية له وكون هذا اميا نقيصة فيه وجهالة امی ہونا حضور ﷺ کے لیے معجزہ ہے اور اس کا ناخواندہ ہونا اس میں عیب و جہالت ہے ، سزا کا مستحق تھا اب کہ نادم ہوا چھوڑ دیا جائے۔ قرآنِ مجید کومحض اپنی عقل سے نہ سمجھا جائے بلکہ حضورِ اکرم ﷺ کی تعلیم سے سمجھا جائے، ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔ رب تعالی خود قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے۔ وَ اَنْزَلْنَا اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ
ترجمۂ کنز الایمان: اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یاد گار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں ۔
ابو عبداللّٰہ محمد بن احمد قرطبی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر ’’اَلْجَامِعُ لِاَحْکَامِ الْقُرْآنْ‘‘ کی ابتدا میں فرماتے ہیں ’’اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں موجود مُجمل چیزوں کو بیان کرنے، مشکل کی تفسیر کرنے اور کئی اِحتمال رکھنے والی چیزوں کی تحقیق کرنے کا منصب اپنے حبیب ﷺ کو عطا فرمایا تاکہ رسالت کی تبلیغ کے ساتھ آپ کی یہ خصوصیت بھی ظاہر ہو جائے اور سیّد المرسَلین ﷺ کے بعد قرآنِ پاک کے معانی کو اَخذ کرنے اور قرآنِ پاک کے اصول کی طرف اشارہ کرنے کی خدمت علماء کے سپرد فرمائی تاکہ وہ قرآنِ پاک کے الفاظ میں غور و فکر کر کے ان کی مراد جان جائیں،یوں علماء دیگر امتیوں سے ممتاز ہو گئے اور اِجتہاد کا ثواب ملنے کی خصوصیت بھی انہیں حاصل ہوئی، خلاصہ یہ ہے کہ قرآنِ پاک اصل ہے اور حدیثِ پاک اس کا بیان ہے اور علماء کا اِستنباط ا س کی وضاحت ہے۔
(قرطبی، خطبۃ المصنّف، ۱ / ۲۴، الجزء الاوّل)
عقلی طور پر بھی دیکھا جائے تو حدیثِ پاک کو حجت مانے بغیر چارہ ہی نہیں کیونکہ قرآنِ پاک میں اسلام کے بنیادی اَحکام جیسے نماز ،روزہ ،حج اور زکوٰۃ کا اِجمالی بیان کیا گیا ہے ، ان پر عمل اسی صورت ممکن ہے جب حدیث پاک پر عمل کیا جائے کیونکہ ان تمام احکام کی تفصیل کا بیان صرف اَحادیث میں ہے۔:قرآن وحدیث آسان نہیں کہ ہر کوئی محض اپنی عقل سے سمجھ لے ورنہ ان کی تعلیم کے لئے حضور پُرنور ﷺ نہ بھیجے جاتے۔؛اعلی حضرت فرماتے ہیں:
بے سمجھائے نہ سمجھے صحابہ
اپنی ٹانگ اڑاتے یہ ہیں
حق کے بیاں کی نبی کو حاجت
پیٹ سے خواندے آتے یہ ہیں
حق نے يُعَلِّمُهُم فرمایا
خود فهمید مناتے یہ ہیں
فِی الْاُمِّیّٖن یاد ہے ان کو
وہ تعلیم بھلاتے یہ ہیں
(الأمي) قال تعالى: اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ [الأعراف: ١٥٧]. وهو الذي لا يكتب كما في الحديث: وإنا أمة أمية لا تحسب ولا نكتب، نسبة إلى الأم، كأنه على الحالة التي ولدته أمه وهي في حقه مُعجِزَةٌ، وفي غيره مُعجَزَةٌ، قال عياض: من وصفه بالأمية ونحوها مما جرى عليه من الأذى، فإن قصد بذلك مقصده من التعظيم والدلالة على نبوته كان حسنًا، ومن أراد ذلك على غير وجهه، وعلم منه سوء قصده لحق بما تقدم، أي بالساب. وسماه بعضهم أيضًا الأمي بفتح الهمزة، وقرىء به، قال ابن عطية: منسوب إلى الأم بمعنى القصد، أي أن هذا النبي مقصود للناس، وموضع أم يؤمونه بأفعالهم وشرعهم، فعلى هذا يكون اسمًا آخر، وقال ابن جني: يحتمل أنه بمعنى الأمي غير تغيير النسب، فيكون لغة أخرى لا اسما.
الامي: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وہ جواس رسول کی اتباع کریں جو غیب کی خبریں دینے والے ہیں ،جو کسی سے پڑھے ہوئے نہیں ہیں ، - امی وہ کہ نہ لکھ سکے۔ نہ پڑھ سکے جیسا کہ حدیث میں ہے: انا امه امية لا تحسب ولا نكتب۔ والدہ کی طرف منسوب گویا آپ اپنی اس حالت پر ہیں جس حالت میں آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو جنا ہے۔ امیت آپ کے حق میں معجزہ ہے اور آپ کے غیر کے حق میں معجزہ نہیں ہے۔ قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے کہا ہے کہ جس شخص نے آپ کا وصف امیت سے کیا یا امیت کی مثل ایسے لفظ سے کیا جس سے ایذا مقصود ہو۔ اگر واصف نے اس لفظ سے آپ کی تعظیم اور آپ کی نبوت پر دلالت کی غرض سے ارادہ کیا ہے تو وہ حسن ہے پسندیدہ ہے۔ اور جس شخص نے غیر تعظیم وغیرہ کے ارادہ سے کہا ہو اس لفظ سے اس کا ارادہ برا جانا جائے گا تو وہ سب کرنے والوں سے لاحق ہوگا۔ بعض علماء نے آپ کا نام امی فتح ہمزہ بھی کہا ہے۔ اس کی قرأت بھی ہوئی ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے کہ یہ لفظ ام کی طرف منسوب ہے۔ قصد کے معنی میں یعنی یہ نبی لوگوں کا مقصود ہے۔ اور آپ ان لوگوں کے ارادہ کی جگہ ہیں۔ لوگ آپ کی طرف اپنے افعال اور شرع کے ساتھ ارادہ کرتے ہیں۔ اس صورت پر دوسرا اسم ہوگا اور ابن جنی نے کہا ہے کہ یہ احتمال ہوتا ہے کہ یہ لفظ بمعنی اُمی غیر تغیر نسبت کے ہے۔ لہذا یہ دوسرا لغت ہوگا نہ اسم ۔ (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية للقسطلاني ص ٣٠٦ ج ٢)
جمیل قادری رضوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خدا کا فضلِ اَعظم آپ پر ہے
سکھا سب کچھ تمہیں حق نے دیا ہے
نہ منّت تم پہ اُستادوں کی رکھی
تمہارا اُمّی ہونا معجزہ ہے
از :
عبد مصطفیٰ فقیر احسن رضا قادری غفر له القوی
متعلم مرکز الدراسات الإسلامية جامعة الرضا بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Ahsan Raza Qadri

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
64
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 5
Muhammad Ahsan Raza Qadri
زمرہ جات

سلسلة مواصفات الكتب للامام أحمد رضا خان. ( الحلقة الاولى)

خوشیوں کی راہ میں بکھرے کانٹے (5)

رد دیوبندیت اور لفظِ اُمّی کے معانی و مفاہیم - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

رد دیوبندیت اور لفظِ اُمّی کے معانی و مفاہیم

مضمون نگار: Muhammad Ahsan Raza Qadri

رد دیوبندیت اور لفظ “امی” کے معانی و مفاہیم

“بسم الله الرحمٰن الرحيم ”
“الحمد لله هادي القلوب ، وافضل الصلاة والسلام على النبي المطلع الغيوب ، المنزه من جميع النقائص والعيوب، وعلى اله وصحبه المطهرين من الذنوب، القاهرين على كل شقي مفتر كذوب، صلاة وسلاما يتجددان بكل طلوع و غروب.”
“قال الله تعالي في القرآن المجيد و الفرقان الحميد:”
“هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ”
ترجمۂ کنز الایمان:
وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انھیں پاک کرتے ہیں اور انھیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بے شک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔

*تفسیر:*
ارشاد فرمایا کہ وہی اللّٰہ ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جس کے نسب و شرافت کو وہ اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں ،ان کا نامِ پاک محمد مصطفی ﷺ ہے،وہ ان کے سامنے قرآنِ مجید کی آیتیں تلاوت فرماتے ہیں جن میں رسالت، حلال و حرام اور حق و باطل کا بیان ہے ،انہیں باطل عقیدوں ،مذموم اَخلاق، دورِ جاہلیّت کی خباثتوں اور قبیح اَعمال سے پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت(یعنی قرآن ،سنت اور فقہ یا شریعت کے اَحکام اور طریقت کے اَسرار) کا علم عطا فرماتے ہیں اور بیشک لوگ نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے کہ شرک ،باطل عقائد، اور خبیث اَعمال میں گرفتار تھے اور انہیں کامل مرشد کی شدید حاجت تھی۔

*نبی اکرم ﷺ کی صفت’’ نبی اُمّی ‘‘کی وجوہ:*
آپ اُمت ِاُمِیّہ کی طرف مبعوث ہوئے ۔کتاب شعیاء میں ہے، اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے’’ میں اُمِیّوں میں ایک اُمّی بھیجوں گا اور اس پر نبوت ختم کردوں گا۔
آپ کی “بِعثَت اُمُّ القُریٰ” یعنی مکہ مکرمہ میں ہوئی۔
حضورِ انور علیہ الصلوٰۃ والسلام لکھتے اور کتاب سے کچھ پڑھتے نہ تھے اور یہ آپ کی فضیلت تھی کہ غایتِ حضور علم سے اس کی حاجت نہ تھی ۔خط ایک صنعت ذہنیہ ہے جو آلۂ جسمانیہ سے صادر ہوتی ہے، تو جو ذات ایسی ہو کہ قلمِ اعلیٰ اس کے زیرِ فرمان ہو اُس کو اِس کتابت کی کیا حاجت؟ پھر حضور ﷺ کا کتابت نہ فرمانا اور(پھر بھی) کتابت کا ماہر ہونا ایک معجزۂ عظیمہ ہے، آپ کاتِبوں کو علم خط اور رسم کتابت کی تعلیم فرماتے ،اہل حرفت کو حرفتوں کی تعلیم دیتے اور ہر کمالِ دنیوی و اخروی میں اللّٰه تعالیٰ نے آپ کو تمام خلق سے اعلم کیا۔
( خزائن العرفان، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۰۲۳، ملخصاً)

دوسری جگہ رب تعالی ارشاد فرماتا ہے:
“اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیلِ”
ترجمۂ کنز الایمان:
وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں ۔
اُمّی کا ترجمہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے ’’بے پڑھے ‘‘ فرمایا۔ یہ ترجمہ بالکل حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے ارشاد کے مطابق ہے اور یقیناً اُمّی ہونا آپ ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے کہ دنیا میں کسی سے پڑھا نہیں اور کتاب وہ لائے جس میں اَوّلین و آخرین اور غیبوں کے علوم ہیں۔
( خازن ، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۷، ۲ / ۱۴۷) ۔
امام عشق و محبت علیہ الرحمہ کیا خوب فرماتے ہیں:

@فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضر
بس قسم کھائیے اُمّی تری دانائی کی

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان نے خالص الاعتقاد ص ٥٨٨ ج ١٨ میں لکھا:
امام قاضی عیاض ”شفا شریف میں فرماتے ہیں: “هذا مع أنه صلى الله تعالى عليه وسلم كان لا يكتب ولكنه أوتي علم كل شيء حتى قد وردت أثار بمعرفته حروف الخط و حسن تصويرها كقوله: ((لا تمدوا بسم ﷲ الرحمن الرحيم)) رواه ابن شعبان من طريق ابن عباس ، وقوله الحديث الآخر الذي روي عن معاوية رضي الله تعالى عنه أنه كان يكتب بين يديه صلى الله تعالى عليه وسلم، فقال: ((له ألق الدواة و حرف القلم و أقم الباء و فرق السين ولا تعور الميم و حسن الله ومد الرحمن وجود الرحيم)). ”

یعنی حالاں کہ نبی کریم ﷺ لکھتے نہ تھے مگر حضور کو ہر چیز کا علم عطا ہوا تھا یہاں تک کہ بے شک حدیثیں آتی ہیں کہ حضور کتابت کے حروف پہچانتے تھے اور یہ کہ کس طرح لکھے جائیں تو خوبصورت ہوں گے ، جیسے ایک حدیث ابن شعبان نے عبد ﷲ ابن عباس سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا ” بسم ﷲ کشش سے نہ لکھو (سین میں دندانے ہوں نری کشش نہ ہو) دوسری حدیث ( مسند الفردوس) میں امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ سے مروی ہوئی کہ یہ حضور کے سامنے لکھ رہے تھے نبی ﷺ نے ان سے فرمایا دوات میں صوف ڈالو اور قلم پر ترچھا قط دو اور بسم ﷲ کی ب کھڑی لکھو اور اس کے دندانے جدا رکھو اور میم اندھا نہ کر دو ( اس کے چشمہ کی سفیدی کھلی رہے) اور لفظ ﷲ خوبصورت لکھو اور لفظ رحمن میں کشش ہو رحمٰن یا رحمٰن یا رحمٰن یا رحمٰن ) اور لفظ رحیم اچھا لکھو۔

اس بدگو خبیث نے بکا کہ کاتبین وحی بعض اوقات غلط لکھ دیتے تھے تو حضور ﷺ اس کی تصحیح نہیں فرماتے کیونکہ حضور ﷺ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے (معاذ ﷲ) تو آپ کو پتہ نہیں چلتا تھا کہ کہا پر غلطی ہوئی ہے لیکن یہاں تو حضور ایک ایک حرف کی تصحیح فرما رہے ہیں مگر یہ اندھے کو نظر نہیں آرہا کیا کریں زاغ خوری کی عادت نے عقل و حواس سلب کر لیے گمراہ ہو گئے وﷲ لا یھدي القوم الظالمین۔
میرے مرشد حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:

@جو جنونِ خلد میں کووّں کو دے بیٹھے دھرم
ایسے اندھے شیخ جی کی پیروی اچھی نہیں

دین اسلام میں رسول ﷲ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے ۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں ، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز و محور ہیں۔ آپ معلم کائنات بن کر اس صفحۂ گیتی پر جلوہ افروز ہوئے تہذیب و تمدن سے عاری انسانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ فرمایا۔
ایک معلم کا بلند مقصد ہمیشہ اس کے مطمح نظر رہتا ہے ۔ ﷲ کی زمین پر ﷲ کا نظام قائم کرنا ” اس عظیم مقصد کے لئے غار حرا سے اترتے ہی آپ ﷺ ہمہ تن مصروف عمل ہو گئے۔ پہلے گھر اور خاندان کو دعوت دی پھر قبیلہ کو متوجہ کیا۔ دور نبوت کا ہر لمحہ گواہ ہے کہ آپ اپنے مقصد میں کبھی مصلحت یا مداہنت کا شکار نہیں ہوئے۔

آپ ﷺ کی ذات تمام انسانوں کے لیے نمونہ قرار پائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
انما بعثت معلما ” مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔
تاجدارِ رسالت ﷺ دنیا میں کسی کے شاگرد نہیں کیونکہ آپ کی تشریف آوری کے وقت عام لوگ جاہل تھے۔
امام قاضی عیاض علیه الرحمہ الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ﷺ میں فرماتے ہیں:
“وقد علموا أنه ﷺ أُمي لا يقرأ ولا يكتب ، ولا اشتغل بمُدارسة ولا مُثَافَنَةٍ ، ولم يَغِب عنهم ، ولا جَهِل حالَه أحدٌ منهم۔ و قد كان أهل الكتاب كثيراً ما يسألونه – ﷺ- عَنْ هذا ، فينزل عليه من القرآن ما يَتلُو عليهم منه ذِكراً؛ كقصص الأنبياء مع قَوْمِهِم ، وخَبَرِ موسى والخضر ، ويوسف وإخوته ، وأصحاب الكهف ، وذي القرنين ، ولقمان وابنه ، وأشباه ذلك من الأنباء.”
ترجمہ: لوگ خوب جانتے تھے کہ آپ ﷺ اُمّی ہے آپﷺ نے کہیں لکھنا پڑھنا بظاہر سیکھا نہ تھا اور نہ کسی مدرسے میں بیٹھے اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں رہے اور نہ ان سے کسی وقت اوجھل رہے اور نہ ان میں سے کوئی اپ کے حال سے واقف تھا اکثر اہل کتاب ہی آپﷺ سے پہلوں کے متعلق سوالات کرتے رہتے تھے اس پر آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا اور آپ ﷺ اس کو پڑھ کر سناتے۔ جیسے وہ قصے جو انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوم کے بارے میں ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰ اور حضرت خضر، حضرت یوسف علیہم السلام اور ان کے بھائی۔ اصحاب کہف، حضرت ذوالقرنین، حضرت لقمان ان کے بیٹے اور اس کے مثل دیگر اخبار قبلیہ ہیں۔

جس کو اس کا رب فرمائے اقرا و ربك الاکرم پڑھو اے محبوب تمہارا رب بڑی عظمت و بزرگی والا ہے ایسا نبی امی کیوں کسی استاد کے احسان کا بوجھ اٹھاتا پھرے؟ کیا اس کو خدا کا پڑھانا کافی نہیں ہے جس نے الرحمٰن علّم القران فرما کر اپنے محبوب کو اعلم الناس اور عالم ما کان و ما یکون کر دیا۔ میرے امام نے کیا خوب فرمایا:

@ایسا اُمّی کس لئے منت کَشِ استاد ہو
کیا کفایت اس کو اِقْرَاْ رَبُّکَ الْاَکْرَمْ نہیں

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ الاستمداد علی اجیال الارتداد میں فرماتے ہیں

@معجزۂ اُمّیّت شہ سے
پیر کا جہل ملاتے یہ ہیں

تکمیل: شفا شریف امام قاضی عیاض ص ۳۳۷ میں ہے کہ ایک جوان نیک مشہور سے کسی نے کہا چپ کہ تو امّی ہے۔ اس کی زبان سے نکلا کیا نبی ﷺ اُمّی نہ تھے۔ فکفرہ الناس اس پر علماء نے اسے کافر کہا اور وہ ڈرا، پشیمان ہوا۔ امام ابو الحسن قابسی نے فرمایا کافر کہنا تو ٹھیک نہیں ، ہاں یہ اس کی خطا ہے “کون النبی اُمّیا آية له وكون هذا اميا نقيصة فيه وجهالة” امی ہونا حضور ﷺ کے لیے معجزہ ہے اور اس کا ناخواندہ ہونا اس میں عیب و جہالت ہے ، سزا کا مستحق تھا اب کہ نادم ہوا چھوڑ دیا جائے۔ قرآنِ مجید کومحض اپنی عقل سے نہ سمجھا جائے بلکہ حضورِ اکرم ﷺ کی تعلیم سے سمجھا جائے، ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔ رب تعالی خود قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے۔” وَ اَنْزَلْنَا اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ”
ترجمۂ کنز الایمان: اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یاد گار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں ۔

ابو عبداللّٰہ محمد بن احمد قرطبی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر” ’’اَلْجَامِعُ لِاَحْکَامِ الْقُرْآنْ‘‘” کی ابتدا میں فرماتے ہیں ’’اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں موجود مُجمل چیزوں کو بیان کرنے، مشکل کی تفسیر کرنے اور کئی اِحتمال رکھنے والی چیزوں کی تحقیق کرنے کا منصب اپنے حبیب ﷺ کو عطا فرمایا تاکہ رسالت کی تبلیغ کے ساتھ آپ کی یہ خصوصیت بھی ظاہر ہو جائے اور سیّد المرسَلین ﷺ کے بعد قرآنِ پاک کے معانی کو اَخذ کرنے اور قرآنِ پاک کے اصول کی طرف اشارہ کرنے کی خدمت علماء کے سپرد فرمائی تاکہ وہ قرآنِ پاک کے الفاظ میں غور و فکر کر کے ان کی مراد جان جائیں،یوں علماء دیگر امتیوں سے ممتاز ہو گئے اور اِجتہاد کا ثواب ملنے کی خصوصیت بھی انہیں حاصل ہوئی، خلاصہ یہ ہے کہ قرآنِ پاک اصل ہے اور حدیثِ پاک اس کا بیان ہے اور علماء کا اِستنباط ا س کی وضاحت ہے۔
(قرطبی، خطبۃ المصنّف، ۱ / ۲۴، الجزء الاوّل)

عقلی طور پر بھی دیکھا جائے تو حدیثِ پاک کو حجت مانے بغیر چارہ ہی نہیں کیونکہ قرآنِ پاک میں اسلام کے بنیادی اَحکام جیسے نماز ،روزہ ،حج اور زکوٰۃ کا اِجمالی بیان کیا گیا ہے ، ان پر عمل اسی صورت ممکن ہے جب حدیث پاک پر عمل کیا جائے کیونکہ ان تمام احکام کی تفصیل کا بیان صرف اَحادیث میں ہے۔:قرآن وحدیث آسان نہیں کہ ہر کوئی محض اپنی عقل سے سمجھ لے ورنہ ان کی تعلیم کے لئے حضور پُرنور ﷺ نہ بھیجے جاتے۔؛اعلی حضرت فرماتے ہیں:

@بے سمجھائے نہ سمجھے صحابہ
اپنی ٹانگ اڑاتے یہ ہیں
حق کے بیاں کی نبی کو حاجت
پیٹ سے خواندے آتے یہ ہیں
حق نے” يُعَلِّمُهُم” فرمایا
خود فهمید مناتے یہ ہیں
“فِی الْاُمِّیّٖن” یاد ہے ان کو
وہ تعلیم بھلاتے یہ ہیں

“(الأمي) قال تعالى: اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ [الأعراف: ١٥٧]. وهو الذي لا يكتب كما في الحديث: وإنا أمة أمية لا تحسب ولا نكتب، نسبة إلى الأم، كأنه على الحالة التي ولدته أمه وهي في حقه مُعجِزَةٌ، وفي غيره مُعجَزَةٌ، قال عياض: من وصفه بالأمية ونحوها مما جرى عليه من الأذى، فإن قصد بذلك مقصده من التعظيم والدلالة على نبوته كان حسنًا، ومن أراد ذلك على غير وجهه، وعلم منه سوء قصده لحق بما تقدم، أي بالساب. وسماه بعضهم أيضًا الأمي بفتح الهمزة، وقرىء به، قال ابن عطية: منسوب إلى الأم بمعنى القصد، أي أن هذا النبي مقصود للناس، وموضع أم يؤمونه بأفعالهم وشرعهم، فعلى هذا يكون اسمًا آخر، وقال ابن جني: يحتمل أنه بمعنى الأمي غير تغيير النسب، فيكون لغة أخرى لا اسما.”
“الامي:” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وہ جواس رسول کی اتباع کریں جو غیب کی خبریں دینے والے ہیں ،جو کسی سے پڑھے ہوئے نہیں ہیں ، – امی وہ کہ نہ لکھ سکے۔ نہ پڑھ سکے جیسا کہ حدیث میں ہے: انا امه امية لا تحسب ولا نكتب۔ والدہ کی طرف منسوب گویا آپ اپنی اس حالت پر ہیں جس حالت میں آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو جنا ہے۔ امیت آپ کے حق میں معجزہ ہے اور آپ کے غیر کے حق میں معجزہ نہیں ہے۔ قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے کہا ہے کہ جس شخص نے آپ کا وصف امیت سے کیا یا امیت کی مثل ایسے لفظ سے کیا جس سے ایذا مقصود ہو۔ اگر واصف نے اس لفظ سے آپ کی تعظیم اور آپ کی نبوت پر دلالت کی غرض سے ارادہ کیا ہے تو وہ حسن ہے پسندیدہ ہے۔ اور جس شخص نے غیر تعظیم وغیرہ کے ارادہ سے کہا ہو اس لفظ سے اس کا ارادہ برا جانا جائے گا تو وہ سب کرنے والوں سے لاحق ہوگا۔ بعض علماء نے آپ کا نام امی فتح ہمزہ بھی کہا ہے۔ اس کی قرأت بھی ہوئی ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے کہ یہ لفظ ام کی طرف منسوب ہے۔ قصد کے معنی میں یعنی یہ نبی لوگوں کا مقصود ہے۔ اور آپ ان لوگوں کے ارادہ کی جگہ ہیں۔ لوگ آپ کی طرف اپنے افعال اور شرع کے ساتھ ارادہ کرتے ہیں۔ اس صورت پر دوسرا اسم ہوگا اور ابن جنی نے کہا ہے کہ یہ احتمال ہوتا ہے کہ یہ لفظ بمعنی اُمی غیر تغیر نسبت کے ہے۔ لہذا یہ دوسرا لغت ہوگا نہ اسم ۔ (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية للقسطلاني ص ٣٠٦ ج ٢)

جمیل قادری رضوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

@خدا کا فضلِ اَعظم آپ پر ہے
سکھا سب کچھ تمہیں حق نے دیا ہے
نہ منّت تم پہ اُستادوں کی رکھی
تمہارا اُمّی ہونا معجزہ ہے

از :
عبد مصطفیٰ فقیر احسن رضا قادری غفر له القوی
متعلم مرکز الدراسات الإسلامية جامعة الرضا بریلی شریف

Scan this QR code to read online:

QR Code