صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
میرا محبوب
ادبیات

میرا محبوب

✍️ Mufti Nabeel zafar Purnavi Markazi

میرا محبوب
اس بھری کائنات میں ہر کوئی کسی نہ کسی سے دل لگائے بیٹھا ہے۔۔کوئی جب کسی کو دل دے بیٹھے تو پھر لالہ رخوں مہ جبینوں کا قافلہ سامنے سے گزر جائے وہ مست و بےخود دیوانہ نگاہ اٹھانے کی بھی زحمت نہیں کرتا۔۔محبوب کے دلنشیں چہرے کے سامنے کائنات کی ساری چیزیں پھیکی لگتی ہیں۔۔وہ چاہتا ہے محبوب سامنے رہے۔۔محبوب باتیں کرتے رہے۔
محبوب کی ہر ادا اسے سکون کی ٹھنڈک فراہم کرتی ہے۔۔محبوب جب مسکرائے اسے لگتا ہے کائنات کی ساری چیزیں مسکرا رہی ہیں۔۔ یو کہئے کائنات کی ساری رعنائیاں ایک ذات میں سمٹ کر آجاتی ہیں۔۔خیر سے میرا محبوب بھی یکتائے زمانہ ہے۔۔حسن و دلکشی میں بے مثال۔۔طرزِ معاشرت میں منفرد۔۔ایسا محبوب کہ ان جیسا محبوب دہر میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاؤگے کہیں نہیں پاؤگے۔۔ کمیاب نہیں نایاب ہے میرا محبوب۔۔اپنی مثال آپ ہے میرا محبوب۔۔۔جو ان کو ایک بار دیکھا دل ہار بیٹھا۔۔ایسا پیارا کہ ممکن ہی نہیں کہ ان کی طرف دل نہ کھنچے۔ وہ دلکشا محبوب جہاں جلوہ فگن ہوجائے۔۔رحمتوں کا مینہ برسے۔۔سمجھو وہاں خوشیوں کا جزیرہ آباد ہو جائے۔۔پتا ہے کون ہے وہ محبوب۔۔سنو بتاتا ہوں۔۔علوم و معارف کی بہتی گنگا۔۔اسمانِ فضل و کمال کا درخشندہ ستارہ۔۔شکستہ دلوں کا مضبوط سہارا ۔..رفعت و بلندی کا استعارہ۔۔استقامت کا کوہِ ہمالہ۔۔مردِ حق آگاہ۔۔۔ فقیہِ دوراں علامہ مفتی اختر رضا خاں ازہری نور اللہ مرقدہ۔
آپ کی شخصیت میں اللہ جل و علا نے کس قدر جاذبیت رکھی تھی کہ آپ کی آمد کی خبر سنتے ہی دیوانے دور دراز علاقے سے کشاں کشاں چلے آتے۔ایسی قدآور شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔آپ نے اپنی تابناک زندگی کا موقف دو ٹوک لفظوں میں بیان کرکے کہ ۔
نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کردیں
پدر مادر برادر مال و جاں ان پر فدا کردیں
ہم غلاموں کے ایمان کو محفوظ فرما دیا اور بتادیا کہ اے انسانی مخلوق دین و سنیت کی ترویج و اشاعت ہی تمہاری زندگی کا مقصد عظیم ہے
مسلکِ اعلی حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لئے
ملت فروشوں پر کاری ضرب لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا
صلح کلی نبی کا نہیں سنیوں
سنی مسلم ہے سچا نبی کے لئے
المختصر جاتے جاتے ارشاد فرمایا
اخترِ قادری خلد میں چل دیا
حضرت خلد بریں میں جاپہونچے--فداکاروں کی نگاہِ امید حضرت پر--حضرت ہم غلاموں کا کیا بنے گا--وہ بھی ہم غلاموں کو کہاں بے آسرا چھوڑنے والے فرمانے لگے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خلدوا ہے ہر اک قادری کے لئے
✍🏻نبیل ظفر پورنوی مرکزی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Nabeel zafar Purnavi Markazi

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
127
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
Mufti Nabeel zafar Purnavi Markazi
زمرہ جات

امام محمد بن حسن شیبانی اور فقہ حنفی کی خدمات

حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اخلاق کریمانہ

میرا محبوب - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

میرا محبوب

مضمون نگار: Mufti Noor Nawaz Nashid Markazi

میرا محبوب

اس بھری کائنات میں ہر کوئی کسی نہ کسی سے دل لگائے بیٹھا ہے۔۔کوئی جب کسی کو دل دے بیٹھے تو پھر لالہ رخوں مہ جبینوں کا قافلہ سامنے سے گزر جائے وہ مست و بےخود دیوانہ نگاہ اٹھانے کی بھی زحمت نہیں کرتا۔۔محبوب کے دلنشیں چہرے کے سامنے کائنات کی ساری چیزیں پھیکی لگتی ہیں۔۔وہ چاہتا ہے محبوب سامنے رہے۔۔محبوب باتیں کرتے رہے۔

محبوب کی ہر ادا اسے سکون کی ٹھنڈک فراہم کرتی ہے۔۔محبوب جب مسکرائے اسے لگتا ہے کائنات کی ساری چیزیں مسکرا رہی ہیں۔۔ یو کہئے کائنات کی ساری رعنائیاں ایک ذات میں سمٹ کر آجاتی ہیں۔۔خیر سے میرا محبوب بھی یکتائے زمانہ ہے۔۔حسن و دلکشی میں بے مثال۔۔طرزِ معاشرت میں منفرد۔۔ایسا محبوب کہ ان جیسا محبوب دہر میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاؤگے کہیں نہیں پاؤگے۔۔ کمیاب نہیں نایاب ہے میرا محبوب۔۔اپنی مثال آپ ہے میرا محبوب۔۔۔جو ان کو ایک بار دیکھا دل ہار بیٹھا۔۔ایسا پیارا کہ ممکن ہی نہیں کہ ان کی طرف دل نہ کھنچے۔ وہ دلکشا محبوب جہاں جلوہ فگن ہوجائے۔۔رحمتوں کا مینہ برسے۔۔سمجھو وہاں خوشیوں کا جزیرہ آباد ہو جائے۔۔پتا ہے کون ہے وہ محبوب۔۔سنو بتاتا ہوں۔۔علوم و معارف کی بہتی گنگا۔۔اسمانِ فضل و کمال کا درخشندہ ستارہ۔۔شکستہ دلوں کا مضبوط سہارا ۔..رفعت و بلندی کا استعارہ۔۔استقامت کا کوہِ ہمالہ۔۔مردِ حق آگاہ۔۔۔ فقیہِ دوراں علامہ مفتی اختر رضا خاں ازہری نور اللہ مرقدہ۔

آپ کی شخصیت میں اللہ جل و علا نے کس قدر جاذبیت رکھی تھی کہ آپ کی آمد کی خبر سنتے ہی دیوانے دور دراز علاقے سے کشاں کشاں چلے آتے۔ایسی قدآور شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔آپ نے اپنی تابناک زندگی کا موقف دو ٹوک لفظوں میں بیان کرکے کہ ۔

@نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کردیں
پدر مادر برادر مال و جاں ان پر فدا کردیں

ہم غلاموں کے ایمان کو محفوظ فرما دیا اور بتادیا کہ اے انسانی مخلوق دین و سنیت کی ترویج و اشاعت ہی تمہاری زندگی کا مقصد عظیم ہے

@مسلکِ اعلی حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لئے

ملت فروشوں پر کاری ضرب لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا

@صلح کلی نبی کا نہیں سنیوں
سنی مسلم ہے سچا نبی کے لئے
المختصر جاتے جاتے ارشاد فرمایا
اخترِ قادری خلد میں چل دیا

حضرت خلد بریں میں جاپہونچے–فداکاروں کی نگاہِ امید حضرت پر–حضرت ہم غلاموں کا کیا بنے گا–وہ بھی ہم غلاموں کو کہاں بے آسرا چھوڑنے والے فرمانے لگے

@خلدوا ہے ہر اک قادری کے لئے

✍🏻نبیل ظفر پورنوی مرکزی

Scan this QR code to read online:

QR Code