صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسافرانِ قلم اور وہم و گمان
ادبیات

مسافرانِ قلم اور وہم و گمان

✍️ Shaikh Rahat Rahi Ismaili

مسافرانِ قلم اور وہم و گمان
عصرِ حاضر میں تحریر و قلم کے گلستان میں اگر کوئی گل کھلنا چاہے تو اس کا گلا گھونٹ کر دوسرے پھولوں کے لیے عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ بسا اوقات دیکھا جاتا ہے کہ اہلِ ذوق اور صاحبانِ فکر کی آواز دب جاتی ہے اور شورِ بے جا غالب آ جاتا ہے۔
جب کوئی بچہ سچی محنت اور لگن سے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے، ابتدا سے انتہا تک اپنے افکار کو حسن ترتیب میں ڈھالتا ہے اور بڑوں کی مشفقانہ نصیحتوں اور حکمت آمیز باتوں کو پیشِ نظر رکھتا ہے اپنے اور اپنے کتب بینی کا سہارا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں مختلف موضوعات پر مضامین و مقالات سامنے آتے ہیں'
مگر افسوس کہ اسی پاکیزہ کوشش پر بعض لوگ بلا تحقیق یہ حکم صادر کر دیتے ہیں کہ یہ تحریر کسی AI tool یا ChatGPT کی مرہونِ منت ہے یہ رویہ نہ صرف خلافِ انصاف ہے بلکہ انسانی صلاحیتوں کو تار تار کرنے والا جور و تعدی بھی ہے جو بچوں کے دلوں میں یأس، اضطراب اور ناامیدی کو جنم دیتا ہے ایسے بے وزن الزامات ان کی خود اعتمادی (confidence) کو متزلزل کر دیتے ہیں حتیٰ کہ بعض اوقات وہ بچے قلم سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور اس کے نقصان کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے بھی ایک خسارے کا سبب بنتا ہے
درحقیقت حسد اور کینہ اکثر وہیں سر اٹھاتا ہے جہاں اپنی فکری قوت ناتمام ہوتی ہے جو شخص حقیقتاً اہلِ قلم اور صاحبِ بصیرت ہوتا ہے وہ دوسروں کی تحریر میں نقص نکالنے کے بجائے اس کے حسن کو سراہتا ہے اور اغلاط کی نشاندہی بھی کرتا ہے مگر اصول کے دائرے میں۔
اگر کوئی طالبِ علم واقعی AI جیسے جدید ذرائع پر اندھا اعتماد کرے تو یہ عمل اس کی ملکۂ تحریر اور قوتِ تفکر کو جِلا دینے کے بجائے آہستہ آہستہ سلب کر لیتا ہے وقتی پذیرائی تو مل سکتی ہے مگر استعدادِ باطن پیدا نہیں ہوتی۔ مگر ایسوں کی جب تک تحقیق نہ ہوجائے تو دینِ اسلام اور اخلاقِ فاضلہ ہمیں حسنِ ظن، عدل اور انصاف کا درس دیتا ہے ایک مومنِ صادق پر لازم ہے کہ وہ دوسرے مومن کے بارے میں اچھا گمان رکھے جب تک کوئی بیّن دلیل (evidence) قائم نہ ہو بلا ثبوت الزام تراشی نہ صرف اخلاقی قباحت ہے بلکہ شرعی اعتبار سے بھی ناپسندیدہ ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور جن کی فطرت میں یہی سب کرنا تو بہر حال یہی کہیں گے کہ یہ مضمون بھی کسی AI یا ChatGPT سے لکھا گیا ہے مگر اہلِ فہم بخوبی جانتے ہیں کہ در حقیقت قدر نیت و محنت اور صدق و اخلاص کی ہوتی ہے نہ کہ الزام تراشی اور بے بنیاد گمان کی۔
لہٰذا دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ بچوں کے قلم کو شک کی گرد میں لپیٹنے کے بجائے اعتماد، رہنمائی اور حوصلہ دے کر سنوارا جائے کیونکہ یہی رویہ ایک صحیح فکری معاشرے کی بنیاد بنتا ہے
از قلم ۔ شیخ راحت راہی اسمٰعیلی
متعلم ۔ جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی (ہند)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Shaikh Rahat Rahi Ismaili

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
58
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
Shaikh Rahat Rahi Ismaili
زمرہ جات

تاثرات {مھر بخشش}

الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ

مسافرانِ قلم اور وہم و گمان - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

مسافرانِ قلم اور وہم و گمان

مضمون نگار: Md Abul Kalam Azad Markazi

مسافرانِ قلم اور وہم و گمان

عصرِ حاضر میں تحریر و قلم کے گلستان میں اگر کوئی گل کھلنا چاہے تو اس کا گلا گھونٹ کر دوسرے پھولوں کے لیے عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ بسا اوقات دیکھا جاتا ہے کہ اہلِ ذوق اور صاحبانِ فکر کی آواز دب جاتی ہے اور شورِ بے جا غالب آ جاتا ہے۔
جب کوئی بچہ سچی محنت اور لگن سے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے، ابتدا سے انتہا تک اپنے افکار کو حسن ترتیب میں ڈھالتا ہے اور بڑوں کی مشفقانہ نصیحتوں اور حکمت آمیز باتوں کو پیشِ نظر رکھتا ہے اپنے اور اپنے کتب بینی کا سہارا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں مختلف موضوعات پر مضامین و مقالات سامنے آتے ہیں’

مگر افسوس کہ اسی پاکیزہ کوشش پر بعض لوگ بلا تحقیق یہ حکم صادر کر دیتے ہیں کہ یہ تحریر کسی AI tool یا ChatGPT کی مرہونِ منت ہے یہ رویہ نہ صرف خلافِ انصاف ہے بلکہ انسانی صلاحیتوں کو تار تار کرنے والا جور و تعدی بھی ہے جو بچوں کے دلوں میں یأس، اضطراب اور ناامیدی کو جنم دیتا ہے ایسے بے وزن الزامات ان کی خود اعتمادی (confidence) کو متزلزل کر دیتے ہیں حتیٰ کہ بعض اوقات وہ بچے قلم سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور اس کے نقصان کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے بھی ایک خسارے کا سبب بنتا ہے
درحقیقت حسد اور کینہ اکثر وہیں سر اٹھاتا ہے جہاں اپنی فکری قوت ناتمام ہوتی ہے جو شخص حقیقتاً اہلِ قلم اور صاحبِ بصیرت ہوتا ہے وہ دوسروں کی تحریر میں نقص نکالنے کے بجائے اس کے حسن کو سراہتا ہے اور اغلاط کی نشاندہی بھی کرتا ہے مگر اصول کے دائرے میں۔

اگر کوئی طالبِ علم واقعی AI جیسے جدید ذرائع پر اندھا اعتماد کرے تو یہ عمل اس کی ملکۂ تحریر اور قوتِ تفکر کو جِلا دینے کے بجائے آہستہ آہستہ سلب کر لیتا ہے وقتی پذیرائی تو مل سکتی ہے مگر استعدادِ باطن پیدا نہیں ہوتی۔ مگر ایسوں کی جب تک تحقیق نہ ہوجائے تو دینِ اسلام اور اخلاقِ فاضلہ ہمیں حسنِ ظن، عدل اور انصاف کا درس دیتا ہے ایک مومنِ صادق پر لازم ہے کہ وہ دوسرے مومن کے بارے میں اچھا گمان رکھے جب تک کوئی بیّن دلیل (evidence) قائم نہ ہو بلا ثبوت الزام تراشی نہ صرف اخلاقی قباحت ہے بلکہ شرعی اعتبار سے بھی ناپسندیدہ ہے۔

اور جن کی فطرت میں یہی سب کرنا تو بہر حال یہی کہیں گے کہ یہ مضمون بھی کسی AI یا ChatGPT سے لکھا گیا ہے مگر اہلِ فہم بخوبی جانتے ہیں کہ در حقیقت قدر نیت و محنت اور صدق و اخلاص کی ہوتی ہے نہ کہ الزام تراشی اور بے بنیاد گمان کی۔
لہٰذا دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ بچوں کے قلم کو شک کی گرد میں لپیٹنے کے بجائے اعتماد، رہنمائی اور حوصلہ دے کر سنوارا جائے کیونکہ یہی رویہ ایک صحیح فکری معاشرے کی بنیاد بنتا ہے

از قلم ۔ شیخ راحت راہی اسمٰعیلی
متعلم ۔ جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی (ہند)

Scan this QR code to read online:

QR Code