اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
​کتابِ مستطاب “زلزلہ” کا تعارف و تبصرہ
تاثرات

​کتابِ مستطاب “زلزلہ” کا تعارف و تبصرہ

✍️ Md Asjad Husain Subhani

​کتابِ مستطاب زلزلہ کا تعارف و تبصرہ
​چند روز قبل میں نے کتاب زلزلہ کے مطالعے کا آغاز کیا تھا، جس کے اختتام پر میں نے ضروری سمجھا کہ اس معرکہ آرا کتاب کا کچھ تعارف آپ احباب کے سامنے پیش کروں۔ اس کتاب کے مصنف رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ہیں، اور یہ کتاب تقریباً 247 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی تحقیق و تحشیہ کا کام آپ کے صاحبزادے ڈاکٹر غلام زرقانی صاحب نے انجام دیا ہے، اور یہ جدید ایڈیشن کے ساتھ دار الکتاب، دہلی سے شائع ہوئی ہے۔
​اس کتاب میں علامہ موصوف علیہ الرحمہ نے علمائے دیوبند کے ان باطل عقائد و نظریات کی علمی گرفت کی ہے، جن عقائد کو اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ثابت کریں تو وہ ہم پر شرک و کفر کے فتاوے چسپاں کرتے ہیں، مگر وہی عقائد اپنے گرو گھنٹالوں کے لیے ثابت کرنے میں انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے۔ علامہ ارشد القادری صاحب کا اندازِ بیاں اتنا دلکش اور اچھوتا ہے کہ پڑھتے وقت قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علامۂ موصوف نے شکر میں لپیٹی ہوئی چھری ان کے باطل عقائد و نظریات پر پھیری ہے۔ آپ نے اپنے نوکِ قلم سے وہابیت پر ایسی کاری ضرب لگائی ہے کہ وہ آج تک اس کتاب کا جواب نہ دے سکے۔
​آپ کا اس کتاب کو لکھنے کا اسلوب یہ ہے کہ پہلے علمائے دیوبند کی عبارات کو نقل کرتے ہیں، پھر ان عبارات پر بحیثیتِ معترض علمی اعتراض کرتے ہیں، اور اس کے بعد ان کی عبارات میں موجود باہمی تضاد کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ کتاب پہلی مرتبہ طبع ہوئی تو اسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور یہ بیرونی ممالک کی لائبریریوں کی زینت بھی بنی۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
​دیوبندی مکتبِ فکر کے ایک نامور عالم اور ماہنامہ تجلی دیوبند کے مدیر، مولانا عامر عثمانی نے اس کتاب پر ایک تبصرہ لکھا تھا۔ اس تبصرے میں انہوں نے جہاں کتاب زلزلہ کی علمی حیثیت کی تعریف کی، وہیں اپنی روایتی جھنجھلاہٹ میں اس پر کچھ ریمارکس بھی دیے۔ مگر علامہ ارشد القادری صاحب نے حج کے سفر سے واپسی کے بعد جوابِ تبصرہ میں انتہائی احسن انداز میں ان کے ایک ایک اعتراض کا دندان شکن جواب دیا۔ ​ان تمام باتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، اب میں آپ کی توجہ اس دلچسپ بات کی طرف لانا چاہتا ہوں جو مولانا عامر عثمانی نے اپنے ہی گروہ کے علماء پر طنز کرتے ہوئے لکھی تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ زلزلہ کے مصنف نے بار بار اپنی کتاب میں علمائے دیوبند سے اس تضاد کا جواب مانگا ہے، مگر کسی سے بھی اس کا جواب نہ بن پایا—اور جواب دیا بھی کیا جا سکتا ہے جو ایک ناقابلِ تردید صداقت کی حیثیت رکھتا ہو! بہت زیادہ ادھر ادھر ہاتھ پیر مارنے کے بعد، جب اس حقیقت کا کوئی جواب نہ بن سکا تو عامر عثمانی صاحب نے آخر میں یہ تاریخی فیصلہ سنا دیا کہ: ​ہمارے نزدیک جان چھڑانے کی ایک ہی راہ ہے، وہ یہ کہ یا تو تقویۃ الایمان، فتاویٰ رشیدیہ، فتاویٰ امدادیہ اور بہشتی زیور، حفظ الایمان جیسی کتابوں کو چوراہے پر رکھ کر آگ دے دی جائے...
​یہ بہت بڑی بات ہے! جس محاذ پر پنجہ آزمائی کے لیے اس وقت سے لے کر آج تک کوئی دیوبندی عالم کھڑا ہونے کی جرات نہ کر سکا، اس محاذ کے خلاف آنجناب (مولانا عامر عثمانی) نے قلم اٹھا کر اپنی جماعت کے تحفظ کے لیے انتہائی جرات مندانہ اور تاریخی کردار کا مظاہرہ کیا۔ ​میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ہر خاص و عام کو بالخصوص اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے تاکہ علمائے دیوبند کے اصل عقائد و نظریات ہم پر منکشف ہو سکیں اور ہم خود کو ان کے فریب سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس کتاب کے مطالعے سے جہاں آپ کو علمی و تحقیقی فائدہ حاصل ہوگا،وہیں زبان و ادب کا شعور اور اردو الفاظ کا ایک بہترین ذخیرہ بھی میسر آئے گا۔
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Md Asjad Husain Subhani

اس کاتب/شاعر کی تفصیل موجود نہیں ہے۔
65
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 5
Kalam 0
Md Asjad Husain Subhani
زمرہ جات

اعلٰی حضرت اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر

حضرتِ امام حسین علی جدہ وعلیہ السلام: اخلاقی محاسن و کمالات کے جامع

​کتابِ مستطاب “زلزلہ” کا تعارف و تبصرہ - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

​کتابِ مستطاب “زلزلہ” کا تعارف و تبصرہ

مضمون نگار: Md Asjad Husain Subhani

​کتابِ مستطاب “زلزلہ” کا تعارف و تبصرہ

​چند روز قبل میں نے کتاب “زلزلہ” کے مطالعے کا آغاز کیا تھا، جس کے اختتام پر میں نے ضروری سمجھا کہ اس معرکہ آرا کتاب کا کچھ تعارف آپ احباب کے سامنے پیش کروں۔ اس کتاب کے مصنف رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ہیں، اور یہ کتاب تقریباً 247 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی تحقیق و تحشیہ کا کام آپ کے صاحبزادے ڈاکٹر غلام زرقانی صاحب نے انجام دیا ہے، اور یہ جدید ایڈیشن کے ساتھ “دار الکتاب، دہلی” سے شائع ہوئی ہے۔

​اس کتاب میں علامہ موصوف علیہ الرحمہ نے علمائے دیوبند کے ان باطل عقائد و نظریات کی علمی گرفت کی ہے، جن عقائد کو اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ثابت کریں تو وہ ہم پر شرک و کفر کے فتاوے چسپاں کرتے ہیں، مگر وہی عقائد اپنے گرو گھنٹالوں کے لیے ثابت کرنے میں انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے۔ علامہ ارشد القادری صاحب کا اندازِ بیاں اتنا دلکش اور اچھوتا ہے کہ پڑھتے وقت قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علامۂ موصوف نے شکر میں لپیٹی ہوئی چھری ان کے باطل عقائد و نظریات پر پھیری ہے۔ آپ نے اپنے نوکِ قلم سے وہابیت پر ایسی کاری ضرب لگائی ہے کہ وہ آج تک اس کتاب کا جواب نہ دے سکے۔
​آپ کا اس کتاب کو لکھنے کا اسلوب یہ ہے کہ پہلے علمائے دیوبند کی عبارات کو نقل کرتے ہیں، پھر ان عبارات پر بحیثیتِ معترض علمی اعتراض کرتے ہیں، اور اس کے بعد ان کی عبارات میں موجود باہمی تضاد کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ کتاب پہلی مرتبہ طبع ہوئی تو اسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور یہ بیرونی ممالک کی لائبریریوں کی زینت بھی بنی۔

​دیوبندی مکتبِ فکر کے ایک نامور عالم اور ماہنامہ “تجلی” دیوبند کے مدیر، مولانا عامر عثمانی نے اس کتاب پر ایک تبصرہ لکھا تھا۔ اس تبصرے میں انہوں نے جہاں کتاب “زلزلہ” کی علمی حیثیت کی تعریف کی، وہیں اپنی روایتی جھنجھلاہٹ میں اس پر کچھ ریمارکس بھی دیے۔ مگر علامہ ارشد القادری صاحب نے حج کے سفر سے واپسی کے بعد “جوابِ تبصرہ” میں انتہائی احسن انداز میں ان کے ایک ایک اعتراض کا دندان شکن جواب دیا۔ ​ان تمام باتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، اب میں آپ کی توجہ اس دلچسپ بات کی طرف لانا چاہتا ہوں جو مولانا عامر عثمانی نے اپنے ہی گروہ کے علماء پر طنز کرتے ہوئے لکھی تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ “زلزلہ” کے مصنف نے بار بار اپنی کتاب میں علمائے دیوبند سے اس تضاد کا جواب مانگا ہے، مگر کسی سے بھی اس کا جواب نہ بن پایا—اور جواب دیا بھی کیا جا سکتا ہے جو ایک ناقابلِ تردید صداقت کی حیثیت رکھتا ہو! بہت زیادہ ادھر ادھر ہاتھ پیر مارنے کے بعد، جب اس حقیقت کا کوئی جواب نہ بن سکا تو عامر عثمانی صاحب نے آخر میں یہ تاریخی فیصلہ سنا دیا کہ: ​*ہمارے نزدیک جان چھڑانے کی ایک ہی راہ ہے، وہ یہ کہ یا تو تقویۃ الایمان، فتاویٰ رشیدیہ، فتاویٰ امدادیہ اور بہشتی زیور، حفظ الایمان جیسی کتابوں کو چوراہے پر رکھ کر آگ دے دی جائے…*

​یہ بہت بڑی بات ہے! جس محاذ پر پنجہ آزمائی کے لیے اس وقت سے لے کر آج تک کوئی دیوبندی عالم کھڑا ہونے کی جرات نہ کر سکا، اس محاذ کے خلاف آنجناب (مولانا عامر عثمانی) نے قلم اٹھا کر اپنی جماعت کے تحفظ کے لیے انتہائی جرات مندانہ اور تاریخی کردار کا مظاہرہ کیا۔ ​میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ہر خاص و عام کو بالخصوص اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے تاکہ علمائے دیوبند کے اصل عقائد و نظریات ہم پر منکشف ہو سکیں اور ہم خود کو ان کے فریب سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس کتاب کے مطالعے سے جہاں آپ کو علمی و تحقیقی فائدہ حاصل ہوگا،وہیں زبان و ادب کا شعور اور اردو الفاظ کا ایک بہترین ذخیرہ بھی میسر آئے گا۔

Scan this QR code to read online:

QR Code