اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
محرم الحرام: بدعات و منکرات
فقہ وفتاویٰ

محرم الحرام: بدعات و منکرات

✍️ Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

محرم الحرام: بدعات و منکرات
محرم الحرام، جو اسلامی مہینوں میں ایک مقدس اور قابلِ احترام مہینہ شمار ہوتا ہے، اپنی روحانی عظمت اور تاریخی اہمیت میں بے مثال ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں صبر، قربانی، حق پر ڈٹے رہنے اور اہلِ بیتِ اطہار کی لازوال قربانیوں کا روشن سبق موجود ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں محرم الحرام اپنی اصل تقدیس اور روحانی وقار کے ساتھ منایا نہیں جاتا۔
جیسے ہی یہ مبارک مہینہ نمودار ہوتا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ بے شمار غلط روایات، غیر شرعی اعمال اور ایسی رسومات جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں، زور پکڑ لیتے ہیں۔ ماتمی جلوس، ڈھول، تاشے، نوحہ و ماتم، سینہ کوبی، لہو لہان ہونا، سڑکوں پر ہنگامہ آرائی اور رات بھر شور و شرابہ ایسے مظاہر ہیں جو اصل دین کی تعلیمات سے دور لے جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر نوجوان گروہوں کے ذریعہ تعزیے اٹھانے کے بہانے غیر اسلامی رقص و سرود، لاوڈ اسپیکر کا شور اور عوامی مجالس میں بھی خلافِ شریعت حرکات دیکھنے میں آتی ہیں، جو نہ صرف دین کی روح کے منافی ہیں بلکہ معاشرتی تہذیب کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔
یہ نہایت تکلیف دہ حقیقت ہے کہ بعض لوگ اس مقدس مہینے کو اپنے جذبات کی حد تک محدود کر کے، رونا، چیخنا، کپڑے پھاڑنا اور سینہ کوبی کو مذہبی عبادت سمجھ بیٹھتے ہیں، گویا یہ سب اعمال ہی دین کی اصل تعلیمات ہیں۔ یہاں تک کہ بعض نام نہاد علماء اور پیروں کی بھی رہنمائی عوام کو مزید غیر اسلامی سرگرمیوں میں ملوث کر دیتی ہے، جیسے تعزیے بنانا، میلوں اور کھیل تماشوں کا انعقاد، اور بانس، کاغذ یا پنی کے مجسمے بنا کر ان پر چڑھاوے دینا۔ یہ سب کام اصل دین کی تعلیمات کے منافی ہیں، مگر عوام ان میں لذت اور تفریح پاتے ہوئے انہیں درست سمجھ بیٹھتی ہے، اور بدقسمتی سے ایسے اعمال کو ثواب اور جنت کی ضمانت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
اس تمام صورتحال کے باوجود، سچائی اور حق کی روشنی ہر حال میں سر اٹھا کر بولتی ہے۔ جو لوگ حق پر قائم رہتے ہیں، وہ فرقہ وارانہ غلط فہمیوں اور رواجی خرافات کے باوجود دین کی اصل روح کو پہچان لیتے ہیں۔ محرم الحرام ہمیں صبر، استقامت، قربانی اور دین کی حقیقی تعلیمات کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مقدس مہینے کو اس کی اصل تقدیس اور روح کے مطابق منایا جائے، غلط روایات اور غیر شرعی اعمال کو ترک کیا جائے، اور نئی نسل کو صحیح راستہ دکھایا جائے۔ اسی طرح ہم نہ صرف اہلِ بیت کی تعلیمات کی پاسداری کریں گے بلکہ اپنے دین اور معاشرت کو بھی حقیقی معنوں میں محفوظ رکھ سکیں گے۔

محرم الحرام اور تعزیہ داری:

سیدی سرکار اعلی حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمدرضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے کہ اب کہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے قطعًا بدعت وناجائزوحرام ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ تعزیہ بنانا جائز ہے گھمانا ناجائز ہے اس کا بھی اعلیٰ حضرت نے واضح رد فرمایا اور تعزیہ بنانے سے بھی منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:مگر اب اس نقل میں بھی اہل بدعت سے ایک مشابہت اور تعزیئے داری کی تہمت کا خدشہ اور آئندہ اپنی اولاد واہل اعتقاد کے لئے ابتلاء بدعت کا اندیشہ ہے۔ لہذا روضہ اقدس حضور سید الشہدا رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ایسی تصویر بھی نہ بنائے (فتاوی رضویہ جلد ٢٤ صفحہ ٥١٤ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
سیدی اعلی حضرت قدس سرہٗ العزیز نے ان گنت مقامات پر مروجہ تعزیہ داری کو ناجائز، حرام اور گناہ قرار دیا ہے۔ بلکہ اس موضوع پر پورا ایک رسالہ بھی تصنیف فرمایا جس کا نام ہے: اعالی الإفادہ فی تعزیۃ الہند و بیان الشہادۃ
مفتی اعظم ہند علامہ شاہ مصطفیٰ رضا خان علیہ رحمہ فرماتے ہیں تعزیئے داری شرعا نا جائز ہے (فتاوی مصطفویہ صفحہ ٥٣٤ مطبوعہ رضا اکیڈمی)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تعزیئے داری اور اس کے ساتھ جگہ جگہ جو خلاف شرع حرکات و بدعات رائج ہیں ان کا ذکر کر کے لکھتے ہیںیہ سب محض خرافات ہیں ان سب سے حضرت سیدنا امام حسین رضی تعالی عنہ خوش نہیں ہیںچند سطر آگے لکھتے ہیں : یہ واقعہ تمہارے لئے نصیحت تھا اور تم نے اس کو کھیل تماشا بنالیا (بہار شریعت حصہ ١٦ صفحہ ٢٤٨)
فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:ہندوستان میں جس طرح کے عام طور پر تعزیے داری رائج ہے وہ بیشک حرام وناجائز و بدعت سیئہ ہے۔(فتاوی فیض الرسول جلد۲ صفحہ ٥٦٣، حوالہ محرم میں کیا جائز کیا ناجائز؟ صفحہ١٨)

محرم الحرام اور ناجائز رواجات:

مزید سرکارِ اعلیٰ حضرت ناجائز رواجات کو ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ: عَلَم، تعزیے، مہندی، ان کی منت، گشت، چڑھاوا، ڈھول، تاشے، مجیرے، مرثیے، ماتم، مصنوعی کربلا کوجانا، عورتوں کا تعزیے دیکھنے کو نکلنا، یہ سب باتیں حرام وگناہ وناجائز ومنع ہیں۔(فتاویٰ رضویہ جلد٢٤ صفحہ٤٩٩ مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور)
محرم الحرام میں ناجائز رواجات و رسومات سے متعلق کیے گئے سوالات پر حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کا جواب
مسئلہ:کیا فرماتے ہیں علمائے دین وخلیفہ مرسلین مسائل ذیل میں:
(۱) بعض سنت جماعت عشرہ دس محرم الحرام کو نہ تو دن بھرروٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں کہتے ہیں کہ بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔
(۲) ان دس دن میں کپڑے نہیں اُتارتے ہیں۔
(۳) ماہ محرم میں بیاہ شادی نہیں کرتے ہیں۔
(٤) ان ایّام میں سوائے امام حسن وامام حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما کے کسی کی نیازفاتحہ نہیں دلاتے ہیں،آیا یہ جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اورسوگ حرام ہے،اور چوتھی بات جہالت ہے ہرمہینہ ہرتاریخ میں ہر ولی کی نیاز اورہر مسلمان کی فاتحہ ہوسکتی ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم۔(فتاویٰ رضویہ جلد٢٤ صفحہ٤٨٩ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

محرم الحرام اور مستحب اعمال:

مومنوں کو محرم الحرام کے دس دنوں میں کیا کرنا چاہیے اس تعلق سے حضور اعلی حضرت ایک جواب تحریر فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو ان ایام میں صدقات وخیرات ومیراث وحسنات کی کثرت چاہیے خصوصًا روزے خصوصًا روزعاشورکا کہ سال بھر کے روزوں کاثواب اور ایک سال گزشتہ کے گناہوں کی معافی ہے کما ثبت فی الحدیث الصحیح (جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے) اوربہتریہ ہے کہ نویں دسویں دونوں کا روزہ رکھے۔لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لئن بقیت الی قابل لاصومن التاسع ترجمہ: اس لئے کہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگرمیں آئندہ سال میں زندہ رہا تو ضرور میں نو تاریخ کابھی روزہ رکھوں گا۔
حضرت شہزادہ گلگوں قبا امام حسین شہید کربلا ودیگر شہدائے کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم کے نام پاک پرجس قدر ہوسکے تصدق وایصال ثواب کریں بلکہ ان روزوں وغیرہا تمام حسنات کاثواب اسی جناب گردوں قباب کی نذرکریں گرمیوں میں ان کے نام پرشربت پلائیں جاڑے میں چائے پلائیں اور نیک نیت پاک مال سے شربت چائے کھانے کوجتنا چاہیں لذیذوبیش قیمت کریں سب خیرہے کھچڑا پلاؤفرنی جوچاہیں اور بے دقت میسر ہو برادری میں بانٹیں محتاجوں کوکھلائیں اپنے گھروالوں کوکھلائیں نیک نیت سے، سب ثواب ہے۔
حکیم الاُمَّت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں: محرم کی نویں اور دسویں کو روزہ رکھے تو بہت ثواب پاوے گا، بال بچّوں کے لیے دسویں محرم کو خوب اچّھے اچّھے کھانے پکائے تو ان شاءاللہ عزوجل سال بھر تک گھر میں برکت رہے گی، بہتر ہے کہ حلیم (کھچڑا) پکا کر حضرت شہیدِ کربلا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فاتحہ کرے بہت مجرّب ہے، اسی تاریخ کو غسل کرے تو تمام سال ان شاءاللہ عزوجل بیماریوں سے اَمْن میں رہے گا کیونکہ اس دن آبِ زم زم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے۔ (اسلامی زندگی ص١٣١ مطبوعہ دعوت اسلامی)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
رب تعالیٰ ہمیں غلط رسومات و رواج اور غیر شرعی اعمال سے محفوظ رکھے اور ہمیں شہیدان کربلا کی اتباع کرنے اور ان کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلین صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم
خامہ فرسائی: محمد اشفاق عالم امجدی علیمی (بچباری کٹیہار)
استاذ و مفتی: جامعہ مصباح العلوم کدمتلی (مالدہ)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
73
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 7
Kalam 0
Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi
زمرہ جات

آمد ماہ رمضان: رحمتوں، برکتوں کا پیام

پردۂ خفا میں جلوۂ ولایت

محرم الحرام: بدعات و منکرات - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

محرم الحرام: بدعات و منکرات

مضمون نگار: Md Abul Kalam Azad Markazi

محرم الحرام: بدعات و منکرات

محرم الحرام، جو اسلامی مہینوں میں ایک مقدس اور قابلِ احترام مہینہ شمار ہوتا ہے، اپنی روحانی عظمت اور تاریخی اہمیت میں بے مثال ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں صبر، قربانی، حق پر ڈٹے رہنے اور اہلِ بیتِ اطہار کی لازوال قربانیوں کا روشن سبق موجود ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں محرم الحرام اپنی اصل تقدیس اور روحانی وقار کے ساتھ منایا نہیں جاتا۔
جیسے ہی یہ مبارک مہینہ نمودار ہوتا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ بے شمار غلط روایات، غیر شرعی اعمال اور ایسی رسومات جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں، زور پکڑ لیتے ہیں۔ ماتمی جلوس، ڈھول، تاشے، نوحہ و ماتم، سینہ کوبی، لہو لہان ہونا، سڑکوں پر ہنگامہ آرائی اور رات بھر شور و شرابہ ایسے مظاہر ہیں جو اصل دین کی تعلیمات سے دور لے جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر نوجوان گروہوں کے ذریعہ تعزیے اٹھانے کے بہانے غیر اسلامی رقص و سرود، لاوڈ اسپیکر کا شور اور عوامی مجالس میں بھی خلافِ شریعت حرکات دیکھنے میں آتی ہیں، جو نہ صرف دین کی روح کے منافی ہیں بلکہ معاشرتی تہذیب کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔

یہ نہایت تکلیف دہ حقیقت ہے کہ بعض لوگ اس مقدس مہینے کو اپنے جذبات کی حد تک محدود کر کے، رونا، چیخنا، کپڑے پھاڑنا اور سینہ کوبی کو مذہبی عبادت سمجھ بیٹھتے ہیں، گویا یہ سب اعمال ہی دین کی اصل تعلیمات ہیں۔ یہاں تک کہ بعض نام نہاد علماء اور پیروں کی بھی رہنمائی عوام کو مزید غیر اسلامی سرگرمیوں میں ملوث کر دیتی ہے، جیسے تعزیے بنانا، میلوں اور کھیل تماشوں کا انعقاد، اور بانس، کاغذ یا پنی کے مجسمے بنا کر ان پر چڑھاوے دینا۔ یہ سب کام اصل دین کی تعلیمات کے منافی ہیں، مگر عوام ان میں لذت اور تفریح پاتے ہوئے انہیں درست سمجھ بیٹھتی ہے، اور بدقسمتی سے ایسے اعمال کو ثواب اور جنت کی ضمانت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

@نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

اس تمام صورتحال کے باوجود، سچائی اور حق کی روشنی ہر حال میں سر اٹھا کر بولتی ہے۔ جو لوگ حق پر قائم رہتے ہیں، وہ فرقہ وارانہ غلط فہمیوں اور رواجی خرافات کے باوجود دین کی اصل روح کو پہچان لیتے ہیں۔ محرم الحرام ہمیں صبر، استقامت، قربانی اور دین کی حقیقی تعلیمات کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مقدس مہینے کو اس کی اصل تقدیس اور روح کے مطابق منایا جائے، غلط روایات اور غیر شرعی اعمال کو ترک کیا جائے، اور نئی نسل کو صحیح راستہ دکھایا جائے۔ اسی طرح ہم نہ صرف اہلِ بیت کی تعلیمات کی پاسداری کریں گے بلکہ اپنے دین اور معاشرت کو بھی حقیقی معنوں میں محفوظ رکھ سکیں گے۔

#محرم الحرام اور تعزیہ داری:

سیدی سرکار اعلی حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمدرضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے کہ *اب کہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے قطعًا بدعت وناجائزوحرام ہے۔*

بعض لوگ کہتے ہیں کہ تعزیہ بنانا جائز ہے گھمانا ناجائز ہے اس کا بھی اعلیٰ حضرت نے واضح رد فرمایا اور تعزیہ بنانے سے بھی منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:*مگر اب اس نقل میں بھی اہل بدعت سے ایک مشابہت اور تعزیئے داری کی تہمت کا خدشہ اور آئندہ اپنی اولاد واہل اعتقاد کے لئے ابتلاء بدعت کا اندیشہ ہے۔ *لہذا روضہ اقدس حضور سید الشہدا رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ایسی تصویر بھی نہ بنائے (فتاوی رضویہ جلد ٢٤ صفحہ ٥١٤ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

سیدی اعلی حضرت قدس سرہٗ العزیز نے ان گنت مقامات پر مروجہ تعزیہ داری کو ناجائز، حرام اور گناہ قرار دیا ہے۔ بلکہ اس موضوع پر پورا ایک رسالہ بھی تصنیف فرمایا جس کا نام ہے: “اعالی الإفادہ فی تعزیۃ الہند و بیان الشہادۃ”
مفتی اعظم ہند علامہ شاہ مصطفیٰ رضا خان علیہ رحمہ فرماتے ہیں تعزیئے داری شرعا نا جائز ہے (فتاوی مصطفویہ صفحہ ٥٣٤ مطبوعہ رضا اکیڈمی)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تعزیئے داری اور اس کے ساتھ جگہ جگہ جو خلاف شرع حرکات و بدعات رائج ہیں ان کا ذکر کر کے لکھتے ہیں*یہ سب محض خرافات ہیں ان سب سے حضرت سیدنا امام حسین رضی تعالی عنہ خوش نہیں ہیں*چند سطر آگے لکھتے ہیں : یہ واقعہ تمہارے لئے نصیحت تھا اور تم نے اس کو کھیل تماشا بنالیا (بہار شریعت حصہ ١٦ صفحہ ٢٤٨)

فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:*ہندوستان میں جس طرح کے عام طور پر تعزیے داری رائج ہے وہ بیشک حرام وناجائز و بدعت سیئہ ہے*۔(فتاوی فیض الرسول جلد۲ صفحہ ٥٦٣، حوالہ محرم میں کیا جائز کیا ناجائز؟ صفحہ١٨)

#محرم الحرام اور ناجائز رواجات:

مزید سرکارِ اعلیٰ حضرت ناجائز رواجات کو ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ: عَلَم، تعزیے، مہندی، ان کی منت، گشت، چڑھاوا، ڈھول، تاشے، مجیرے، مرثیے، ماتم، مصنوعی کربلا کوجانا، عورتوں کا تعزیے دیکھنے کو نکلنا، یہ سب باتیں حرام وگناہ وناجائز ومنع ہیں۔(فتاویٰ رضویہ جلد٢٤ صفحہ٤٩٩ مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور)

محرم الحرام میں ناجائز رواجات و رسومات سے متعلق کیے گئے سوالات پر حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کا جواب
*مسئلہ:*کیا فرماتے ہیں علمائے دین وخلیفہ مرسلین مسائل ذیل میں:
(۱) بعض سنت جماعت عشرہ دس محرم الحرام کو نہ تو دن بھرروٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں کہتے ہیں کہ بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔
(۲) ان دس دن میں کپڑے نہیں اُتارتے ہیں۔
(۳) ماہ محرم میں بیاہ شادی نہیں کرتے ہیں۔
(٤) ان ایّام میں سوائے امام حسن وامام حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما کے کسی کی نیازفاتحہ نہیں دلاتے ہیں،آیا یہ جائز ہے یانہیں؟

الجواب:
پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اورسوگ حرام ہے،اور چوتھی بات جہالت ہے ہرمہینہ ہرتاریخ میں ہر ولی کی نیاز اورہر مسلمان کی فاتحہ ہوسکتی ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم۔(فتاویٰ رضویہ جلد٢٤ صفحہ٤٨٩ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

#محرم الحرام اور مستحب اعمال:

مومنوں کو محرم الحرام کے دس دنوں میں کیا کرنا چاہیے اس تعلق سے حضور اعلی حضرت ایک جواب تحریر فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو ان ایام میں صدقات وخیرات ومیراث وحسنات کی کثرت چاہیے خصوصًا روزے خصوصًا روزعاشورکا کہ سال بھر کے روزوں کاثواب اور ایک سال گزشتہ کے گناہوں کی معافی ہے “کما ثبت فی الحدیث الصحیح” (جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے) اوربہتریہ ہے کہ نویں دسویں دونوں کا روزہ رکھے۔”لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لئن بقیت الی قابل لاصومن التاسع” ترجمہ: اس لئے کہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگرمیں آئندہ سال میں زندہ رہا تو ضرور میں نو تاریخ کابھی روزہ رکھوں گا۔

حضرت شہزادہ گلگوں قبا امام حسین شہید کربلا ودیگر شہدائے کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم کے نام پاک پرجس قدر ہوسکے تصدق وایصال ثواب کریں بلکہ ان روزوں وغیرہا تمام حسنات کاثواب اسی جناب گردوں قباب کی نذرکریں گرمیوں میں ان کے نام پرشربت پلائیں جاڑے میں چائے پلائیں اور نیک نیت پاک مال سے شربت چائے کھانے کوجتنا چاہیں لذیذوبیش قیمت کریں سب خیرہے کھچڑا پلاؤفرنی جوچاہیں اور بے دقت میسر ہو برادری میں بانٹیں محتاجوں کوکھلائیں اپنے گھروالوں کوکھلائیں نیک نیت سے، سب ثواب ہے۔

حکیم الاُمَّت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں: محرم کی نویں اور دسویں کو روزہ رکھے تو بہت ثواب پاوے گا، بال بچّوں کے لیے دسویں محرم کو خوب اچّھے اچّھے کھانے پکائے تو ان شاءاللہ عزوجل سال بھر تک گھر میں برکت رہے گی، بہتر ہے کہ حلیم (کھچڑا) پکا کر حضرت شہیدِ کربلا امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فاتحہ کرے بہت مجرّب ہے، اسی تاریخ کو غسل کرے تو تمام سال ان شاءاللہ عزوجل بیماریوں سے اَمْن میں رہے گا کیونکہ اس دن آبِ زم زم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے۔ (اسلامی زندگی ص١٣١ مطبوعہ دعوت اسلامی)

رب تعالیٰ ہمیں غلط رسومات و رواج اور غیر شرعی اعمال سے محفوظ رکھے اور ہمیں شہیدان کربلا کی اتباع کرنے اور ان کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلین صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم

خامہ فرسائی: محمد اشفاق عالم امجدی علیمی (بچباری کٹیہار)
استاذ و مفتی: جامعہ مصباح العلوم کدمتلی (مالدہ)

Scan this QR code to read online:

QR Code