صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ
اسلامیات

الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ

✍️ Mufti Bilal Markazi Maturidi

الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ
انسانی فکر و فلسفہ کی تاریخ میں خدا کے وجود کا تصور اور اس کا انکار، دونوں ہی قدیم ترین مباحث میں شامل رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف خالقِ کائنات پر ایمان لانے والوں کی طویل تاریخ ہے، وہیں دوسری جانب الحاد (Atheism) بھی ایک فکری مذہب کے طور پر موجود رہا ہے جو خالق ِکائنات کے وجود کی نفی کرتا ہے۔ تمام ماوراء الطبیعیات (Metaphysics) کا انکار کرتا ہے لیکن اس زمانہ میں الحاد ایک مستقل فکری مذہب کے طور پر بہت تیزی سے ابھر رہا ہے۔ ہم اس مضمون میں الحاد کے مفہوم، اس کی تاریخی جڑوں، مختلف اقسام اور عصرِ حاضر کے ملحدین کا مختصر تعارف پیش کریں گے۔

الحاد کا لغوی و اصطلاحی مفہوم

عربی زبان میں لفظ الحادکا مادہ ل ح د ہے، جس کے لغوی معنی قصد سے پھر جانا، عدول کرنا اور ٹیڑھا ہونا ہیں۔ عربوں کے ہاں کسی بھی ایسی بدعت یا انحراف کو الحاد سے تعبیر کیا جاتا تھا جو حق سے ہٹ کر ہو۔
قرآنی تناظر میں: قرآن کریم میں لفظ الحادکا استعمال حق سے باطل کی طرف مائل ہونے کے معنی میں ، خالق کی نشانیوں کو جھٹلانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے "وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ '( الحج: ٢٥) اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَاؕ ( حم السجدة :٤٠) بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں سیدھی راہ سے ہٹتے ہیں وہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں ۔ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ- (الأعراف: ١٤٠) اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے دور ہوتے ہیں۔
:Atheism انگریزی میں بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کے شروع میں اگر A لگا دیا جائے تو ان میں نفی کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔ Atheism بھی انہیں الفاظ میں سے ہے۔ یہ درحقیقت A+Theismہے، جب A کو Theism کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے تو Atheism بن جاتا ہے اور اس میں Theism کی نفی پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا Atheism کے لغوی معنی ہوئے: تھیزم کا انکار۔
اِتھیزم، تھیزم کا انکار ہے۔ یعنی جہاں تھیزم حقیقتِ مطلقہ یا خدا کے اقرار کا نام ہے، تو اِتھیزم حقیقتِ مطلقہ یا خدا کے انکار کا نام ہے۔ اِتھیزم کے حاملین کو ملحدین، Atheistsیا Non Believers کہا جاتا ہے۔ Atheism کے مترادفات میں Disbeliefاور Ir-religion مستعمل ہیں۔
Atheism کا اردو معنی الحاد، لادینیت، لامذہبیت اور دہریت سے کیا جاتا ہے۔ اور اسی طرح Atheist کو ملحد (جمع: ملحدین)، لادین، لامذہب اور دہریہ کہا جاتا ہے۔
Atheism کے مذکورہ تمام معانی مشکلات سے خالی نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی معنی اس کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا، لیکن چونکہ عرف میں یہ معانی مقبول ہیں، لہٰذا ہم بھی انہی پر اکتفا کریں گے۔
Atheism سے لغوی طور پر Theism کا انکار مراد ہے، اصطلاح میں Atheism سے مراد یہ نظریہ ہے کہ خدا یا مابعد الطبیعی حقیقتِ مطلقہ موجود نہیں جو حیات و کائنات کے اس نظام کی خالق ہو۔ یعنی وجودِ باری تعالیٰ کا انکار کرنا Atheism ہے۔
انگریزی لٹریچر میں Atheism سے مراد صرف وجودِ باری تعالیٰ کا انکار ہے۔ ایسا شخص جو خدا کے وجود کو نہیں مانتا وہ Atheist کہلاتا ہے۔ مغربی علمی حلقیات میں اگر کوئی شخص خدا کا منکر تو نہ ہو لیکن اسلام، عیسائیت، یہودیت غرض کسی بھی مذہب کو درست نہ مانتا ہو، تو Atheist نہیں کہا جاتا بلکہ ہر ہر نوعیت کے منکر کے لیے الگ الگ اصطلاح ہے۔ مثلاً اگر کوئی خدا کو تو مانتا ہے لیکن مذہب کو نہیں مانتا تو اسے اہلِ مغرب Deist کہتے ہیں اور اس تصور کو Deism کہا جاتا ہے۔
اس کے برعکس اسلامی لٹریچر میں الحاد کا تصور مغربی تصور سے قدرے مختلف ہے۔ مغرب میں الحاد صرف وجودِ باری تعالیٰ کے انکار سے خاص ہے، جبکہ اسلامی لٹریچر میں لفظ الحاد کسی بھی طرح کی گمراہی، ہٹ دھرمی، حق سے روگردانی وغیرہ سے عام ہے۔

الحاد کی صطلاحی تعریف:

علمی و فکری اصطلاح میں الحاد وہ مذہب ہے جو کائنات کے خالق کے وجود کی مکمل نفی کرتا ہے۔ مغربی لٹریچر میں 'Atheismسے مراد صرف وجودِ باری تعالیٰ کا انکار ہے، جبکہ اسلامی اصطلاح میں ہر وہ گمراہی جو دین کے بنیادی اصولوں سے انحراف پر مبنی ہو، الحاد کہلاتی ہے۔" (از- تاریخ الحادِ مغرب)

الحاد سے متعلقہ دیگر اصطلاحات

الحاد کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے اس سے وابستہ دیگر فکری زمروں کو جاننا ضروری ہے:
1. لا دینیت (Irreligious): وہ لوگ جو کسی مذہب کے پابند نہیں ہوتے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ خدا کے وجود کے منکر ہوں۔
2. ضدِ دین (Antitheist):وہ ملحد جو نہ صرف خدا کا منکر ہو بلکہ مذہب اور مذہبی لوگوں کے خلاف جارحانہ رویہ رکھتا ہو۔
3. رِبوَبیت (Deism): یہ گروہ مانتا ہے کہ خدا نے کائنات پیدا کی ہے، لیکن وہ انسانوں سے وحی یا انبیاء کے ذریعے رابطہ نہیں کرتا۔
4. لا ادریت (Agnosticism): یہ فلسفہ کہتا ہے کہ انسانی عقل خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے نہ نفی؛ اس لیے اس کے بارے میں کچھ نہیں جانا جا سکتا۔
5. تشکک (Skepticism): وہ لوگ جو خدا کے وجود کے دلائل کو ناکافی سمجھتے ہیں اور شک کی بنیاد پر فیصلہ معلق رکھتے ہیں۔
الحاد کا تاریخی ارتقاء
الحاد کی تاریخ کو انسانی تہذیب کے مختلف ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: عہدِ قدیم: قدیم تاریخ میں خالص الحاد (خالق کا انکار) بہت کم ملتا ہے۔ فرعون اور نمرود جیسے لوگوں نے خالق کا انکار نہیں کیا تھا بلکہ اپنی الوہیت کا دعویٰ کیا تھا۔ یونانِ قدیم میں دیاغوراس (Diagoras) وہ پہلا شخص مانا جاتا ہے جس نے سرِعام دیوتاؤں کا انکار کیا۔ اس کے علاوہ کرسٹیاس، ڈیوجن اور تھیوڈورس جیسے نام بھی تاریخ میں ملتے ہیں جنہوں نے خالق کے وجود کی نفی کی۔
عہدِ وسطیٰ: یہ دور مذہب اور الہیات کے غلبے کا دور تھا، جہاں فلسفہ کلی طور پر مذہب کے تابع رہا۔ تاہم، اسی دور میں اسکالسٹس ازم(Scholasticism) یا مدرسی فلسفہ ابھرا، جس کا مقصد مذہبی عقائد کو افلاطون (Plato) اور ارسطو (Aristotle) کے فلسفے کے ذریعے عقلی بنیادیں فراہم کرنا تھا۔
عہدِ جدید (تحریکِ تنویر): سترہویں اور اٹھارہویں صدی میںتحریکِ تنویر (Enlightenment) کے بعد انسانی عقل کو وحی پر حاکم قرار دے دیا گیا۔ والٹیئر، رووسو اور ڈڈیرو جیسے مفکرین نے مذہب کی روایتی ہیئت پر سوالات اٹھائے۔ اس دور میں ڈی ازم (Deism) ایک مقبول فکری مذہب بن کر ابھرا، جس نے خدا کو ایک گھڑی ساز (Clockmaker) قرار دیا کہ خدا نے کائنات بنا کر اسے اپنے قوانین کے حوالے کر دیا اور خود الگ تھلگ ہو گیا۔

الحاد کی مختلف شکلیں

الحاد محض ایک سادہ انکار نہیں بلکہ اس کے کئی فکری رنگ ہیں
1. Philosophical Atheism (فلسفیانہ الحاد): جو فلسفیانہ موشگافیوں اور لایعنی بحثوں پر مبنی ہوتا ہے۔ اور فلسفیانہ دلائل کی بنیاد پر خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے ۔
2. Scientific Atheism (سائنسی الحاد): جدید سائنس، خصوصاً نظریہ ارتقاء کو بنیاد بنا کر خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے اور سائنس کو خدا کا متبادل سمجھتا ہے ۔
3. Strong Atheism / Positive Atheism (قوی الحاد): یقین کے ساتھ خدا کے وجود کا انکار اور اس کے حق میں دلائل دیتا ہے۔
4. Weak Atheism / Negative Atheism (ضعیف الحاد): یہ خدا پر ایمان نہیں رکھتا، مگر اس کی بھرپور تبلیغ یا دفاع بھی نہیں کرتا ہے۔
5. Absolute Atheism (مطلق الحاد): خدا، وحی، نبوت اور تمام مذاہب کا مکمل انکار کرتا ہے
6. Partial Atheism (جزوی الحاد): خدا کو خالق مانتا ہے، لیکن اس کی تدبیر، مداخلت یا ہدایت کا انکار کرتا ہے ۔
7.Agnosticism & Nihilism (لاأدریت و عدمیت): خدا یا آخرت کے بارے میں یقین کو ناممکن سمجھتا ہے اور زندگی کو بے مقصد تصور کرتا ہے ۔
8. Existential Atheism (وجودی الحاد): یعنی زندگی کے معنی اور مقصد کا تعین صرف انسان خود کرتا ہے، الٰہی رہنمائی اسکے لئے ضروری نہیں ہے۔
9. Seeking Atheism (یقین کی تلاش والا الحاد): شکوک و شبہات کی بنا پر تحقیق کرتے ہوئے عارضی طور پر الحاد کی طرف مائل ہوجانا۔
10. Reactionary / Revenge Atheism (انتقامی الحاد): مذہب یا مذہبی شخصیات کے تلخ تجربات کی وجہ سے مذہب سے نفرت پیدا ہو جانا اور پھر مذہب کا انکار کر بیٹھنا
11. Rebellious Atheism (تمردی الحاد): ہر قسم کی مذہبی یا سماجی اتھارٹی کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں الحاد اختیار کرنا۔
12.Communist Atheism (اشتراکی/کمیونسٹ الحاد): کمیونسٹ نظریے کی بنیاد پر مذہب کو معاشرے سے ختم کرنے کی کوشش کرنا۔
13.Escapist Atheism (مذہب سے فرار والا الحاد): مذہبی پابندیوں یا ذاتی مفادات کی وجہ سے دین کو چھوڑ دینا۔
14.Skepticism (شکاکیت): ہر چیز میں شک کرنا اورکسی عقیدے پر قطعی یقین کو نہ پہونچنا ۔
15. Gnostic Atheism ( علمیاتی الحاد) : اس میں ملحد پورے وثوق اور دعویٰ کے ساتھ خدا کی نفی کرتا ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ یہ کوئی دلیل ، منطق یا علم کی بنیاد پر انکار خدا کر رہا ہے۔

الحادِ نو (New Atheism) اور چار شہسوار ملحدین

اکیسویں صدی کے آغاز میں الحاد کی ایک نئی اور جارحانہ لہر اٹھی جسے الحادِ نو کہا جاتا ہے۔ اس کے چار اہم ستون ہیں جنہیں چار شہسوار (The Four Horsemen) کہا جاتا ہے:
1. ریچرڈ ڈوکنز (Richard Dawkins): اپنی کتابThe God Delusion کے ذریعے الحاد کو حیاتیاتی بنیادوں پر عام کیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مذہبی عقیدہ ایک وہم(Delusion) ہے۔
2. سیم ہیرس (Sam Harris)'The End of Faithکا مصنف، جو مذہب کو معاشرے کے لیے زہر سمجھتا ہے۔
3. کرسٹوفر ہچنز (Christopher Hitchens): اسکا دعویٰ تھا کہ مذہب ہر چیز کو زہریلا بنا دیتا ہے۔
4. ڈینیئل ڈینٹ (Daniel Dennett): اس نے مذہب کی نفسیاتی و ارتقائی تشریح پیش کی۔

الحاد کے اسباب و محرکات

تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ الحاد کے پیچھے ہمیشہ سائنسی دلائل نہیں ہوتے، بلکہ کئی نفسیاتی و سماجی عوامل کارفرما ہوتے ہیں:
خواہشات کی پیروی:بہت سے لوگ اخلاقی حدود سے فرار کے لیے الحاد کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔
نفسیاتی گرہیں: بچپن کی تلخ یادیں، مذہبی پیشواؤں کا غلط رویہ یا کسی عزیز کی موت پر خدا سے ناراضگی الحاد کا باعث بنتی ہے۔
سائنسی مغالطے: یہ سمجھ لینا کہ سائنس نے کائنات کے تمام اسرار حل کر دیے ہیں، حالانکہ خود نیوٹن جیسے سائنسدان خدا کے وجود کے قائل تھے۔
کِبر اور خود پسندی: اپنی عقل کو حرفِ آخر سمجھنا اور کسی اعلٰی ہستی کے سامنے جھکنے سے انکار کرنا۔

خلاصہ کلام

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
الحاد درحقیقت علم کی کمی، نفسیاتی الجھنوں یا نفسانی خواہشات کا نتیجہ ہے۔ جدید ملحدین جن سائنسی نظریات کا سہارا لیتے ہیں، وہ خود تضادات کا شکار ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ انسانیت کبھی بھی خدا کے تصور کے بغیر زندہ نہیں رہی، اور الحاد ہمیشہ سے ایک محدود اور منفی رجحان رہا ہے جو انسانی زندگی کو مقصدیت سے محروم کر دیتا ہے۔
محمد بلال مرکزی ماتریدی
خادم التدریس : جامعہ امام اعظم ابو حنیفہ لکھنؤ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Bilal Markazi Maturidi

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
94
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
Mufti Bilal Markazi Maturidi
زمرہ جات

مسافرانِ قلم اور وہم و گمان

دیوبندی مدارس کی زبوں حالی اور وہاں کے اساتذہ کا گھٹیا کردار دیوبندی قلم سے

الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ

پی ڈی ایف تیار ہو رہی ہے، برائے مہربانی انتظار کریں...

PDF ڈاؤنلوڈ ہوتے ہی یہ ونڈو بند ہو جائے گی۔

Jamiatur Raza Students Portal
Jamiatur Raza Students Portal
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ

قلمکار: Md Abul Kalam Azad Markazi

الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ

انسانی فکر و فلسفہ کی تاریخ میں خدا کے وجود کا تصور اور اس کا انکار، دونوں ہی قدیم ترین مباحث میں شامل رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف خالقِ کائنات پر ایمان لانے والوں کی طویل تاریخ ہے، وہیں دوسری جانب الحاد (Atheism) بھی ایک فکری مذہب کے طور پر موجود رہا ہے جو خالق ِکائنات کے وجود کی نفی کرتا ہے۔ تمام ماوراء الطبیعیات (Metaphysics) کا انکار کرتا ہے لیکن اس زمانہ میں الحاد ایک مستقل فکری مذہب کے طور پر بہت تیزی سے ابھر رہا ہے۔ ہم اس مضمون میں الحاد کے مفہوم، اس کی تاریخی جڑوں، مختلف اقسام اور عصرِ حاضر کے ملحدین کا مختصر تعارف پیش کریں گے۔

#الحاد کا لغوی و اصطلاحی مفہوم

عربی زبان میں لفظ الحادکا مادہ “ل ح د” ہے، جس کے لغوی معنی “قصد سے پھر جانا، عدول کرنا اور ٹیڑھا ہونا” ہیں۔ عربوں کے ہاں کسی بھی ایسی بدعت یا انحراف کو الحاد سے تعبیر کیا جاتا تھا جو حق سے ہٹ کر ہو۔
قرآنی تناظر میں: قرآن کریم میں لفظ الحادکا استعمال حق سے باطل کی طرف مائل ہونے کے معنی میں ، خالق کی نشانیوں کو جھٹلانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے “وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ ‘( الحج: ٢٥) اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔
“اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَاؕ” ( حم السجدة :٤٠) بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں سیدھی راہ سے ہٹتے ہیں وہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں ۔ “وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ-” (الأعراف: ١٤٠) اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے دور ہوتے ہیں۔

:Atheism انگریزی میں بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کے شروع میں اگر A لگا دیا جائے تو ان میں نفی کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔ Atheism بھی انہیں الفاظ میں سے ہے۔ یہ درحقیقت A+Theismہے، جب A کو Theism کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے تو Atheism بن جاتا ہے اور اس میں Theism کی نفی پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا Atheism کے لغوی معنی ہوئے: “تھیزم کا انکار”۔
اِتھیزم، تھیزم کا انکار ہے۔ یعنی جہاں تھیزم حقیقتِ مطلقہ یا خدا کے اقرار کا نام ہے، تو اِتھیزم حقیقتِ مطلقہ یا خدا کے انکار کا نام ہے۔ اِتھیزم کے حاملین کو ملحدین، Atheistsیا Non Believers کہا جاتا ہے۔ Atheism کے مترادفات میں Disbeliefاور Ir-religion مستعمل ہیں۔

Atheism کا اردو معنی *الحاد، لادینیت، لامذہبیت اور دہریت* سے کیا جاتا ہے۔ اور اسی طرح Atheist کو ملحد (جمع: ملحدین)، لادین، لامذہب اور دہریہ کہا جاتا ہے۔
Atheism کے مذکورہ تمام معانی مشکلات سے خالی نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی معنی اس کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا، لیکن چونکہ عرف میں یہ معانی مقبول ہیں، لہٰذا ہم بھی انہی پر اکتفا کریں گے۔
Atheism سے لغوی طور پر Theism کا انکار مراد ہے، اصطلاح میں Atheism سے مراد یہ نظریہ ہے کہ خدا یا مابعد الطبیعی حقیقتِ مطلقہ موجود نہیں جو حیات و کائنات کے اس نظام کی خالق ہو۔ یعنی وجودِ باری تعالیٰ کا انکار کرنا Atheism ہے۔
انگریزی لٹریچر میں Atheism سے مراد صرف وجودِ باری تعالیٰ کا انکار ہے۔ ایسا شخص جو خدا کے وجود کو نہیں مانتا وہ Atheist کہلاتا ہے۔ مغربی علمی حلقیات میں اگر کوئی شخص خدا کا منکر تو نہ ہو لیکن اسلام، عیسائیت، یہودیت غرض کسی بھی مذہب کو درست نہ مانتا ہو، تو Atheist نہیں کہا جاتا بلکہ ہر ہر نوعیت کے منکر کے لیے الگ الگ اصطلاح ہے۔ مثلاً اگر کوئی خدا کو تو مانتا ہے لیکن مذہب کو نہیں مانتا تو اسے اہلِ مغرب Deist کہتے ہیں اور اس تصور کو Deism کہا جاتا ہے۔

اس کے برعکس اسلامی لٹریچر میں “الحاد” کا تصور مغربی تصور سے قدرے مختلف ہے۔ مغرب میں الحاد صرف وجودِ باری تعالیٰ کے انکار سے خاص ہے، جبکہ اسلامی لٹریچر میں لفظ الحاد کسی بھی طرح کی گمراہی، ہٹ دھرمی، حق سے روگردانی وغیرہ سے عام ہے۔

#الحاد کی صطلاحی تعریف:

علمی و فکری اصطلاح میں الحاد وہ مذہب ہے جو کائنات کے خالق کے وجود کی مکمل نفی کرتا ہے۔ مغربی لٹریچر میں ‘Atheismسے مراد صرف وجودِ باری تعالیٰ کا انکار ہے، جبکہ اسلامی اصطلاح میں ہر وہ گمراہی جو دین کے بنیادی اصولوں سے انحراف پر مبنی ہو، الحاد کہلاتی ہے۔” (از- تاریخ الحادِ مغرب)

#الحاد سے متعلقہ دیگر اصطلاحات

*الحاد کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے اس سے وابستہ دیگر فکری زمروں کو جاننا ضروری ہے:*
*1. *لا دینیت (Irreligious): وہ لوگ جو کسی مذہب کے پابند نہیں ہوتے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ خدا کے وجود کے منکر ہوں۔
*2.* ضدِ دین (Antitheist):وہ ملحد جو نہ صرف خدا کا منکر ہو بلکہ مذہب اور مذہبی لوگوں کے خلاف جارحانہ رویہ رکھتا ہو۔
*3.* رِبوَبیت (Deism): یہ گروہ مانتا ہے کہ خدا نے کائنات پیدا کی ہے، لیکن وہ انسانوں سے وحی یا انبیاء کے ذریعے رابطہ نہیں کرتا۔
*4. * لا ادریت (Agnosticism): یہ فلسفہ کہتا ہے کہ انسانی عقل خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے نہ نفی؛ اس لیے اس کے بارے میں کچھ نہیں جانا جا سکتا۔
*5. *تشکک (Skepticism): وہ لوگ جو خدا کے وجود کے دلائل کو ناکافی سمجھتے ہیں اور شک کی بنیاد پر فیصلہ معلق رکھتے ہیں۔
الحاد کا تاریخی ارتقاء

الحاد کی تاریخ کو انسانی تہذیب کے مختلف ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: عہدِ قدیم: قدیم تاریخ میں خالص الحاد (خالق کا انکار) بہت کم ملتا ہے۔ فرعون اور نمرود جیسے لوگوں نے خالق کا انکار نہیں کیا تھا بلکہ اپنی الوہیت کا دعویٰ کیا تھا۔ یونانِ قدیم میں دیاغوراس (Diagoras) وہ پہلا شخص مانا جاتا ہے جس نے سرِعام دیوتاؤں کا انکار کیا۔ اس کے علاوہ کرسٹیاس، ڈیوجن اور تھیوڈورس جیسے نام بھی تاریخ میں ملتے ہیں جنہوں نے خالق کے وجود کی نفی کی۔
عہدِ وسطیٰ: یہ دور مذہب اور الہیات کے غلبے کا دور تھا، جہاں فلسفہ کلی طور پر مذہب کے تابع رہا۔ تاہم، اسی دور میں اسکالسٹس ازم(Scholasticism) یا مدرسی فلسفہ ابھرا، جس کا مقصد مذہبی عقائد کو افلاطون (Plato) اور ارسطو (Aristotle) کے فلسفے کے ذریعے عقلی بنیادیں فراہم کرنا تھا۔
عہدِ جدید (تحریکِ تنویر): سترہویں اور اٹھارہویں صدی میںتحریکِ تنویر (Enlightenment) کے بعد انسانی عقل کو وحی پر حاکم قرار دے دیا گیا۔ والٹیئر، رووسو اور ڈڈیرو جیسے مفکرین نے مذہب کی روایتی ہیئت پر سوالات اٹھائے۔ اس دور میں ڈی ازم (Deism) ایک مقبول فکری مذہب بن کر ابھرا، جس نے خدا کو ایک گھڑی ساز (Clockmaker) قرار دیا کہ خدا نے کائنات بنا کر اسے اپنے قوانین کے حوالے کر دیا اور خود الگ تھلگ ہو گیا۔

#الحاد کی مختلف شکلیں

الحاد محض ایک سادہ انکار نہیں بلکہ اس کے کئی فکری رنگ ہیں
*1.* Philosophical Atheism (فلسفیانہ الحاد): جو فلسفیانہ موشگافیوں اور لایعنی بحثوں پر مبنی ہوتا ہے۔ اور فلسفیانہ دلائل کی بنیاد پر خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے ۔
*2.* Scientific Atheism (سائنسی الحاد): جدید سائنس، خصوصاً نظریہ ارتقاء کو بنیاد بنا کر خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے اور سائنس کو خدا کا متبادل سمجھتا ہے ۔
*3.* Strong Atheism / Positive Atheism (قوی الحاد): یقین کے ساتھ خدا کے وجود کا انکار اور اس کے حق میں دلائل دیتا ہے۔
*4.* Weak Atheism / Negative Atheism (ضعیف الحاد): یہ خدا پر ایمان نہیں رکھتا، مگر اس کی بھرپور تبلیغ یا دفاع بھی نہیں کرتا ہے۔
*5.* Absolute Atheism (مطلق الحاد): خدا، وحی، نبوت اور تمام مذاہب کا مکمل انکار کرتا ہے
*6.* Partial Atheism (جزوی الحاد): خدا کو خالق مانتا ہے، لیکن اس کی تدبیر، مداخلت یا ہدایت کا انکار کرتا ہے ۔
*7.*Agnosticism & Nihilism (لاأدریت و عدمیت): خدا یا آخرت کے بارے میں یقین کو ناممکن سمجھتا ہے اور زندگی کو بے مقصد تصور کرتا ہے ۔
*8. *Existential Atheism (وجودی الحاد): یعنی زندگی کے معنی اور مقصد کا تعین صرف انسان خود کرتا ہے، الٰہی رہنمائی اسکے لئے ضروری نہیں ہے۔
*9.* Seeking Atheism (یقین کی تلاش والا الحاد): شکوک و شبہات کی بنا پر تحقیق کرتے ہوئے عارضی طور پر الحاد کی طرف مائل ہوجانا۔
*10.* Reactionary / Revenge Atheism (انتقامی الحاد): مذہب یا مذہبی شخصیات کے تلخ تجربات کی وجہ سے مذہب سے نفرت پیدا ہو جانا اور پھر مذہب کا انکار کر بیٹھنا
*11.* Rebellious Atheism (تمردی الحاد): ہر قسم کی مذہبی یا سماجی اتھارٹی کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں الحاد اختیار کرنا۔
*12.*Communist Atheism (اشتراکی/کمیونسٹ الحاد): کمیونسٹ نظریے کی بنیاد پر مذہب کو معاشرے سے ختم کرنے کی کوشش کرنا۔
*13.*Escapist Atheism (مذہب سے فرار والا الحاد): مذہبی پابندیوں یا ذاتی مفادات کی وجہ سے دین کو چھوڑ دینا۔
*14.*Skepticism (شکاکیت): ہر چیز میں شک کرنا اورکسی عقیدے پر قطعی یقین کو نہ پہونچنا ۔
*15.* Gnostic Atheism ( علمیاتی الحاد) : اس میں ملحد پورے وثوق اور دعویٰ کے ساتھ خدا کی نفی کرتا ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ یہ کوئی دلیل ، منطق یا علم کی بنیاد پر انکار خدا کر رہا ہے۔

#الحادِ نو (New Atheism) اور “چار شہسوار” ملحدین

اکیسویں صدی کے آغاز میں الحاد کی ایک نئی اور جارحانہ لہر اٹھی جسے الحادِ نو کہا جاتا ہے۔ اس کے چار اہم ستون ہیں جنہیں “چار شہسوار” (The Four Horsemen) کہا جاتا ہے:
*1. *ریچرڈ ڈوکنز (Richard Dawkins): اپنی کتابThe God Delusion کے ذریعے الحاد کو حیاتیاتی بنیادوں پر عام کیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مذہبی عقیدہ ایک وہم(Delusion) ہے۔
*2. * سیم ہیرس (Sam Harris)’The End of Faithکا مصنف، جو مذہب کو معاشرے کے لیے زہر سمجھتا ہے۔
*3.* کرسٹوفر ہچنز (Christopher Hitchens): اسکا دعویٰ تھا کہ مذہب ہر چیز کو زہریلا بنا دیتا ہے۔
*4. * ڈینیئل ڈینٹ (Daniel Dennett): اس نے مذہب کی نفسیاتی و ارتقائی تشریح پیش کی۔

#الحاد کے اسباب و محرکات

تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ الحاد کے پیچھے ہمیشہ سائنسی دلائل نہیں ہوتے، بلکہ کئی نفسیاتی و سماجی عوامل کارفرما ہوتے ہیں:
خواہشات کی پیروی:بہت سے لوگ اخلاقی حدود سے فرار کے لیے الحاد کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔
*نفسیاتی گرہیں:* بچپن کی تلخ یادیں، مذہبی پیشواؤں کا غلط رویہ یا کسی عزیز کی موت پر خدا سے ناراضگی الحاد کا باعث بنتی ہے۔
*سائنسی مغالطے: *یہ سمجھ لینا کہ سائنس نے کائنات کے تمام اسرار حل کر دیے ہیں، حالانکہ خود نیوٹن جیسے سائنسدان خدا کے وجود کے قائل تھے۔
*کِبر اور خود پسندی: *اپنی عقل کو حرفِ آخر سمجھنا اور کسی اعلٰی ہستی کے سامنے جھکنے سے انکار کرنا۔

#خلاصہ کلام

الحاد درحقیقت علم کی کمی، نفسیاتی الجھنوں یا نفسانی خواہشات کا نتیجہ ہے۔ جدید ملحدین جن سائنسی نظریات کا سہارا لیتے ہیں، وہ خود تضادات کا شکار ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ انسانیت کبھی بھی خدا کے تصور کے بغیر زندہ نہیں رہی، اور الحاد ہمیشہ سے ایک محدود اور منفی رجحان رہا ہے جو انسانی زندگی کو مقصدیت سے محروم کر دیتا ہے۔

محمد بلال مرکزی ماتریدی
خادم التدریس : جامعہ امام اعظم ابو حنیفہ لکھنؤ

مضمون آن لائن پڑھنے کے لیے اسکین کریں:

QR Code