صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
نقوش حیات غوث اعظم رضی اللہ عنہ اور واقعات مخترعہ کی تردید
شخصیات اسلاف واخلاف

نقوش حیات غوث اعظم رضی اللہ عنہ اور واقعات مخترعہ کی تردید

✍️ Irbaz Markazi

نقوش حیات غوث اعظم رضی اللہ عنہ اور واقعات مخترعہ کی تردید
قطب الاقطاب غوث الاغواث غیاث الدارین و غوث الثقلین قرۃ عین مصطفوی و نور دیدۂ مرتضوی محبوب سبحانی حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر الجیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ولادت باسعادت ٤٧٠ھ/ ١٠٧٨ء میں گیلان (جیلان) نزد بغداد میں ہوئی۔ (شاہ جیلان و بہجۃ الاسرار شریف)
آپ نجیب الطرفین ہیں، آپ کا سلسلۂ نسب والد گرامی حضرت سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رضی اللہ عنہ کے واسطے سے امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ تک اور والدہ ماجدہ، سیدہ ام الخیر فاطمہ بنت سید عبداللہ صومعی کے توسط سے امام حسین رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپکے والدین کریمین انتہائی متقی و خدا ترس تھے۔
یوں آپ کی ذات گرامی میں دونوں گلستانوں کی خوشبو یکجا ہوئی، اور حضرات حسننین کریمین علیہما الرضوان کی نسبتوں کے انوار آپ کے وجود مسعود میں جمع ہو گئے۔ یہ جمعیت‌ کمال ایسا تاج ہے جو بہت ہی کم سعادت مند ہستیوں کے سر پر سجایا جاتا ہے، اور یہ وہ نعمت عظمیٰ ہے جو صرف برگزیدہ نفوس کو نصیب ہوا کرتی ہے۔
احترام شریعت___شرعیت مطہرہ کی رو سے نابالغ بچے پر احکام شریعت نافذ نہیں ہوتے ہیں چونکہ سیدنا غوث اعظم مادرزاد ولی تھے۔ یہی سبب ہے کہ ایام شیرخوارگی میں بھی آپ رمضان المبارک کے تقدس و حرمت کے پیش نظر دن کے وقت دودھ نوش نہ فرماتے۔
آپ کی والدہ ماجدہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
میرا بیٹا عبدالقادر رمضان کے دنوں میں دودھ نہیں پیتا تھا۔ایک بار ایسا ہوا کہ رمضان المبارک کا چاند پوشیدہ رہا اور اہلیان شہر کو شک لاحق ہوا۔ لوگوں نے دریافت کیا تو والدہ ماجدہ نے فرمایا:آج میرے لخت جگر نے دودھ نہیں پیا۔
بعد میں تحقیق ہوئی تو وہ دن فی الواقع رمضان ہی کا پہلا دن تھا۔ یوں جیلان کے اطراف میں یہ خبر بجلی کی مانند پھیل گئی کہ سادات کے اس مقدس خانوادے میں ایسا نورانی بچہ تولد ہوا ہے جو ماہ رمضان کی عظمت و حرمت میں شیرخوارگی کے عالم میں بھی روزہ داروں کی طرح ضبط نفس رکھتا ہے۔
تحصیل علم____ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ٤٨٨ھ/١٠٩٥ء میں، جبکہ عمر مبارک کی صرف اٹھارہ بہاریں گزری تھیں، طلب علم کے سفر کا آغاز فرمایا اور بغداد کی علمی فضاؤں کا رُخ کیا ( مقدمہ غنیۃ الطالبین ص ٣٧)
قرآن مجید کے بحر بیکراں میں تدبر و تفکر کے غواص بن کر گوہر معانی سمیٹے، پھر بغداد کے نابغۂ روزگار علماء و فضلا کے گلشن علم میں داخل ہو کر فقہ، حدیث ،تفسیر اور تصوف کے نکہت بار علوم کو اپنے قلب و جگر کی خاک میں بویا۔ سینۂ مبارک ان انوار سے ایسا منور ہوا کہ گویا چراغ ہدایت بن گیا جس سے آج تک ارباب عشق و محبّت کے قلوب مجلی و تابناک ہیں۔
کمال تدریس___ حضرت محبوب سبحانی رضی اللہ عنہ نے جب درس و تدریس کا سلسلہ شروع فرمایا تو وقت کے مسلّم علماء فقہاء و محدثین آپ کی زبان مبارک سے علوم ظاہری و باطنی کی تحصیل کے لئے حاضر خدمت رہا کرتے دور دراز سے تشنگان علم اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے آپکے چشمۂ علوم و عرفان سے بہرہ مندی کے لئے آپ کی بارگاہ میں جوق در جوق جمع ہوتے‌، چونکہ آپ علوم ظاہری و باطنی کے جامع تھے اس لئے جب تک آپ بقید حیات رہے طلبہ کرام کو کسی اور عالم کے پاس جانے کی حاجت در پیش نہ آئی۔
فیضان ولایت کی موسلا دھار بارش نے سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کو علم و فضل کے اعلیٰ و اکمل مرتبہ پر پہنچا دیا تھا آپ رضی اللہ عنہ ١٣ علوم و فنون میں کلام فرمایا کرتے تھے صبح و شام میں فقہ،علوم حدیث،تفسیر، اصول اور نحو کا درس دیا کرتے تھے، ظہر کے بعد قرآن مجید تجوید کے ساتھ قرأت سبعہ کے مطابق پڑھایا کرتے تھے (بہجۃ الاسرار ص ٣٥)
آپ ہمیشہ سے حنبلی مسلک کے مقلد تھے، اور اسی کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے، اس سلسلے میں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ پہلے حنفی مسلک کے مقلد تھے اور حنفی مسلک کو چھوڑ کر بعد میں حنبلی مسلک کے مقلد ہو گۓ یہ سراسر غلط اور من گھڑت ہے
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی فرماتے ہیں کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے اس لئے کہ حضور ہمیشہ سے حنبلی تھے،اور بعد کو جب عین الشریعۃ الکبری تک پہنچ کر منصب اجتہاد مطلق حاصل ہوا مذہب حنبلی کو کمزور ہوتا دیکھ کر اسی کے مطابق فتویٰ دیا کہ حضور محی الدین اور دین متین کے یہ چارو ستون ہیں لوگوں کی طرف سے جس ستون میں ضعف آتا دیکھا اسکی تقویت فرمائی۔ (فتاویٰ رضویہ جلد٢٦ صفحہ ٤٣٣)
آپ کی بارگاہ میں ایسے استفتاء آتے جن کے جواب سے دیگر علما عاجز رہ جاتے اور آپ بلا غور و فکر اپنے قلم سے ایسا جواب عنایت فرماتے کہ علماء عراق آپ کی حاضر جوابی پر حیران و ششدر رہتے اور ورطۂ‌ استعجاب میں چلے جاتے آپ کے ارشادات سن کر بڑے بڑے اصحاب کمال، اساطین علم و فن اپنے عجز اور کم مائگی کے اعتراف پر مجبور ہو جاتے یہ اللہ تعالٰی کا آپ پر احسان عظیم اور فضل جزیل تھا۔
آپ کا شمار اولیاء کبار و صوفیاء عظام میں ہوتا ہے
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ آفتاب ولایت کی وہ درخشندہ کرن ہیں جس کی تابانی سے تمام اولیاء اللہ روشنی طلب کرنے کے واسطے آپ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ خود عین آفتاب ہیں کہ جسکی تابانی کے بغیر روشنی کا حصول ممکن نہیں
آپ چمنستان معرفت و طریقت کے وہ خوشنما پھول ہیں جسکی معطر خوشبو سے اہل معرفت و طریقت کے دل و جان مہک اٹھتے ہیں
آپ رضی اللہ عنہ علوم عقلیہ و نقلیہ کے وہ بحر بیکراں ہیں جس کی دھاروں سے تشنگان علم اپنی پیاس بجھاتے ہیں
آپ کی بارگاہ، فیضان و کرم اور جود و سخا کا وہ بے پایاں بحر بے کنار ہے کہ جس کی ہر ایک موج سے تشنہ دل حکمت و معرفت کے جواہر سے مالامال ہو جاتے ہیں۔ رب کریم جل جلالہ ہر دور میں ایک غوث مطلق کو مبعوث فرماتا ہے تاکہ نظام عالم اپنے حسین ترین توازن کے ساتھ قائم رہے۔ یہ وہی ربانی منصب ہے جس پر آپ کو فائز فرمایا گیا—غوثیت مطلقہ کا تاج، جو محض کوئی مرتبہ نہیں، بلکہ ولایت کے جملہ مناصب کا سرچشمہ اور روحانی عالم کا مرکز ہے۔
غوث وہ ہے جو مشیت الٰہی کے اذن سے جسے چاہے ولایت کے انوار عطا کرے، جسے چاہے قطبیت و فردیت کے اعلیٰ مقام پر سرفراز کرے۔ اور آپ کی بارگاہ فیض سے ہی ہزاروں طالبان حق اللہ والے بنے، آپ کے مبارک کلام نے گناہ کی راہوں میں بھٹکتے ہوۓ قلوب کو توبہ کی طرف پلٹا دیا۔ جو دل بدعقیدگی کی زنگار میں ڈوبے ہوئے تھے، وہ آپ کے نورانی چہرۂ انور کی ایک جھلک سے صیقل ہو کر صراط مستقیم کے روشن راہی بن گئے۔
تقوی و ریاضت___ اللہ ربّ العزت نے آپ کو علم لدنی کے خزانوں کے ساتھ بے مثال تقویٰ و طہارت کی دولت سے بھی سرفراز فرمایا تھا۔ آپ کے شب و روز کا بیشتر حصہ عبادت الٰہی میں بسر ہوتا؛ راتوں کی تنہائیوں میں طول قیام فرماتے اور سجدوں کی خاک پر اپنے وجود کو گلا دیتے۔
عملی میدان میں آپ نے ریاضت و مجاہدہ کی صعب و دشوار وادیوں کو ایسے عزم و استقلال سے طے کیا جیسے کوئی کوہکن چٹان کو چیر کر راستہ نکال لیتا ہے۔ تقویٰ و طہارت میں آپ اپنے تمام معاصرین پر فائق تھے اور ریاضت شاقہ کے انتہائی جانگسل مراحل کو کمال ثبات قدمی سے طے فرمایا۔
خود آپ کا ارشاد ہے
میں عراق کے صحراؤں اور ویرانوں میں پچیس برس تک تنہا مصروف سیاحت رہا۔ نہ میں کسی کو جانتا تھا نہ کوئی مجھے پہچانتا تھا۔ میرے پاس رجال غیب اور جنات گروہ در گروہ آیا کرتے اور میں انہیں اللہ کی معرفت کا راستہ دکھاتا تھا۔
یوں حضور پرنور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے فیضان سے صرف بنی آدم ہی فیضیاب نہ ہوئے، بلکہ جنات اور رجال غیب بھی آپ کے چشمۂ معرفت سے سیراب ہونے کے لئے تڑپتے اور آپ کی بارگاہ نور سے بہرہ ور ہونے میں فخر محسوس کرتے تھے۔
حسن اخلاق___ حضور سیدُ الاولیاء، غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وجود مسعود اخلاق حسنہ کے ایسے گوہر نایاب سے مزین تھا جو اپنی درخشانی میں ہر دل کو مسخر کر لیتا۔ آپ کی ذات بابرکات میں خلق کریم کی وہ رفعت جلوہ گر تھی جس کی نظیر نہ اُس زمانے میں کسی نے دیکھی نہ سنی۔ آپ کی طبیعت میں وقار کی شان، کریم النفسی کی جھلک، مہربانی کا سمندر، اور عہد و محبت کی پاسداری ایسی رچی بسی تھی کہ ہر شخص آپ کی قربت میں سکون پاتا۔
علوم و عرفان کے کوہ بلند پر متمکن ہونے کے باوجود آپ ہمیشہ چھوٹوں پر شفقت فرماتے، بڑوں کی تعظیم بجا لاتے، ضعیفوں کے حال سے خبر رکھتے اور سلام میں سبقت کرنا اپنی امتیازی خصلت بنائے ہوئے تھے۔ فقر و فنا کی راہوں کے راہیوں کے ساتھ تواضع و انکساری سے پیش آنا آپ کی سیرت کا خاصہ تھا، لیکن اہل ثروت اور دنیاداروں کے لئے آپ کا دامن وقار ہمیشہ بلند و غیر مائل رہا۔
وعظ مبارک___ تبلیغ و ہدایت ناس کے لئے علم دین کا حامل ہونا نہایت ضروری ہے جو اپنے سینے کو علم سے خالی رکھتا ہو اسے یہ حق حاصل نہیں کہ دوسروں کو تبلیغ کرتا پھرے حضرت شیخ نے جب تک علم حاصل نہ کیا میدان تبلیغ میں قدم نہ رکھا آپ کا طریقہ تبلیغ کچھ اس طرح تھا کہ ہفتہ میں تین روز وعظ فرماتے جمعہ کی صبح، منگل کی شام، اور اتوار کی صبح۔
غوث اعظم فرماتے ہیں کہ ابتداءً مجھ پر وعظ کا اس قدر غلبہ ہوتا کہ خاموش رہنا میری طاقت سے باہر ہو جاتا میری مجلس میں دو یا تین آدمی سننے والے ہوتے مگر میں نے سلسلۂ کلام جاری رکھا پھر لوگوں کا ہجوم اس قدر بڑھا کہ جگہ تنگ ہو گئی آپ کی گفتگو سے اس قدر ہیبت طاری ہوتی تھی کہ مجمع میں سناٹا چھا جاتا سامعین کے حالات میں عجیب انقلاب رونما ہوتا، کوئی آہ و بکا میں مصروف رہتا، کسی پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی،کئ کئ مرتبہ ستر ستر ہزار آدمی وعظ سننے کے لئے آتے تھے آپکی آواز میں وہ قوت تھی کہ قریب اور دور کے سامعین تک یکساں پہنچتی تھی (زبدۃ الآثار ص ٦٥)
ولایت کا علم___فطری تقاضا ہے کہ بچے کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں لیکن شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں جب میں اپنے محلے کے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کرتا تو مجھے غیبی آواز سنائی دیتی
تعالِ الَیّ یا مبارک
اے برکت والے میری طرف آ۔
تو میں بھاگ کر اپنی والدہ کی آغوش میں پناہ لیتا ،آج بھی خلوت میں وہ آواز سنتا ہوں
کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ کو اپنی ولایت کا علم کب ہوا فرمایا اس وقت جب میں دس سال کا تھا گھر سے مدرسہ روانہ ہوتا تو میں دیکھتا کہ فرشتے میرے ارد گرد چل رہے ہیں جب میں مدرسہ پہنچتا تو سنتا کہ فرشتے بچوں سے کہ رہے ہیں افسحوا لولی اللہ حتیٰ یجلس اللہ تعالٰی کے ولی کو بیٹھنے کے لئے جگہ دو(مقدّمہ زبدۃ الآثار ص ١٣)
مظاہر قدرت___حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی کثیر کرامات ہیں اس پر تمام مؤرخین متفق ہیں لیکن سب سے مشہور کرامت جسکی وجہ سے آپ دنیاۓ ولایت کے عظیم شہنشاہ تسلیم کئے گئے وہ یہ ہے کہ آپ ایک روز ممبر شریف پر رونق افروز ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اسی وقت ارشاد ہوتا ہے کہ اۓ ہمارے چہیتے عبد القادر اعلان کرو قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ
ترجمہ___ میرا یہ قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔
اس مجلس میں عراق کے اکابر مشائخ تشریف فرما تھے تمام نے اپنے اپنے سروں کو جھکا لیا بلکہ کرہ ارض پر جہاں جہاں کوئی قطب،ابدال یا ولی تھا سب نے آپ کے اعلان کی صدا سنتے ہی اپنے اپنے آستانوں پر سر نیازمندی خم کر لیا،
سیدنا خواجہ غریب نواز ان دنوں خراسان کے پہاڑوں میں
مجاہدات و ریاضات میں مشغول تھے آپ نے بھی روحانی طور پر حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی یہ صدا سن کر اپنی گردن خم کی اور عرض کیا قدماک علی راسی و عینی آپ کے دونوں قدم میرے سر اور آنکھوں پر ہوں اس اظہار نیاز سے متاثر ہو کر سیدنا غوث اعظم نے فرمایا کہ سید غیاث الدین کے صاحبزادے نے گردن جھکانے میں سبقت کی ہے جس کے باعث عنقریب ولایت ہند سے سرفراز کیے جائیں گے( زبدۃ الآثار ص ١٨)
یہ آپ کی شان اقدس کا فیضان ہے کہ آپ کا ارشاد جیسے ہی لبوں سے نکلتا ہے تو زمانے کے ابدال پہاڑوں کی چوٹیوں کی مانند اپنی قامتیں گرا دیتے ہیں، افراد سمندر کی موجوں کی مانند سکوت اختیار کر لیتے ہیں اور اقطاب سورج کی کرنوں کی طرح اپنی آنکھیں جھکا لیتے ہیں
شرع پر دائمی استقامت____ یوں تو حضور غوث صمدانی، محبوب سبحانی رضی اللہ عنہ کی کرامات کی وسعت نے ہزارہا اوراق کو اپنے احاطے میں لے رکھا ہے لیکن ان تمام کرامات میں سے سب سے عظیم کرامت یہ ہے کہ آپ نے تا دم آخر اپنے نانا جان سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت مطہرہ کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ آپ کا ہر لمحہ دین مصطفیٰ ﷺ کی تبلیغ و اشاعت اور بندگان خدا کو راہ ہدایت دکھانے میں صرف ہوا۔
علماہ کرام فرماتے ہیں: الاستقامت فوق الکرامۃ یعنی شریعت پر قائم رہنا کرامت سے بڑھ کر ہے۔اور شریعت پر قائم رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی اپنی تمام زندگی میں احکام الٰہی کا تابع رہے، قرآن و سنت کی روشنی سے اپنے قلوب و اذہان کو منور کرے، ہر دم ذکر الٰہی میں مشغول رہے، اباطیل و مفاسد کا رد کرے، اور بدعات و فتن کا استیصال کرے۔ بےشک حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی ذات اقدس انہی اوصاف حمیدہ کا پیکر تھی۔
افسوس کہ آج کے دور میں بعض علم دشمن اور نادان مدعیان طریقت، اپنی کوتاہ فہمی سے شریعت و طریقت کو دو الگ راہیں قرار دیتے ہیں۔ اپنی جہالت کے زور پر کہتے ہیں: ہم طریقت والے ہیں، گویا شریعت کو ترک کرکے حصول طریقت کے خواہاں ہیں! حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بدون شریعت، طریقت کا وجود ہی محال ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ علما اور پیروں میں میل جول نہیں، جب کہ سچ یہ ہے کہ علما اور جاہل پیروں میں میل جول نہیں ہو سکتا علم اور جہالت میں نہ کبھی اتحاد تھا، نہ ہے، اور نہ ہی ہوگا؛ کیونکہ علم و جہالت کے درمیان تضاد و تباین ہے۔
آج بعض لوگ طریقت کے جامہ میں نماز و روزہ کو پسِ پشت ڈال کر سونے چاندی کی انگوٹھیوں سے اپنی انگلیاں بھر لیتے ہیں، محفلوں میں مستورات سے دست بوسی کرواتے ہیں اور طرح طرح کے حرام کاموں کا علانیہ ارتکاب کرتے ہیں۔ نہ خدا کا خوف ہے نہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاء۔
ایسے ناہنجار لوگ پیر نہیں، بلکہ شیاطین کے نائب ہیں۔
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسے گمراہ کن مدعیان ولایت کے شر سے محفوظ رکھے۔
واقعات مخترعہ کی تردید_____ اللہ تعالٰی نے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کو غیر معمولی جلالت علمی و ولایت ظاہری و باطنی عطا فرمائی، اہل علم کا اس امر‌‌ پر اتفاق ہے کہ سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے بے شمار خوارق عادت واقعات و کرامات کا ظہور ہوا، اور ان کرامات کے مشاہدہ سے لوگ داخل اسلام بھی ہوۓ، حضور سیدنا غوث رضی اللہ عنہ سے ظہور پذیر ہونے والے واقعات و کرامات کتب معتمدہ میں مذکور ہیں، لیکن آج یہ وبا چل پڑی ہے کہ کسی ولی کی عظمت بیان کرنے کے لئے جھوٹے اور من گھڑت واقعات کا سہارا لیا جاتا ہے جو شریعت اسلامیہ کے اصول و ضوابط سے متصا‌دم نظر آتے ہیں، ایسے موقع پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی ولی کی عظمت و ولایت بیان کرنے کے لئے حقیقی اور واقعی کرامات کافی نہیں؟ کرامات سے قطع ‌نظر ، ایک عارف باللہ ولی کامل کی حقانیت کی یہی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے کہ تا دم حیات اسکی زندگی کا کوئی لمحہ شریعت مطہرہ کے خلاف نہ گزرا ہو، افسوس کہ سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ جن کی ولایت کی معرفت تک عقلوں کو رسائی نہیں، آپ کی شان میں بھی کچھ پیشہ وروں اور زرخرید افراد نے اختراع پردازی سے کام لیتے ہوۓ ایسے واقعات لکھ مارے جن کا بیان کرنا از روۓ شرع جائز نہیں،
ذرا غور تو کریں! جسکی زندگی کا ایک لمحہ بھی شرع کے خلاف نہ گزرا ہو اس سے شریعت کے خلاف کسی واقعہ کا رونما ہونا متصور ہو سکتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں،
ہمارے اس دور کے خطباء کا حال تو مت پوچھیے، ان کی عادت تو یہ بن چکی ہے کہ کتابوں میں جیسا لکھا ہوا پاتے ہیں خواہ صحیح ہو یا غلط بغیر امتیاز کیے ہوۓ افسانوی رنگ و روغن بھر کر سٹیجوں سے کر بیان کر ڈالتے ہیں،
اور من گھڑت واقعات کی تشہیر کو اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں، کتب خطابت رطب و یابس سے پر ہیں آپکو من گھڑت واقعات خطابت کی کتابوں میں دیکھنے کو مل جائیں گے،
یہاں ہم سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے منسوب صرف دو واقعات پیش کریں گے جو اصول شریعت سے متصادم اور مزاج شرع کے خلاف ہیں
(١) سیدنا غوث اعظم اور دھوبی____ سیدنا غوث اعظم کی ذات کی طرف منسوب کرتے ہوۓ خطباء حضرات سٹیجوں سے یہ واقعہ خوب زور و شور سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا غوث اعظم کا ایک دھوبی تھا جو آپکے کپڑوں کو دھویا کرتا تھا، جب اسکا انتقال ہوا تو قبر میں اس سے نکیرین نے سوالات کیے،اس نے تینوں سوالات کے جواب میں یہی کہا کہ میں سیدنا غوث اعظم کا دھوبی ہوں اور اسکی بخشش ہو گئی۔
یہ واقعہ سراسر شریعت کے اصول کے مباین و مناقض ہے اس لئے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ قبر میں تین سوالات ہوتے ہیں اور انکے جوابات دینا لازمی ہے یہ کہ دینا کہ میں سیدنا غوث اعظم کا دھوبی ہوں اصل سوال کا جواب ہی نہیں اور اس واقعہ کا کسی معتبر و معتمد کتاب میں ثبوت نہیں ملتا۔
شارح بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے ایک منظوم کے حوالے سے یہی سوال ہوا تو آپ نے تفصلیلی جواب دیتے ہوۓ ارقام فرمایا کہ" یہ حکایت نہ میں نے کسی کتاب میں دیکھی ہے نہ میں نے کسی سے سنی ہے، احادیث میں تصریح ہے کہ اگر مرنے والا مومن ہوتا ہے تو قبر کے تینوں بنیادی سوالوں کا جواب دے دیتا ہے، منافق یا کافر ہوتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ ہاۓ ہاۓ میں نہیں جانتا۔ لہذا یہ روایت حدیث کے خلاف ہے مگر یہ بات حق ہے کہ حضرات اولیاء کرام،‌ آئمہ دین، بزرگان دین،اپنے مریدین اور معتقدین کی قبروں میں نکیرین کے سوالات کے وقت تشریف لاتے ہیں اور جواب میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔ (فتاویٰ شارح بخاری جلد ٢ صفحہ ١٢٤)
نیز مذکورہ واقعہ کی تردید کرتے ہوۓ فقیہ‌ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ رحمۃ اللہ الغنی لکھتے ہیں کہ یہ روایت بے اصل ہے،‌اسکا‌ بیان کرنا درست نہیں لہذا جس نے اسے بیان کیا ہو وہ اس سے رجوع کرے اور آئندہ اس روایت کے نہ بیان کرنے کا عہد کرے،‌ اگر وہ ایسا نہ کرے تو کسی معتمد کتاب سے اس روایت کو ثابت کرے۔(فتاوی فقیہ ملت جلد ٢ صفحہ ٤١١)
اسی نوعیت کا ایک اور من گھڑت قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے، جسے ذرا سا غور و تأمل کے ساتھ سنا جائے تو اہل عقل پر فوراً واضح ہو جائے کہ یہ واقعہ محض اختراع و افسانہ ہے اور شرعی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے غصہ و ناراضی کی حالت میں ملک الموت حضرت عزرائیل علیہ السلام سے زنبیل ارواح چھین لی۔
اس واقعے کے متعلق اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن رقم فرماتے ہیں کہ زنبیل ارواح چھین لینا خرافات مخترعہ جہال سے ہے۔ سیدنا عزرائیل علیہ السلام رسل ملائکہ سے ہیں، اور رسل ملائکہ، اولیائے بشر سے بالاجماع افضل ہیں؛ لہٰذا مسلمانوں کو ایسے اباطیل واہیہ سے احتراز لازم۔
(فتاوی رضویہ جلد ٢٨ صفحہ ٤١٩)
افسوس کہ بعض خطباء، غیر ذمہدار ائمہ اور محض قصہ گوئی کے شائق افراد، جن کا علم و تحقیق سے کوئی خاص واسطہ نہیں ہوتا، ایسی بے اصل حکایات کو کثرت سے اپنی مجالس کا موضوع بناتے ہیں۔ جذبات انگیز اور غیر مستند گفتگو کے ذریعے سامعین کے جذبات کو برانگیختہ کیا جاتا ہے، جبکہ تحقیق و تنقیح اور صحت روایت کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔ نتیجتاً من گھڑت واقعات کو فروغ ملتا ہے، خرافات کو تقویت پہنچتی ہے اور دینی مجالس کا اصل مقصد پس پشت چلا جاتا ہے، پھر اغیار اکابرین امت کا مذاق بناتے اور انکی عظمتوں میں تنقیص کے پہلو نکالتے ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بسا اوقات یہی حضرات ایک ہی مجلس کو گھنٹوں طویل کر دیتے ہیں، مگر اس طویل گفتگومیں قرآن و حدیث کی تعلیم، صحیح عقائد کی ترویج اور اصلاح اعمال کے بجائے غیر مستند قصہ گوئی غالب رہتی ہے۔ حالاں کہ منبر و محراب اور دینی مجالس کا مقصد محض وقت گزاری یا سامعین کے جذبات کو گرم کرنا نہیں، بلکہ صحیح علم پہنچانا، عقائد و اعمال کی اصلاح کرنا اور شریعت کی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔ لہٰذا واعظین و خطباء کو چاہیے کہ ہر واقعہ بیان کرنے سے قبل اس کی صحت و استناد کی تحقیق کریں اور من گھڑت حکایات سے اپنی مجالس کو آلودہ ہونے سے محفوظ رکھیں۔
خداۓ قادر و مقتدر تعلیمات سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ پر عمل کی توفیق بخشے اور دنیا وما فیھا کے مفاسد سے نجات تا حین حیات عطا فرمائے
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Irbaz Markazi

Student - Sabea | Jamiatur Raza
6
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
Irbaz Markazi
زمرہ جات

چند دن جو مجھ پر بھاری گزرے

ذہن کے شور میں گم آدمی۔۔۔۔۔۔!

نقوش حیات غوث اعظم رضی اللہ عنہ اور واقعات مخترعہ کی تردید - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

نقوش حیات غوث اعظم رضی اللہ عنہ اور واقعات مخترعہ کی تردید

مضمون نگار: Irbaz Markazi

نقوش حیات غوث اعظم رضی اللہ عنہ اور واقعات مخترعہ کی تردید

قطب الاقطاب غوث الاغواث غیاث الدارین و غوث الثقلین قرۃ عین مصطفوی و نور دیدۂ مرتضوی محبوب سبحانی حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر الجیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ولادت باسعادت ٤٧٠ھ/ ١٠٧٨ء میں گیلان (جیلان) نزد بغداد میں ہوئی۔ (شاہ جیلان و بہجۃ الاسرار شریف)

آپ نجیب الطرفین ہیں، آپ کا سلسلۂ نسب والد گرامی حضرت سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رضی اللہ عنہ کے واسطے سے امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ تک اور والدہ ماجدہ، سیدہ ام الخیر فاطمہ بنت سید عبداللہ صومعی کے توسط سے امام حسین رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپکے والدین کریمین انتہائی متقی و خدا ترس تھے۔
یوں آپ کی ذات گرامی میں دونوں گلستانوں کی خوشبو یکجا ہوئی، اور حضرات حسننین کریمین علیہما الرضوان کی نسبتوں کے انوار آپ کے وجود مسعود میں جمع ہو گئے۔ یہ جمعیت‌ کمال ایسا تاج ہے جو بہت ہی کم سعادت مند ہستیوں کے سر پر سجایا جاتا ہے، اور یہ وہ نعمت عظمیٰ ہے جو صرف برگزیدہ نفوس کو نصیب ہوا کرتی ہے۔

احترام شریعت___شرعیت مطہرہ کی رو سے نابالغ بچے پر احکام شریعت نافذ نہیں ہوتے ہیں چونکہ سیدنا غوث اعظم مادرزاد ولی تھے۔ یہی سبب ہے کہ ایام شیرخوارگی میں بھی آپ رمضان المبارک کے تقدس و حرمت کے پیش نظر دن کے وقت دودھ نوش نہ فرماتے۔
آپ کی والدہ ماجدہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
*میرا بیٹا عبدالقادر رمضان کے دنوں میں دودھ نہیں پیتا تھا۔*ایک بار ایسا ہوا کہ رمضان المبارک کا چاند پوشیدہ رہا اور اہلیان شہر کو شک لاحق ہوا۔ لوگوں نے دریافت کیا تو والدہ ماجدہ نے فرمایا:*آج میرے لخت جگر نے دودھ نہیں پیا۔*
بعد میں تحقیق ہوئی تو وہ دن فی الواقع رمضان ہی کا پہلا دن تھا۔ یوں جیلان کے اطراف میں یہ خبر بجلی کی مانند پھیل گئی کہ سادات کے اس مقدس خانوادے میں ایسا نورانی بچہ تولد ہوا ہے جو ماہ رمضان کی عظمت و حرمت میں شیرخوارگی کے عالم میں بھی روزہ داروں کی طرح ضبط نفس رکھتا ہے۔

تحصیل علم____ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ٤٨٨ھ/١٠٩٥ء میں، جبکہ عمر مبارک کی صرف اٹھارہ بہاریں گزری تھیں، طلب علم کے سفر کا آغاز فرمایا اور بغداد کی علمی فضاؤں کا رُخ کیا ( مقدمہ غنیۃ الطالبین ص ٣٧)
قرآن مجید کے بحر بیکراں میں تدبر و تفکر کے غواص بن کر گوہر معانی سمیٹے، پھر بغداد کے نابغۂ روزگار علماء و فضلا کے گلشن علم میں داخل ہو کر فقہ، حدیث ،تفسیر اور تصوف کے نکہت بار علوم کو اپنے قلب و جگر کی خاک میں بویا۔ سینۂ مبارک ان انوار سے ایسا منور ہوا کہ گویا چراغ ہدایت بن گیا جس سے آج تک ارباب عشق و محبّت کے قلوب مجلی و تابناک ہیں۔

کمال تدریس___ حضرت محبوب سبحانی رضی اللہ عنہ نے جب درس و تدریس کا سلسلہ شروع فرمایا تو وقت کے مسلّم علماء فقہاء و محدثین آپ کی زبان مبارک سے علوم ظاہری و باطنی کی تحصیل کے لئے حاضر خدمت رہا کرتے دور دراز سے تشنگان علم اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے آپکے چشمۂ علوم و عرفان سے بہرہ مندی کے لئے آپ کی بارگاہ میں جوق در جوق جمع ہوتے‌، چونکہ آپ علوم ظاہری و باطنی کے جامع تھے اس لئے جب تک آپ بقید حیات رہے طلبہ کرام کو کسی اور عالم کے پاس جانے کی حاجت در پیش نہ آئی۔
فیضان ولایت کی موسلا دھار بارش نے سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کو علم و فضل کے اعلیٰ و اکمل مرتبہ پر پہنچا دیا تھا آپ رضی اللہ عنہ ١٣ علوم و فنون میں کلام فرمایا کرتے تھے صبح و شام میں فقہ،علوم حدیث،تفسیر، اصول اور نحو کا درس دیا کرتے تھے، ظہر کے بعد قرآن مجید تجوید کے ساتھ قرأت سبعہ کے مطابق پڑھایا کرتے تھے (بہجۃ الاسرار ص ٣٥)

آپ ہمیشہ سے حنبلی مسلک کے مقلد تھے، اور اسی کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے، اس سلسلے میں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ پہلے حنفی مسلک کے مقلد تھے اور حنفی مسلک کو چھوڑ کر بعد میں حنبلی مسلک کے مقلد ہو گۓ یہ سراسر غلط اور من گھڑت ہے
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی فرماتے ہیں کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے اس لئے کہ حضور ہمیشہ سے حنبلی تھے،اور بعد کو جب عین الشریعۃ الکبری تک پہنچ کر منصب اجتہاد مطلق حاصل ہوا مذہب حنبلی کو کمزور ہوتا دیکھ کر اسی کے مطابق فتویٰ دیا کہ حضور محی الدین اور دین متین کے یہ چارو ستون ہیں لوگوں کی طرف سے جس ستون میں ضعف آتا دیکھا اسکی تقویت فرمائی۔ (فتاویٰ رضویہ جلد٢٦ صفحہ ٤٣٣)

آپ کی بارگاہ میں ایسے استفتاء آتے جن کے جواب سے دیگر علما عاجز رہ جاتے اور آپ بلا غور و فکر اپنے قلم سے ایسا جواب عنایت فرماتے کہ علماء عراق آپ کی حاضر جوابی پر حیران و ششدر رہتے اور ورطۂ‌ استعجاب میں چلے جاتے آپ کے ارشادات سن کر بڑے بڑے اصحاب کمال، اساطین علم و فن اپنے عجز اور کم مائگی کے اعتراف پر مجبور ہو جاتے یہ اللہ تعالٰی کا آپ پر احسان عظیم اور فضل جزیل تھا۔

آپ کا شمار اولیاء کبار و صوفیاء عظام میں ہوتا ہے
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ آفتاب ولایت کی وہ درخشندہ کرن ہیں جس کی تابانی سے تمام اولیاء اللہ روشنی طلب کرنے کے واسطے آپ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ خود عین آفتاب ہیں کہ جسکی تابانی کے بغیر روشنی کا حصول ممکن نہیں
آپ چمنستان معرفت و طریقت کے وہ خوشنما پھول ہیں جسکی معطر خوشبو سے اہل معرفت و طریقت کے دل و جان مہک اٹھتے ہیں
آپ رضی اللہ عنہ علوم عقلیہ و نقلیہ کے وہ بحر بیکراں ہیں جس کی دھاروں سے تشنگان علم اپنی پیاس بجھاتے ہیں

آپ کی بارگاہ، فیضان و کرم اور جود و سخا کا وہ بے پایاں بحر بے کنار ہے کہ جس کی ہر ایک موج سے تشنہ دل حکمت و معرفت کے جواہر سے مالامال ہو جاتے ہیں۔ رب کریم جل جلالہ ہر دور میں ایک غوث مطلق کو مبعوث فرماتا ہے تاکہ نظام عالم اپنے حسین ترین توازن کے ساتھ قائم رہے۔ یہ وہی ربانی منصب ہے جس پر آپ کو فائز فرمایا گیا—غوثیت مطلقہ کا تاج، جو محض کوئی مرتبہ نہیں، بلکہ ولایت کے جملہ مناصب کا سرچشمہ اور روحانی عالم کا مرکز ہے۔

غوث وہ ہے جو مشیت الٰہی کے اذن سے جسے چاہے ولایت کے انوار عطا کرے، جسے چاہے قطبیت و فردیت کے اعلیٰ مقام پر سرفراز کرے۔ اور آپ کی بارگاہ فیض سے ہی ہزاروں طالبان حق اللہ والے بنے، آپ کے مبارک کلام نے گناہ کی راہوں میں بھٹکتے ہوۓ قلوب کو توبہ کی طرف پلٹا دیا۔ جو دل بدعقیدگی کی زنگار میں ڈوبے ہوئے تھے، وہ آپ کے نورانی چہرۂ انور کی ایک جھلک سے صیقل ہو کر صراط مستقیم کے روشن راہی بن گئے۔

تقوی و ریاضت___ اللہ ربّ العزت نے آپ کو علم لدنی کے خزانوں کے ساتھ بے مثال تقویٰ و طہارت کی دولت سے بھی سرفراز فرمایا تھا۔ آپ کے شب و روز کا بیشتر حصہ عبادت الٰہی میں بسر ہوتا؛ راتوں کی تنہائیوں میں طول قیام فرماتے اور سجدوں کی خاک پر اپنے وجود کو گلا دیتے۔

عملی میدان میں آپ نے ریاضت و مجاہدہ کی صعب و دشوار وادیوں کو ایسے عزم و استقلال سے طے کیا جیسے کوئی کوہکن چٹان کو چیر کر راستہ نکال لیتا ہے۔ تقویٰ و طہارت میں آپ اپنے تمام معاصرین پر فائق تھے اور ریاضت شاقہ کے انتہائی جانگسل مراحل کو کمال ثبات قدمی سے طے فرمایا۔
خود آپ کا ارشاد ہے
میں عراق کے صحراؤں اور ویرانوں میں پچیس برس تک تنہا مصروف سیاحت رہا۔ نہ میں کسی کو جانتا تھا نہ کوئی مجھے پہچانتا تھا۔ میرے پاس رجال غیب اور جنات گروہ در گروہ آیا کرتے اور میں انہیں اللہ کی معرفت کا راستہ دکھاتا تھا۔
یوں حضور پرنور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے فیضان سے صرف بنی آدم ہی فیضیاب نہ ہوئے، بلکہ جنات اور رجال غیب بھی آپ کے چشمۂ معرفت سے سیراب ہونے کے لئے تڑپتے اور آپ کی بارگاہ نور سے بہرہ ور ہونے میں فخر محسوس کرتے تھے۔

حسن اخلاق___ حضور سیدُ الاولیاء، غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وجود مسعود اخلاق حسنہ کے ایسے گوہر نایاب سے مزین تھا جو اپنی درخشانی میں ہر دل کو مسخر کر لیتا۔ آپ کی ذات بابرکات میں خلق کریم کی وہ رفعت جلوہ گر تھی جس کی نظیر نہ اُس زمانے میں کسی نے دیکھی نہ سنی۔ آپ کی طبیعت میں وقار کی شان، کریم النفسی کی جھلک، مہربانی کا سمندر، اور عہد و محبت کی پاسداری ایسی رچی بسی تھی کہ ہر شخص آپ کی قربت میں سکون پاتا۔

علوم و عرفان کے کوہ بلند پر متمکن ہونے کے باوجود آپ ہمیشہ چھوٹوں پر شفقت فرماتے، بڑوں کی تعظیم بجا لاتے، ضعیفوں کے حال سے خبر رکھتے اور سلام میں سبقت کرنا اپنی امتیازی خصلت بنائے ہوئے تھے۔ فقر و فنا کی راہوں کے راہیوں کے ساتھ تواضع و انکساری سے پیش آنا آپ کی سیرت کا خاصہ تھا، لیکن اہل ثروت اور دنیاداروں کے لئے آپ کا دامن وقار ہمیشہ بلند و غیر مائل رہا۔

وعظ مبارک___ تبلیغ و ہدایت ناس کے لئے علم دین کا حامل ہونا نہایت ضروری ہے جو اپنے سینے کو علم سے خالی رکھتا ہو اسے یہ حق حاصل نہیں کہ دوسروں کو تبلیغ کرتا پھرے حضرت شیخ نے جب تک علم حاصل نہ کیا میدان تبلیغ میں قدم نہ رکھا آپ کا طریقہ تبلیغ کچھ اس طرح تھا کہ ہفتہ میں تین روز وعظ فرماتے جمعہ کی صبح، منگل کی شام، اور اتوار کی صبح۔
غوث اعظم فرماتے ہیں کہ ابتداءً مجھ پر وعظ کا اس قدر غلبہ ہوتا کہ خاموش رہنا میری طاقت سے باہر ہو جاتا میری مجلس میں دو یا تین آدمی سننے والے ہوتے مگر میں نے سلسلۂ کلام جاری رکھا پھر لوگوں کا ہجوم اس قدر بڑھا کہ جگہ تنگ ہو گئی آپ کی گفتگو سے اس قدر ہیبت طاری ہوتی تھی کہ مجمع میں سناٹا چھا جاتا سامعین کے حالات میں عجیب انقلاب رونما ہوتا، کوئی آہ و بکا میں مصروف رہتا، کسی پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی،کئ کئ مرتبہ ستر ستر ہزار آدمی وعظ سننے کے لئے آتے تھے آپکی آواز میں وہ قوت تھی کہ قریب اور دور کے سامعین تک یکساں پہنچتی تھی (زبدۃ الآثار ص ٦٥)

ولایت کا علم___فطری تقاضا ہے کہ بچے کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں لیکن شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں جب میں اپنے محلے کے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کرتا تو مجھے غیبی آواز سنائی دیتی
تعالِ الَیّ یا مبارک
اے برکت والے میری طرف آ۔
تو میں بھاگ کر اپنی والدہ کی آغوش میں پناہ لیتا ،آج بھی خلوت میں وہ آواز سنتا ہوں
کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ کو اپنی ولایت کا علم کب ہوا فرمایا اس وقت جب میں دس سال کا تھا گھر سے مدرسہ روانہ ہوتا تو میں دیکھتا کہ فرشتے میرے ارد گرد چل رہے ہیں جب میں مدرسہ پہنچتا تو سنتا کہ فرشتے بچوں سے کہ رہے ہیں “افسحوا لولی اللہ حتیٰ یجلس” اللہ تعالٰی کے ولی کو بیٹھنے کے لئے جگہ دو(مقدّمہ زبدۃ الآثار ص ١٣)

مظاہر قدرت___حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی کثیر کرامات ہیں اس پر تمام مؤرخین متفق ہیں لیکن سب سے مشہور کرامت جسکی وجہ سے آپ دنیاۓ ولایت کے عظیم شہنشاہ تسلیم کئے گئے وہ یہ ہے کہ آپ ایک روز ممبر شریف پر رونق افروز ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اسی وقت ارشاد ہوتا ہے کہ اۓ ہمارے چہیتے عبد القادر اعلان کرو قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ
ترجمہ___ میرا یہ قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔
اس مجلس میں عراق کے اکابر مشائخ تشریف فرما تھے تمام نے اپنے اپنے سروں کو جھکا لیا بلکہ کرہ ارض پر جہاں جہاں کوئی قطب،ابدال یا ولی تھا سب نے آپ کے اعلان کی صدا سنتے ہی اپنے اپنے آستانوں پر سر نیازمندی خم کر لیا،
سیدنا خواجہ غریب نواز ان دنوں خراسان کے پہاڑوں میں
مجاہدات و ریاضات میں مشغول تھے آپ نے بھی روحانی طور پر حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی یہ صدا سن کر اپنی گردن خم کی اور عرض کیا “قدماک علی راسی و عینی” آپ کے دونوں قدم میرے سر اور آنکھوں پر ہوں اس اظہار نیاز سے متاثر ہو کر سیدنا غوث اعظم نے فرمایا کہ سید غیاث الدین کے صاحبزادے نے گردن جھکانے میں سبقت کی ہے جس کے باعث عنقریب ولایت ہند سے سرفراز کیے جائیں گے( زبدۃ الآثار ص ١٨)

یہ آپ کی شان اقدس کا فیضان ہے کہ آپ کا ارشاد جیسے ہی لبوں سے نکلتا ہے تو زمانے کے ابدال پہاڑوں کی چوٹیوں کی مانند اپنی قامتیں گرا دیتے ہیں، افراد سمندر کی موجوں کی مانند سکوت اختیار کر لیتے ہیں اور اقطاب سورج کی کرنوں کی طرح اپنی آنکھیں جھکا لیتے ہیں

شرع پر دائمی استقامت____ یوں تو حضور غوث صمدانی، محبوب سبحانی رضی اللہ عنہ کی کرامات کی وسعت نے ہزارہا اوراق کو اپنے احاطے میں لے رکھا ہے لیکن ان تمام کرامات میں سے سب سے عظیم کرامت یہ ہے کہ آپ نے تا دم آخر اپنے نانا جان سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت مطہرہ کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ آپ کا ہر لمحہ دین مصطفیٰ ﷺ کی تبلیغ و اشاعت اور بندگان خدا کو راہ ہدایت دکھانے میں صرف ہوا۔

علماہ کرام فرماتے ہیں: *الاستقامت فوق الکرامۃ” یعنی “شریعت پر قائم رہنا کرامت سے بڑھ کر ہے۔*اور شریعت پر قائم رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی اپنی تمام زندگی میں احکام الٰہی کا تابع رہے، قرآن و سنت کی روشنی سے اپنے قلوب و اذہان کو منور کرے، ہر دم ذکر الٰہی میں مشغول رہے، اباطیل و مفاسد کا رد کرے، اور بدعات و فتن کا استیصال کرے۔ بےشک حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی ذات اقدس انہی اوصاف حمیدہ کا پیکر تھی۔

افسوس کہ آج کے دور میں بعض علم دشمن اور نادان مدعیان طریقت، اپنی کوتاہ فہمی سے شریعت و طریقت کو دو الگ راہیں قرار دیتے ہیں۔ اپنی جہالت کے زور پر کہتے ہیں: *ہم طریقت والے ہیں*، گویا شریعت کو ترک کرکے حصول طریقت کے خواہاں ہیں! حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بدون شریعت، طریقت کا وجود ہی محال ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ علما اور پیروں میں میل جول نہیں، جب کہ سچ یہ ہے کہ علما اور جاہل پیروں میں میل جول نہیں ہو سکتا علم اور جہالت میں نہ کبھی اتحاد تھا، نہ ہے، اور نہ ہی ہوگا؛ کیونکہ علم و جہالت کے درمیان تضاد و تباین ہے۔

آج بعض لوگ طریقت کے جامہ میں نماز و روزہ کو پسِ پشت ڈال کر سونے چاندی کی انگوٹھیوں سے اپنی انگلیاں بھر لیتے ہیں، محفلوں میں مستورات سے دست بوسی کرواتے ہیں اور طرح طرح کے حرام کاموں کا علانیہ ارتکاب کرتے ہیں۔ نہ خدا کا خوف ہے نہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاء۔
ایسے ناہنجار لوگ پیر نہیں، بلکہ شیاطین کے نائب ہیں۔

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسے گمراہ کن مدعیان ولایت کے شر سے محفوظ رکھے۔

واقعات مخترعہ کی تردید_____ اللہ تعالٰی نے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کو غیر معمولی جلالت علمی و ولایت ظاہری و باطنی عطا فرمائی، اہل علم کا اس امر‌‌ پر اتفاق ہے کہ سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے بے شمار خوارق عادت واقعات و کرامات کا ظہور ہوا، اور ان کرامات کے مشاہدہ سے لوگ داخل اسلام بھی ہوۓ، حضور سیدنا غوث رضی اللہ عنہ سے ظہور پذیر ہونے والے واقعات و کرامات کتب معتمدہ میں مذکور ہیں، لیکن آج یہ وبا چل پڑی ہے کہ کسی ولی کی عظمت بیان کرنے کے لئے جھوٹے اور من گھڑت واقعات کا سہارا لیا جاتا ہے جو شریعت اسلامیہ کے اصول و ضوابط سے متصا‌دم نظر آتے ہیں، ایسے موقع پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی ولی کی عظمت و ولایت بیان کرنے کے لئے حقیقی اور واقعی کرامات کافی نہیں؟ کرامات سے قطع ‌نظر ، ایک عارف باللہ ولی کامل کی حقانیت کی یہی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے کہ تا دم حیات اسکی زندگی کا کوئی لمحہ شریعت مطہرہ کے خلاف نہ گزرا ہو، افسوس کہ سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ جن کی ولایت کی معرفت تک عقلوں کو رسائی نہیں، آپ کی شان میں بھی کچھ پیشہ وروں اور زرخرید افراد نے اختراع پردازی سے کام لیتے ہوۓ ایسے واقعات لکھ مارے جن کا بیان کرنا از روۓ شرع جائز نہیں،
ذرا غور تو کریں! جسکی زندگی کا ایک لمحہ بھی شرع کے خلاف نہ گزرا ہو اس سے شریعت کے خلاف کسی واقعہ کا رونما ہونا متصور ہو سکتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں،

ہمارے اس دور کے خطباء کا حال تو مت پوچھیے، ان کی عادت تو یہ بن چکی ہے کہ کتابوں میں جیسا لکھا ہوا پاتے ہیں خواہ صحیح ہو یا غلط بغیر امتیاز کیے ہوۓ افسانوی رنگ و روغن بھر کر سٹیجوں سے کر بیان کر ڈالتے ہیں،
اور من گھڑت واقعات کی تشہیر کو اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں، کتب خطابت رطب و یابس سے پر ہیں آپکو من گھڑت واقعات خطابت کی کتابوں میں دیکھنے کو مل جائیں گے،
یہاں ہم سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے منسوب صرف دو واقعات پیش کریں گے جو اصول شریعت سے متصادم اور مزاج شرع کے خلاف ہیں

(١) سیدنا غوث اعظم اور دھوبی____ سیدنا غوث اعظم کی ذات کی طرف منسوب کرتے ہوۓ خطباء حضرات سٹیجوں سے یہ واقعہ خوب زور و شور سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا غوث اعظم کا ایک دھوبی تھا جو آپکے کپڑوں کو دھویا کرتا تھا، جب اسکا انتقال ہوا تو قبر میں اس سے نکیرین نے سوالات کیے،اس نے تینوں سوالات کے جواب میں یہی کہا کہ” میں سیدنا غوث اعظم کا دھوبی ہوں” اور اسکی بخشش ہو گئی۔
یہ واقعہ سراسر شریعت کے اصول کے مباین و مناقض ہے اس لئے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ قبر میں تین سوالات ہوتے ہیں اور انکے جوابات دینا لازمی ہے یہ کہ دینا کہ “میں سیدنا غوث اعظم کا دھوبی ہوں” اصل سوال کا جواب ہی نہیں اور اس واقعہ کا کسی معتبر و معتمد کتاب میں ثبوت نہیں ملتا۔
شارح بخاری حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے ایک منظوم کے حوالے سے یہی سوال ہوا تو آپ نے تفصلیلی جواب دیتے ہوۓ ارقام فرمایا کہ” یہ حکایت نہ میں نے کسی کتاب میں دیکھی ہے نہ میں نے کسی سے سنی ہے، احادیث میں تصریح ہے کہ اگر مرنے والا مومن ہوتا ہے تو قبر کے تینوں بنیادی سوالوں کا جواب دے دیتا ہے، منافق یا کافر ہوتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ ہاۓ ہاۓ میں نہیں جانتا۔ لہذا یہ روایت حدیث کے خلاف ہے مگر یہ بات حق ہے کہ حضرات اولیاء کرام،‌ آئمہ دین، بزرگان دین،اپنے مریدین اور معتقدین کی قبروں میں نکیرین کے سوالات کے وقت تشریف لاتے ہیں اور جواب میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔ (فتاویٰ شارح بخاری جلد ٢ صفحہ ١٢٤)

نیز مذکورہ واقعہ کی تردید کرتے ہوۓ فقیہ‌ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ رحمۃ اللہ الغنی لکھتے ہیں کہ یہ روایت بے اصل ہے،‌اسکا‌ بیان کرنا درست نہیں لہذا جس نے اسے بیان کیا ہو وہ اس سے رجوع کرے اور آئندہ اس روایت کے نہ بیان کرنے کا عہد کرے،‌ اگر وہ ایسا نہ کرے تو کسی معتمد کتاب سے اس روایت کو ثابت کرے۔(فتاوی فقیہ ملت جلد ٢ صفحہ ٤١١)

اسی نوعیت کا ایک اور من گھڑت قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے، جسے ذرا سا غور و تأمل کے ساتھ سنا جائے تو اہل عقل پر فوراً واضح ہو جائے کہ یہ واقعہ محض اختراع و افسانہ ہے اور شرعی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے غصہ و ناراضی کی حالت میں ملک الموت حضرت عزرائیل علیہ السلام سے زنبیل ارواح چھین لی۔

اس واقعے کے متعلق اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن رقم فرماتے ہیں کہ زنبیل ارواح چھین لینا خرافات مخترعہ جہال سے ہے۔ سیدنا عزرائیل علیہ السلام رسل ملائکہ سے ہیں، اور رسل ملائکہ، اولیائے بشر سے بالاجماع افضل ہیں؛ لہٰذا مسلمانوں کو ایسے اباطیل واہیہ سے احتراز لازم۔
(فتاوی رضویہ جلد ٢٨ صفحہ ٤١٩)

افسوس کہ بعض خطباء، غیر ذمہدار ائمہ اور محض قصہ گوئی کے شائق افراد، جن کا علم و تحقیق سے کوئی خاص واسطہ نہیں ہوتا، ایسی بے اصل حکایات کو کثرت سے اپنی مجالس کا موضوع بناتے ہیں۔ جذبات انگیز اور غیر مستند گفتگو کے ذریعے سامعین کے جذبات کو برانگیختہ کیا جاتا ہے، جبکہ تحقیق و تنقیح اور صحت روایت کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔ نتیجتاً من گھڑت واقعات کو فروغ ملتا ہے، خرافات کو تقویت پہنچتی ہے اور دینی مجالس کا اصل مقصد پس پشت چلا جاتا ہے، پھر اغیار اکابرین امت کا مذاق بناتے اور انکی عظمتوں میں تنقیص کے پہلو نکالتے ہیں۔

بسا اوقات یہی حضرات ایک ہی مجلس کو گھنٹوں طویل کر دیتے ہیں، مگر اس طویل گفتگومیں قرآن و حدیث کی تعلیم، صحیح عقائد کی ترویج اور اصلاح اعمال کے بجائے غیر مستند قصہ گوئی غالب رہتی ہے۔ حالاں کہ منبر و محراب اور دینی مجالس کا مقصد محض وقت گزاری یا سامعین کے جذبات کو گرم کرنا نہیں، بلکہ صحیح علم پہنچانا، عقائد و اعمال کی اصلاح کرنا اور شریعت کی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔ لہٰذا واعظین و خطباء کو چاہیے کہ ہر واقعہ بیان کرنے سے قبل اس کی صحت و استناد کی تحقیق کریں اور من گھڑت حکایات سے اپنی مجالس کو آلودہ ہونے سے محفوظ رکھیں۔

خداۓ قادر و مقتدر تعلیمات سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ پر عمل کی توفیق بخشے اور دنیا وما فیھا کے مفاسد سے نجات تا حین حیات عطا فرمائے

Scan this QR code to read online:

QR Code