صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
تحریک آزادی میں علما کا کردار (تاریخ کا مکتوم ورق)
احوال وطن

تحریک آزادی میں علما کا کردار (تاریخ کا مکتوم ورق)

✍️ Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

تحریک آزادی میں علما کا کردار (تاریخ کا مکتوم ورق)
صفحاتِ ہند کی لمحہ بہ لمحہ کھلتی ہوئی تاریخ پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو وہاں ایک طویل العہد، چشم کشا اور روح کو جھنجھوڑ دینے والی داستان ثبت ہے۔ ایک ایسی داستان جو نہ صرف ماضی کے نقوش کو زندگی بخشتی ہے بلکہ یہ اعلان بلند کرتی ہے کہ آج کا یہ آزاد، خود مختار اور سربلند ہندوستان؛ جس کی فضاؤں میں امن، سکون، مساوات، یکجہتی اور اخوت کی مہک آج بھی موجزن ہے، دراصل اُن بے مثال، لازوال اور تاریخ ساز قربانیوں کا ثمرہ ہے جو ہمارے اسلاف، مجاہدینِ حریت اور جانبازانِ وطن نے اپنے خون سے رقم کیں۔
ان مردانِ کار نے تحریکِ آزادی کے لیے محض زبان و بیان، تقریر و تحریر یا سیاسی نعرے بازی کو کافی نہ سمجھا، بلکہ انہوں نے اپنے تن و جان کی حرارت، اپنے خوابوں کی چمک، اپنی زندگانی کی بہار اور اپنی رگِ جاں میں دوڑتے آخری قطرۂ لہو تک کو مادرِ وطن کے نام وقف کر دیا۔ ان کی جاں گسل قربانیوں، ان کی دردمندانہ جدوجہد، ان کی غیر متزلزل استقامت اور ان کی فولادی عزم و ہمت نے غلامی کے طویل، تاریک اور سیاہ و ستم شعار پردوں کو چیر کر اس دھرتی پر آزادی کی وہ روشن، درخشندہ اور روح پرور صبح طلوع کی جس کے نور سے آج بھی ہمارا آسمان منور ہے۔
مگر افسوس! صد افسوس کہ تاریخ کے قلم نے ہمیشہ انصاف کا دامن نہیں تھاما۔ مورخین نے اپنی بے رحمی، بے اعتنائی اور جانبدارانہ رویے سے ان بے لوث مجاہدوں کے نام اور کارناموں کو یا تو حاشیے میں دھکیل دیا یا انہیں محض ایک غیر اہم فقرے میں سمیٹ کر گزر گئے۔ انہوں نے چمک دار مسندوں، سیاسی اقتدار اور بلند بانگ خطابات کے حامل چند قائدین کو تو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، مگر علمائے اہلِ سنت، برگزیدہ مشائخ، مدارس کے فاضلین اور دین و ملت کے ان گمنام سپاہیوں کی حیرت ناک، شجاعت آفریں اور ناقابلِ فراموش قربانیوں کو دانستہ آنکھوں اوجھل کر دیا ۔
یہاں تک کہ ہمارے اپنے لوگ جن کے گھروں میں انہی علما کی برکتوں کی خوشبو بسی ہے—جب ان عاشقانِ وطن کے اسمائے گرامی سنتے ہیں تو حیرت زدہ نگاہوں سے دیکھنے لگتے ہیں اور اپنی لاعلمی، بے خبری اور تاریخی غفلت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ــــــــــــــــ
جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک روشن حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس ملک کی آزادی اور اس کی فکری تعمیر میں علماے کرام کا کردار محض ایک باب نہیں بلکہ پوری تاریخ کی روح ہے۔ آئیے! اسی تعلق سے ان عظیم شخصیات کا تذکرہ کریں جن کی کاوشوں نے اسلام کی علمی فضا کو بھی معطر کیا اور وطنِ عزیز کی بنیادوں کو بھی مضبوط کیا ۔
علماے کرام کی شرکت:
مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں مجددی دہلوی، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہم اللہ اور دیگر مشائخِ عظام کی فکری غذا کو حاصل کو حاصل کرنے کے ساتھ ان کے نقوشِ ہدایت کی پاکیزہ شاہ راہ پر چل کر جن علماے کرام و مجاہدین نے ناقابلِ فراموش کارنامے انجام دیے، ان کے چند اسمائے گرامی ممتاز علمائے انقلاب ۱۸۵۷ء میں یوں مرقوم ہیں:
انقلابِ ۱۸۵۷ء کی قیادت اس دور کے مشاہیرِ علما و ائمہ کرام نے صرف فتاویٰ جہاد جاری کرنے تک محدود نہیں رکھی، بلکہ اپنی عاجلانہ منصوبہ بندی اور عملی کوششوں کے ذریعے بھی اسے کامیابی سے ہم کنار کرنے کی سعی کی تھی۔ بہادر شاہ ظفر، جنرل بخت خاں روہیلہ، شہزادہ فیروز شاہ اور نواب مجد الدین المعروف محمود خاں مراد آبادی وغیرہ نے جو عسکری اقدامات کیے، ان کے پس منظر میں جن علماے کرام کا ہاتھ کارفرما تھا، ان میں سے چند حضرات کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
مفتی صدرالدین آزردہ دہلوی، علامہ فضلِ حق خیرآبادی، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا سید احمد اللہ شاہ مدراسی، مفتی مظہر کریم دریابادی، مولانا سید کفایت علی کافی مراد آبادی، مفتی عنایت احمد کاکوروی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا ڈاکٹر وزیر خاں اکبر آبادی، مولانا باج الدین مراد آبادی، امام بخش صہبائی دہلوی، منشی رسول بخش کاکوروی، غلام امام شہید، امیر مینائی، منیر شکوہ آبادی وغیرہم۔" (ہندوستان کی آزادی میں علماء کی خدمات: عطاء المصطفیٰ مصباحی، صفحہ6)
ذیل کی سطروں میں اختصار کے ساتھ چند علمائے کرام کے مختصر حالات زندگی کے پاکیزہ نقوش ملاحظہ فرمائیں:

علامہ فضل حق خیر آبادی

آپ کی ولادت دہلی میں ۱۲۱۲ھ میں ہوئی۔ آپ نے تمام علومِ مروّجہ ۱۲ سال کی عمر میں حاصل کرلیے۔ جب انگریزوں نے ظلم و ستم کی فضا قائم کی تو اسے روکنے اور ہندوستان میں جہاد کی روشنی پھیلانے کے لیے جامع مسجد دہلی میں جمعہ کے دن آپ نے ایک تاریخی تقریر فرمائی اور جہاد کے فتوے کو بھی مرتب کیا، جس پر آپ کے علاوہ متعدد علمائے اسلام و قائدین نے دستخط کیے۔
سلسلہ دراز ہوتا گیا یہاں تک کہ ۳۰ جنوری ۱۸۵۹ء کو آپ کو گرفتار کرلیا گیا اور آپ کے خلاف مقدمہ بھی چلایا گیا۔ محض مقدمہ تک بات نہیں رہی، بلکہ جہاد کا فتویٰ دینے اور مجاہدین میں جذبۂ حریت پیدا کرنے کے جرم میں آپ کی جاگیر ضبط کرلی گئی اور تا حینِ حیات جزیرہ انڈمان کی سزا سنائی گئی۔
آخر کار علم و فضل کا یہ نیرِ تاباں اپنی روشنیاں بکھیر کر ۱۲ صفر ۱۲۷۸ھ مطابق ۱۸۶۱ء کو جہانِ غربت میں غروب ہوگیا ــــــــــــــــ

مفتی صدرالدین آزردہ

آپ کی پیدائش ۱۲۰۴ھ مطابق ۱۷۸۹ء کو دہلی میں ہوئی۔ آپ علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کے ارشد تلامذہ میں تھے۔ آپ نے مشائخ کرام کے چشمۂ علم و فن سے یوں سیرابی حاصل کی کہ کم عمری میں ہی آسمانِ علم و فضل کا درخشندہ ستارہ بن کر چمکنے لگے۔
آپ کو علمِ قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر کے علاوہ منطق و ریاضی میں بھی کامل دسترس حاصل تھی۔ آپ کی علمی جلالت اپنوں کے علاوہ غیروں پر بھی ظاہر و باہر تھی۔
آپ کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی عہدِ حکومت میں آپ تقریباً تین سال تک مناصبِ جلیلہ پر فائز رہے اور مفتی سے لے کر صدر الصدور تک کے منصب پر سرفراز ہوئے۔ یقینا برطانوی راج میں اتنے طویل عرصے تک ایسے عظیم منصب پر قائم رہنا ہر کس و ناکس کی بات نہ تھی۔
جنگِ آزادی میں آپ نے بھرپور حصہ لیا اور علامہ فضل حق خیر آبادی کے مرتب کردہ جہاد کے فتوے کی تصدیق بھی فرمائی۔ اس وجہ سے ملازمت کے دوران حاصل شدہ املاک و جائیداد ضبط کرلیا گیا، اتنا ہی نہیں بلکہ فتوائے جہاد کی وجہ سے کئی مہینے تک قید میں بھی رہے، بعد میں رہائی ہوئی۔
آخر کار آپ کی روح ۲۴ ربیع الاول ۱۲۸۵ھ مطابق ۱۸۶۸ء کو دہلی میں قفس عنصری سے پرواز کرگئی ــــــــــــــــ

مفتی کفایت علی کافی مراد آبادی

آپ ایک باعمل عالمِ دین اور سچے عاشقِ رسول تھے۔ آپ ضلع بجنور کے ایک معزز سید گھرانے کے فرد تھے۔ آپ گفتار و کردار کے پیکر تھے۔ یقینا آپ بے پناہ فضل و کمال کے مالک تھے، مگر آپ کو امر بنانے والی چیز آپ کا جذبۂ آزادی تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ آپ جنگِ آزادی کے ایک فعال رکن تھے۔ آپ کے جذبۂ حریت نے آپ کو لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنا دیا تھا۔ مغل سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کے دل میں آپ کے لیے بڑی عقیدت تھی۔ بہادر شاہ ظفر نے جہادِ حریت کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کے لیے آپ کو دہلی بلایا۔
آپ بھی جنرل بخت خان اور مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی کے ساتھ انگریزوں سے معرکہ آرائی میں پیش پیش رہے۔ پھر ۱۲ اپریل ۱۸۵۸ء کو مرادآباد پر انگریزوں کے قابض ہونے کے بعد ٣٠ اپریل ۱۸۵۸ء کو آپ گرفتار کیے گئے اور مقدمہ قائم ہوا۔
مرادآباد جیل سے متصل ۶ مئی ۱۸۵۸ء کو آپ کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ انگریزوں نے آپ کو قید خانے میں بڑی درد ناک اور رنج افزا اذیتیں جو لائق بیان نہیں۔ آپ کی زبان پھانسی دیے جانے کے وقت بھی یوں عشق رسالت کا ثبوت پیش کر رہی تھی:
کوئی گل باقی رہے گا، نے چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دینِ حسن رہ جائے گا
اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو
اس تنِ بے جان پر خاکی کی کفن رہ جائے گا
ہم صفیرو! باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اُڑ جائیں گی، سونا چمن رہ جائے گا
جو پڑھے گا صاحبِ لولاک کے اوپر درود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا
سب فنا ہوجائیں گے کافیؔ، ولیکن حشر تک
نعتِ حضرت کا، زباں پر یہ سخن رہ جائے گا

مفتی عنایت احمد کاکوروی

آپ ۱۲۲۸ھ مطابق ۱۸۱۳ء کو دیوہ ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ آپ نسلاً قریشی اور مذہباً حنفی تھے۔علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کے بعد آپ نے علی گڑھ میں اپنے استاد مولانا بزرگ علی مارہروی کے انتقال کے بعد ان کی جگہ تدریسی خدمات سنبھالیں اور بعد میں منصبِ افتا بھی آپ کے سپرد ہوا۔
ادب اور ریاضی میں آپ درجۂ کمال رکھتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد آپ سرکاری ملازم ہوگئے اور علی گڑھ میں منصف کے عہدے پر فائز ہوئے، پھر صدر امین بن کر بریلی شریف تشریف لے گئے۔ بریلی کے قیام میں آپ انقلاب ۱۸۵۷ء کے حریت پسندوں کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ تحریک کے دب جانے کے بعد بھی بریلی و مرادآباد وغیرہ کئی مقامات پر انگریزوں کے خلاف عملی کردار ادا کیا۔ اسی جرم میں آپ گرفتار کیے گئے اور کالاپانی کی سزا دی گئی۔
وہاں آپ نے متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ ۱۲۷۷ھ میں رہائی ملی، مگر حج کے سفر کے دوران جدہ کے قریب جہاز کے حادثے میں ۱۲۹۷ھ مطابق ۱۸۶۳ء کو جامِ شہادت نوش فرمایا ــــــــــــــــ

مولانا فیض احمد بدایونی

آپ کی ولادت مولوی محلہ بدایوں میں ۱۲۲۳ھ مطابق ۱۸۰۸ء میں ہوئی۔ آپ نے ۱۴ برس کی عمر میں علومِ اسلامیہ کی تکمیل کرلی۔ سینٹرل بورڈ آف ریونیو میں ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کے مشہور عالمِ دین تھے۔ آپ عربی زبان کے بلند پایہ ادیب و شاعر تھے۔ آپ کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ ردِّ عیسائیت میں غیر معمولی ملکہ رکھتے تھے۔ جب انگریز عیسائیت پھیلا رہے تھے، آپ پادریوں سے مناظرے کرتے اور عیسائیت کا بلیغ ردّ فرماتے۔ جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ آخری معرکہ مگر ککرالہ (بدایوں) میں ہوا، جہاں انگریزوں کا مشہور جرنیل پینی مارا گیا ۔ (ہندوستان کی آزادی میں علماء کی خدمات: عطاء المصطفیٰ مصباحی، صفحہ7)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
رب تعالیٰ ہمارے ان علماء جنہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لیا اپنی خاص رحمتوں سے نوازے اور ان کی فیوض و برکات سے ہم تمام کو مستفیض و مالا مال فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
رشحات قلم: محمد اشفاق عالم امجدی علیمی
بچباری آبادپور کٹیہار (بہار) استاذ ومفتی: جامعہ مصباح العلوم کدمتلی

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
66
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 7
Kalam 0
Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi
زمرہ جات

Test

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط سوم)

تحریک آزادی میں علما کا کردار (تاریخ کا مکتوم ورق) - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

تحریک آزادی میں علما کا کردار (تاریخ کا مکتوم ورق)

مضمون نگار: Md Abul Kalam Azad Markazi

تحریک آزادی میں علما کا کردار (تاریخ کا مکتوم ورق)

صفحاتِ ہند کی لمحہ بہ لمحہ کھلتی ہوئی تاریخ پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو وہاں ایک طویل العہد، چشم کشا اور روح کو جھنجھوڑ دینے والی داستان ثبت ہے۔ ایک ایسی داستان جو نہ صرف ماضی کے نقوش کو زندگی بخشتی ہے بلکہ یہ اعلان بلند کرتی ہے کہ آج کا یہ آزاد، خود مختار اور سربلند ہندوستان؛ جس کی فضاؤں میں امن، سکون، مساوات، یکجہتی اور اخوت کی مہک آج بھی موجزن ہے، دراصل اُن بے مثال، لازوال اور تاریخ ساز قربانیوں کا ثمرہ ہے جو ہمارے اسلاف، مجاہدینِ حریت اور جانبازانِ وطن نے اپنے خون سے رقم کیں۔

ان مردانِ کار نے تحریکِ آزادی کے لیے محض زبان و بیان، تقریر و تحریر یا سیاسی نعرے بازی کو کافی نہ سمجھا، بلکہ انہوں نے اپنے تن و جان کی حرارت، اپنے خوابوں کی چمک، اپنی زندگانی کی بہار اور اپنی رگِ جاں میں دوڑتے آخری قطرۂ لہو تک کو مادرِ وطن کے نام وقف کر دیا۔ ان کی جاں گسل قربانیوں، ان کی دردمندانہ جدوجہد، ان کی غیر متزلزل استقامت اور ان کی فولادی عزم و ہمت نے غلامی کے طویل، تاریک اور سیاہ و ستم شعار پردوں کو چیر کر اس دھرتی پر آزادی کی وہ روشن، درخشندہ اور روح پرور صبح طلوع کی جس کے نور سے آج بھی ہمارا آسمان منور ہے۔

مگر افسوس! صد افسوس کہ تاریخ کے قلم نے ہمیشہ انصاف کا دامن نہیں تھاما۔ مورخین نے اپنی بے رحمی، بے اعتنائی اور جانبدارانہ رویے سے ان بے لوث مجاہدوں کے نام اور کارناموں کو یا تو حاشیے میں دھکیل دیا یا انہیں محض ایک غیر اہم فقرے میں سمیٹ کر گزر گئے۔ انہوں نے چمک دار مسندوں، سیاسی اقتدار اور بلند بانگ خطابات کے حامل چند قائدین کو تو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، مگر علمائے اہلِ سنت، برگزیدہ مشائخ، مدارس کے فاضلین اور دین و ملت کے ان گمنام سپاہیوں کی حیرت ناک، شجاعت آفریں اور ناقابلِ فراموش قربانیوں کو دانستہ آنکھوں اوجھل کر دیا ۔

یہاں تک کہ ہمارے اپنے لوگ جن کے گھروں میں انہی علما کی برکتوں کی خوشبو بسی ہے—جب ان عاشقانِ وطن کے اسمائے گرامی سنتے ہیں تو حیرت زدہ نگاہوں سے دیکھنے لگتے ہیں اور اپنی لاعلمی، بے خبری اور تاریخی غفلت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ــــــــــــــــ

جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک روشن حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس ملک کی آزادی اور اس کی فکری تعمیر میں علماے کرام کا کردار محض ایک باب نہیں بلکہ پوری تاریخ کی روح ہے۔ آئیے! اسی تعلق سے ان عظیم شخصیات کا تذکرہ کریں جن کی کاوشوں نے اسلام کی علمی فضا کو بھی معطر کیا اور وطنِ عزیز کی بنیادوں کو بھی مضبوط کیا ۔

علماے کرام کی شرکت:
مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں مجددی دہلوی، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہم اللہ اور دیگر مشائخِ عظام کی فکری غذا کو حاصل کو حاصل کرنے کے ساتھ ان کے نقوشِ ہدایت کی پاکیزہ شاہ راہ پر چل کر جن علماے کرام و مجاہدین نے ناقابلِ فراموش کارنامے انجام دیے، ان کے چند اسمائے گرامی ممتاز علمائے انقلاب ۱۸۵۷ء میں یوں مرقوم ہیں:

*انقلابِ ۱۸۵۷ء کی قیادت *اس دور کے مشاہیرِ علما و ائمہ کرام نے صرف فتاویٰ جہاد جاری کرنے تک محدود نہیں رکھی، بلکہ اپنی عاجلانہ منصوبہ بندی اور عملی کوششوں کے ذریعے بھی اسے کامیابی سے ہم کنار کرنے کی سعی کی تھی۔ بہادر شاہ ظفر، جنرل بخت خاں روہیلہ، شہزادہ فیروز شاہ اور نواب مجد الدین المعروف محمود خاں مراد آبادی وغیرہ نے جو عسکری اقدامات کیے، ان کے پس منظر میں جن علماے کرام کا ہاتھ کارفرما تھا، ان میں سے چند حضرات کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

مفتی صدرالدین آزردہ دہلوی، علامہ فضلِ حق خیرآبادی، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا سید احمد اللہ شاہ مدراسی، مفتی مظہر کریم دریابادی، مولانا سید کفایت علی کافی مراد آبادی، مفتی عنایت احمد کاکوروی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا ڈاکٹر وزیر خاں اکبر آبادی، مولانا باج الدین مراد آبادی، امام بخش صہبائی دہلوی، منشی رسول بخش کاکوروی، غلام امام شہید، امیر مینائی، منیر شکوہ آبادی وغیرہم۔” (ہندوستان کی آزادی میں علماء کی خدمات: عطاء المصطفیٰ مصباحی، صفحہ6)
ذیل کی سطروں میں اختصار کے ساتھ چند علمائے کرام کے مختصر حالات زندگی کے پاکیزہ نقوش ملاحظہ فرمائیں:

#علامہ فضل حق خیر آبادی

آپ کی ولادت دہلی میں ۱۲۱۲ھ میں ہوئی۔ آپ نے تمام علومِ مروّجہ ۱۲ سال کی عمر میں حاصل کرلیے۔ جب انگریزوں نے ظلم و ستم کی فضا قائم کی تو اسے روکنے اور ہندوستان میں جہاد کی روشنی پھیلانے کے لیے جامع مسجد دہلی میں جمعہ کے دن آپ نے ایک تاریخی تقریر فرمائی اور جہاد کے فتوے کو بھی مرتب کیا، جس پر آپ کے علاوہ متعدد علمائے اسلام و قائدین نے دستخط کیے۔
سلسلہ دراز ہوتا گیا یہاں تک کہ ۳۰ جنوری ۱۸۵۹ء کو آپ کو گرفتار کرلیا گیا اور آپ کے خلاف مقدمہ بھی چلایا گیا۔ محض مقدمہ تک بات نہیں رہی، بلکہ جہاد کا فتویٰ دینے اور مجاہدین میں جذبۂ حریت پیدا کرنے کے جرم میں آپ کی جاگیر ضبط کرلی گئی اور تا حینِ حیات جزیرہ انڈمان کی سزا سنائی گئی۔

آخر کار علم و فضل کا یہ نیرِ تاباں اپنی روشنیاں بکھیر کر ۱۲ صفر ۱۲۷۸ھ مطابق ۱۸۶۱ء کو جہانِ غربت میں غروب ہوگیا ــــــــــــــــ

#مفتی صدرالدین آزردہ

آپ کی پیدائش ۱۲۰۴ھ مطابق ۱۷۸۹ء کو دہلی میں ہوئی۔ آپ علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کے ارشد تلامذہ میں تھے۔ آپ نے مشائخ کرام کے چشمۂ علم و فن سے یوں سیرابی حاصل کی کہ کم عمری میں ہی آسمانِ علم و فضل کا درخشندہ ستارہ بن کر چمکنے لگے۔
آپ کو علمِ قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر کے علاوہ منطق و ریاضی میں بھی کامل دسترس حاصل تھی۔ آپ کی علمی جلالت اپنوں کے علاوہ غیروں پر بھی ظاہر و باہر تھی۔

آپ کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی عہدِ حکومت میں آپ تقریباً تین سال تک مناصبِ جلیلہ پر فائز رہے اور مفتی سے لے کر صدر الصدور تک کے منصب پر سرفراز ہوئے۔ یقینا برطانوی راج میں اتنے طویل عرصے تک ایسے عظیم منصب پر قائم رہنا ہر کس و ناکس کی بات نہ تھی۔
جنگِ آزادی میں آپ نے بھرپور حصہ لیا اور علامہ فضل حق خیر آبادی کے مرتب کردہ جہاد کے فتوے کی تصدیق بھی فرمائی۔ اس وجہ سے ملازمت کے دوران حاصل شدہ املاک و جائیداد ضبط کرلیا گیا، اتنا ہی نہیں بلکہ فتوائے جہاد کی وجہ سے کئی مہینے تک قید میں بھی رہے، بعد میں رہائی ہوئی۔
آخر کار آپ کی روح ۲۴ ربیع الاول ۱۲۸۵ھ مطابق ۱۸۶۸ء کو دہلی میں قفس عنصری سے پرواز کرگئی ــــــــــــــــ

#مفتی کفایت علی کافی مراد آبادی

آپ ایک باعمل عالمِ دین اور سچے عاشقِ رسول تھے۔ آپ ضلع بجنور کے ایک معزز سید گھرانے کے فرد تھے۔ آپ گفتار و کردار کے پیکر تھے۔ یقینا آپ بے پناہ فضل و کمال کے مالک تھے، مگر آپ کو امر بنانے والی چیز آپ کا جذبۂ آزادی تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ آپ جنگِ آزادی کے ایک فعال رکن تھے۔ آپ کے جذبۂ حریت نے آپ کو لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنا دیا تھا۔ مغل سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کے دل میں آپ کے لیے بڑی عقیدت تھی۔ بہادر شاہ ظفر نے جہادِ حریت کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کے لیے آپ کو دہلی بلایا۔

آپ بھی جنرل بخت خان اور مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی کے ساتھ انگریزوں سے معرکہ آرائی میں پیش پیش رہے۔ پھر ۱۲ اپریل ۱۸۵۸ء کو مرادآباد پر انگریزوں کے قابض ہونے کے بعد ٣٠ اپریل ۱۸۵۸ء کو آپ گرفتار کیے گئے اور مقدمہ قائم ہوا۔
مرادآباد جیل سے متصل ۶ مئی ۱۸۵۸ء کو آپ کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ انگریزوں نے آپ کو قید خانے میں بڑی درد ناک اور رنج افزا اذیتیں جو لائق بیان نہیں۔ آپ کی زبان پھانسی دیے جانے کے وقت بھی یوں عشق رسالت کا ثبوت پیش کر رہی تھی:

@کوئی گل باقی رہے گا، نے چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دینِ حسن رہ جائے گا
اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو
اس تنِ بے جان پر خاکی کی کفن رہ جائے گا
ہم صفیرو! باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اُڑ جائیں گی، سونا چمن رہ جائے گا
جو پڑھے گا صاحبِ لولاک کے اوپر درود
آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا
سب فنا ہوجائیں گے کافیؔ، ولیکن حشر تک
نعتِ حضرت کا، زباں پر یہ سخن رہ جائے گا

#مفتی عنایت احمد کاکوروی

آپ ۱۲۲۸ھ مطابق ۱۸۱۳ء کو دیوہ ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ آپ نسلاً قریشی اور مذہباً حنفی تھے۔علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کے بعد آپ نے علی گڑھ میں اپنے استاد مولانا بزرگ علی مارہروی کے انتقال کے بعد ان کی جگہ تدریسی خدمات سنبھالیں اور بعد میں منصبِ افتا بھی آپ کے سپرد ہوا۔
ادب اور ریاضی میں آپ درجۂ کمال رکھتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد آپ سرکاری ملازم ہوگئے اور علی گڑھ میں منصف کے عہدے پر فائز ہوئے، پھر صدر امین بن کر بریلی شریف تشریف لے گئے۔ بریلی کے قیام میں آپ انقلاب ۱۸۵۷ء کے حریت پسندوں کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ تحریک کے دب جانے کے بعد بھی بریلی و مرادآباد وغیرہ کئی مقامات پر انگریزوں کے خلاف عملی کردار ادا کیا۔ اسی جرم میں آپ گرفتار کیے گئے اور کالاپانی کی سزا دی گئی۔
وہاں آپ نے متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ ۱۲۷۷ھ میں رہائی ملی، مگر حج کے سفر کے دوران جدہ کے قریب جہاز کے حادثے میں ۱۲۹۷ھ مطابق ۱۸۶۳ء کو جامِ شہادت نوش فرمایا ــــــــــــــــ

#مولانا فیض احمد بدایونی

آپ کی ولادت مولوی محلہ بدایوں میں ۱۲۲۳ھ مطابق ۱۸۰۸ء میں ہوئی۔ آپ نے ۱۴ برس کی عمر میں علومِ اسلامیہ کی تکمیل کرلی۔ سینٹرل بورڈ آف ریونیو میں ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کے مشہور عالمِ دین تھے۔ آپ عربی زبان کے بلند پایہ ادیب و شاعر تھے۔ آپ کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ ردِّ عیسائیت میں غیر معمولی ملکہ رکھتے تھے۔ جب انگریز عیسائیت پھیلا رہے تھے، آپ پادریوں سے مناظرے کرتے اور عیسائیت کا بلیغ ردّ فرماتے۔ جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ آخری معرکہ مگر ککرالہ (بدایوں) میں ہوا، جہاں انگریزوں کا مشہور جرنیل پینی مارا گیا ۔ (ہندوستان کی آزادی میں علماء کی خدمات: عطاء المصطفیٰ مصباحی، صفحہ7)

رب تعالیٰ ہمارے ان علماء جنہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لیا اپنی خاص رحمتوں سے نوازے اور ان کی فیوض و برکات سے ہم تمام کو مستفیض و مالا مال فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

رشحات قلم: محمد اشفاق عالم امجدی علیمی
بچباری آبادپور کٹیہار (بہار) استاذ ومفتی: جامعہ مصباح العلوم کدمتلی

Scan this QR code to read online:

QR Code