صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
لا ادري میں نہیں جانتا
ترغیبات

لا ادري میں نہیں جانتا

✍️ Md Janbaz Raza Aahsani Markazi

لا أدرى( میں نہیں جانتا )
اہل علم کا ایک طبقہ ہمارے درمیان ایسا موجود ہے
جو ہر سوال کا جواب دینے میں عجلت کا مظاہرہ کرتا ہے. اگر چہ اس کے جواب سے وہ نا آشنا ہو اور یہ کہنے میں کہ مجھے معلوم نہیں عار محسوس کرتا ہے.
ایسے شخص کو یہ روش چھوڑ دینا چاہیے اس لئے کے انسان کو قلیل علم ہی دیا گیا ہے
وَمَاْ اُوْتِيْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ اِلاَّ قَلِيْلاً
تو ہر شي کا علم ہونا ممکن نہیں.
اور پھر ہر سوال کا جواب دینا عقلمندی بھی نہیں بلکہ فعلِ مجنون ہے جیسا کے ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہےکہ:
جس نے ہر اس سوال کا جواب دیا جو اس سے پوچھا گیا تو وہ مجنون ہے (شرح مہذب للنووي)
.
لہٰذا اس ہی سوال کا جواب دینا چاہیے جس كا علم ہو ورنہ لا ادری کہكر بے علم جواب دینے سے گریز کرنا چاہیے.
کیونکہ لا ادری کہنا کوئی عیب نہیں اگر یہ عیب ہوتا تو ہمارے اکابرین سے یہ ہرگز مسموع نہ ہوتا حالانکہ اکابرین سے (لا ادری) کا ثبوت موجود ہے.
جیسا کہ فقیہ اعظم امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے دھر کے مسئلے کے بارے میں فرمایا لا أدرى الدھر ( البنایہ)
پھر امام نووی نے اپنی کتاب شرح مہذب میں ذکر کیا ہے:
کہ امام مالک علیہ الرحمہ سے اڑتالیس مسئلے دریافت کئے گئے تو آپ نے بتیس مسئلوں کے بارے میں میں لا ادری فرمایا.
اور حضرت اثرم فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل( علیہ الرحمہ ) کو بہت مرتبہ لا أدْرِی کہتے سنا.
امام شافعی علیہ الرحمہ سے ایک مسئلہ دریافت کیا گیا آپ نے جواب نہ دیا تو آپ سے اس بارے میں کہا گیا کہ جواب نہ دینے کا سبب کیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا میں جانتا ہوں کہ فضیلت سکوت میں ہے یا جواب دینے میں
ان اقوال سے نیم روز کی طرح روشن ہوا کہ کسی مسئلے کا علم نہ ہونا وجہ عیب نہیں بلکہ طریقۂ اکابرین ہے.
اور پھر اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص لا أدرى کو ترک کر دیتا ہے اور اپنے آپ کو ہر مسئلے کا جواب دینے کا اہل سمجھتا ہے تو ہلاکت اس کا نصیبہ ہو جاتی ہے.جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
إذا اغفل العالم لا أدرى اُصيبت مُقاتله
لہٰذا اگر کسی مسئلے کا علم نہ ہو تو نفس کی مخالفت کرتے ہوئے بلا توقف (لا أدرى) کہہ دینا چاہیے. اور پھر کتب بینی کے بعد اس مسئلے کے بارے میں گفتگو کرنی چاہیے.
اس عمل سے علم میں اضافہ بھی ہوگا اور بندہ شریعت کے معاملے میں غلط بیانی سے محفوظ بھی رہیگا.
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
مزید برآں جواب دینے میں حد درجہ احتیاط کرتے ہوئے آخرت پیش نظر رکھنا چاہیے.جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا ہے:
جس شخص نے کسی مسئلے کا جواب دیا تو جواب دینے سے پہلے اس شخص کو اپنی ذات جنت و جہنم پر پیش کرنی چاہیے کہ وجہ نجات کس صورت میں ہے اس کے بعد جواب دینا چاہیے(شرح مہذب)
اللہ تعالٰی ہمیں حق بولنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین 🤲
ازقلم:محمد جانباز رضا احسنی مرکزی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Md Janbaz Raza Aahsani Markazi

Student - Takhassus 1st | Jamiatur Raza
73
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
Md Janbaz Raza Aahsani Markazi
زمرہ جات

کیا وہ سفید پرندہ پھر کبھی لوٹے گا؟

خاموش جھیل اور ہجرت کرتا پرندہ

لا ادري میں نہیں جانتا - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

لا ادري میں نہیں جانتا

مضمون نگار: Md Janbaz Raza Aahsani Markazi

لا أدرى( میں نہیں جانتا )

اہل علم کا ایک طبقہ ہمارے درمیان ایسا موجود ہے
جو ہر سوال کا جواب دینے میں عجلت کا مظاہرہ کرتا ہے. اگر چہ اس کے جواب سے وہ نا آشنا ہو اور یہ کہنے میں کہ مجھے معلوم نہیں عار محسوس کرتا ہے.

ایسے شخص کو یہ روش چھوڑ دینا چاہیے اس لئے کے انسان کو قلیل علم ہی دیا گیا ہے
“وَمَاْ اُوْتِيْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ اِلاَّ قَلِيْلاً”
تو ہر شي کا علم ہونا ممکن نہیں.

اور پھر ہر سوال کا جواب دینا عقلمندی بھی نہیں بلکہ فعلِ مجنون ہے جیسا کے ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہےکہ:
* جس نے ہر اس سوال کا جواب دیا جو اس سے پوچھا گیا تو وہ مجنون ہے * (شرح مہذب للنووي)
.
لہٰذا اس ہی سوال کا جواب دینا چاہیے جس كا علم ہو ورنہ* لا ادری* کہكر بے علم جواب دینے سے گریز کرنا چاہیے.
کیونکہ* لا ادری* کہنا کوئی عیب نہیں اگر یہ عیب ہوتا تو ہمارے اکابرین سے یہ ہرگز مسموع نہ ہوتا حالانکہ اکابرین سے (لا ادری) کا ثبوت موجود ہے.

جیسا کہ فقیہ اعظم امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے دھر کے مسئلے کے بارے میں فرمایا” لا أدرى الدھر “( البنایہ)

پھر امام نووی نے اپنی کتاب شرح مہذب میں ذکر کیا ہے:
کہ* امام مالک علیہ الرحمہ سے اڑتالیس مسئلے دریافت کئے گئے تو آپ نے بتیس مسئلوں کے بارے میں میں لا ادری فرمایا*.

اور حضرت اثرم فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل( علیہ الرحمہ ) کو بہت مرتبہ لا أدْرِی کہتے سنا.

امام شافعی علیہ الرحمہ سے ایک مسئلہ دریافت کیا گیا آپ نے جواب نہ دیا تو آپ سے اس بارے میں کہا گیا کہ جواب نہ دینے کا سبب کیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا* میں جانتا ہوں کہ فضیلت سکوت میں ہے یا جواب دینے میں*

ان اقوال سے نیم روز کی طرح روشن ہوا کہ کسی مسئلے کا علم نہ ہونا وجہ عیب نہیں بلکہ طریقۂ اکابرین ہے.

اور پھر اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص لا أدرى کو ترک کر دیتا ہے اور اپنے آپ کو ہر مسئلے کا جواب دینے کا اہل سمجھتا ہے تو ہلاکت اس کا نصیبہ ہو جاتی ہے.جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
” إذا اغفل العالم لا أدرى اُصيبت مُقاتله”

لہٰذا اگر کسی مسئلے کا علم نہ ہو تو نفس کی مخالفت کرتے ہوئے بلا توقف (لا أدرى) کہہ دینا چاہیے. اور پھر کتب بینی کے بعد اس مسئلے کے بارے میں گفتگو کرنی چاہیے.

اس عمل سے علم میں اضافہ بھی ہوگا اور بندہ شریعت کے معاملے میں غلط بیانی سے محفوظ بھی رہیگا.

مزید برآں جواب دینے میں حد درجہ احتیاط کرتے ہوئے آخرت پیش نظر رکھنا چاہیے.جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نے ارشاد فرمایا ہے:
*جس شخص نے کسی مسئلے کا جواب دیا تو جواب دینے سے پہلے اس شخص کو اپنی ذات جنت و جہنم پر پیش کرنی چاہیے کہ وجہ نجات کس صورت میں ہے اس کے بعد جواب دینا چاہیے*(شرح مہذب)
اللہ تعالٰی ہمیں حق بولنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین 🤲

ازقلم:محمد جانباز رضا احسنی مرکزی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف

Scan this QR code to read online:

QR Code