صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
تاثرات {مھر بخشش}
تاثرات

تاثرات {مھر بخشش}

✍️ Mufti Shahzad Alam Misbahi

تاثرات {مھر بخشش}
شعر وسخن میں حمد نعت اور منقبت کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور ہر ایک کے فکری عناصر اور معنوی اجزاء جداگانہ ہیں مگر ایک جہت سے ان میں باہمی ربط اور گہرا تعلق ہے اور اسی تعلق کو فیضان سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور اسی رشتہ کی کرشمہ سازی ہےکہ حمد میں نعت اور نعت میں منقبت کا وجود پالیا جاتا ہے۔
معنوی لحاظ سےان کا پہلوبایں طور جداگانہ ہےکہ صنف اول (حمد) میں شاعرخالق ومالک کی ذات قدیم ،صفات ازلی علم وقدرت، سمع وبصر، تخلیق وترزیق، معبودیت و فعالیت وغیرہ پرطبع آزمائی کرتا ہے، اور اپنے افکار ونظریات کو ایسے الفاظ کاجامہ پہناتا جو اس کی شان الوہیت اور وصف تقدیس وتنزیہ کے شایاں ہوں ایسے الفاظ سے لازمی گریز کرتا ہے کہ جو اس جناب کی عزت پر حرف لائیں یا تنقیص کا باعث بنیں اوراس صنف(حمد) میں جن اوصاف کو بھی حسن تعبیر، بندش الفاظ اور شعری اوزان کا رنگ دینا چاہتا ہے تو اس اعتقاد کامل کے ساتھ دے کہ مالک حقیقی ان جملہ اوصاف سے بالذات متصف ہے اور ان سے اتصاف میں وہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ ساری کائنات اس کی محتاج ہے۔ صنف دوم نعت ہے جو درحقیقت عربی کا لفظ ہے اس کے ہر حرف میں ایک خاص مفہوم کی غمازی ہے چنانچہ (ن)نبی آخر الزماں حبیب کبریاجناب رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات ستودہ صفات کی جانب رمز ہے اور (ع) عربی سرکار کی طرف مشیر ہے تاہم (ت) تعریف وتوصیف کا علامتی نشان ہے اس لفظ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ لفظ خاص تعریف نبوی کے لئے وضع کیا گیا ہے عربی شعر گوئی میں بھی اس لفظ کا استعمال آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے قبل کسی اور کی تعریف کے لئے نہیں ہوتا تھا وہاں ایک عام لفظ قصیدہ مدحیہ کا چلن تھا مگر اس جناب رسالت مآب کی خصوصیات کے پیش نظر تعریف وتوصیف کے لئے خاص لفظ ہی وضع کیا گیا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
یاد رہے کہ اس صنف کی راہ پر خطر پر چلنا تلوار پر چلنے سے کم نہیں کیونکہ شاعر کے سامنےایک طرف حمد کی سرحد ہے اور دوسری طرف منقبت کی لہذا شاعر کو متوسط راہ نکالناضروری ہے تاکہ اس کی فکر ناتو افراط کی شکار ہو اور ناہی تفریط کی بلکہ بین بین رہے، چونکہ جس طرح شان الوہیت سے ملانےوالی تعریف کفر ہے شان محبوبیت کو گھٹانے والی صنف بھی کفر ہے اسی لئے طبع آزمائی کرنے والا اگر لاعلم اور دینی امور سے ناواقف ہو تو ضرور اس کا قدم لغزش کھا جاتا ہے۔نعت گوئی کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالی جائے تو یہ بات آشکارہ ہوتی ہے کہ نعت کا سلسلہ دور حبیب اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہوا چنانچہ آپ کی مدح وسرائی میں کبھی حضرت کعب بن زہیر سلمی کا قصیدہ بانت سعاد ملتا ہے تو کبھی ديوان حسان بن ثابت کی جلوہ سامانیاں نگاہوں کو نور اور دلوں کو سرور بخشتی ہیں دوسرے اور بھی اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں جو اس سعادت سے بہرہ ور ہوئے مزید تفصیل کے لئے تاریخ الأدب العربي اور عربی کے دوسرے شعری مجموعےکا مطالعه کیا جاسکتا۔
جہاں تک سوال ہے اردو میں نعت گوئی کا تو اس کا سلسلہ کب اور کہاں سے ہوا اس کی تحقیق تونہ ہو سکی البتہ اس کا عروج و ارتقاء سولہویں اور سترہویں صدی میں ہو اہے اور آج اردو زبان میں نعت گوئی کرنے والے ایسے بلند پایہ شعراء کی جماعت ملتی ہے جن کی نعت گوئی میں اردو کی شائستگی،لسانیاتی نشیب وفراز، تعبیرات کی عمدگی ، محاورات کی کشش، الفاظ کا تناسب ،بحروں کی رعایت،قوافی کاحسن وغیرہ سب پائے جاتے ہیں یہ توظاہری خوبیوں کا مجموعہ ہے،رہی باطنی خوبیاں جو قلب مومن میں عشق ومعرفت کی شمع روشن کرتی اورکلام میں تاثیر پیدا کرتی ہیں وہ ہیں عشق حقیقی کا سوز وگداز، سچی وفاداری کی عکاسی، اخلاص و للہیت کا حسین سنگم، جان و دل ،مال و زر ،آل اولاد کی فداکاری کی سچی تصویر یہ وہ محاسن ہیں جن کاایک عاشق صادق کی شاعری اور نعت گوئی میں پایاجانابہت ضروری ہے ورنہ اس کا کلام محض کلام ہی بن کر رہ جائے گا مقبولیت سے ہم کنار نہ ہوسکے گا ،ان ظاہری وباطنی محاسن کے تناظر میں امام اھل سنت اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کو دیکھا جائے تو آپ کی شاعری ان سب کی جامع نظر آتی ہے جو ہم اھل سنت کے لئے لفظی اور معنوی دونوں لحاظ سے قابل تقلید اور لائق اعتناء ہے، اور اب تک ہزارہا افراد اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی نعتیہ شاعری سے استفادہ کرکے خود مفید کار بن چکے ہیں انہیں خوش نصیبوں میں ایک نام مولانا جسیم اکرم مرکزی کا بھی ہے جو فی الحال جامعہ الرضا مرکز اھل سنت بریلی شریف میں تخصص فی الفقہ سال دوم کے ایک ہونہار طالب علم ہیں جن کو رب تعالیٰ فن شاعری میں خاصی درک عطافرمائی ہے،بحروں کا امتیاز ، زحافات کی گرفت،ارکان کی حفاظت شعر گوئی کی سرعت جیسی خوبیاں ان کی خدادا صلاحیت میں شامل ہیں، ان کی طبع کی أزمائیوں کا حسین مجموعہ بنام مھر بخشش عنقریب منصہ شہود پر آنے والا ہے میں رب ذی المجد والعلا سے دعا گوہوں کہ خدائے تعالی موصوف سلمہ المنان کو روز افزوں ترقی عطا فرمائے آمین یا ربّ العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
محمد شہزاد عالم رضوی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Shahzad Alam Misbahi

Guest Author Islamic Scholar & Faculty Member, Jamiatur Raza
60
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 4
Kalam 0
Mufti Shahzad Alam Misbahi
زمرہ جات

تقریظ (کتاب: کذاب کون)

مسافرانِ قلم اور وہم و گمان

تاثرات {مھر بخشش} - PDF
Jamiatur Raza Students Portal

تاثرات {مھر بخشش}

مضمون نگار: Mufti Shahzad Alam Misbahi

تاثرات {مھر بخشش}

شعر وسخن میں حمد نعت اور منقبت کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور ہر ایک کے فکری عناصر اور معنوی اجزاء جداگانہ ہیں مگر ایک جہت سے ان میں باہمی ربط اور گہرا تعلق ہے اور اسی تعلق کو فیضان سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور اسی رشتہ کی کرشمہ سازی ہےکہ حمد میں نعت اور نعت میں منقبت کا وجود پالیا جاتا ہے۔

معنوی لحاظ سےان کا پہلوبایں طور جداگانہ ہےکہ صنف اول (حمد) میں شاعرخالق ومالک کی ذات قدیم ،صفات ازلی علم وقدرت، سمع وبصر، تخلیق وترزیق، معبودیت و فعالیت وغیرہ پرطبع آزمائی کرتا ہے، اور اپنے افکار ونظریات کو ایسے الفاظ کاجامہ پہناتا جو اس کی شان الوہیت اور وصف تقدیس وتنزیہ کے شایاں ہوں ایسے الفاظ سے لازمی گریز کرتا ہے کہ جو اس جناب کی عزت پر حرف لائیں یا تنقیص کا باعث بنیں اوراس صنف*(حمد) *میں جن اوصاف کو بھی حسن تعبیر، بندش الفاظ اور شعری اوزان کا رنگ دینا چاہتا ہے تو اس اعتقاد کامل کے ساتھ دے کہ مالک حقیقی ان جملہ اوصاف سے بالذات متصف ہے اور ان سے اتصاف میں وہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ ساری کائنات اس کی محتاج ہے۔ صنف دوم نعت ہے جو درحقیقت عربی کا لفظ ہے اس کے ہر حرف میں ایک خاص مفہوم کی غمازی ہے چنانچہ (ن)نبی آخر الزماں حبیب کبریاجناب رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات ستودہ صفات کی جانب رمز ہے اور (ع) عربی سرکار کی طرف مشیر ہے تاہم (ت) تعریف وتوصیف کا علامتی نشان ہے اس لفظ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ لفظ خاص تعریف نبوی کے لئے وضع کیا گیا ہے عربی شعر گوئی میں بھی اس لفظ کا استعمال آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے قبل کسی اور کی تعریف کے لئے نہیں ہوتا تھا وہاں ایک عام لفظ *قصیدہ مدحیہ * کا چلن تھا مگر اس جناب رسالت مآب کی خصوصیات کے پیش نظر تعریف وتوصیف کے لئے خاص لفظ ہی وضع کیا گیا۔

یاد رہے کہ اس صنف کی راہ پر خطر پر چلنا تلوار پر چلنے سے کم نہیں کیونکہ شاعر کے سامنےایک طرف حمد کی سرحد ہے اور دوسری طرف منقبت کی لہذا شاعر کو متوسط راہ نکالناضروری ہے تاکہ اس کی فکر ناتو افراط کی شکار ہو اور ناہی تفریط کی بلکہ بین بین رہے، چونکہ جس طرح شان الوہیت سے ملانےوالی تعریف کفر ہے شان محبوبیت کو گھٹانے والی صنف بھی کفر ہے اسی لئے طبع آزمائی کرنے والا اگر لاعلم اور دینی امور سے ناواقف ہو تو ضرور اس کا قدم لغزش کھا جاتا ہے۔نعت گوئی کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالی جائے تو یہ بات آشکارہ ہوتی ہے کہ نعت کا سلسلہ دور حبیب اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہوا چنانچہ آپ کی مدح وسرائی میں کبھی حضرت کعب بن زہیر سلمی کا قصیدہ بانت سعاد ملتا ہے تو کبھی ديوان حسان بن ثابت کی جلوہ سامانیاں نگاہوں کو نور اور دلوں کو سرور بخشتی ہیں دوسرے اور بھی اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں جو اس سعادت سے بہرہ ور ہوئے مزید تفصیل کے لئے تاریخ الأدب العربي اور عربی کے دوسرے شعری مجموعےکا مطالعه کیا جاسکتا۔

جہاں تک سوال ہے اردو میں نعت گوئی کا تو اس کا سلسلہ کب اور کہاں سے ہوا اس کی تحقیق تونہ ہو سکی البتہ اس کا عروج و ارتقاء سولہویں اور سترہویں صدی میں ہو اہے اور آج اردو زبان میں نعت گوئی کرنے والے ایسے بلند پایہ شعراء کی جماعت ملتی ہے جن کی نعت گوئی میں اردو کی شائستگی،لسانیاتی نشیب وفراز، تعبیرات کی عمدگی ، محاورات کی کشش، الفاظ کا تناسب ،بحروں کی رعایت،قوافی کاحسن وغیرہ سب پائے جاتے ہیں یہ توظاہری خوبیوں کا مجموعہ ہے،رہی باطنی خوبیاں جو قلب مومن میں عشق ومعرفت کی شمع روشن کرتی اورکلام میں تاثیر پیدا کرتی ہیں وہ ہیں عشق حقیقی کا سوز وگداز، سچی وفاداری کی عکاسی، اخلاص و للہیت کا حسین سنگم، جان و دل ،مال و زر ،آل اولاد کی فداکاری کی سچی تصویر یہ وہ محاسن ہیں جن کاایک عاشق صادق کی شاعری اور نعت گوئی میں پایاجانابہت ضروری ہے ورنہ اس کا کلام محض کلام ہی بن کر رہ جائے گا مقبولیت سے ہم کنار نہ ہوسکے گا ،ان ظاہری وباطنی محاسن کے تناظر میں امام اھل سنت اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کو دیکھا جائے تو آپ کی شاعری ان سب کی جامع نظر آتی ہے جو ہم اھل سنت کے لئے لفظی اور معنوی دونوں لحاظ سے قابل تقلید اور لائق اعتناء ہے، اور اب تک ہزارہا افراد اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی نعتیہ شاعری سے استفادہ کرکے خود مفید کار بن چکے ہیں انہیں خوش نصیبوں میں ایک نام *مولانا جسیم اکرم مرکزی *کا بھی ہے جو فی الحال جامعہ الرضا مرکز اھل سنت بریلی شریف میں تخصص فی الفقہ سال دوم کے ایک ہونہار طالب علم ہیں جن کو رب تعالیٰ فن شاعری میں خاصی درک عطافرمائی ہے،بحروں کا امتیاز ، زحافات کی گرفت،ارکان کی حفاظت شعر گوئی کی سرعت جیسی خوبیاں ان کی خدادا صلاحیت میں شامل ہیں، ان کی طبع کی أزمائیوں کا حسین مجموعہ بنام *مھر بخشش* عنقریب منصہ شہود پر آنے والا ہے میں رب ذی المجد والعلا سے دعا گوہوں کہ خدائے تعالی موصوف سلمہ المنان کو روز افزوں ترقی عطا فرمائے آمین یا ربّ العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
محمد شہزاد عالم رضوی

Scan this QR code to read online:

QR Code