اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
🍎ملحد اور سیب کا مکالمہ🍎
اسلامیات

🍎ملحد اور سیب کا مکالمہ🍎

✍️ Md Asjad Husain Subhani

🍎ملحد اور سیب کا مکالمہ🍎
ایک ملحد شخص، جو کائنات کے وجود کو محض ایک حادثہ اور خدا کے تصور کو انسان کا وہم سمجھتا تھا،ایک دن ایک گھنے اور سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھا کائنات کی بے مقصدیت پر غور کررہا تھا۔
وہ گہری فکر میں محو تھا کہ اچانک ہوا کے ایک جھونکے نے درخت کی ٹہنیوں کو ہلایا۔ اس کی نظر اوپر گئی، جہاں پتوں کے جھرمٹ میں ایک نہایت ہی عمدہ، سرخ اور رسیلا سیب لٹک رہا تھا ۔ اس سیب کی شادابی دیکھ کر ملحد کے دل میں اسے کھانے  کی شدید رغبت پیدا ہوئی۔
اس نے حسرت سے اس بلندی پر لٹکے سیب کو دیکھا اور لاشعوری طور پر دل ہی دل میں ایک خواہش کی: کاش! کوئی ایسی غیبی صورت بن جاۓ کہ یہ سیب خود بخود اپنی ٹہنی سے ٹوٹے اور سیدھا میرے ہاتھوں میں آ گرے، تاکہ میں بغیر کسی محنت کے اس سے لطف اندوز ہوسکوں۔ابھی اس کے دل کے نہاں خانے میں یہ آرزو مچل ہی رہی تھی کہ اچانک ایک حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا۔اس بے جان سیب کے اندر سے ایک نہایت پر وقار، سنجیدہ اور گویا (بولتی ہوئی) آواز گونجی:اے انسان! تو اپنی اس ملحدانہ ہٹ دھرمی سے باز کیوں نہیں آتا؟
کیا تجھے محسوس نہیں ہوتا کہ تیرا پورا وجود، تیرا پورا ذہن اور تیری اصل انسانی فطرت ایک قادر مطلق خدا کی متلاشی ہے؟ مگر تو محض اپنی انا اور ضد کی وجہ سے اپنی ہی فطرت سے مسلسل جنگ لڑ رہا ہے اور اس کی اندرونی پکار پر کان نہیں دھر رہا۔ اپنی اس بے  جا‌ ضد کو چھوڑ دے، کائنات کے اس عظیم نظام پر غور کر اور اس واحد خالق کا پرستار ہوجا۔
ایک مادی چیز سے ایسی‌ شعوری اور عقل کو دنگ کردینے والی آواز سن کر ملحد اچھل پڑا۔ اس کے چہرے پر حیرت اور خوف کے تاثرات نمایاں ہو گئے۔ اس نے تھوک نگلتے ہوئے کپکپاتی آواز میں کہا: " یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں اپنی فطرت سے کہاں جھگڑ رہا ہوں؟ میں نے تو کوئی دعوی نہیں کیا، میں نے تو بس اس سیب کو پانے اور اسے کھانے کی ایک معصوم سی آرزو کی ہے بس!
      #         سیب نے ایک گہرا اور فلسفیانہ جواب دیا:
نادان انسان! یہی تو تمھارا سب سے بڑا تضاد ہے۔ ذرا غور تو کرو، تم نے یہ آرزو کس سے کی؟ تمھارے فلسفے اور نظریے کے مطابق تو یہ کائنات اندھی، بہری اور بے مقصد ہے۔ یہاں کوئی خدا ہے ہی نہیں جو دلوں کے بھید جانتا ہو۔ اگر تمھارا یہ نظریہ سچ تھا، تو تمھیں اس سیب کو حاصل  کرنے نے‌ کے‌ لیے‌ کسی مادی سبب (physical cause) کا انتظام کرنا چاہیے تھا ۔ تمہیں درخت پر چڑھنا چاہیے تھا، یا کوئی لاٹھی اٹھانی چاہیے تھی، یا پتھر مارنا چاہیے تھا، کیونکہ مادی‌ دنیا میں سبب کے بغیر مسبب (Effect)  پیدا نہیں ہوتا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
سیب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوۓ کہا: لیکن تمھارے دل نے بغیر کسی ظاہری سبب کے، خود بخود  اس سیب کے گرنے کی جوغیبی امید اور دعا کی، وہ اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ تمھارا لاشعور مادی أسباب سے بالاتر کسی ایسی ہستی پر یقین رکھتا ہے جو اسباب کے بغیر بھی چیزوں کو حرکت دینے پر قادر ہے۔ تمھاری زبان بھلے ہی خدا کا انکار کرے، لیکن تمھاری ،فطرت ، پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس کائنات کو چلانے والا، دلوں کی پکار سننے والا اور نظام ہستی کو ترتیب دینے والا ایک خدا موجود ہے۔ تم زبان سے ملحد ہو، مگر تمہارا لاشعور اب بھی مومن ہے۔
از محمد عسجد حسین السبحانی آستانۂ عالیہ سبحانیہ شیخن پوروہ لکھیم پور کھیری:   9151663241
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Md Asjad Husain Subhani

اس کاتب/شاعر کی تفصیل موجود نہیں ہے۔
60
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 5
Kalam 0
Md Asjad Husain Subhani
زمرہ جات

حضرتِ امام حسین علی جدہ وعلیہ السلام: اخلاقی محاسن و کمالات کے جامع

کتاب مستطاب “حسام الحرمین”کا تعارف اور اس کی تاریخی اہمیت

🍎ملحد اور سیب کا مکالمہ🍎 - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

🍎ملحد اور سیب کا مکالمہ🍎

مضمون نگار: Md Asjad Husain Subhani

🍎ملحد اور سیب کا مکالمہ🍎

*ایک ملحد شخص*، جو کائنات کے وجود کو محض ایک حادثہ اور خدا کے تصور کو انسان کا وہم سمجھتا تھا،ایک دن ایک گھنے اور سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھا کائنات کی بے مقصدیت پر غور کررہا تھا۔
وہ گہری فکر میں محو تھا کہ اچانک ہوا کے ایک جھونکے نے درخت کی ٹہنیوں کو ہلایا۔ اس کی نظر اوپر گئی، جہاں پتوں کے جھرمٹ میں ایک نہایت ہی عمدہ، سرخ اور رسیلا سیب لٹک رہا تھا ۔ اس سیب کی شادابی دیکھ کر ملحد کے دل میں اسے کھانے  کی شدید رغبت پیدا ہوئی۔

اس نے حسرت سے اس بلندی پر لٹکے سیب کو دیکھا اور لاشعوری طور پر دل ہی دل میں ایک خواہش کی: کاش! کوئی ایسی غیبی صورت بن جاۓ کہ یہ سیب خود بخود اپنی ٹہنی سے ٹوٹے اور سیدھا میرے ہاتھوں میں آ گرے، تاکہ میں بغیر کسی محنت کے اس سے لطف اندوز ہوسکوں۔ابھی اس کے دل کے نہاں خانے میں یہ آرزو مچل ہی رہی تھی کہ اچانک ایک حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا۔اس بے جان سیب کے اندر سے ایک نہایت پر وقار، سنجیدہ اور گویا (بولتی ہوئی) آواز گونجی:*اے انسان! تو اپنی اس ملحدانہ ہٹ دھرمی سے باز کیوں نہیں آتا؟*
کیا تجھے محسوس نہیں ہوتا کہ تیرا پورا وجود، تیرا پورا ذہن اور تیری اصل انسانی فطرت ایک قادر مطلق خدا کی متلاشی ہے؟ مگر تو محض اپنی انا اور ضد کی وجہ سے اپنی ہی فطرت سے مسلسل جنگ لڑ رہا ہے اور اس کی اندرونی پکار پر کان نہیں دھر رہا۔ اپنی اس بے  جا‌ ضد کو چھوڑ دے، کائنات کے اس عظیم نظام پر غور کر اور اس واحد خالق کا پرستار ہوجا۔

ایک مادی چیز سے ایسی‌ شعوری اور عقل کو دنگ کردینے والی آواز سن کر ملحد اچھل پڑا۔ اس کے چہرے پر حیرت اور خوف کے تاثرات نمایاں ہو گئے۔ اس نے تھوک نگلتے ہوئے کپکپاتی آواز میں کہا: ” یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں اپنی فطرت سے کہاں جھگڑ رہا ہوں؟ میں نے تو کوئی دعوی نہیں کیا، میں نے تو بس اس سیب کو پانے اور اسے کھانے کی ایک معصوم سی آرزو کی ہے بس!

      #         سیب نے ایک گہرا اور فلسفیانہ جواب دیا:

نادان انسان! یہی تو تمھارا سب سے بڑا تضاد ہے۔ ذرا غور تو کرو، تم نے یہ آرزو کس سے کی؟ تمھارے فلسفے اور نظریے کے مطابق تو یہ کائنات اندھی، بہری اور بے مقصد ہے۔ یہاں کوئی خدا ہے ہی نہیں جو دلوں کے بھید جانتا ہو۔ اگر تمھارا یہ نظریہ سچ تھا، تو تمھیں اس سیب کو حاصل  کرنے نے‌ کے‌ لیے‌ کسی مادی سبب (physical cause) کا انتظام کرنا چاہیے تھا ۔ تمہیں درخت پر چڑھنا چاہیے تھا، یا کوئی لاٹھی اٹھانی چاہیے تھی، یا پتھر مارنا چاہیے تھا، کیونکہ مادی‌ دنیا میں سبب کے بغیر مسبب (Effect)  پیدا نہیں ہوتا۔

*سیب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوۓ کہا:* لیکن تمھارے دل نے بغیر کسی ظاہری سبب کے، خود بخود  اس سیب کے گرنے کی جوغیبی امید اور دعا کی، وہ اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ تمھارا لاشعور مادی أسباب سے بالاتر کسی ایسی ہستی پر یقین رکھتا ہے جو اسباب کے بغیر بھی چیزوں کو حرکت دینے پر قادر ہے۔ تمھاری زبان بھلے ہی خدا کا انکار کرے، لیکن تمھاری ،فطرت ، پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس کائنات کو چلانے والا، دلوں کی پکار سننے والا اور نظام ہستی کو ترتیب دینے والا ایک خدا موجود ہے۔ تم زبان سے ملحد ہو، مگر تمہارا لاشعور اب بھی مومن ہے۔

از محمد عسجد حسین السبحانی آستانۂ عالیہ سبحانیہ شیخن پوروہ لکھیم پور کھیری:   9151663241

Scan this QR code to read online:

QR Code