صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے
اسلامیات

بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے

✍️ Md Shahnawaz Raza Nawazi

بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے
اللہ تبارک و تعالی نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ،انہی میں سے ایک بارش ہے جس سے انسان اپنی بے شمار ضروریات پوری کرتا ہے ، انسان کا زندگی گزارنا بغیر پانی کے محال ہے۔ انسان ، حیوانات اور نباتات سب بارش سے فیض یاب ہوتے ہیں اور جمیع حیوانات و نباتات کے لیے پانی اہم ضروریات میں سے ہے جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
اگر چند سال بارش نہ ہو تو انسان ، حیوانات اور نباتات تمام کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تمام کے لیے بغیر پانی کے زندگی گزارنا دشوار ہی نہیں ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّؕ ( سُورۃ الانبیاء ، آیت : ٣٠ ) ترجمہ : اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی (ترجمۂ کنز الایمان)
جب اللہ تعالی نے ہر چیز کو پانی سے بنایا ہے تو اس کا زندہ رہنا بغیر پانی کے کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے ، ہر جاندار چیز کو پانی سے بنانے سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں : (1) اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کو جانداروں کی حیات کاسبب بنایاہے ۔ (2) اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر جاندار پانی سے پیدا کیا ہوا ہے۔ (3) پانی سے نطفہ مراد ہے۔( خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۰)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بہت بڑی ہے تو کیا ہر جگہ بیک وقت میں ہی بارش ہوتی ہے یا الگ الگ اوقات میں ہوتی ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر جگہ بیک وقت میں بارش نہیں ہوتی بلکہ موسم کے اعتبار سے ہر جگہ کم یا زیادہ بارش ہوتی ہے اور کوئی انسان بارش پر قادر نہیں ہے جو کم یا زیادہ برسائے بلکہ اللہ تبارک و تعالی کے حکم سے بارش برسانے پر فرشتے مقرر ہیں ،
دنیا میں بہت سارے سائینس داں پیدا ہوئے اور پیدا ہوتے ہیں مگر کوئی بھی یہ یقین سے کہہ نہیں سکتا ہے کہ بارش کب ، کہاں اور کتنی ہونی ہے بلکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے ، اور دنیا میں بہت سارے ٹیکنالوجی وجود میں آئے لیکن آج تک کبھی بھی کسی نے مصنوعی ٹیکنالوجی کی مدد سے بادل سے ایک قطرہ پانی نہیں برسا پا ، اور کل قیامت تک ایسا فعل انجام دینے سے قاصر و نادار رہیں گے ۔
اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے : اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ (سورۃ المؤمنون ، آیت ١٨ ) ترجمہ :اور ہم نے آسمان سے پانی اُتارا ایک اندازہ پر پھر اسے زمین میں ٹھہرایا اور بیشک ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں ۔ ( ترجمۂ کنز الایمان) ‌ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالی نے مخلوق کی حاجتوں کے لیے پانی برسایا اور ٹہرایا اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس پانی کو لے جانے پر بھی قادر ہے یعنی اگر چاہے تو اس کو ختم کردے تو بندوں کو چاہیے کہ شکر گزار بندے بنیں اور اس عظیم نعمت کی حفاظت کریں۔
بارش کی وجہ سے بنجر سے بنجر زمین بھی زرخیز زمین بن جاتی ہے جس میں کسان اپنی فصلیں اگاتے ہیں اور اگر بارش نہ ہو تو کسان اپنے کھیتوں میں فصلیں نہیں اگا سکتے ہیں اور جب کسان کھیتی نہیں کر پائیں گے تو لوگوں کا کھانا پینا بھی دشوار ہو گا الغرض یہ کہ ان تمام چیزوں کی بقا پانی ہی سے ہے ، آپ کو درخت جو نظر آتے ہیں ان کے ہرے بھرے ہونے کی وجہ بھی پانی ہی ہے اگر پانی ان درختوں کو میسر نہ ہو تو درخت بھی خشک ہوتا ہوا نظر آتا ہے ۔آپ دیکھتے ہوں گے جہاں ریت والی زمین ہوتی ہے وہاں پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے درخت نظر نہیں آتے ہیں ۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
دنیا میں اگر ہم زمین کی پوری سطح پر نظریں پھیریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خشکی تقریباً صرف %30 ہی ہے اور پانی تقریباً %70 ہے لہذا اس سے بھی پانی کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پانی انسان ، حیوانات اور نباتات جمیع کے لیے کتنا ضروری ہے ، ہمیں اور آپ کو چاہیے کہ ہم اللہ تبارک و تعالی کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بنیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین
✍️از قلم____محمد شہنواز رضا نوازیؔ
موبائل نمبر: 9297865406
متعلم: مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

Student - Khamesa | Jamiatur Raza
95
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 9
Kalam 0
Md Shahnawaz Raza Nawazi
زمرہ جات

والدین کے حقوق

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع [قسط ہفتم]

بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے

مضمون نگار: Md Shahnawaz Raza Nawazi

بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے

اللہ تبارک و تعالی نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ،انہی میں سے ایک بارش ہے جس سے انسان اپنی بے شمار ضروریات پوری کرتا ہے ، انسان کا زندگی گزارنا بغیر پانی کے محال ہے۔ انسان ، حیوانات اور نباتات سب بارش سے فیض یاب ہوتے ہیں اور جمیع حیوانات و نباتات کے لیے پانی اہم ضروریات میں سے ہے جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ۔

اگر چند سال بارش نہ ہو تو انسان ، حیوانات اور نباتات تمام کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تمام کے لیے بغیر پانی کے زندگی گزارنا دشوار ہی نہیں ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّؕ ( سُورۃ الانبیاء ، آیت : ٣٠ )” ترجمہ : اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی (ترجمۂ کنز الایمان)

جب اللہ تعالی نے ہر چیز کو پانی سے بنایا ہے تو اس کا زندہ رہنا بغیر پانی کے کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے ، ہر جاندار چیز کو پانی سے بنانے سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں : (1) اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کو جانداروں کی حیات کاسبب بنایاہے ۔ (2) اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر جاندار پانی سے پیدا کیا ہوا ہے۔ (3) پانی سے نطفہ مراد ہے۔( خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳۰)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بہت بڑی ہے تو کیا ہر جگہ بیک وقت میں ہی بارش ہوتی ہے یا الگ الگ اوقات میں ہوتی ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر جگہ بیک وقت میں بارش نہیں ہوتی بلکہ موسم کے اعتبار سے ہر جگہ کم یا زیادہ بارش ہوتی ہے اور کوئی انسان بارش پر قادر نہیں ہے جو کم یا زیادہ برسائے بلکہ اللہ تبارک و تعالی کے حکم سے بارش برسانے پر فرشتے مقرر ہیں ،

*دنیا میں بہت سارے سائینس داں پیدا ہوئے اور پیدا ہوتے ہیں *مگر کوئی بھی یہ یقین سے کہہ نہیں سکتا ہے کہ بارش کب ، کہاں اور کتنی ہونی ہے بلکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے ، اور دنیا میں بہت سارے ٹیکنالوجی وجود میں آئے لیکن آج تک کبھی بھی کسی نے مصنوعی ٹیکنالوجی کی مدد سے بادل سے ایک قطرہ پانی نہیں برسا پا ، اور کل قیامت تک ایسا فعل انجام دینے سے قاصر و نادار رہیں گے ۔

اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے : “اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ (سورۃ المؤمنون ، آیت ١٨ ) “ترجمہ :اور ہم نے آسمان سے پانی اُتارا ایک اندازہ پر پھر اسے زمین میں ٹھہرایا اور بیشک ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں ۔ ( ترجمۂ کنز الایمان) ‌ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالی نے مخلوق کی حاجتوں کے لیے پانی برسایا اور ٹہرایا اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس پانی کو لے جانے پر بھی قادر ہے یعنی اگر چاہے تو اس کو ختم کردے تو بندوں کو چاہیے کہ شکر گزار بندے بنیں اور اس عظیم نعمت کی حفاظت کریں۔

بارش کی وجہ سے بنجر سے بنجر زمین بھی زرخیز زمین بن جاتی ہے جس میں کسان اپنی فصلیں اگاتے ہیں اور اگر بارش نہ ہو تو کسان اپنے کھیتوں میں فصلیں نہیں اگا سکتے ہیں اور جب کسان کھیتی نہیں کر پائیں گے تو لوگوں کا کھانا پینا بھی دشوار ہو گا الغرض یہ کہ ان تمام چیزوں کی بقا پانی ہی سے ہے ، آپ کو درخت جو نظر آتے ہیں ان کے ہرے بھرے ہونے کی وجہ بھی پانی ہی ہے اگر پانی ان درختوں کو میسر نہ ہو تو درخت بھی خشک ہوتا ہوا نظر آتا ہے ۔آپ دیکھتے ہوں گے جہاں ریت والی زمین ہوتی ہے وہاں پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے درخت نظر نہیں آتے ہیں ۔

دنیا میں اگر ہم زمین کی پوری سطح پر نظریں پھیریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خشکی تقریباً صرف %30 ہی ہے اور پانی تقریباً %70 ہے لہذا اس سے بھی پانی کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پانی انسان ، حیوانات اور نباتات جمیع کے لیے کتنا ضروری ہے ، ہمیں اور آپ کو چاہیے کہ ہم اللہ تبارک و تعالی کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بنیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین

*✍️از قلم____محمد شہنواز رضا نوازیؔ*
*موبائل نمبر: 9297865406*
*متعلم: مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف*

Scan this QR code to read online:

QR Code