صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صرف اسلام ہی کیوں دوسرا مذہب کیوں نہیں
اسلامیات

صرف اسلام ہی کیوں دوسرا مذہب کیوں نہیں

✍️ Mufti Bilal Markazi Maturidi

صرف اسلام ہی کیوں دوسرا مذہب کیوں نہیں
مذہب اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو مکمل نظام حیات اور فطرت کے عین مطابق ہے اس میں excess and deficiency یعنی افراط و تفریط نہیں ہے اور نہ ہی اس کے اصول و عقائد میں contradiction یا Contrariety تناقض یا تضاد ہے جبکہ دیگر مذاہب اس سے خالی نہیں ہے تصور خدا ہی میں دیکھیے کوئی ایک میں تین اور تین میں ایک کا عقیدہ رکھتا ہے تو کوئی ترمورتی त्रिमूर्ति کے کانسپٹ کو اپناتا ہے اور کوئی خدا کو ایسی صفات سے متصف کرتا ہے جیسے وہ کوئی خدا نہیں بلکہ ہماری ہی طرح ایک انسان ہو لیکن مذہب اسلام Pure monotheism یعنی خالص توحید کو پیش کرتا ہے

تصور خدا اور اسلام

الله رب العزت اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں سورہ بقرہ آیت نمبر 163 کے تحت ارشاد فرماتا ہے وإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ (163) تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے
اور سورہ اخلاص میں ارشاد فرماتا ہے قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (1)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ (2)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ (3)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ (4) تم فرماؤ: وہ اللہ ایک ہے۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس نے کسی کو جنم دیا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔اور کوئی اس کے برابر نہیں ۔
ان آیات میں خدائے تعالیٰ کے وحدہ لا شریک ہونے کا واضح ثبوت ہے اور Rational & Reasonable معقولی و منطقی بات یہی ہے کہ خدا کو ایک مانا جائے اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہرایا جائے ورنہ خدا کا عاجز و محتاج ہونا لازم آئےگا

افراط و تفریط یا وسطیت

عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں اتنا غلو کیا اور اس حد تک گئے کہ انہیں خدا کا بیٹا اور خدا مان بیٹھے اور یہودیوں نے اتنی تقصیر کی کہ انہیں الله کا نبی ماننے سے ہی انکار کر دیا اور انکی جان کے دشمن بن گئے
جبکہ اسلام نے وسطیت اور درمیانہ روی کو اختیار کیا اور حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں بلکہ الله کا سچا اور مقدس نبی تسلیم کیا
قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ﳴ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ ۔ سورہ مریم (30) فرمایا: بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔

اسلام محفوظ یا غیر محفوظ

اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان اصلی فرق یہ ہے کہ اسلام ایک محفوظ مذہب ہے اور دوسرے مذاہب غیر محفوظ مذہب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سائنٹفک ریکارڈ کے مطابق، اسلام کو تاریخی اعتباریت (historical credibility) حاصل ہے۔ جب کہ دوسرے مذاہب میں سے کوئی بھی مذہب ایسا نہیں جس کو تاریخی اعتباریت کا درجہ حاصل ہو، مذہب اسلام کی کتاب قرآن کے بارے میں ارشاد ہوا:انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر۔ ۹) یعنی اللہ نے قرآن کو اتارا ہے اور اللہ ہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے.
اسلام کے سوا کسی مذہب کی کتاب تحریف و تبدیل سے محفوظ نہ رہ سکی کیونکہ اسکی حفاظت صرف اس مذہب کے پیروکار کر ریے تھے جبکہ مذہب اسلام کی کتاب کی حفاظت خود پروردگا کر رہا ہے اسی لیے وہ مذہب غیر محفوظ رہے اور اسلام محفوظ اور زندہ ہے۔

اسلام پورے عالم کے لئے ہے

دوسرے مذاہب مخصوص خطہ اور مخصوص وقت کے لئے تھے جیسے عیسائی مذہب صرف بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے تھا انجیل متی میں حضرت عیسیٰ کا فرمان ہے : میں بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے لئے نہیں بھیجا گیا (متی 15: 24)
But He answered and said, “I am not sent but unto the lost sheep of the house of Israel.”
اور ایک دوسری جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حواریوں سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں : غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا ( متی 10 : 5/6)
These twelve Jesus sent forth and commanded them, saying, “Go not into the way of the Gentiles, and into any city of the Samaritans enter ye not.
But go rather to the lost sheep of the house of Israel
.
اسی طرح یہودیت بھی ایک نسلی مذہب ہے جو مخصوص قوم بنی اسرائیل کے لیے تھا اور یہ مذہب بھی اپنے اندر موجود Chosen People کے کانسپٹ یعنی بنی اسرائیل خدا کے منتخب کردہ بندے ہیں اس لیے انہیں دیگر اقوام پر فضیلت حاصل ہے، خدائے تعالیٰ نے انہیں کی نسل کو رہنمائی اور قیادت کے لئے منتخب کیا ہے، نبوت صرف بنی اسرائیل میں آتی ہے ، یہودی پیغمبروں کی اولاد ہیں اس لیے وہ خاص اہمیت کے حامل ہیں کی بناء پر پورے عالم کے لیے نہیں ہو سکتا ۔
اور ہندو دھرم بھی اپنے اندر موجود ذات پات Casteism یعنی برہمن ، کھشتری، ویش، اور شودر جیسی تقسیم، عالمی اصول و ضوابط نہ ہونے اور متضاد عقائد کی بناء پر پورے عالم کے لیے نہیں ہو سکتا۔
لیکن مذہب اسلام قیامت تک پورے عالم کے لئے ہے جیسا کہ الله رب العزت نے سورہ سبا آیت نمبر 28 میں ارشاد فرمایا وماارسلناك الا كافة للناس اور ہم نے تمام لوگوں کے لئے آپکو رسول بنا کر بھیجا ۔اور دوسری جگہ سورہ اعراف آیت نمبر 158 میں ارشاد فرمایا : يايها الناس اني رسول الله إليكم جميعا اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

کسی بھی مذہب کے عالمی ہونے کے لیے چند چیزیں ضروری ہیں

1- اس مذہب میں لوگوں کے درمیان عدل اور مساوات ہو جو کہ مذہب اسلام نے اپنے پیروکاروں کے درمیان کر کے دکھایا ہے جیسے کہ الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ(سورہ حجرات، آیت 13) ترجمہ اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایاتاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے۔
اس آیت میں جنس کے اعتبار سے کسی کو کوئی فضیلت نہیں ہے یعنی نہ مرد کو عورت پر نہ عورت کو مرد پر بحیثیت جنس کوئی فضیلت ہے بلکہ فضیلت کا معیار تقویٰ و پرہیزگاری ہے جو کہ عدل و مساوات کے عین مطابق ہے
2- وہ مذہب فطرت انسانی کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے جیسے روح اور جسم کے درمیان کیا تعلق ہے مذہب اسلام نہ صرف روحانی تعلق کو سمجھاتا ہے بلکہ جسمانی تقاضوں کو بھی پورا کرنے کا حکم دیتا ہے الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(سورہ جمعہ : 10)
پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اوراللہ کا فضل تلاش کرو اوراللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
3- اس مذہب میں کامل اخلاقی نظام ہو جو کہ مذہب اسلام میں یہ بخوبی موجود ہے یہاں تک کہ مذہب اسلام نے چھوٹی چھوٹی چیزوں کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے کہ ہمیں چلنا کس طرح ہے اور جب ہم بولیں تو آواز کیسی رکھنا ہے وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَؕ(سورہ لقمان : 19)اور اپنے چلنے میں درمیانی چال سے چل اور اپنی آواز کچھ پست رکھ ۔
4- اس مذہب کا کامل تشریعی نظام ہو جو زندگی کے تمام شعبوں کو شامل ہو جو کہ مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو دیا ہے اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ( سورہ مائدہ : 3) آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔
5- اس مذہب میں واضح عقیدہ ہو جو کہ مذہب اسلام میں بلا کسی افراط و تفریط اور تناقض و تضاد کے احسن انداز ميں ہے کہ الله ایک ہے ، اسکا کوئی شریک نہیں ، وہ تمام صفات کمالیہ کاجامع ہے ، محمد صلی الله عليه وسلم اسکے بندے اور رسول ہیں ، قرآن الله کی نازل کردہ کتاب ہے ، فرشتے ، یوم آخرت ، جنت و دوزخ ، قضاء و قدر، اور بعث بعد الموت پر ایمان لانا ضروری ہے یہ تمام عقائد ایک دم واضح ہیں ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذہب اسلام ہی ایک عالمی مذہب ہے جو پوری دنیا کے لوگوں کے لیے قیامت تک کے لیے ہے جس میں مکمل ضابطہ حیات اور زندگی کے ہر شعبہ کا کامل نظام ہے، جس میں تضاد ہے نہ کنٹراڈکشن اور نہ افراط و تفریط جس کے عقائد واضح ہیں اور جو عالمی مذہب ہونے کے ہر ہر تقاضے کو پورا کرتا ہے اسکے علاوہ کوئی دوسرا مذہب عالمی مذہب ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور نہ رکھ سکتا ہے ،
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اسی لیے صرف مذہب اسلام کوئی دوسرا مذہب نہیں !
محمد بلال مرکزی ماتریدی
خادم التدریس جامعہ امام اعظم ابو حنیفہ، لکھنؤ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Bilal Markazi Maturidi

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
9
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 2
Kalam 0
Mufti Bilal Markazi Maturidi
زمرہ جات

حسد اور اس کا ثمر

چند دن جو مجھ پر بھاری گزرے

صرف اسلام ہی کیوں دوسرا مذہب کیوں نہیں - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

صرف اسلام ہی کیوں دوسرا مذہب کیوں نہیں

مضمون نگار: Md Abul Kalam Azad Markazi

صرف اسلام ہی کیوں دوسرا مذہب کیوں نہیں

مذہب اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو مکمل نظام حیات اور فطرت کے عین مطابق ہے اس میں excess and deficiency یعنی افراط و تفریط نہیں ہے اور نہ ہی اس کے اصول و عقائد میں contradiction یا Contrariety تناقض یا تضاد ہے جبکہ دیگر مذاہب اس سے خالی نہیں ہے تصور خدا ہی میں دیکھیے کوئی ایک میں تین اور تین میں ایک کا عقیدہ رکھتا ہے تو کوئی ترمورتی त्रिमूर्ति کے کانسپٹ کو اپناتا ہے اور کوئی خدا کو ایسی صفات سے متصف کرتا ہے جیسے وہ کوئی خدا نہیں بلکہ ہماری ہی طرح ایک انسان ہو لیکن مذہب اسلام Pure monotheism یعنی خالص توحید کو پیش کرتا ہے

#تصور خدا اور اسلام

الله رب العزت اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں سورہ بقرہ آیت نمبر 163 کے تحت ارشاد فرماتا ہے “وإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ” (163) تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے
اور سورہ اخلاص میں ارشاد فرماتا ہے” قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (1)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ (2)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ (3)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ (4)” تم فرماؤ: وہ اللہ ایک ہے۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس نے کسی کو جنم دیا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔اور کوئی اس کے برابر نہیں ۔
ان آیات میں خدائے تعالیٰ کے وحدہ لا شریک ہونے کا واضح ثبوت ہے اور Rational & Reasonable معقولی و منطقی بات یہی ہے کہ خدا کو ایک مانا جائے اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہرایا جائے ورنہ خدا کا عاجز و محتاج ہونا لازم آئےگا

#افراط و تفریط یا وسطیت

عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں اتنا غلو کیا اور اس حد تک گئے کہ انہیں خدا کا بیٹا اور خدا مان بیٹھے اور یہودیوں نے اتنی تقصیر کی کہ انہیں الله کا نبی ماننے سے ہی انکار کر دیا اور انکی جان کے دشمن بن گئے
جبکہ اسلام نے وسطیت اور درمیانہ روی کو اختیار کیا اور حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں بلکہ الله کا سچا اور مقدس نبی تسلیم کیا
“قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ﳴ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ ۔” سورہ مریم (30) فرمایا: بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔

#اسلام محفوظ یا غیر محفوظ

اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان اصلی فرق یہ ہے کہ اسلام ایک محفوظ مذہب ہے اور دوسرے مذاہب غیر محفوظ مذہب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سائنٹفک ریکارڈ کے مطابق، اسلام کو تاریخی اعتباریت (historical credibility) حاصل ہے۔ جب کہ دوسرے مذاہب میں سے کوئی بھی مذہب ایسا نہیں جس کو تاریخی اعتباریت کا درجہ حاصل ہو، مذہب اسلام کی کتاب قرآن کے بارے میں ارشاد ہوا:”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر۔ ۹)” یعنی اللہ نے قرآن کو اتارا ہے اور اللہ ہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے.
اسلام کے سوا کسی مذہب کی کتاب تحریف و تبدیل سے محفوظ نہ رہ سکی کیونکہ اسکی حفاظت صرف اس مذہب کے پیروکار کر ریے تھے جبکہ مذہب اسلام کی کتاب کی حفاظت خود پروردگا کر رہا ہے اسی لیے وہ مذہب غیر محفوظ رہے اور اسلام محفوظ اور زندہ ہے۔

#اسلام پورے عالم کے لئے ہے

دوسرے مذاہب مخصوص خطہ اور مخصوص وقت کے لئے تھے جیسے عیسائی مذہب صرف بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے تھا انجیل متی میں حضرت عیسیٰ کا فرمان ہے : ” میں بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے لئے نہیں بھیجا گیا (متی 15: 24)
“But He answered and said, “I am not sent but unto the lost sheep of the house of Israel.”
اور ایک دوسری جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حواریوں سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں : *غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا* ( متی 10 : 5/6)

“These twelve Jesus sent forth and commanded them, saying, “Go not into the way of the Gentiles, and into any city of the Samaritans enter ye not.
But go rather to the lost sheep of the house of Israel”.

اسی طرح یہودیت بھی ایک نسلی مذہب ہے جو مخصوص قوم بنی اسرائیل کے لیے تھا اور یہ مذہب بھی اپنے اندر موجود Chosen People کے کانسپٹ یعنی “بنی اسرائیل خدا کے منتخب کردہ بندے ہیں اس لیے انہیں دیگر اقوام پر فضیلت حاصل ہے، خدائے تعالیٰ نے انہیں کی نسل کو رہنمائی اور قیادت کے لئے منتخب کیا ہے، نبوت صرف بنی اسرائیل میں آتی ہے ، یہودی پیغمبروں کی اولاد ہیں اس لیے وہ خاص اہمیت کے حامل ہیں” کی بناء پر پورے عالم کے لیے نہیں ہو سکتا ۔

اور ہندو دھرم بھی اپنے اندر موجود ذات پات Casteism یعنی برہمن ، کھشتری، ویش، اور شودر جیسی تقسیم، عالمی اصول و ضوابط نہ ہونے اور متضاد عقائد کی بناء پر پورے عالم کے لیے نہیں ہو سکتا۔

لیکن مذہب اسلام قیامت تک پورے عالم کے لئے ہے جیسا کہ الله رب العزت نے سورہ سبا آیت نمبر 28 میں ارشاد فرمایا ” وماارسلناك الا كافة للناس” اور ہم نے تمام لوگوں کے لئے آپکو رسول بنا کر بھیجا ۔اور دوسری جگہ سورہ اعراف آیت نمبر 158 میں ارشاد فرمایا : ” يايها الناس اني رسول الله إليكم جميعا” اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

#کسی بھی مذہب کے عالمی ہونے کے لیے چند چیزیں ضروری ہیں

1- اس مذہب میں لوگوں کے درمیان عدل اور مساوات ہو جو کہ مذہب اسلام نے اپنے پیروکاروں کے درمیان کر کے دکھایا ہے جیسے کہ الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:”یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ(سورہ حجرات، آیت 13)” ترجمہ اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایاتاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے۔
اس آیت میں جنس کے اعتبار سے کسی کو کوئی فضیلت نہیں ہے یعنی نہ مرد کو عورت پر نہ عورت کو مرد پر بحیثیت جنس کوئی فضیلت ہے بلکہ فضیلت کا معیار تقویٰ و پرہیزگاری ہے جو کہ عدل و مساوات کے عین مطابق ہے

2- وہ مذہب فطرت انسانی کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے جیسے روح اور جسم کے درمیان کیا تعلق ہے مذہب اسلام نہ صرف روحانی تعلق کو سمجھاتا ہے بلکہ جسمانی تقاضوں کو بھی پورا کرنے کا حکم دیتا ہے الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : “فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ”(سورہ جمعہ : 10)
پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اوراللہ کا فضل تلاش کرو اوراللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
3- اس مذہب میں کامل اخلاقی نظام ہو جو کہ مذہب اسلام میں یہ بخوبی موجود ہے یہاں تک کہ مذہب اسلام نے چھوٹی چھوٹی چیزوں کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے کہ ہمیں چلنا کس طرح ہے اور جب ہم بولیں تو آواز کیسی رکھنا ہے “وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَؕ(سورہ لقمان : 19)”اور اپنے چلنے میں درمیانی چال سے چل اور اپنی آواز کچھ پست رکھ ۔

4- اس مذہب کا کامل تشریعی نظام ہو جو زندگی کے تمام شعبوں کو شامل ہو جو کہ مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو دیا ہے ” اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ( سورہ مائدہ : 3)” آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔

5- اس مذہب میں واضح عقیدہ ہو جو کہ مذہب اسلام میں بلا کسی افراط و تفریط اور تناقض و تضاد کے احسن انداز ميں ہے کہ الله ایک ہے ، اسکا کوئی شریک نہیں ، وہ تمام صفات کمالیہ کاجامع ہے ، محمد صلی الله عليه وسلم اسکے بندے اور رسول ہیں ، قرآن الله کی نازل کردہ کتاب ہے ، فرشتے ، یوم آخرت ، جنت و دوزخ ، قضاء و قدر، اور بعث بعد الموت پر ایمان لانا ضروری ہے یہ تمام عقائد ایک دم واضح ہیں ۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذہب اسلام ہی ایک عالمی مذہب ہے جو پوری دنیا کے لوگوں کے لیے قیامت تک کے لیے ہے جس میں مکمل ضابطہ حیات اور زندگی کے ہر شعبہ کا کامل نظام ہے، جس میں تضاد ہے نہ کنٹراڈکشن اور نہ افراط و تفریط جس کے عقائد واضح ہیں اور جو عالمی مذہب ہونے کے ہر ہر تقاضے کو پورا کرتا ہے اسکے علاوہ کوئی دوسرا مذہب عالمی مذہب ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور نہ رکھ سکتا ہے ،

★ اسی لیے صرف مذہب اسلام کوئی دوسرا مذہب نہیں !

محمد بلال مرکزی ماتریدی
خادم التدریس جامعہ امام اعظم ابو حنیفہ، لکھنؤ

Scan this QR code to read online:

QR Code