صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کتاب مستطاب “حسام الحرمین”کا تعارف اور اس کی تاریخی اہمیت
تحقیق و تعاقب

کتاب مستطاب “حسام الحرمین”کا تعارف اور اس کی تاریخی اہمیت

✍️ Md Asjad Husain Subhani

کتاب مستطاب حسام الحرمینکا تعارف اور اس کی تاریخی اہمیت
امام اہلسنت مجد دین و ملت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز کی تصنیف لطیف حسام الحرمین علی منحر الفکر والمینتاریخ اسلام میں تحفظ ناموس رسالت اور پاسبانی ایمان کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جس نے حق و باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی ۔اور اس معرکہ آرا کتاب کا مطالعہ جہاں اعلی حضرت کے عشق رسول اور ملت اسلامیہ کے ایمان کو بچانے کے تئیں ان کے اضطراب کا منہ بولتا ثبوت ہے ،وہاں یہ امت مسلمہ کو گمراہ کن افکار سے بچانے کا ایک ناگزیر ذریعہ بھی ہے۔

علمائے حرمین کی تصدیقات اور فتویٰ کفر

جب بر صغیر کے بعض مولویاں جیسے(مولوی اشرف علی تھانوی،مولوی خلیل احمد انبیٹھوی،مولوی رشید أحمد گنگوہی اور مولوی قاسم نانوتوی )کی تصانیف ,(حفظ الایمان،براہین قاطعہ اور تحذیر الناس وغیرہ,)میں موجود توہین آمیز اور گستاخانہ عبارات حد اعتدال سے تجاوز کر گئیں،تو امام اہلسنت نے کمال احتیاط کے ساتھ ان صریح عبارات کو بعینہٖ حرمین شریفین کے جلیل القدر علماء اور مفتیان کرام کے رو برو پیش کیا۔ حرمین طیبین کے اکابر علماء نے جب ان عبارات کی غلاظت اور گستاخی کو دیکھا، تو انہوں نے بلا جھجھک ان کلمات کے قائلین پر حکم کفر صادر فرمایا،اور ساتھ ہی یہ شرعی أصول بھی واضح کیا کہ جو شخص ان کے صریح کفر کو جاننے کے بعد بھی ان کے کفر و عذاب میں شک کرے،وہ بھی دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔

مخالفین کا مکر اورالمھندکی حقیقت

حسام الحرمین کی اشاعت کے بعد جب مخالفین کا دجل طشت از بام ہوا، تو انہوں نے الٹے چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق،اپنی غلاظتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مکر و فریب کا سہارا لیا۔انہوں نے انڈیا کے مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کی کہ معاذ اللہ اعلیٰ حضرت نے علماء حرمین کے سامنے عبارات کو بدل کر پیش کیا۔اپنے‌ اس‌ دجل‌ کو چھپانے کے لیے انہوں نے المھند علی المفندنامی ایک کتابچہ تیار کیا،جس میں انہوں نے حرمین کے علماء کے سامنے اپنے حقیقی عقائد پیش کرنے کے بجاۓ،عبارات میں لفظی و معنوی ہیر پھیر کی اور خود کو خالص سنی ظاہر کرکے دھوکے سے مہریں ثبت کروائیں۔

المھند کے بطلان کے واضح شواہد

کتاب المھند کی علمی و فکری حیثیت کا بطلان خود اس کے اندرونی شواہد سے عیاں ہے۔
٠پہلی بات:مکہ مکرمہ کے مفتئ حنفیہ(جن کی جلیل القدر تقریظ حسام الحرمین میں موجود ہے)نے انبیٹھوی صاحب کے مکرو فریب سے واقف ہونے کی بنا پر المھندپر دستخط اور مہر ثبت کرنے سے صاف انکار فرما دیا تھا۔
٠دوسری بات: مفتئ مالکیہ اور ان کے بھائی نے اگرچہ مخالفین کی سعی اور ظاہری تاویلات کی وجہ سے ابتداء تصدیق کی تھی،مگر بعد میں جیسے ہی انہیں حقیقت کا علم ہوا، انہوں نے بحیلۂ تقویت اپنی تصدیقات واپس لے لیں اور پھر کبھی رجوع نہ کیا۔ ایسی صورت میں ان منسوخ تصدیقات کو کتاب کا حصہ بناکر چھاپنا دیانت علمیہ کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔
ایک بنیادی اور اصولی سوال یہاں ایک سادہ سا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر علمائے حرمین نے حسام الحرمین میں دیے گئے فتاوی بالفرض جلد بازی یا بغیر غور و فکر کے دیے ہوتے(جیسا کہ مخالفین پروپیگنڈا کرتے ہیں)،تو جب اُنہیں حقیقت کا پتہ چلا تو انہوں نے حسام الحرمین سے اپنی براءت یا رجوع کا کوئی تحریری اعلان کیوں نہ کیا؟ یقیناً انہوں نے کوئی رجوع نہیں کیا، کیونکہ حسام الحرمین میں عبارات بعینہٖ پیش کی گئی تھیں جبکہ المھند میں تقیہ اور تاویل سے کام لیا گیا تھا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
المھند میں شائع شدہ کسی بھی تصدیق میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ تھانوی،گنگوہی،انبیٹھوی اور نانوتوی صاحبان اپنی ان مخصوص عبارات قطعیہ کے قائل و معتقد ہونے کے باوجود بھی مسلمان ہیں۔
لہٰذا، حسام الحرمین کے فتاویٰ آج بھی حق اور قابل عمل ہیں،اور مخالفین کا واویلا محض اپنے عوام کو مطمئن کرنے کا ایک ناکام دجالی حربہ ہے
از✒️ محمد عسجد حسین السبحانی
آستانۂ عالیہ سبحانیہ شیخن پوروہ لکھیم پور کھیری
9151663241
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Md Asjad Husain Subhani

اس کاتب/شاعر کی تفصیل موجود نہیں ہے۔
56
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 5
Kalam 0
Md Asjad Husain Subhani
زمرہ جات

🍎ملحد اور سیب کا مکالمہ🍎

انسانی لبادے میں خونخوار درندے

کتاب مستطاب “حسام الحرمین”کا تعارف اور اس کی تاریخی اہمیت - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

کتاب مستطاب “حسام الحرمین”کا تعارف اور اس کی تاریخی اہمیت

مضمون نگار: Md Asjad Husain Subhani

کتاب مستطاب “حسام الحرمین”کا تعارف اور اس کی تاریخی اہمیت

امام اہلسنت مجد دین و ملت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز کی تصنیف لطیف “حسام الحرمین علی منحر الفکر والمین”تاریخ اسلام میں تحفظ ناموس رسالت اور پاسبانی ایمان کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جس نے حق و باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی ۔اور اس معرکہ آرا کتاب کا مطالعہ جہاں اعلی حضرت کے عشق رسول اور ملت اسلامیہ کے ایمان کو بچانے کے تئیں ان کے اضطراب کا منہ بولتا ثبوت ہے ،وہاں یہ امت مسلمہ کو گمراہ کن افکار سے بچانے کا ایک ناگزیر ذریعہ بھی ہے۔

#علمائے حرمین کی تصدیقات اور فتویٰ کفر

جب بر صغیر کے بعض مولویاں جیسے*(مولوی اشرف علی تھانوی،مولوی خلیل احمد انبیٹھوی،مولوی رشید أحمد گنگوہی اور مولوی قاسم نانوتوی )کی تصانیف ,(حفظ الایمان،براہین قاطعہ اور تحذیر الناس وغیرہ,)*میں موجود توہین آمیز اور گستاخانہ عبارات حد اعتدال سے تجاوز کر گئیں،تو امام اہلسنت نے کمال احتیاط کے ساتھ ان صریح عبارات کو بعینہٖ حرمین شریفین کے جلیل القدر علماء اور مفتیان کرام کے رو برو پیش کیا۔ حرمین طیبین کے اکابر علماء نے جب ان عبارات کی غلاظت اور گستاخی کو دیکھا، تو انہوں نے بلا جھجھک ان کلمات کے قائلین پر حکم کفر صادر فرمایا،اور ساتھ ہی یہ شرعی أصول بھی واضح کیا کہ جو شخص ان کے صریح کفر کو جاننے کے بعد بھی ان کے کفر و عذاب میں شک کرے،وہ بھی دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔

#مخالفین کا مکر اور”المھند”کی حقیقت

حسام الحرمین کی اشاعت کے بعد جب مخالفین کا دجل طشت از بام ہوا، تو انہوں نے الٹے چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق،اپنی غلاظتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مکر و فریب کا سہارا لیا۔انہوں نے انڈیا کے مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کی کہ معاذ اللہ اعلیٰ حضرت نے علماء حرمین کے سامنے عبارات کو بدل کر پیش کیا۔اپنے‌ اس‌ دجل‌ کو چھپانے کے لیے انہوں نے “المھند علی المفند”نامی ایک کتابچہ تیار کیا،جس میں انہوں نے حرمین کے علماء کے سامنے اپنے حقیقی عقائد پیش کرنے کے بجاۓ،عبارات میں لفظی و معنوی ہیر پھیر کی اور خود کو خالص سنی ظاہر کرکے دھوکے سے مہریں ثبت کروائیں۔

#المھند کے بطلان کے واضح شواہد

کتاب “المھند “کی علمی و فکری حیثیت کا بطلان خود اس کے اندرونی شواہد سے عیاں ہے۔
٠پہلی بات:مکہ مکرمہ کے مفتئ حنفیہ(جن کی جلیل القدر تقریظ حسام الحرمین میں موجود ہے)نے انبیٹھوی صاحب کے مکرو فریب سے واقف ہونے کی بنا پر “المھند”پر دستخط اور مہر ثبت کرنے سے صاف انکار فرما دیا تھا۔
٠دوسری بات: مفتئ مالکیہ اور ان کے بھائی نے اگرچہ مخالفین کی سعی اور ظاہری تاویلات کی وجہ سے ابتداء تصدیق کی تھی،مگر بعد میں جیسے ہی انہیں حقیقت کا علم ہوا، انہوں نے بحیلۂ تقویت اپنی تصدیقات واپس لے لیں اور پھر کبھی رجوع نہ کیا۔ ایسی صورت میں ان منسوخ تصدیقات کو کتاب کا حصہ بناکر چھاپنا دیانت علمیہ کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔

*ایک بنیادی اور اصولی سوال * یہاں ایک سادہ سا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر علمائے حرمین نے حسام الحرمین میں دیے گئے فتاوی بالفرض جلد بازی یا بغیر غور و فکر کے دیے ہوتے(جیسا کہ مخالفین پروپیگنڈا کرتے ہیں)،تو جب اُنہیں حقیقت کا پتہ چلا تو انہوں نے حسام الحرمین سے اپنی براءت یا رجوع کا کوئی تحریری اعلان کیوں نہ کیا؟ یقیناً انہوں نے کوئی رجوع نہیں کیا، کیونکہ حسام الحرمین میں عبارات بعینہٖ پیش کی گئی تھیں جبکہ المھند میں تقیہ اور تاویل سے کام لیا گیا تھا۔

المھند میں شائع شدہ کسی بھی تصدیق میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ تھانوی،گنگوہی،انبیٹھوی اور نانوتوی صاحبان اپنی ان مخصوص عبارات قطعیہ کے قائل و معتقد ہونے کے باوجود بھی مسلمان ہیں۔
لہٰذا، حسام الحرمین کے فتاویٰ آج بھی حق اور قابل عمل ہیں،اور مخالفین کا واویلا محض اپنے عوام کو مطمئن کرنے کا ایک ناکام دجالی حربہ ہے

از✒️ محمد عسجد حسین السبحانی
آستانۂ عالیہ سبحانیہ شیخن پوروہ لکھیم پور کھیری
9151663241

Scan this QR code to read online:

QR Code